Thursday, August 20, 2015

Help / Aid by Muslim Hands UK, for Pakistan. (Team Ashiyana, for flood victims in Sindh)

As'salam O Alikum!

I (Syed Adnan Ali Naqvi) and #Team_Ashiyana (Working for the relief of flood victims in #Sindh) are very thankful for @MuslimHandsUK (Muslim Hands UK) for there help / aid and contribution for flood victims of Pakistan. 






May Allah bless you all guys, But our work isn't finished at yet. We'll continue till all of our brother / sister's and children fully rehabilitate. In Sha Allah.

Please help me and my team as much as you could as we're responsible to feed hunger, to medicate sick and ill (flood victims of Sindh).






Still no positive efforts by PDMA nor by any NGO or Govt organizations. 

Please contact with me or my volunteer (s) by following;
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
team.ashiyana@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com

Call or Text: 
(0092) 345 297 1618 (Please leave a text if number is not responding as facing notwork issues in remote (katcha) areas.

Follow us on Twitter: 
@TeamAshiyana
@f4faryal
@S_AdnanAliNaqvi

For online donations / contributions:
 Ashiyana”
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 1921192110034780.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code: UNILPKKA


Jazak Allah,
Syed Adnan Ali Naqvi
Member / Head volunteer (Ashiyana Camp for flood victims, Katcha Area, Sindh, Pakistan)



