This blog is about the Volunteers activities, personal experience of Syed Adnan Ali Naqvi and other volunteers.
We are a group of volunteers working since October 2005 (After Earthquake in Pakistan).
Ashiyana Camp for flood victrims لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Ashiyana Camp for flood victrims لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
I (Syed Adnan Ali Naqvi) and #Team_Ashiyana (Working for the relief of flood victims in #Sindh) are very thankful for @MuslimHandsUK (Muslim Hands UK) for there help / aid and contribution for flood victims of Pakistan.
May Allah bless you all guys, But our work isn't finished at yet. We'll continue till all of our brother / sister's and children fully rehabilitate. In Sha Allah.
Please help me and my team as much as you could as we're responsible to feed hunger, to medicate sick and ill (flood victims of Sindh).
Still no positive efforts by PDMA nor by any NGO or Govt organizations.
Please contact with me or my volunteer (s) by following;
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
team.ashiyana@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
Call or Text:
(0092) 333 342 6031 (Please leave a text if number is not responding as facing notwork issues in remote (katcha) areas.
Follow us on Twitter:
@TeamAshiyana
@f4faryal
@S_AdnanAliNaqvi
For online donations / contributions:
“Ashiyana”
Mansoor Ahmed.
A/c # 1921 1921 1008 8246.
IBAN: PK75 UNIL 0112 1921 1008 8246.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code: UNILPKKA
Jazak Allah,
Syed Adnan Ali Naqvi
Member / Head volunteer (Ashiyana Camp for flood victims, Katcha Area, Sindh, Pakistan)
چاروں اطراف پانی کا گھیراؤ ہے، ایک جھونپڑی کے نیچے کچھ لوگ موجود ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئی کشتی آگے بڑھتی ہے اور اس میں سوار شخص ان لوگوں کو پیشکش کرتے ہیں کہ وہ انھیں محفوظ مقام پر لے جانے آئے ہیں، لیکن یہ لوگ یہ کہہ کر چلنے سے انکار کر دیتے ہیں اب پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اور وہ یہاں ٹھیک ہیں۔
یہ کمشنر لاڑکانہ غلام اکبر لغاری ہیں جو کچے کے علاقے لاکھانو میں لوگوں کو سیلابی پانے سے نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں۔ سندھ میں حالیہ سیلاب کے دوران ساڑھے چھ لاکھ سے زائد افراد کا انخلا کیا گیا ہے جن میں سے دو لاکھ کا تعلق لاڑکانہ سے ہے۔
کشتی آگے بڑھتی ہے اور علی حسن جتوئی گاؤں کے ایک اور گھر کے سامنے رک جاتی ہے، جہاں کچھ خواتین اور بچے نظر آ رہے ہیں۔ کمشنر ایک نوجوان کو قریب لا کر بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ خالی کشتی بھی موجود ہے وہ انھیں لے جانے آئے ہیں۔ لیکن یہ خاندان بھی انکار کر دیتا ہے۔
لاکھوں ایکڑ اراضی پر جنگلات کو صاف کر دیا گیا ہے
ایک کچے گھر کے باہر نوجوان صحن میں پانی میں سے مٹی لگا کر اس کی سطح بلند کرتا ہوا نظر آیا جبکہ اس کے گھر کے قریب موجود ٹریکٹر نصف ڈوب چکا تھا۔ اس نوجوان کا کہنا ہے کہ کچا ان کی زندگی کا سہارا ہے۔
’پکے پر ہماری کوئی ذاتی ملکیت نہیں، وہاں ہمیں کون رہنے دےگا؟ کچے میں ہمارے پاس مال مویشی ہیں۔ ایک دو جانور بیچ کر اناج لے لیتے ہیں۔ پکے پر ملازمت ہے نہ مزدوری۔ وہاں تو بھوکے مر جائیں گے۔‘
کمشنر لاڑکانہ غلام اکبر لغاری کا کہنا ہے کہ کچے کی زمین قبضے کی زمین ہے، جب پانی اتر جاتا ہے تو پھر جھگڑے ہوتے ہیں کیونکہ یہاں مستقل نشانات نہیں ہیں۔ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ یہاں سے چلے گئے تو اس پر قبضہ ہو جائے گا جس کو ختم کرانا مشکل ہو گا۔ اسی لیے وہ یہاں سے نہیں نکلتے۔
