Friday, April 20, 2012

وزیرستان ڈائری: دتہ خیل میں میرا پہلا جمعہ، میران شاہ میں ڈرون حملہ اور ہم

اسلام و علیکم، 
آج کی ڈائری لکھتا ہوں. 

آج جمعہ مبارک کا دن ہے، خوش قسمتی سے آج کی رات نسبتاً پرسکون گزری، میری بھی آنکھ صبح فجر کے وقت ہی کھلی، صبح فجر میں اٹھنے کی عادت جو ہوتی جا رہی تھی، آج کسی کو اٹھانا نہیں پڑا. میں اپنے بستر سے اٹھ کر باہر آیا تو دیکھا کے ٹیم آشیانہ کے سارے ساتھی نماز کی تیاری میں مشغول ہیں. میں بھی وضو وغیرہ سے فارغ ہو کر نماز کی جگہ آکر بیٹھ گیا. تھوڑا ہی دیر میں باقی ساتھی بھی آگئے، امامت ظہیر خان بھائی نے کری، ماشا الله بہت ہی خوش کلامی سے تلاوت قرآن کری، نماز پڑھنے میں خود ہی بہت مزہ آیا. روح اور جسم سب الله کے حوالے کر دینے کا فیصلہ کیا اور نماز کی سہی حقیقت آج ہی کھلی. الله اکبر، کاش کہ میں پہلے ہی ان سب سچائیوں کو جان پاتا. اپنے ماضی پر افسوس اور کردار پر ندامت کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتا تھا. نماز کے بعد رو رو کر دعا کری کہ،
 "الله پاک، مجھ کو سیدھا راستہ دکھا، وہ راستہ جس میں میری فلاح ہو، میرے غیر والو کی فلاح ہو، میرے دوست احباب، عزیز اور رشتےداروں کی فلاح ہو، اور جس میں توحید کا کلمہ پڑھنے والو کی فلاح ہو."  
دعا کے بعد، عدنان بھائی نے ایک تعلیمی نشست کا اہتمام کیا تھا. جس میں قرآن پاک کی کچھ آیات پڑھ کر اس کا اردو اور پشتو ترجمہ کیا گیا، ایک اور بھی سے کہا گیا کے ان آیات پر علمی روشنی ڈالیں، سورج کی روشنی اب ہر طرف پھیلتی جا رہی تھی، نیند تو کب کی ختم ہوچکی تھی اب درس قرآن کے بعد ناشتہ کرنا تھا اور آج کیا کام کرنا ہے اس کی معلومات اور نماز جمعہ کی تیاری. 
میں نہیں، درس کے بعد اکرم بھائی سے معلوم کیا کے آج ہم (ٹیم آشیانہ) کیا کام کر رہی ہے تو جواب ملا کہ ناشتے کے بعد ہی پاتا لگے گا کہ آج کیا کرنا ہے. شاید اب ہمارے پاس ادویات اور امدادی سامان بہت کام رہ گیا تھا جس کی وجہہ سے کوئی نئی حکمت عملی بنانا مشکل ہو رہی تھی، میں نے اکرم بھائی سے معلوم کرنے کی کوشش کری کہ اگر یہاں سے فون کرنا چاہوں تو؟ جواب ملا کے ہمارے پاس کوئی جدید سہولت میسر نہیں، ایسی سہولیات تو صرف بڑے خان، طالبان، یا حکومتی اہلکاروں کے پاس ہے ہم ایسی سہولیات سے آراستہ نہیں. تھوڑا سا دکھ ہوا، کیوں کہ کافی دنوں سے امی سے بات نہیں ہوئی تھی پتہ نہیں وہ کیسی ہونگی؟ الله پاک امی کو صحت اور تندرستی دی، آمین.
ناشتہ بہت رسمی سے تھا جس میں رات کی بچی ہوئی روٹی اور چائے تھی. میں نے صرف چائے پینے پر ہی بس کیا کیوں کہ بھوک نہ ہونے کے برابر تھی. اچانک مجھ کو دونوں خواتین کے بڑے میں خیال آیا تو میں نے پوچھا تو پتہ چلا کے ایک اور خاتوں کے ہاں بیٹا ہوا ہے مگر تیسری خاتوں کی حالات کچھ بہتر نہیں، دعا کی اشد ضرورت ہے، دل سے دعا کری کہ الله پاک خاتون کو صحت عطا فرماے، آمین. 