Tuesday, August 18, 2015

لوگ کچے کا علاقہ چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟

چاروں اطراف پانی کا گھیراؤ ہے، ایک جھونپڑی کے نیچے کچھ لوگ موجود ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئی کشتی آگے بڑھتی ہے اور اس میں سوار شخص ان لوگوں کو پیشکش کرتے ہیں کہ وہ انھیں محفوظ مقام پر لے جانے آئے ہیں، لیکن یہ لوگ یہ کہہ کر چلنے سے انکار کر دیتے ہیں اب پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اور وہ یہاں ٹھیک ہیں۔
یہ کمشنر لاڑکانہ غلام اکبر لغاری ہیں جو کچے کے علاقے لاکھانو میں لوگوں کو سیلابی پانے سے نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں۔ سندھ میں حالیہ سیلاب کے دوران ساڑھے چھ لاکھ سے زائد افراد کا انخلا کیا گیا ہے جن میں سے دو لاکھ کا تعلق لاڑکانہ سے ہے۔
کشتی آگے بڑھتی ہے اور علی حسن جتوئی گاؤں کے ایک اور گھر کے سامنے رک جاتی ہے، جہاں کچھ خواتین اور بچے نظر آ رہے ہیں۔ کمشنر ایک نوجوان کو قریب لا کر بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ خالی کشتی بھی موجود ہے وہ انھیں لے جانے آئے ہیں۔ لیکن یہ خاندان بھی انکار کر دیتا ہے۔
لاکھوں ایکڑ اراضی پر جنگلات کو صاف کر دیا گیا ہے
ایک کچے گھر کے باہر نوجوان صحن میں پانی میں سے مٹی لگا کر اس کی سطح بلند کرتا ہوا نظر آیا جبکہ اس کے گھر کے قریب موجود ٹریکٹر نصف ڈوب چکا تھا۔ اس نوجوان کا کہنا ہے کہ کچا ان کی زندگی کا سہارا ہے۔
’پکے پر ہماری کوئی ذاتی ملکیت نہیں، وہاں ہمیں کون رہنے دےگا؟ کچے میں ہمارے پاس مال مویشی ہیں۔ ایک دو جانور بیچ کر اناج لے لیتے ہیں۔ پکے پر ملازمت ہے نہ مزدوری۔ وہاں تو بھوکے مر جائیں گے۔‘
کمشنر لاڑکانہ غلام اکبر لغاری کا کہنا ہے کہ کچے کی زمین قبضے کی زمین ہے، جب پانی اتر جاتا ہے تو پھر جھگڑے ہوتے ہیں کیونکہ یہاں مستقل نشانات نہیں ہیں۔ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ یہاں سے چلے گئے تو اس پر قبضہ ہو جائے گا جس کو ختم کرانا مشکل ہو گا۔ اسی لیے وہ یہاں سے نہیں نکلتے۔
دریائے سندھ کے اطراف میں کچے کے علاقے میں محکمہ جنگلات کی ساڑھے پانچ کروڑ ہیکٹر زمین موجود ہے، جس میں سے محکمے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ ہیکٹر پر قبضہ ہے۔
سندھ میں کچے کے علاقے میں اکثر زمین کے تنازعات پر جھگڑے ہوتے رہتے ہیں
کمشنر لاڑکانہ غلام اکبر لغاری کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر کچے کا علاقہ جنگلات کے لیے مختص ہوتا ہے، وہاں فصل اور آبادی نہیں ہونی چاہیے۔
’یہاں بدقستمی سے یہ ہوا ہے کہ گذشتہ 20 سالوں میں لوگوں نے جنگل کاٹ دیے اور یہاں کاشت کرنا شروع کر دی جس کو سب نے نظر انداز کیا۔ ہمارے یہاں کہا جاتا ہے کہ کاشت ہو رہی ہے لوگوں کو روزگار ملا ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں ہے کہ جنگلات کاٹ کر آپ لوگوں کو روزگار دیں۔ اس کا کوئی اور متبادل ہونا چاہیے تھا۔‘
صوبائی وزیر آبپاشی نثار احمد کھوڑو کا کہنا ہے کہ ’کچے میں سیلاب سے دہرا فائدہ ہوتا ہے۔ موجودہ فصل پانی میں ڈوب گئی لیکن اس کے بعد ربیع کی فصل آئے گی یعنی گندم، جس کی بمپر پیداوار ہوتی ہے۔ اگر سیلاب نہ آئے تو کپاس اور گنے کی کیش کراپ ہو جاتی ہے۔ اس لیے کچے کے لوگ اپنے حال میں خوش ہیں۔‘
دریائے سندھ کے کچے میں سرکاری اندازوں کے مطابق دس لاکھ سے زائد آبادی رہتی ہے۔ کئی بڑے بڑے زمینداروں کی کچے میں ہزاروں ایکڑ زمین ہے جو سیاست میں بھی متحرک ہیں۔
سیلاب کے باوجود لوگ اپنی جگہ نہیں چھوڑتے
صوبائی وزیر آبپاشی نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ کچے کے لوگ صدیوں سے آباد ہیں وہ غیر قانونی طور پر نہیں رہتے۔ ’خدارا کبھی نہیں سوچیے گا کہ انھیں بیدخل کر کے کچے کو ویران کر دیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ کچے میں باقاعدہ سڑکیں بنائی جائیں اور بجلی سمیت جدید دنیا کی تمام سہولیات میسر ہوں۔‘
سیلاب میں جانی و مالی نقصان ہونے کے باوجود معاشی، قبائلی اور سیاسی مفادات لوگوں کے پیروں کی زنجیر بن چکے ہیں جو انھیں کچے سے نکلنے نہیں دیتے۔

List of urgent required medicines for free medical camps in Sindh, Pakistan. (Flood victims relief)



Dear all, 
Please check this list of urgently required medicines which need for free medical camps in (Katcha area) Khairpur, Sindh. Pakistan.

Following medicines are required in the form of suspensions, tablets, capsules or Drip.
Cafadroxil, 
Tramado, 
Amoxil, Trimax (Amoxcillin)
Carbencillin
Cafamandro
Lincomysin
Gentimicin
Oxolinic Acid (Uroxin)
Lemofloxacin (Cipro)
Declomycin
Doxycycline
Polymyxin B
Diclofenic (Cataflam, Voltran, Zipzor)
Ibuprofen
Ansaid
Ketoprofen
Mefenic Acid
Naproxen
Celecoxin
Tramadol
Capsaicim
Cafcol
Augementen DS
Augmenten
Cefloxin
Calpol
Septron DS
Paracetomol / Panadol DS / Panadol Extra
Ponstan Fort
Medi-Scab
S-Zole
Neurobion
Mucaine
Acefyl
Britanyl
Xilcof
Dijex MP
Blisscarma
Zyrtec (Ceririzine 2HCL)
Lysovit
Multivitamins, Antibiotics etc

Ps Note:  A request from all social workers / volunteers to attend this request on priority basis, As we need them on urgent basis to serve with free medical camps for flood victims in Sindh. 

