Syeda Faryal Zehra لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Syeda Faryal Zehra لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل, جنوری 18, 2022

ٹیم آشیانہ (خدمت انسانیت کے جذبے سے سرشار)

 محترم دوستوں اور ساتھیوں، اسلام و علیکم 


الله کی ذات سے امید ہے کہ تمام دوست اور احباب خیریت سے ہونگے ٹیم آشیانہ جو کہ دوستوں اور ساتھیوں کی ذاتی مصروفیات کے سبب بکھر گئی تھی محترمہ فریال زہرہ، عدنان علی نقوی، منصور بھائی، احمد بھائی، اسماء باجی اور دیگر دوستوں نے ایک بار پھر سے یکجاں کر لی ہے، ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہمارا مقصد خدمت انسانیت اور فلاح و بہبود ہے


اکتوبر ٢٠١٥ کے زلزلے کے بعد خدمت انسانیت کا سفر پاکستان میں اور بیرون ملک میں کسی نہ کسی طرح جاری رکھا ہوا ہے، عدنان بھائی ذاتی حیثیت میں اور دوستوں کہ ہمراہ ہر مشکل وقت میں تمام دستیاب وسائل کے ساتھ پوری توانائی کے ساتھ جتنا کر سکتے ہیں کر رہے ہیں. ٹیم آشیانہ بہت زیادہ تو نہیں کرسکی لیکن جتنا کیا الله نے اس میں سرخرو اور کامیاب کیا 


اب جبکہ پاکستان بھر میں مختلف فلاحی ادارے اور گروپ کسی نہ کسی انداز میں خدمات انسانیت کر رہے ہیں جو کہ قابل تحیسن عمل ہے وہیں بہت سارے ایسے لوگ اور افراد ہیں جو محض سفید پوشی کے سبب ان اداروں یا گروپس سے رابطہ نہیں کرتے، ٹیم آشیانہ اب ایسے ہے لوگوں و تلاش کر کہ انکی مدد کر رہی ہے جس سے ان افراد کی مدد بھی ہو سکے اور سفید پوشی کا بھرم بھی قائم رہے


ٹیم آشیانہ کے وہ دوست جو پاکستان میں مقیم ہیں وہ اپنے وسائل استعمال کر رہے ہیں اور گزشتہ ایک برس میں ١٥٠ کے لگ بھگ خاندانوں کی مدد کرنے میں کامیاب بھی رہے ہیں


ٹیم آشیانہ کے دوست سندھ کے دور دراز علاقوں میں راشن کی فراہمی، طبی امداد کی فراہمی انتہائی محدود پیمانے پر کر رہے ہیں


انشا اللہ، بہت جلد اگلی اپ ڈیٹ کے ساتھ پھر حاضر ہونگے، تمام دوستوں سے دعاؤں کے درخواست ہے

جزاک الله 

سید عدنان علی نقوی اور ٹیم آشیانہ 

جمعرات, اگست 20, 2015

Help / Aid by Muslim Hands UK, for Pakistan. (Team Ashiyana, for flood victims in Sindh)

As'salam O Alikum!

I (Syed Adnan Ali Naqvi) and #Team_Ashiyana (Working for the relief of flood victims in #Sindh) are very thankful for @MuslimHandsUK (Muslim Hands UK) for there help / aid and contribution for flood victims of Pakistan. 






May Allah bless you all guys, But our work isn't finished at yet. We'll continue till all of our brother / sister's and children fully rehabilitate. In Sha Allah.

Please help me and my team as much as you could as we're responsible to feed hunger, to medicate sick and ill (flood victims of Sindh).






Still no positive efforts by PDMA nor by any NGO or Govt organizations. 

Please contact with me or my volunteer (s) by following;
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
team.ashiyana@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com

Call or Text: 
(0092) 333 342 6031 (Please leave a text if number is not responding as facing notwork issues in remote (katcha) areas.

Follow us on Twitter: 
@TeamAshiyana
@f4faryal
@S_AdnanAliNaqvi

For online donations / contributions:
 Ashiyana”
Mansoor Ahmed.
A/c # 1921 1921 1008 8246.
IBAN: PK75 UNIL 0112 1921 1008 8246.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code: UNILPKKA


Jazak Allah,
Syed Adnan Ali Naqvi
Member / Head volunteer (Ashiyana Camp for flood victims, Katcha Area, Sindh, Pakistan)



منگل, اگست 18, 2015

List of urgent required medicines for free medical camps in Sindh, Pakistan. (Flood victims relief)



Dear all, 
Please check this list of urgently required medicines which need for free medical camps in (Katcha area) Khairpur, Sindh. Pakistan.

Following medicines are required in the form of suspensions, tablets, capsules or Drip.
Cafadroxil, 
Tramado, 
Amoxil, Trimax (Amoxcillin)
Carbencillin
Cafamandro
Lincomysin
Gentimicin
Oxolinic Acid (Uroxin)
Lemofloxacin (Cipro)
Declomycin
Doxycycline
Polymyxin B
Diclofenic (Cataflam, Voltran, Zipzor)
Ibuprofen
Ansaid
Ketoprofen
Mefenic Acid
Naproxen
Celecoxin
Tramadol
Capsaicim
Cafcol
Augementen DS
Augmenten
Cefloxin
Calpol
Septron DS
Paracetomol / Panadol DS / Panadol Extra
Ponstan Fort
Medi-Scab
S-Zole
Neurobion
Mucaine
Acefyl
Britanyl
Xilcof
Dijex MP
Blisscarma
Zyrtec (Ceririzine 2HCL)
Lysovit
Multivitamins, Antibiotics etc

Ps Note:  A request from all social workers / volunteers to attend this request on priority basis, As we need them on urgent basis to serve with free medical camps for flood victims in Sindh. 