دل کچھ بوجھل ہونے لگا. میں ٹہلنے کی غرض سے اٹھا ہی تھا کہ سارے ساتھیوں کو ایک جگا جمع ہونے کی ہدایت کی گئی. ہم سب ایک کھلی جگہ پر اکھٹا ہو گئے. عدنان بھائی اور اکرم بھائی بھی آگئے. پھر اکرم بھائی نے ابتدا کری. "ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے پاس اب صرف ضروری سامان رہ گیا ہے. ہمارے پاس اب اتنی ادویات نہیں کہ کوئی اور میڈیکل کیمپ لگا سکیں، نہ ہی ہم اب غذائی اجناس کی فراہمی کر سکتے ہیں، اس لئے آج جمعہ مبارک کی نماز کے بعد ٹیم آشیانہ کے کچھ اراکین میران شاہ اور پشاور روانہ ہو رہے ہیں جہاں سے کچھ سامان اکھٹا کیا جا سکے، آپ میں سے جو جو یہاں روک کر کام کرنا چاہتا ہے وہ ایک طرف ہو جائیں اور جو بھیک مشن کے لئے جانا چاہتا ہے وہ ایک طرف ہو جائیں اور جو آرام کرنے کی غرض سے اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں وہ ایک طرف ہو جائیں. 
میں بہت حیران زدہ تھا کہ کل تک ایسی کوئی بات بیان نہیں کری گئی تھی اور آج اچانک یہ صبح، اور جو لوگ ٹیم آشیانہ کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتے اور واپس جانا چاہتے ہیں ان کو بہت عزت اور احترام کے ساتھ واپس جانے کا بھی کہہ دیا گیا تھا. میرے حساب سے ایک میں ہی تھا جو بہت دور (کراچی) سے آیا تھا، باقی افراد زیادہ تر یہاں ہی کے تھے مطلب وزیرستان ہی کے کسی نہ کسی علاقے کے یا پشاور کے. مجھ کو کچھ اچھا محسوس نہیں ہوا، میری خود سمجھ نہیں آرہا تھا کے میں کس طرف کھڑا ہوں، اسی سوچ میں جہاں تھا وہی کھڑا رہ گیا جبکے باقی ساتھی تین الگ الگ جگہوں پر کھڑے ہو گئے. عدنان اور اکرم بھائی نے آواز دی کے بھائی منصور آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ میں نے کہا میں ابھی کچھ دن اور یہاں روک کر آپ کے ساتھ فلاحی کاموں میں حصہ لینا چاہتا ہوں، یہ سن کر ہلکی ہلکی سی آواز ہے جن میں صدا تھی، الله اکبر، ماشا الله، سبحان الله. . . ایسا لگا کے جیسے میں نے کسی جہاد میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہو. اکرم بھائی نے آگے بڑھ کر مجھ کو گلے سے لگایا. مگر عدنان بھائی کسی سوچ میں تھے، عدنان بھائی نے مجھ کو ایک طرف آنے کے اشارہ کیا اور اکرم بھائی باقی ساتھیوں کو ہدایات دینے لگے. 
عدنان بھائی نے مجھ کو ٹیم آشیانہ کی ملی مشکلات سے اگاہ کیا، یہ بتایا کے ہو سکتا ہے کے اب ہمارے پاس دو (٢) وقت کا کھانا بھی مشکل ہو، یا پھر کسی دن کا روزہ بھی رکھنا پڑے، ادویات کا انتظام کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں. باقی حالات تو میرے سامنے ہی ہیں. "آپ کو واپس جانا چاہیے آپ کراچی میں رہ کر ہماری بہتر مدد کر سکتے ہیں" عدنان بھائی نے کہا مگر میں نے جواب دیا کہ میں کچھ دن اور یہاں روکنا چاہتا ہوں، سمجھنا چاہتا ہوں حالات کو دیکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ جب میں واپس جاؤں تو بہت بہتر طریقے سے یہاں کے حالت بیان کر سکوں، یہاں کی مشکلات کو سمجھ سکوں اور کوئی بہتر حل تلاش کر سکوں. ہو سکتا ہے کے یہاں روک کر جو دکھوں میں کوئی اچھی راے دے سکوں. لیکن اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کے میں آپ پر بوجھ بنوں گا تو میں نماز کے بعد چلا جاتا ہوں، میں نے کہا. عدنان بھائی