Please contact with;
Syeda Faryal Zehra (Twitter: @f4faryal) 
Team Ashiyana (Twitter: teamashiyana)

Or contact us on (0092 345 297 1618)

Email us;
team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com

For online donations please use this bank details;
 “Ashiyana”
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 1921192110034780.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code: UNILPKKA

Jazak Allah
Syed Adnan Ali Naqvi 



Sunday, August 09, 2015

ٹیم آشیانہ: سیلاب زدگان مدد (سیدہ فریال زہرہ) کی ڈائری



اسلام و علیکم دوستوں، 



نام  آپ جانتے ہی ہیں،  اور اگر نہیں جانتے تو ایک بار پھر عرض خدمت ہے "سیدہ فریال زہرہ" تعلق کینیڈا سے ہے. الله کے فضل و کرم سے مسلمان ہوں (بغیر کسی تفریق کے)، الله اور آخری نبی پر کامل ایمان رکھتی ہوں. انسانیت اپنا خدمت کو اپنا دینی اور مذہبی فریضہ سمجھ کر سر انجام دیتی ہوں. الله نے زندگی میں ہر کامیابی اور خوشی سے نوازا ہے. اچھا خاندان، تعلیم کی بدولت ایک اچھی زندگی گزار رہی ہوں. انسانیت کی خدمت کے سفر میں پاکستان کا ایک  کردار رہا جبکہ میرا دور تک کا کوئی رشتےدار پاکستان میں مقیم نہیں اور اگر کوئی ہے تو ہم خاندان والے ان سے رابطے میں نہیں. میرے دادا ابو (grand father) ایک پاکستانی تھے، جہلم شہر سے تعلق  لیکن وہ اپنی جوانی میں ہی پہلے لندن اور پھر امریکہ (شکاگو) منتقل ہو گئے، وہی شادی کری اور وہی تدفین  ہوئی، والد صاحب نے ایک اور ہجرت کری اور شکاگو (امریکہ) سے کینیڈا منتقل ہو گئے، مختصر کہ میری  پرورش کینیڈا میں ہی ہوئی، کیلگری (کینیڈا) میرا گھر بنا تعلیم سے روزگار وہی. 

 پہلی دفع پاکستان اکتوبر ٢٠٠٥ کے زلزلے کے بعد آنا ہوا، ایک ایسا انسان جس نے زلزلے میں اپنا خاندان کھویا اور پھر دل و جان سے زلزلے (٢٠٠٥) کے متاثرین کی خدمت میں لگ گیا، میں نے اس انسان (سید عدنان علی نقوی) سے زیادہ جنونی آج تک نہیں دیکھا، پہلی دفع بی بی سی (اردو) پر عدنان کو سنا اور پڑھا اور رابطہ کیا. 
یہ ہے عدنان کی ڈائری کا وہ لنک جس نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں عدنان سے فون پر بات کرتے ہی پاکستان آگئی، http://www.bbc.com/urdu/interactivity/specials/1640_adnan_diary_ms/page24.shtml