Please contact with;
Syeda Faryal Zehra (Twitter: @f4faryal) 
Team Ashiyana (Twitter: teamashiyana)

Or contact us on (0092 333 342 6031)

Email us;
team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com

For online donations please use this bank details;
Ashiyana”
Mansoor Ahmed.
A/c # 1921 1921 1008 8246.
IBAN: PK75 UNIL 0112 1921 1008 8246.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code: UNILPKKA

Jazak Allah
Syed Adnan Ali Naqvi 



اتوار, اگست 09, 2015

ٹیم آشیانہ: سیلاب زدگان مدد (سیدہ فریال زہرہ) کی ڈائری



اسلام و علیکم دوستوں، 



نام  آپ جانتے ہی ہیں،  اور اگر نہیں جانتے تو ایک بار پھر عرض خدمت ہے "سیدہ فریال زہرہ" تعلق کینیڈا سے ہے. الله کے فضل و کرم سے مسلمان ہوں (بغیر کسی تفریق کے)، الله اور آخری نبی پر کامل ایمان رکھتی ہوں. انسانیت اپنا خدمت کو اپنا دینی اور مذہبی فریضہ سمجھ کر سر انجام دیتی ہوں. الله نے زندگی میں ہر کامیابی اور خوشی سے نوازا ہے. اچھا خاندان، تعلیم کی بدولت ایک اچھی زندگی گزار رہی ہوں. انسانیت کی خدمت کے سفر میں پاکستان کا ایک  کردار رہا جبکہ میرا دور تک کا کوئی رشتےدار پاکستان میں مقیم نہیں اور اگر کوئی ہے تو ہم خاندان والے ان سے رابطے میں نہیں. میرے دادا ابو (grand father) ایک پاکستانی تھے، جہلم شہر سے تعلق  لیکن وہ اپنی جوانی میں ہی پہلے لندن اور پھر امریکہ (شکاگو) منتقل ہو گئے، وہی شادی کری اور وہی تدفین  ہوئی، والد صاحب نے ایک اور ہجرت کری اور شکاگو (امریکہ) سے کینیڈا منتقل ہو گئے، مختصر کہ میری  پرورش کینیڈا میں ہی ہوئی، کیلگری (کینیڈا) میرا گھر بنا تعلیم سے روزگار وہی. 

 پہلی دفع پاکستان اکتوبر ٢٠٠٥ کے زلزلے کے بعد آنا ہوا، ایک ایسا انسان جس نے زلزلے میں اپنا خاندان کھویا اور پھر دل و جان سے زلزلے (٢٠٠٥) کے متاثرین کی خدمت میں لگ گیا، میں نے اس انسان (سید عدنان علی نقوی) سے زیادہ جنونی آج تک نہیں دیکھا، پہلی دفع بی بی سی (اردو) پر عدنان کو سنا اور پڑھا اور رابطہ کیا. 
یہ ہے عدنان کی ڈائری کا وہ لنک جس نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں عدنان سے فون پر بات کرتے ہی پاکستان آگئی، http://www.bbc.com/urdu/interactivity/specials/1640_adnan_diary_ms/page24.shtml


پاکستان  آکر اندازہ ہوا کہ یہاں فلاحی خدمات سر انجام دینے کے لئے بہت کچھ ہے، پھر عدنان نے کچھ ایسی رہنمائی کری کہ میں نے کافی عرصہ پاکستان میں گزارا اور اقوام متحدہ اور اسکے ذیلی اداروں سے وابستہ ہو گئی. میری تعلیم اور نوکری بھی مجھ کو نہیں روک سکی. انسانیت کی خدمت کے اس سفر میں دنیا بھر گھوم لی، مختلف اقوام، تہذیبوں (کلچر)، ممالک کے سفر کرنے کا موقع ملا لیکن جب جب عدنان نے مجھے کسی بھی طرح کے فلاحی کام کے لئے پاکستان آنے کی دعوت دی میں منع نہیں کر سکی اور موقع کوئی بھی ہو، شمالی وزیرستان جیسے مشکل، حساس علاقے ہوں یا سندھ، پنجاب، سرحد (خیبر پختونخواہ)، بلوچستان کے سیلاب متاثرین یا پھر وزیرستان کے آئ-ڈی-پیز (IDPS) ہوں، عدنان اپنی چھوٹی سی فلاحی ٹیم بنا لیتے جس میں انکے دوست، خاندان کے افراد شامل ہوتے اور مجھے بھی دعوت دیتے کہ میں بھی شامل ہو جاؤں اور میں بھی مختصر وقت کے لئے ہی سہی لیکن پاکستان آکر عدنان کی "ٹیم آشیانہ" میں شامل ہو جاتی. ایسے ہی سفر جاری رہتا اور ہم لوگ مل کر  اپنے طور پر مشکل میں موجود انسانوں کی خدمات سر انجام دیتے  رہتے. پچھلی دفع جب پاکستان آئی تو حالات کچھ سازگار نہیں تھے، بنوں (خیبرپختونخواہ) میں عدنان اور ٹیم آشیانہ کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا گیا وہ ناقابل  بیان ہے، یہ وقت ان تفصیلات میں جانے کا نہیں، بقول عدنان "وہ فلاحی کام ہی کیا جس کے دوران مشکلات پیش نہ آئیں." میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ بھی ہو جائے پاکستان نہیں آؤں گی بیشک وہیں (کینیڈا) میں بیٹھ کر یہاں کے لوگوں کی مدد کروں گی. لیکن کیا کیا جائے جب عدنان جیسا بھائی خود مشکل میں ہو  اور آواز لگائے. 

اس دفع پھر پاکستان میں سیلاب آیا، جس وقت سیلاب آیا عدنان "ٹیم آشیانہ" کے ہمراہ تھر (سندھ) میں بھوکے لوگوں کو دو (٢) وقت کا کھانا روزانہ تقسیم کر رہا  تھا. پھر سندھ میں جو ہوا وہ بھی  سب کے علم میں ہے. پہلے میں نے سوچا کے ایک نیشنل ڈیزاسٹر ہے پاکستانی عوام اپنی مدد آپ کر لے گی، لیکن میں نے اپنے گزشتہ تجربات سے جتنا پاکستانی عوام کو سمجھا ہے وہ یہی ہے کہ یہاں کوئی اپنی مدد خود کرنا ہی نہیں چاہتا (معذرت کے ساتھ).