نے مجھ کو گلے لگا لیا اور ان کی آنکھوں میں آنسوں تھے، میری بھی آنکھیں بھر آی. کراچی میں رہ کر کبھی ایسے حالت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، آج پہلی دفع محسوس ہوا، کہ فاقہ کیا ہوتا ہے ابھی کیا نہیں تھا صرف سوچا ہی تھا تو ادھ جان جا رہی تھی. الله اکبر، پتہ نہیں یہاں کے لوگ کتنے فاقے کرتے ہونگے، کتنے ہی لوگ بغیر ادویات اور علاج کے مر جاتے ہونگے، کتنے ہی لوگ ایسے بورے حالات سے تنگ اور پریشان ہو کر ملک دشمنوں کے ہاتھوں کا ہتھیار بن جاتے ہونگے، نام نہاد طالبان بھی شاید ایسے ہی موقے اور لوگوں کی تلاش میں رہتے ہونگے، تبھی وزیرستان اور قبائلی علاقوں میں طالبان اور نام نہاد اسلام کے ٹھیکیداروں کا علاقہ ہے. اور ان کا زور چلتا ہے. ان سب کے ذمے دار ہم سب ہی ہیں. ہم خود تو شہسروں میں بیٹھ کر اپنی روزی روٹی کی فکر کرتے ہیں مگر کبھی نہیں سوچتے کے پتہ نہیں کتنے لوگ ہیں جن کو ایک وقت کی روٹی تک میسر نہیں، ہم کو تھوڑا سا سر درد ہوتا ہے تو ڈاکٹر کے پاس بھاگتے ہیں. اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں دوا لیتے ہیں، مگر یہاں تو ایک ٹیبلٹ تک مشکل سے ملتی ہے. یا الله! یہ کیسا امتحان ہے؟ یہ کیسی مشکل ہے؟ مجھ کو ہمت دینا، صبر دینا، کہ میں اپنے اس فیصلے پر ثابت قدم رہوں. آمین.

دن کے ١١ بجے کا وقت:
اچانک ہی کچھ افرا تفری مچی، اکرم بھائی میرے طرف بھاگتے ہووے آی اور میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف بھاگنے لگے، میں اس بھاگم بھگ کے لئے بلکل تیار نہیں تھا. بلال بھی کہیں نظر نہیں آرہا تھا. نہ ہی ٹیم کا کوئی دوسرا کارکن نظر آرہا تھا. 
یا الله یہ کیا ماجرا ہے؟ میں اکرم بھائی کے ساتھ تیز نہیں بھگ سکتا تھا. اپنی معذوری پر پہلی دفع بہت غصہ آیا. ١٥ منٹ کے بعد ہم ایک جگا روکے، میری سانس بوری تارہا چل رہی تھی، حلق میں کانٹے پڑھ رہے تھے، فکر اور گھبراہٹ الگ ہو رہی تھی. اکرم بھائی مجھ کو ایک چھوٹے سے گھر میںلے گئے ہے مجھ کو ہدایت دی کے جب تک وو واپس نہیں آتے مجھ کو اسی گھر میں روکنا ہے اور کسی سے کوئی بات نہیں کرنی. میں ہکا بکا، تھا. کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا. وہ مجھ کو چھوڑ کر چلے گئے، میں ایک طرف بیٹھ گیا، صبح سے ہونے والی سری باتوں کو یاد کرنے لگا. آج جمعہ بھی ہے، میں سمجھا کے آج کسی بڑے میدان میں نماز کی تیاری ہوگی جس سے مجھ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دیکھنا اور ملنے کا موقع ملے گا، مگر یہ سب تو الٹا ہی ہو رہا تھا. تھوڑی دیر میں ایک بچہ (١٢-١٣) برس کا میرے لئے ایک پلیٹ میں چاول اور دنبے کے گوشت کا سالن دل کر لے آیا، ساتھ پانی بھی تھا، میں نے بچے کو اردو میں ہی کہا الله اجر عظیم دے، میں بھوکا نہیں بس پانی دی دو. بچا اردو سمجھ گیا اور کہا کھاؤ، میں نے انکار کر دیا، اور یہ انکار صرف خوف کی وجہہ سے نہیں تھا، مجھ کو سچ میں بھوک نہیں لگ رہی تھی. وہ بچہ پلیٹ واپس لے کر چلا گیا. میں نے آگے بڑھ کر پانی کا گلاس اٹھایا، پانی پر نظر پڑی تو دیکھا پانی بہت مٹی والا تھا. بہت مٹی تھی. میں کیسے پی سکتا تھا پانی. میں نے اپنی قمیض کا دامن پانی کے گلاس پر رکھا اور جتنا پانی پی سکتا تھا الله کا شکر ادا کر کے پی لیا. 