پاکستان  آکر اندازہ ہوا کہ یہاں فلاحی خدمات سر انجام دینے کے لئے بہت کچھ ہے، پھر عدنان نے کچھ ایسی رہنمائی کری کہ میں نے کافی عرصہ پاکستان میں گزارا اور اقوام متحدہ اور اسکے ذیلی اداروں سے وابستہ ہو گئی. میری تعلیم اور نوکری بھی مجھ کو نہیں روک سکی. انسانیت کی خدمت کے اس سفر میں دنیا بھر گھوم لی، مختلف اقوام، تہذیبوں (کلچر)، ممالک کے سفر کرنے کا موقع ملا لیکن جب جب عدنان نے مجھے کسی بھی طرح کے فلاحی کام کے لئے پاکستان آنے کی دعوت دی میں منع نہیں کر سکی اور موقع کوئی بھی ہو، شمالی وزیرستان جیسے مشکل، حساس علاقے ہوں یا سندھ، پنجاب، سرحد (خیبر پختونخواہ)، بلوچستان کے سیلاب متاثرین یا پھر وزیرستان کے آئ-ڈی-پیز (IDPS) ہوں، عدنان اپنی چھوٹی سی فلاحی ٹیم بنا لیتے جس میں انکے دوست، خاندان کے افراد شامل ہوتے اور مجھے بھی دعوت دیتے کہ میں بھی شامل ہو جاؤں اور میں بھی مختصر وقت کے لئے ہی سہی لیکن پاکستان آکر عدنان کی "ٹیم آشیانہ" میں شامل ہو جاتی. ایسے ہی سفر جاری رہتا اور ہم لوگ مل کر  اپنے طور پر مشکل میں موجود انسانوں کی خدمات سر انجام دیتے  رہتے. پچھلی دفع جب پاکستان آئی تو حالات کچھ سازگار نہیں تھے، بنوں (خیبرپختونخواہ) میں عدنان اور ٹیم آشیانہ کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا گیا وہ ناقابل  بیان ہے، یہ وقت ان تفصیلات میں جانے کا نہیں، بقول عدنان "وہ فلاحی کام ہی کیا جس کے دوران مشکلات پیش نہ آئیں." میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ بھی ہو جائے پاکستان نہیں آؤں گی بیشک وہیں (کینیڈا) میں بیٹھ کر یہاں کے لوگوں کی مدد کروں گی. لیکن کیا کیا جائے جب عدنان جیسا بھائی خود مشکل میں ہو  اور آواز لگائے. 

اس دفع پھر پاکستان میں سیلاب آیا، جس وقت سیلاب آیا عدنان "ٹیم آشیانہ" کے ہمراہ تھر (سندھ) میں بھوکے لوگوں کو دو (٢) وقت کا کھانا روزانہ تقسیم کر رہا  تھا. پھر سندھ میں جو ہوا وہ بھی  سب کے علم میں ہے. پہلے میں نے سوچا کے ایک نیشنل ڈیزاسٹر ہے پاکستانی عوام اپنی مدد آپ کر لے گی، لیکن میں نے اپنے گزشتہ تجربات سے جتنا پاکستانی عوام کو سمجھا ہے وہ یہی ہے کہ یہاں کوئی اپنی مدد خود کرنا ہی نہیں چاہتا (معذرت کے ساتھ).

میں نے جولائی ٢٠١٥، میں عدنان سے رابطہ کیا اور جب انہوں نے پاکستان کے حالت بتائے تو میں نے اپنے روزگار والوں کو کہا کہ لمبے سفر پہ نکل رہی ہوں، رخصت درکار ہے، روزگار والوں نے بھی کہا، جی بلکل! اور میں ٣، اگست ٢٠١٥ کی صبح (براستہ فرینکفرٹ، دبئی) پاکستان (کراچی) پہنچ گئی. ٹیم آشیانہ کے کارکنان نے میرا استقبال کیا. میں ایک لمبے سفر سے پاکستان پہنچی تھی لیکن دماغ پر سب سے پہلے عدنان سے ملنے اور انکے فلاحی مشن میں شامل ہونے کا جنون سوار تھا. لیکن عدنان جو کہ سندھ کے کچے کے علاقے میں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے "ٹیم آشیانہ" کے ہمراہ  موجود تھے نے مجھے کراچی میں کچھ کام  مکمل کرنے کو کہا. 