میں نے جولائی ٢٠١٥، میں عدنان سے رابطہ کیا اور جب انہوں نے پاکستان کے حالت بتائے تو میں نے اپنے روزگار والوں کو کہا کہ لمبے سفر پہ نکل رہی ہوں، رخصت درکار ہے، روزگار والوں نے بھی کہا، جی بلکل! اور میں ٣، اگست ٢٠١٥ کی صبح (براستہ فرینکفرٹ، دبئی) پاکستان (کراچی) پہنچ گئی. ٹیم آشیانہ کے کارکنان نے میرا استقبال کیا. میں ایک لمبے سفر سے پاکستان پہنچی تھی لیکن دماغ پر سب سے پہلے عدنان سے ملنے اور انکے فلاحی مشن میں شامل ہونے کا جنون سوار تھا. لیکن عدنان جو کہ سندھ کے کچے کے علاقے میں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے "ٹیم آشیانہ" کے ہمراہ  موجود تھے نے مجھے کراچی میں کچھ کام  مکمل کرنے کو کہا. 

کراچی:
 ایک ایسا شہر جس کے برتاؤ کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا  جاسکتا، ایک ایسا شہر جہاں امرا، اشرافیہ، غریب ہر طرح کے لوگ موجود ہیں، لیکن افسوس کے کسی بھی طرح سے مہذب نہیں، کسی طرح کا ڈسپلن موجود نہیں، سڑکوں پر ٹریفک ایسا بےہنگم کے الله کی پناہ، لوگ ایسے بھاگے جاتے ہیں جیسے پیچھے موت کا فرشتہ لگا ہے یا پھر کوئی بلا. صبر نام کو نہیں. خیر مجھے کیا، میں عدنان کے کہنے پر پہلے  (PDMA) کے دفتر گئی جہاں کچھ اپیل جمع کرانا تھی لیکن کوئی ذمہ دار نہیں مل سکا جو ملا اتنا غریب کے ہماری فائل کو صاحب کی ٹیبل تک پہچانے کے لئے کم از کم ٥٠٠ روپے درکار تھے. وہ بھی دیے. وہاں سے سندھ کے خادم حضرت قائم علی شاہ کے دفتر جانا تھا، لیکن انکے دفتر تو دور دفتر کا دروازہ تک دیکھنا نصیب نہ ہو سکا، وزیر اعلی سندھ کی سیکورٹی، پھر ہماری (ٹیم آشیانہ) کی کوئی حیثیت ہی نہیں، یہاں تو بڑے بڑے ساہوکار، کاروباری، رقم کا لین دین کرنے والوں کو ملاقات کا وقت دیا جاتا ہے، میں نے سوچا یہ میں کہاں آگئی ہوں جہاں عوام کے خادم کے پاس عوامی مسائل سننے کے لئے وقت نہیں. عدنان کو فون پر سری صورت حال سے آگاہ کیا، اپنی ناکامی اور مایوسی کا بتایا لیکن ہمیشہ کی طرح عدنان نے کہا "کوئی بات نہیں، کوئی ملے یا نہ ملے، مدد کرے یا نہ کرے، ہم اپنے طور پر سیلاب زدگان کی مدد کے لئے جو کر سکتے ہیں کریں گے." 

مجھے "ٹیم آشیانہ" کے ایک  کارکن " احمد  بھائی" سے رابطہ کرنے کو کہا گیا جنہوں نے میرے رہنے کا انتظام گلستان جوہر میں "ٹیم آشیانہ" کی ایک بہت دیرینہ ساتھی "بدر باجی" کے گھر پر کیا، گھر آکر تھوڑا آرام کیا، عدنان کی فراہم کی گئی لسٹ کے مطابق سامان جن میں ادویات، کھانے پینے کی اشیا، کپڑے وغیرہ کچھ دوستوں کے گھر سے جمع کرنے تھے اور کچھ فنڈز دستیاب تھے انسے خریداری کرنا تھی. سوچا تھا جب ہم بازار میں جاکر لوگوں کو بتائیں گے کہ ہم سیلاب زدگان کی مدد کے لئے ادویات، کھانے پینے کا سامان اور کپڑے خرید رہے ہیں تو کچھ رعایت ملے گی، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا. الٹا لینے کے دینے پڑھ گئے کیونکہ پوری کوشش کے باوجود میں بہت اچھی اردو نہیں بول سکتی اور شاید سمجھ بھی نہیں سکتی، خیر جو ہونا تھا ہوا، قدم قدم پر مجھے مایوسی ہو رہی تھی کہ میں کینیڈا سے پاکستان ایسے لوگوں کی مدد کرنے آئی ہوں جسکو کوئی احساس ہی نہیں کہ انکے پاکستانی ساتھی کس طرح کی مشکلات کا شکار ہیں. میں نے ایک بار پھر عدنان سے رابطہ کر کہ انکو اپنی کیفیت بتائی اور جو انہوں نے کہا اسنے مجھے حوصلہ  دیا. عدنان بھی بس عدنان ہی ہے. ہر ناکامی سے کامیابی کا پہلو نکل لیتا ہے. 