  دن کے ایک (ا) بجے:  
ابھی تک کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کے باہر ہو کیا رہا ہے ہر طرف سناٹا تھا. ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں کسی قبرستان میں آگیا ہوں. وہ بچہ جو کھانا اور پانی لیا تھا واپس نہیں آیا تھا. میں کمرے سے باہر نکلنا نہیں چاہتا تھا کے کوئی گڑ بڑ ہوئی تو اکرم بھائی جانے کیا کہے گے. پریشان اور لاچار ایک طرف بیٹھ گیا، صرف گھڑی میں وقت دیکھ کر سوچ میں تھا کے آج نماز بھی ادا ہوگی کہ نہیں؟
اسی سوچ میں تھا کہ، اکرم بھائی آگئے، میری جان میں جان آی، ایک انجانی خوشی کا احساس ہونے لگا. میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی اکرم بھائی نے بتایا، "منصور بھائی آج صبح نماز فجر کے بعد دتہ خیل سے کچھ آگے، اور میران شاہ پر ڈرون نے حملہ کیا ہے، جس میں بہت جانی نقصان ہوا ہے. کافی غیر ملکی (نام نہاد) جہادی مارے گے ہیں. اور کچھ مقامی لوگ بھی مارے گئے ہیں. پورا امکان ہے کے آج جمعہ کی نماز پرایک دفع پھر سے حملہ ہو. اسی خدشے کے پیش نظر ہم کو سر پر پیر رکھ کر جس حال میں تھے بھاگنا پڑا. ہم کسی بھی قسم کا نقصان برداشت کر سکتے ہنی مگر جانی نقصان بلکل نہیں. میرا کچھ سامان جو میرے بستر پر تھا وہ بھی لا کر دیا. کے فلحال آپ کو یہی روکنا ہوگا. میں نے باقی ساتھیوں کا پوچھا تو بتایا گیا الله کے فضل اور کرم سے سب ہی محفوظ جگہوں پر ہیں. اب کچھ اور پوچھنے کے لئے باقی نہیں رہ گیا تھا. نماز کا پوچھا تو کہا کے آج نماز اسی کمرے میں ادا کرنی ہے کچھ مقامی لوگ آرہے ہیں، کیوں کے ڈرون حملے کی وجہہ سے نماز کھلی جگہ پر اور اجتماع کے ساتھ ادا نہیں کی جا سکتی. 
مجھ کو وضو کا پانی دیا گیا، مجھکو کچھ حجت محسوس ہو رہی تھی میرا اشارہ سمجھ کر اکرم بھائی نے مجھ کو راستہ دکھایا، میں باہر نکلا کھلے آسمان کی طرف دیکھا، الله کا شکر ادا کیا اور اپنے کام سے فارغ ہوکر وضو کر کے کمرے میں واپس آگیا. میری واپسی تک ٨-١٠ مقامی افراد کمرے میں موجود تھے اور نماز کی تیاری کر لی گئی تھی. مقامی افراد سے میرا تعارف کرایا گیا جو رسماً تھا. ایک مولانا ٹائپ کے صاحب نے جمعہ کا عربی خطبہ دیا، اقامت ہوئی اور نماز پڑھی گئی، نماز کے بعد بقیہ نماز ادا کری اور ایک ایک کر کے وہ سب رخصت ہوتے چلے گئے، صرف اکرم بھائی اور ایک اور صاحب جن کا نام نہیں پتہ وہی رک گئے.

دن کے ٣ بجے:  
کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی، اکرم بھائی تلاوت قرآن کر رہے تھے اور وہ صاحب تسبیح پر کچھ پڑھ رہے تھے، وہی بچہ جو پہلے کھانا لے کر آیا تھا ایک دفع پھر کمرے میں داخل ہوا اب اس کے پاس تین (٣) پلیٹیں تھی کھانا وہی تھا جو وہ پہلے لے کر آیا تھا، گلاس کی جگہ ایک چھوٹی سی مٹکی تھی جس میں پانی بھرا تھا. میں خود کو پتھروں کے دور کا انسان محسوس کر رہا تھا یا ایسا لگ رہا تھا کے میں افغانستان میں کہیں موجود ہوں. اکرم بھائی نے اشارے سے بچے کو کھانا رکھ کر جانے کا کہا اور تھوڑا دیر میں فارغ ہو کر کھانا خانے بیٹھ گئے. بھوک بھی تھی مگر حالات کی وجہہ سے خانے کو دل نہیں کر رہا تھا. پھر بھی کوشش کری کے جتنا کھا سکتا ہوں کھاؤں کیا پتہ آنے والا وقت کیسا ہو. اکرم بھائی میری دوا کی تھیلی بھی لے آی تھے میں نے دوا کھائی، اور ایک طرف بیٹھ گیا. اس میں کوئی شک نہیں کے میں بہت زیادہ پریشان تھا. ایسے حالات کے لئے تیار ہی نہیں تھا. مجھ کو تیار رہنا چاہیے تھا. آج پہلی دفع احساس ہوا کے میں ایک ایسے علاقے میں ہوں جہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے. آج ہی یہ پتہ چلا کے کیوں فلاحی ادارے اور حکومتی ادارے یہاں آکر کام نہیں کرتے. اور آج ہی عدنان بھائی کی عزت، وقار،ٹیم آشیانہ کی ہمت، صبر سب ہی میری نظروں میں بہت بڑھ گے، دل چہ رہا تھا کے اگر سب میرے سامنے ہوں تو اک ایک کا ہاتھ چوموں ان سب کو سلام کروں کہ کتنے سالوں سے یہ لوگ اتنے برے حالات میں ایسے خطرناک علاقوں میں کام کر رہے ہیں. اس کا کوئی صلہ نہیں  دی سکتا. صرف الله پاک کی ذات ہی ہے جو اس کا صلہ دے سکتی ہے. 