کراچی:
 ایک ایسا شہر جس کے برتاؤ کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا  جاسکتا، ایک ایسا شہر جہاں امرا، اشرافیہ، غریب ہر طرح کے لوگ موجود ہیں، لیکن افسوس کے کسی بھی طرح سے مہذب نہیں، کسی طرح کا ڈسپلن موجود نہیں، سڑکوں پر ٹریفک ایسا بےہنگم کے الله کی پناہ، لوگ ایسے بھاگے جاتے ہیں جیسے پیچھے موت کا فرشتہ لگا ہے یا پھر کوئی بلا. صبر نام کو نہیں. خیر مجھے کیا، میں عدنان کے کہنے پر پہلے  (PDMA) کے دفتر گئی جہاں کچھ اپیل جمع کرانا تھی لیکن کوئی ذمہ دار نہیں مل سکا جو ملا اتنا غریب کے ہماری فائل کو صاحب کی ٹیبل تک پہچانے کے لئے کم از کم ٥٠٠ روپے درکار تھے. وہ بھی دیے. وہاں سے سندھ کے خادم حضرت قائم علی شاہ کے دفتر جانا تھا، لیکن انکے دفتر تو دور دفتر کا دروازہ تک دیکھنا نصیب نہ ہو سکا، وزیر اعلی سندھ کی سیکورٹی، پھر ہماری (ٹیم آشیانہ) کی کوئی حیثیت ہی نہیں، یہاں تو بڑے بڑے ساہوکار، کاروباری، رقم کا لین دین کرنے والوں کو ملاقات کا وقت دیا جاتا ہے، میں نے سوچا یہ میں کہاں آگئی ہوں جہاں عوام کے خادم کے پاس عوامی مسائل سننے کے لئے وقت نہیں. عدنان کو فون پر سری صورت حال سے آگاہ کیا، اپنی ناکامی اور مایوسی کا بتایا لیکن ہمیشہ کی طرح عدنان نے کہا "کوئی بات نہیں، کوئی ملے یا نہ ملے، مدد کرے یا نہ کرے، ہم اپنے طور پر سیلاب زدگان کی مدد کے لئے جو کر سکتے ہیں کریں گے." 

مجھے "ٹیم آشیانہ" کے ایک  کارکن " احمد  بھائی" سے رابطہ کرنے کو کہا گیا جنہوں نے میرے رہنے کا انتظام گلستان جوہر میں "ٹیم آشیانہ" کی ایک بہت دیرینہ ساتھی "بدر باجی" کے گھر پر کیا، گھر آکر تھوڑا آرام کیا، عدنان کی فراہم کی گئی لسٹ کے مطابق سامان جن میں ادویات، کھانے پینے کی اشیا، کپڑے وغیرہ کچھ دوستوں کے گھر سے جمع کرنے تھے اور کچھ فنڈز دستیاب تھے انسے خریداری کرنا تھی. سوچا تھا جب ہم بازار میں جاکر لوگوں کو بتائیں گے کہ ہم سیلاب زدگان کی مدد کے لئے ادویات، کھانے پینے کا سامان اور کپڑے خرید رہے ہیں تو کچھ رعایت ملے گی، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا. الٹا لینے کے دینے پڑھ گئے کیونکہ پوری کوشش کے باوجود میں بہت اچھی اردو نہیں بول سکتی اور شاید سمجھ بھی نہیں سکتی، خیر جو ہونا تھا ہوا، قدم قدم پر مجھے مایوسی ہو رہی تھی کہ میں کینیڈا سے پاکستان ایسے لوگوں کی مدد کرنے آئی ہوں جسکو کوئی احساس ہی نہیں کہ انکے پاکستانی ساتھی کس طرح کی مشکلات کا شکار ہیں. میں نے ایک بار پھر عدنان سے رابطہ کر کہ انکو اپنی کیفیت بتائی اور جو انہوں نے کہا اسنے مجھے حوصلہ  دیا. عدنان بھی بس عدنان ہی ہے. ہر ناکامی سے کامیابی کا پہلو نکل لیتا ہے. 