دو (٢) دن کراچی میں ادویات و دیگر کی خریداری، فنڈز جمع اور پیکنگ میں لگ گئے اور ٥، اگست ٢٠١٥ کو وہ وقت آگیا جب ایک ٹرک پر امدادی سامان لادا گیا اور مجھے کہا گیا کہ فنڈز کی کمی کی وجہہ سے ہم کوئی اور سواری کا انتظام نہیں کر سکے اسی لئے مجھے اور دیگر کارکنان کو اسی ٹرک پر سوار ہو کر سکھر (سندھ) کے قریب کچے کے علاقے میں جانا ہوگا. میرے ساتھی دوست شرمندہ تھے لیکن میں عدنان پر فخر کر رہی تھی کہ کوئی تو ہے جو اس طرح کے ماحول میں انسانیت کی خدمات کا فریضہ انجام دے رہا ہے. سفر بہت کٹھن تھا، ٹرک کی سواری کا پہلے کوئی تجربہ نہیں تھا، پھر جگہہ جگہہ پاکستانی پولیس کے فرض شناس آفیسرز موقع پر ہی سارے ٹیکس وصول کرنے کے لئے  تیار، (پاکستانی دوست میری اس بات کا مطلب بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہونگے).
 ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد آخر ہم ایسے علاقے میں داخل ہوۓ جہاں محسوس ہوا کہ اب ہم کسی آفت زدہ علاقے میں داخل ہو گئے ہیں. ٹیم آشیانہ کا ایک چھوٹا سا کیمپ سکھر سے کچھ فاصلے پر قائم لیکن بنیادی سہولیات سے محروم، ایک لمبے عرصے بعد عدنان کو دیکھا، جو پہلے سے کہی زیاد کمزور، لیکن انسانیت کے جذبے سے سرشار، میرے استقبال کے لئے موجود. ہمیشہ کی طرح میرے سر پر ہاتھ  پھیرا، بہت ساری دعا دی اور مجھے ویلکم کیا. رات ہو چکی تھی، کراچی سے میں نے ذاتی طور پر کچھ جنک فوڈ ساتھ رکھ لی تھی جو کھائی الله کا شکر ادا کیا اور عدنان "ٹیم آشیانہ" کے ساتھ اگلی صبح کے لئے جو کام کرنے تھے اسکو ڈسکس کیا اور جو کچھ بھی میسر تھا آرام کرنے کے لئے لیٹ گئی. 

اگلی صبح:
بہت خوفناک صبح تھی، بہت شور سے آنکھ کھلی، پہلے فون کی طرف دیکھا جو چارجنگ نہ ہونے کے سبب آخری سانسیں لے رہا تھا، پہلے کینیڈا کال کر کہ dad (ابا جی) کو اپنی خیریت دی، ٹینٹ سے باہر نکل کر دیکھا تو ایک ہجوم تھا جو ہر طرف موجود تھا، بچوں کے جسم پر کپڑے نہیں تھے، عورتوں کے سروں پر چادر نہیں تھی، مردوں کے پیروں میں چپل نہیں تھی، عجیب منظر تھا. عدنان اور ٹیم آشیانہ کے کارکنان پوری کوشش کر رہے تھے کہ اس ہجوم کو کنٹرول کریں لیکن اپنے سامنے امداد دیکھ کر کوئی بھی نہیں رک رہا تھا. میں نے اپنی کوشش کری لیکن ناکام رہی. کسی نہ کسی طرح ہجوم قابو ہوا. ٹیم آشیانہ کی  خواتین کارکنان کی مدد سے پہلے اپنا حلیہ بہتر کیا، اور مجھے جو کام دیا گیا تھا اسکو انجام دینے میں لگ گئی، صبح سے دن ہوا اور دن سے رات لیکن ہمارا کام ختم نہی ہو سکا. دن بھر لوگوں میں  غذائی اجناس کی تقسیم، ایک مقامی ڈاکٹر کی مدد سے میڈیکل کیمپ میں خواتین اور بچوں کے چیک اپ. ایک تھکا دینے والا دن. رات ہوئی تو پتا لگا کے آج ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان کے لئے دال چاول پکایا گیا ہے. سب کے ساتھ مل کر کھایا، الله کا شکر ادا کیا. اور اگلے دن جو فلاحی کام سر انجام دینے تھے انکی تیاری.

اگلی صبح مجھے ایک دفع پھر کراچی جانے کے لئے کہا گیا، جہاں مجھے ٹیم آشیانہ کے لئے فنڈز جمع کرنا تھا، ادویات خریدنا تھی، غذائی اجناس لینا تھی. لیکن کیسے اسکا خود مجھے بھی پتہ نہیں تھا.

نوٹ: مذکورہ بالا تحریر "ٹیم آشیانہ" کی ایک فلاحی کارکن "سیدہ فریال زہرہ" نے لکھی ہے، جسکو "فریال" کی اجازت اور ضروری تدوین (ایڈیٹنگ) کے بعد سید عدنان علی نقوی بھائی کی اجازت سے یہاں شایع (publish) کیا جارہا ہے. ٹیم آشیانہ اس وقت سندھ کے کچے کے علاقے میں موجود ہے اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے کوشش کر رہی ہے. 

Follow Faryal on Twitter: @F4Faryal
Follow us on Twitter: @TeamAshiyana   
         
   

اتوار, مئی 12, 2013

میری آواز سنو! (شمالی وزیرستان سے فریال زہرہ کی آواز)

محترم دوستوں، ٹیم آشیانہ  وزیرستان کے کارکنان اور ان کے گھر والے، آشیانہ کیمپ اور اسکول کو فنڈز دینے والے اور جہاں جہاں تک میری آواز یا بات پڑھی جا رہی ہے سب ہی کو شمالی وزیرستان سے سیدہ فریال زہرہ کی طرف سے اسلام و علیکم.

آج میں نہ ہی کویچندہ مانگو گی نہ ہی کسی قسم کی بھیک، نہیں ٹیم آشیانہ یا آشیانہ کیمپ اور اسکول کے لئے مدد کیاپپیال کروں گی. آج میں جو بھی لکھ رہی ہوں وہ میرے دل کی آواز ہے. اب جب برداشت نہیں ہورہا تو سوچا ہے کہ جو بھی میرے دل میں ہے وو آپ سب کے ساتھ یہاں بتا دوں.