دریائے سندھ کے اطراف میں کچے کے علاقے میں محکمہ جنگلات کی ساڑھے پانچ کروڑ ہیکٹر زمین موجود ہے، جس میں سے محکمے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ ہیکٹر پر قبضہ ہے۔
سندھ میں کچے کے علاقے میں اکثر زمین کے تنازعات پر جھگڑے ہوتے رہتے ہیں
کمشنر لاڑکانہ غلام اکبر لغاری کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر کچے کا علاقہ جنگلات کے لیے مختص ہوتا ہے، وہاں فصل اور آبادی نہیں ہونی چاہیے۔
’یہاں بدقستمی سے یہ ہوا ہے کہ گذشتہ 20 سالوں میں لوگوں نے جنگل کاٹ دیے اور یہاں کاشت کرنا شروع کر دی جس کو سب نے نظر انداز کیا۔ ہمارے یہاں کہا جاتا ہے کہ کاشت ہو رہی ہے لوگوں کو روزگار ملا ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں ہے کہ جنگلات کاٹ کر آپ لوگوں کو روزگار دیں۔ اس کا کوئی اور متبادل ہونا چاہیے تھا۔‘
صوبائی وزیر آبپاشی نثار احمد کھوڑو کا کہنا ہے کہ ’کچے میں سیلاب سے دہرا فائدہ ہوتا ہے۔ موجودہ فصل پانی میں ڈوب گئی لیکن اس کے بعد ربیع کی فصل آئے گی یعنی گندم، جس کی بمپر پیداوار ہوتی ہے۔ اگر سیلاب نہ آئے تو کپاس اور گنے کی کیش کراپ ہو جاتی ہے۔ اس لیے کچے کے لوگ اپنے حال میں خوش ہیں۔‘
دریائے سندھ کے کچے میں سرکاری اندازوں کے مطابق دس لاکھ سے زائد آبادی رہتی ہے۔ کئی بڑے بڑے زمینداروں کی کچے میں ہزاروں ایکڑ زمین ہے جو سیاست میں بھی متحرک ہیں۔
سیلاب کے باوجود لوگ اپنی جگہ نہیں چھوڑتے
صوبائی وزیر آبپاشی نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ کچے کے لوگ صدیوں سے آباد ہیں وہ غیر قانونی طور پر نہیں رہتے۔ ’خدارا کبھی نہیں سوچیے گا کہ انھیں بیدخل کر کے کچے کو ویران کر دیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ کچے میں باقاعدہ سڑکیں بنائی جائیں اور بجلی سمیت جدید دنیا کی تمام سہولیات میسر ہوں۔‘
سیلاب میں جانی و مالی نقصان ہونے کے باوجود معاشی، قبائلی اور سیاسی مفادات لوگوں کے پیروں کی زنجیر بن چکے ہیں جو انھیں کچے سے نکلنے نہیں دیتے۔
Dear all, Please check this list of urgently required medicines which need for free medical camps in (Katcha area) Khairpur, Sindh. Pakistan.
Following medicines are required in the form of suspensions, tablets, capsules or Drip. Cafadroxil, Tramado, Amoxil, Trimax (Amoxcillin) Carbencillin Cafamandro Lincomysin Gentimicin Oxolinic Acid (Uroxin) Lemofloxacin (Cipro) Declomycin Doxycycline Polymyxin B Diclofenic (Cataflam, Voltran, Zipzor) Ibuprofen Ansaid Ketoprofen Mefenic Acid Naproxen Celecoxin Tramadol Capsaicim Cafcol Augementen DS Augmenten Cefloxin Calpol Septron DS Paracetomol / Panadol DS / Panadol Extra Ponstan Fort Medi-Scab S-Zole Neurobion Mucaine Acefyl Britanyl Xilcof Dijex MP Blisscarma Zyrtec (Ceririzine 2HCL) Lysovit Multivitamins, Antibiotics etc Ps Note: A request from all social workers / volunteers to attend this request on priority basis, As we need them on urgent basis to serve with free medical camps for flood victims in Sindh. Please contact with; Syeda Faryal Zehra (Twitter: @f4faryal) Team Ashiyana (Twitter: teamashiyana) Or contact us on (0092 333 342 6031) Email us; team.ashiyana@gmail.com s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca faryal.zehra@gmail.com mansoorahmed.aaj@gmail.com For online donations please use this bank details;