دو (٢) دن کراچی میں ادویات و دیگر کی خریداری، فنڈز جمع اور پیکنگ میں لگ گئے اور ٥، اگست ٢٠١٥ کو وہ وقت آگیا جب ایک ٹرک پر امدادی سامان لادا گیا اور مجھے کہا گیا کہ فنڈز کی کمی کی وجہہ سے ہم کوئی اور سواری کا انتظام نہیں کر سکے اسی لئے مجھے اور دیگر کارکنان کو اسی ٹرک پر سوار ہو کر سکھر (سندھ) کے قریب کچے کے علاقے میں جانا ہوگا. میرے ساتھی دوست شرمندہ تھے لیکن میں عدنان پر فخر کر رہی تھی کہ کوئی تو ہے جو اس طرح کے ماحول میں انسانیت کی خدمات کا فریضہ انجام دے رہا ہے. سفر بہت کٹھن تھا، ٹرک کی سواری کا پہلے کوئی تجربہ نہیں تھا، پھر جگہہ جگہہ پاکستانی پولیس کے فرض شناس آفیسرز موقع پر ہی سارے ٹیکس وصول کرنے کے لئے  تیار، (پاکستانی دوست میری اس بات کا مطلب بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہونگے).
 ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد آخر ہم ایسے علاقے میں داخل ہوۓ جہاں محسوس ہوا کہ اب ہم کسی آفت زدہ علاقے میں داخل ہو گئے ہیں. ٹیم آشیانہ کا ایک چھوٹا سا کیمپ سکھر سے کچھ فاصلے پر قائم لیکن بنیادی سہولیات سے محروم، ایک لمبے عرصے بعد عدنان کو دیکھا، جو پہلے سے کہی زیاد کمزور، لیکن انسانیت کے جذبے سے سرشار، میرے استقبال کے لئے موجود. ہمیشہ کی طرح میرے سر پر ہاتھ  پھیرا، بہت ساری دعا دی اور مجھے ویلکم کیا. رات ہو چکی تھی، کراچی سے میں نے ذاتی طور پر کچھ جنک فوڈ ساتھ رکھ لی تھی جو کھائی الله کا شکر ادا کیا اور عدنان "ٹیم آشیانہ" کے ساتھ اگلی صبح کے لئے جو کام کرنے تھے اسکو ڈسکس کیا اور جو کچھ بھی میسر تھا آرام کرنے کے لئے لیٹ گئی. 

اگلی صبح:
بہت خوفناک صبح تھی، بہت شور سے آنکھ کھلی، پہلے فون کی طرف دیکھا جو چارجنگ نہ ہونے کے سبب آخری سانسیں لے رہا تھا، پہلے کینیڈا کال کر کہ dad (ابا جی) کو اپنی خیریت دی، ٹینٹ سے باہر نکل کر دیکھا تو ایک ہجوم تھا جو ہر طرف موجود تھا، بچوں کے جسم پر کپڑے نہیں تھے، عورتوں کے سروں پر چادر نہیں تھی، مردوں کے پیروں میں چپل نہیں تھی، عجیب منظر تھا. عدنان اور ٹیم آشیانہ کے کارکنان پوری کوشش کر رہے تھے کہ اس ہجوم کو کنٹرول کریں لیکن اپنے سامنے امداد دیکھ کر کوئی بھی نہیں رک رہا تھا. میں نے اپنی کوشش کری لیکن ناکام رہی. کسی نہ کسی طرح ہجوم قابو ہوا. ٹیم آشیانہ کی  خواتین کارکنان کی مدد سے پہلے اپنا حلیہ بہتر کیا، اور مجھے جو کام دیا گیا تھا اسکو انجام دینے میں لگ گئی، صبح سے دن ہوا اور دن سے رات لیکن ہمارا کام ختم نہی ہو سکا. دن بھر لوگوں میں  غذائی اجناس کی تقسیم، ایک مقامی ڈاکٹر کی مدد سے میڈیکل کیمپ میں خواتین اور بچوں کے چیک اپ. ایک تھکا دینے والا دن. رات ہوئی تو پتا لگا کے آج ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان کے لئے دال چاول پکایا گیا ہے. سب کے ساتھ مل کر کھایا، الله کا شکر ادا کیا. اور اگلے دن جو فلاحی کام سر انجام دینے تھے انکی تیاری.

اگلی صبح مجھے ایک دفع پھر کراچی جانے کے لئے کہا گیا، جہاں مجھے ٹیم آشیانہ کے لئے فنڈز جمع کرنا تھا، ادویات خریدنا تھی، غذائی اجناس لینا تھی. لیکن کیسے اسکا خود مجھے بھی پتہ نہیں تھا.