موت برحق ہے اور ہر حال میں آنی ہے. جب مرنا ہے ہے تو ڈرنا کیسا؟ بہت در در کر جی لیا، مگر اب اورنہی. آگے بات بڑھنے سے پہلے میں اپنا تھوڑا سا تعارف کرا دیتی ہوں. میرا نام فریال ہے،پورا نام آپ اپر پڑھ چکے ہیں کراچی میں پیدا ہوئی مگر کچھ وجوہات کی بنا پر کینیڈا شفٹ ہوئی. ٢٠٠٥ کے زلزلے کے بعد جب سید عدنان علی نقوی بھائی نے فلاحی کاموں کا آغاز کیا تو ان سے رابطے میں آی اور گزشتہ ٢ برس سے ٹیم آشیانہ (شمالی وزیرستان) سے منسلک ھوں. 
گزشتہ ٢ برسوں کے دوران مجھ کوٹیم آشیانہ کے ساتھ فلاحی کاموں میں حصہ لینے کا بھرپور موقع ملا، میں کافی دفع پاکستان آی اور شمالی وزیرستان میں رہی. یہاں کے نامساعد حالات، اور بہت خراب صورت حال کے باوجود عدنان بھائی کا حوصلہ دیکھ کر مجھ کو بھی بہت ہمت ہوئی. اور میں نے ٢ ماہ قبل مکمل طور پر پاکستان شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا اور سوچا کہ اپنی باقی زندگی میں عدنان بھائی کے ہمراہ فلاحی کاموں کے لئے وقف کر دوں گی.  میں کینیڈا میں اپنی نوکری کو چھوڑ کر پہلے اسلام آباد آی اور پھر میرانشاہ، شمالی وزیرستان منتقل ہو گئی، یہ میرے لئے پہلی دفع نہی تھا مگر اس دفع جذبہ اور جنوں پہلے سے کہیں زیادہ اور غیر متزلزل تھا. میں نے عدنان بھائی کو صاف صاف کہ دیا کہ میرا جینا مرنا صرف اور صرف پاکستان کے لئے ہوگا، اور میں یہاں (شمالی وزیرستان) میں رہ کر یہاں بچوں اور خواتین کفلہ و بہبود کے لئے کام کروں گی. اپنے پچھلے دوروں کے دوران میں نے مقامی زبان میں ٹھوڈی بہت مہارت حاصل کری ہے اور پوری کوشش کر کے میں خود کو یہاں کے ماحول کے مطابق ڈھال سکوں. اور یہاں کے لوگوں کے درمیان رہتے ہوۓ بچوں اور خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کام کروں. 

ٹیم آشیانہ جو کافی عرصے سے شمالی وزیرستان میں فلاحی و سماجی خدمات سر انجام دے رہی ہے میرانشاہ سے قبل دتہ خیل میں اپنا کیمپ لگائے  ہوۓ تھی. مگر کچھ وجوہات کی بنا پر وہ کیمپ میرانشاہ منتقل کر دیا گیا. اور آج کل یہیں مقیم ہیں. 

شمالی وزیرستان میں فلاحی و سماجی خدمات سر انجام دیتے ہوۓ میں نے بہت کچھ سیکھا، یہاں کے رسم و رواج، یہاں کے لوگوں کے سوچنے کا انداز، زندگگزرنے کا طریقہ اور یہاں کے لوگوں کے مسائل. میںنے خدکوبچوں کی تعلیم و تربیت اور خواتین کی صحت سے متعلق فلاحی کاموں سے منسلک کر لیا. امید یہی کر رہی تھی کہ شاید میرے یہاں رہتے میں کچھ بہتر انداز میں فلاحی کام کر سکوں گی. مگر ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا. پورا شمالی وزیرستان زخموں سے چور چور ہے، یہاں کے مقامی رہنے والے  کبھی اپنوں کی جارحیت اور کبھی غیروں کے حملوں کا شکار رہتے ہیں. ہر طرف خوف و دہشت کے سائے ہمیشہ منڈلاتے  رہتے ہیں. مقامی حکومت اور قانون کی رٹ ڈھونڈھنے سے بھی نظر نہیں آتی. ہر طرف مختلف خان، ملک اور کچھ جنونیوں کا زور ہے. جس کا جہاں زور چلتا ہے وو اپنی حکومت بنا کر بیٹھا ہے. ایسے میں ہمارے پاک فوج کے جوان، ہمرے سیکورٹی اداروں کے جوان، حالت جنگ میں رہتے ہوۓ شمالی وزیرستان کو کسی نہ کسی طرح سے پاکستان سے جوڑے رکھے ہوۓ ہیں. مجھ کواور پوری ٹیم آشیانہ کو اپنے ان بہادر، نڈر جوانوں پر فخر ہے. آج اگر یہ جوان اپنی جانوں کی قربانی نہیں دیتے تو پاکستان کب کا ٹوٹ  چکا ہوتا. 

میں جب تک کینیڈا میں تھی تو میرے سامنے پاک فوج کا ایک ہی کردار تھا وہ تھا کہ یہ فوجی ہمیشہ حکومت میں رہنے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور کوئی نا کوئی آمر پاکستان پر قابض ہی رہتا ہے. مگر پاکستان آجانے کے بعد بہت قریب سے پاکستانی حالات، یہاں کے سیاسی و سماجی ماحول اور پاکفوج کے کردار کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا اور جو کچھ میں نے سکھا وو آج آپ کے سامنے لکھ رہی ہوں.

ایک بات آپ اچھی طرح سمجھ لیں، اگر آج پاکستانی اپنے پیروں پر کھڑا ہے، پاکستان کی سرحدیں اپنی جگہ موجود ہیں. تو صرف اور صرف پاک افواج کی وجھہ سے ہیں. پاکستان میں جب بھی انتشار، خلفشار بڑھا ہے تو پاک فوج نے اپنی ذمے داریاں نبھائی ہیں. اور بہت کامیابی سے نبھائی ہیں. شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے کردار کو اور کامیابیوں کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا. مرنہسہ میں موجود اسپتال، اسکول اور تھوڑی  بہت زندگی کی علامت پاک افواج کی ہی مرہوں منت ہے. 