نوٹ: مذکورہ بالا تحریر "ٹیم آشیانہ" کی ایک فلاحی کارکن "سیدہ فریال زہرہ" نے لکھی ہے، جسکو "فریال" کی اجازت اور ضروری تدوین (ایڈیٹنگ) کے بعد سید عدنان علی نقوی بھائی کی اجازت سے یہاں شایع (publish) کیا جارہا ہے. ٹیم آشیانہ اس وقت سندھ کے کچے کے علاقے میں موجود ہے اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے کوشش کر رہی ہے. 

Follow Faryal on Twitter: @F4Faryal
Follow us on Twitter: @TeamAshiyana   
         
   

Saturday, August 01, 2015

Team Ashiyana: Volunteers required to serve flood effectees in Sindh. (Appeal)

Team Ashiyana is serving flood victims in #Sindh.
More then 0.8m peoples are being displaced.

We need volunteers to work with us in remote areas which are highly effected by the recent flood. 

If you're a doctor, para-medic, student, or belongs to any feild and wilingly to work with Team Ashiyana under the supervision of Syed Adnan Ali Naqvi to serve suffering humanity in #Sindh so please contact with us on followings;

(0092) 345 297 1618
(0092) 333 342 6031
Whatsapp: (0092) 0306 028-7640

team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca

What we need to help flood effetes in #Sindh:-
Medicines: All kind of medicines (On urgently basis)
Drinking Water: In huge quantity.
Food Stuff: T feed displaced & hunger peoples.
Clothes: For Women and Children.

What we have at this moment:
Medicines: General Medicines (Cost of Rs. 15,000/=)
Food Stuff: Including Rashan. (Cost of Rs. 25,000/=)
Drinking Water: 1000 liter. 
Clothes: We don;t have clothes at yet.

Volunteers (Serving in Katcha Area - Sindh:
Syed Adnan Ali Naqvi (Chief Volunteer)
Arsalan Ali (Karachi)
Dr. Tabasum Naz (Karachi)
Dr. Afshan Navi (Karachi)
Manzoor Sumroo (Dadu)
Ahsan (Hyderabad)
Danish Khan (Nawabshah)
Farheen Bhutto (Badin)
Qaiser Ghulamani (Badin)
Qasim Raza (Hyderabad)
Akash (Mirpurkhas)
Salman Palejo (Sehwan)

Volunteers (Karachi, collecting donations)
Ms. Badar un Nisa.
Ms. Asma 
Ahmad 

Appeal;
We need Medicines (all kind), Food stuff, Drinking water and clothes to serve suffering and flood effected peoples in Sindh. 
Please contact on above given contact details. Leave us a text if not respond as having network issue in working areas. 
You can send us your aid through Pakistan Army or Sindh Rangers. Just tag on your packing "For Adnan & Group" at any collection point for "flood effected peoples" of Pakistan Army or Sindh Rangers. 
Click here for Online donations or contribution
For online contribution use the following:
 “Ashiyana”
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 1921192110034780.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code: UNILPKKA

Friday, July 31, 2015

Help Flood Victims in Pakistan. (Flood update 2015)

 A lot of flood victims in Sindh is awaiting for a powerful quick response from the nation. There's no help by any N.G.O or any Govt organization for the flood victims in Sindh. 
Facing shortage of Medicines / Food at this time. 

We need support, We need you to be with us to help our brother & sister who has lost there homes, food and everything during this flood. 

Team Ashiyana is looking for volunteer's, to come & join us to help flood victims in remote areas of Sindh. Pakistan. 

Team Ashiyana is looking for Medicines and food stuff to care flood victims. To help these people contact us on: +92 345 297 1618 
or email us;
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
team.ashiyana@gmail.com

Twitter: @teamashiyana / @S_AdnanAliNaqvi

For donation with medicines / Food or cloth please contact on +92 333 342 6031 (Karachi)

We're starting with a very small amount Rs. 60,000/= (Sixty thousands) with the hope that more people will join us and help us to give our support to flood victims.