گزشتہ ٢ (دو) ماہ کے دوران میں نے یہاں بچوں کو مختلف بیماریوں سے مرتے  دیکھا ہے،خواتین کا کوئی پرسان حال نہیں. ٣ (تین) دفع آشیانہ کیمپ اور اسکول جو کہ ایک ٹینٹ میں بنایا گیا ہے مسمار کر دیا گیا، ٹیم آشیانہ کے کارکنان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گیں. ہمارے امدادی سامان کو لوٹا گیا، عدنان بھائی اور دیگر فلاحی کارکنان کو جن میں سے زیادہ تر کا تعلق یہاں (شمالی وزیرستان) سے ہی ہے، بری طرح مارا، پیٹا گیا. مجھ کو اپنی زندگی کی بقا کے لئے یہاں کے مقامی بھائی، بہنوں نیں پناہ دی. اور ہماری پوری ٹیم آشیانہ ٹوٹ پھوٹ گئی، آشیانہ کیمپ جلا دیا گیا، آشیانہ اسکول سے تمام درسی سامان، ادویات، اجناس لوٹ لی گیں. ہم سب اپنی زندگی سے مایوس ہو گئے اور پھر سوچا چلو سب ختم ہوا اپنے اپنے گھروں کو چلتے ہیں. ایسے میں مقامی لوگوں نے عدنان بھائی کو ہمت دی، پوری ٹیم آشیانہ کو پناہ دی اور کچھ لوگوں نے عدنان بھائی کی ملاقات ان لوگوں سے کروائی جو نہیں چاہتے تھے کہ یہاں کوئی اسکول بنے، یہاں کوئی امدادی، فلاحی کاموں کو سر انجام دے. اور پھر...... ہم میں سے ہر کسی کو پہلے یہ ثابت کرنا پڑا کہ ہم کتنے مسلمان ہیں؟ ہم کوکتنے اسلامی اراکین یاد ہیں اور ہم کتنے فرائض پر عمل پیرا ہیں. اللہ نے مدد کری اور ہم کسی حد تک کامیاب رہے. ہم کو بہت محدود پیمانے پر ایک دفع پھر سے فلاحی کاموں کوجاری رکھنے کی اجازت دی گئی، آشیانہ کیمپ اور اسکول کو ایک دفع پھر سے لگانے کی اجازت دی گئی. اس شرط پر کہ مقامی سردار کسی بھی وقت اسکول اور اس میں پڑھائے جانے والے نصاب کو چیک کر سکتے ہیں اور اگر جو یہاں پڑھایا جا رہا ہے اگر کسی بھی طرح سے شمالی وزیرستان کے ماحول اور تہذیب کے مخالف ہوا تو کیمپ کے ساتھ  ساتھ اسکول کوکسی بھی وقت بند کر دیا جائے گا اور ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان کو گرفتار کر کے مقامی عدالت (جرگہ) کے سامنے پیش کیا جائے گا،جہاں اگر ہمارا جرم ثابت ہوتا ہے تو سزا دی جائے گی اور شمالی وزیرستان سے بے دخل کر دیا جائے گا. ہم سب نے سکھ کا سانس لیا اور آئیکنائے جذبے کے ستہ فلاحی کام کرنا کیا.  شمالی وزیرستان کی تہذیب و تمدن کو   دیکھنا ہے تو صرف میرانشاہ تک آجائے یہاں پورے شمالی وزیرستان کے رہنے والے بہت بڑی تعداد میں رہتے ہیں، یہ لوگ میرانشاہ میں امن وسکون، روزگار اور بہتر زندگی کی تلاش میں آئے ہیں. مگر افسوس کے یہاں بھی ان کو وہ سب نہیں مل سکا جس کی ان کو  تلاش ہے اسی مجبوری میں کچھ لوگ یہاں رہ گئے اور کچھ واپس اپنے اپنے علاقوں میں واپس چلے گئے. 

میں کیا کروں میری سمجھ نہیں آرہا ہے، میںابھی یہاں ہی روکوں یا واپس کینیڈا چلی جاؤں.میںیہاں کے لوگوں کے لئے فلاحی کام کرنا چاہتی ہوں، یہاں رک کر یہاں کے بچوں اور خواتین کی فلاح کے لئے کام کرنا چاہتی ہوں مگر کچھ لوگوں نے یہاں میرے کام کرنے پر پابندی لگا دی ہے. میںنے اس پر احتجاج بھی کیا مگر عدنان بھائی نے مجھ کویہی کہا کہ یہاں کہ حالت کے مطابق ہم کو کچھ بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے جس سے ہمارے فلاحی کاموں کے  مشن کو کسی بھی طرح کا کوئی نقصان پہنچے. میں نے یہاں بھوک دیکھی ہے، افلاس دیکھا ہے، مختلف بیماریوں سے بچوں اور خواتین کو مرتے دیکھا ہے، یہاں کے لوگوں کی بے بسی دیکھی ہے. یہاں کے لوگوں میں کرب اور اذیت محسوس کری ہے.  مگر اب میری بھی ہمت ختم ہوتی جا رہی ہے.

آشیانہ کیمپ کو ملنے والے فنڈز بہت کم ہو گئے ہیں. میں چاہ کر بھی بہت کچھ نہیں کر پا رہی ہوں. یہاں غذائی اجناس، ادویات نہ ہونے کے برابر ہیں. ہم کو آج کل اپنی بھوک مٹانے کے لئے مقامی لوگوں پر انحصار کرنا پڑھ رہا ہے. پوری ٹیم آشیانہ ایک دفع پھر سے آشیانہ کیمپ اور اسکول کو بنانے پر لگی ہوئی ہے اور میں ایک مقامی کارکن کے گھر میں بیٹھی ہوں. گھر سے بہار نکلنا بند ہے. عدنان بھائی کہتے ہیں کہ جب تک حالات ٹھیک نہیں ہو جاتے مجھ کو اسلام آباد یا پشاور چلا جانا چاہیے، حالات کی بہتری پر میں واپس یہاں آجاؤں. مگر میں اب کہیں نہیں جانا چاہتی کسی بھی قیمت پر نہیں. 

آپ سب میرے لئے دعا کریں کہ الله مجھ کو  ہمت دے، حوصلہ دے، اور میرے جوش و جذبے کو برقرار رکھے. انشا الله بہت جلد آشیانہ اسکول  میرانشاہ میں ایک دفع پھر سے قائم ہو جائے گا جہاں میں یہاں کی معصوم بچوں (لڑکیوں) کو تعلیم دوں گی.

جب جب موقع ملا میں ضرور آپ سے بات کروں گی. 

آپ سب کی دعاؤں کی محتاج 
سیدہ فریال زہرہ 
کارکن، ٹیم آشیانہ 
آشیانہ کیمپ / اسکول، میرانشاہ، شمالی وزیرستان.

ہفتہ, اکتوبر 13, 2012

Urjent Required Volunteer for Balochistan (Team Ashiyana Balochistan)

Assalam O Alikum,

Team Ashiyana is looking for energetic persons to work with us as a team of Volunteer in Suhbat pur, Naseerabad, Balochistan.

اسلام وعلیکم،
محترم دوستوں اور ساتھیوں، 
ٹیم آشیانہ کو صحبت پور، (ضلع نصیرآباد) بلوچستان، میں اپنے فلاحی کاموں کو جاری رکھنے اور مزید بہتر کرنے کے لئے والینٹیرز (فلاحی ورکرز) کی تلاش ہے.
ٹیم آشیانہ، دوستوں کا ایک فلاحی گروپ ہے جو پچھلے کچھ برسوں سے پاکستان میں مختلف قسم کے فلاحی کام ذاتی اور دوستوں کی فنڈنگ سے سر انجام دے رہا ہے. فلحال یہ فلاحی گروپ شمالی وزیرستان میں ایک فلاحی کیمپ، اور مسجد اسکول چلا رہا ہے اور ایک دوسرا گروپ سندھ میں سیلاب اور بارش سے متاثرہ بھائی بہنوں کے لئے فلاحی خدمات سر انجام دینے کے بعد اب بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے علاقے صحبت پور میں موجود ہے.

ہم کو ایسے ساتھیوں کو ضرورت ہے جو کم از کم ایک ہفتہ ہمارے فلاحی کاموں کے لئے ہماری مدد کر سکتے ہیں 
١- کم از کم تعلیم میٹرک 
٢- فلاحی خدمات سر انجام دینے کے جذبے سے سرشار 
٣- قومی شناختی کارڈ رکھتے ہوں 
٤- سندھی یا بلوچی زبان جانتے یا سمجھتے ہوں (اردو زبان میں مہارت ہو)

فلاحی کاموں کی نوعیت:
فری میڈیکل کیمپ کے انعقاد میں مددگار 
روزانہ غذا کی تقسیم میں مددگار 
کپڑوں، جوتوں، چپل، اور دیگر اشیاء کی تقسیم میں مددگار 

ہمارے جو دوست اور ساتھی ٹیم آشیانہ بلوچستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور ہماری ساتھ خدمت انسانیت کرنا چاہتے ہیں براہ کرم اپنے کوائف کے ساتھ ہم سے درج ذیل پر رابطہ کریں. آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا عزم اور وعدہ ہم کرتے ہیں. آپ کی اس نیکی کی جزا اور اجر انشا الله آپ کو ضرور ملے گا. 
ٹیم آشیانہ کسی بھی مددگار یا ساتھی کو کسی بھی طرح کا ہدیہ یا معاوضہ ادا کرنے سے قاصر ہے

ہم سے رابطے کے لئے:
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
team.ashiyana@gmail.com
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
+92 345 297 1618
+92 324 265 2046
جزاک الله 
سید عدنان علی نقوی 
ٹیم آشیانہ برائے سیلاب زدگان / متاثرین برسات بلوچستان         

منگل, ستمبر 11, 2012

بارشوں سے متاثرہ پاکستانی بھائی، بہنوں کی مدد کے لئے ٹیم آشیانہ کے کارکنان اور دوستوں کی ایک کوشش

 شروع الله پاک کے با برکت نام سے جو رحم کرنے والا مہربان ہے!
محترم دوستوں اور ساتھیوں،
 اسلام و علیکم!

 بلآخر وہی ہو رہا ہے جس کا ڈر  اور جس کا خدشہ تھا، پاکستانی قوم کو صرف  چند لوگوں کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہہ سے ایک دفع پھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے. الله پاک ہم (پاکستانی قوم) کو یکجاں ہو کر ہر طرح کی مشکلات سے نمٹنے اور سامنا کرنے کی ہمت اور توفیق عطا فرماے - امین!

ہم ( ٹیم آشیانہ) پہلے ہی شمالی وزیرستان کے فلاحی کاموں کو لے کر فکرمند اور بد ترین حالات سے نبرد آزما ہو رہی ہے جو میرے وطن (پاکستان) میں مون سون کی بارشوں سے ہوئی تباہی اور بربادی کے خبروں نے ہم کو پریشان اور فکرمند کر دیا ہے. "ہم کو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا" یہ سب سے پہلا پیغام تھا جو گزشتہ  مجھ کو اسلام آباد میں موجود بہن فریال نے مجھ کو بھجوایا. "بہن فریال ہم (ٹیم آشیانہ - شمالی وزیرستان) سے رخصت لے کر واپس کینیڈا روانگی کے لئے اسلام آباد میں موجود ہیں."
اسلام آباد سے فریال  اور کراچی سے ندیم بھائی اور پھر منصور بھائی کے پیغامات مجھ (عدنان) کو یہاں موصول ہوۓ، جن میں مجھ سے بار بار یہی کہا گیا کے ٹیم آشیانہ کے وہ کارکنان جو یہاں (شمالی وزیرستان) میں موجود نہیں ہیں اور وہ بارشوں سے متاثرہ خلق خدا کی خدمت اور متاثرین کی مدد کے لئے دستیاب ہیں اور اپنی خوشی سے ایک گروپ بنا کر جانا چاہیں تو اس کی اجازت دوں. تمام دوستوں اور ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے بعد یہاں (شمالی وزیرستان) میں موجود ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان نے بخوشی بہن فریال اور بھائی منصور، بھائی ندیم کو اجازت دے دی ہے کہ وہ متاثرین برسات کی مدد کے لئے ایک گروپ تشکیل دیں. سندھ میں کندھ کوٹ اور اس سے آگے کےعلاقوں میں جائیں اور جو بھی مدد کر سکتے ہیں کریں. الله پاک آپ (بہن فریال، بھائی ندیم اور بھائی منصور اور ساتھیوں) کو ہمت عطا فرماے. حوصلہ دے، صبر دے اور وسائل عطا فرماے - آمین.
میری (عدنان) کا مشورہ یہ ہے کہ آپ لوگ فوری طبی امداد کی طرف توجہ دیں. اس وقت لوگ (متاثرین) میں مختلف بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہے  کے لئے وہاں کسی طبی ٹیم کا موجود ہونا ضروری ہے. مزید اگر حالات اور وقت اجازت دے تو متاثرین میں غذائی اجناس کی تقسیم بھی کریں. بھوکے کو کھانا کھلانے کے اجر سے بڑھ کر کسی اور عمل کا اجر نہیں ہے. وہاں (سندھ) میں اگر میری خدمات کی ضرورت ہوں تو مجھ کو ضرور آگاہ کیا جاۓ. ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان آپ کے سفر اور مقصد کی کامیابی کے لئے دعا گو ہے. الله پاک آپ کی محنت کو قبول فرماے اور پاکستانی عوام کی خدمت کے جذبے کو پوری قوم میں پھیلاۓ - آمین.
 جزاک الله 
سید عدنان علی نقوی 
خادم، ٹیم آشیانہ برائے شمالی وزیرستان
آشیانہ کیمپ. دتہ خیل. شمالی وزیرستان. 
 برائے رابطہ:
team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
+92 345 297 1618  ================================================================
Note:
To read about the relief efforts of Mansoor and Friends for the Rain victims of Sindh - Pakistan.
Please click on the link below: for contact with The Relief Team use following contact details:
 http://mansoorandfriends.blogspot.com
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
+92 313 279 8085
+92 333 342 6031























Rain Report for Sindh (Click here to View)

بدھ, جولائی 25, 2012

سید عدنان علی نقوی کی دعا

محترم دوستوں اور ساتھیوں اسلام و علیکم 

ماہ رمضان کی برکتیں اور رحمتیں ہم سب سمیٹ رہے ہیں، ان برکت بھرے لمحات میں ہم کو اور آپ کو ہر لمحہ الله پاک کی عظمت، بڑھائی، شان کا ذکر کرتے رہیں. 

ماہ رمضان ہم کو درس دیتا ہے اخلاص کا، امن کا، رواداری کا، ایک دوسرے کے خیال کرنے کا. یہ ماہ ہم کو تربیت دیتا ہے کے ایک مسلمان کے فرائض کیا ہیں؟ اور کس طرح اس دنیا میں اپنی اور دوسرے انسانوں کی فلاح کا خیال رکھنا ہے. 

میری الله پاک سے دعا ہے کہ "اے میرے پروردگار، مجھ کو ہمت دے،   حوصلہ دے، صبرعطا فرما کہ میں تیرے نیک بندوں میں شمار ہوں. مجھ کو ایک ایسا انسان بنا جو تیرے بتاۓ ہوے راستے پر چلے، اور میرے فلاحی کاموں کو آسان فرما، میرے اور میرے ساتھیوں کے لئے غیب سے اسباب مہیا فرما، ایسے اسباب جو ہم سب کے لئے فلاح کا سبب بن سکیں. اے میرے رب، ہم لوگ جن جگہوں پر فلاحی خدمات سرانجام دے رہے ہیں وہاں ہم کو ہمیشہ جانی اور مالی نقصانات کا اندیشہ رہتا ہے، ہماری حفاظت فرما، مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو پوری امانت داری، دیانتداری کے ساتھ مستحق لوگوں تک ان کا حق پہچانے کی توفیق عطا فرما. 
میرے رب، ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم جہاں ہیں وہاں کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے، ہم کو سچ اور حق کا ساتھ دینے کی  عطا فرما. ہماری، ہمارے اہل       خانہ کی، ہمارے دوستوں کی، ہمارے ساتھیوں کی، ہمارے مسلمان بھائی بہنوں کی، سارے عالم اسلام کی  مغفرت فرما، اس ماہ مقدس کی برکت سے ہمارے کبیرہ،   صغیرہ گناہوں کو معاف فرما، اور ہم کو ہدایت عطا فرما. ہمارا خاتمہ ایمان پر فرما. آمین. اے الله، ہماری دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما. آمین."

میرے ساتھیوں اور دوستوں، لکھنے اور کہنے کے لئے ابھی بہت کچھ ہے جو انشاالله بہت جلد آپ لوگوں کے ساتھ ضرور share کروں گا فلحال کے لئے         اتنا ہی کافی ہے. 
الله پاک آپ سب کا اور میرا حامی و ناصر ہو - آمین 

جزاک الله خیر