اکرم بھائی نے میری ڈائری کی طرف دیکھا اور پوچھا کے یہ کیا ہے؟میں نے کہا کے یہ میری ڈائری ہے جو میں لکھتا ہوں. انہوں نے کہا کے اپنی جان سے زیادہ اس کی حفاظت کرنا کیوں کے ایسی تحریر تم کو کسی مشکل میں نہ ڈال دیں. میں نے سر ہلا کر ان کی مشورے کا شکریہ ادا کیا. اور پوچھا کے اور کب تک یہاں روکنا ہوگا؟ جواب ملا کچھ اندازہ نہیں. میں ایک طرف بچی ہوئی چادر پر لیٹ گیا.

شام کے ٤-٥ کا وقت ہوگا جب مجھ کو اٹھایا گیا میں سو گیا تھا. نماز عصر ادا کری، پھر بیٹھ کر تھوڑا قرآن پڑھا. نماز مغرب کا وقت ہوا تو ادا کری. اور ایک طرف بیٹھ گیا. آج رات یہاں نہ ہی لالٹین تھی نہ ہی چراغ. ہر طرف اندھیرا تھا. جس میں میں اور اکرم بھائی بیٹھے تھے. اکرم بھائی کبھی کبھی کچھ کہتے تو میں ہاں یا ہوں میں جواب دے دیتا. یہ اندھیرا مجھ کو کاٹنے لگا تھا. باہر جانے کی اجازت نہیں تھی. میں سوچنے لگا کے اس وقت کراچی میں میرے گھر پر کیا ہو رہا ہوگا. آج جمعہ ہے میری بہنیں گھر آئ ہونگی، کھانے بن رہے ہونگے. گلی میں بچے ادھر ادھر بھگ رہے ہونگے. یہ خیال بھی میرے کو بہت اچھا لگ رہا تھا. تھوڑا دیر میں ایک شب آے اندھیرے میں پتہ نہیں لگا کے کون ہیں، اکرم بھائی نے پشتو میں کچھ کہا اور مجھ کو اردو میں کہا کے چلو بھائی منصور، خطرہ کچھ کام ہوا باہر چلتے ہیں. اف، میں بتا نہیں سکتا تھا کے باہر جانے کا سن کر جو خوشی محسوس ہوئی تھی وہ کیسی تھی. میں فورن کھڑا ہو گیا اور اکرم بھائی کے آواز کے سہارے کمرے سے باہر نکلنے لگا. باہر کھلی فضا میں آکر گہرے گہرے سانس لئے دل کو بہت اطمینان ہوا. اکرم بھائی میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف چلنے لگے، اور ہم تھوڑا دیر چلنے کے بعد ایک ڈھلوان والی جگہ پر آکر. روک گئے، یہاں دیکھا کے عدنان بھائی موجود ہیںاور ٹیم کے کچھ دوسرے ارکان بھی خوشی کے مارے میرے مون سے آواز نکلی "عدنان" اور میں جھپٹ کر ان کے گلے لگ گیا. میںنے ان سے کہا کے حالت کچھ بھی ہوں آپ مجھ کو اکیلا نہ چھوڑنا. انہوں نے کہا، بھائی سب کچھ اتنا جلدی اور تیزی سے ہوا کے کچھ بھی سوچنے سمجھنے کا وقت نہیں ملا اور یہ سب تو یہاں چلتا ہی رہتا ہے. فٹ بھی میں پوری کوشش کروں گا کے اگر ایسا ہو تو تم میرے ساتھ ہی رہو. ہم سب نے مل کر عشا کی نماز ادا کری، رات میں کچھ کھانے کا انتظام نہیں تھا بس ہلکا پھلکا جو ملا کھا لیا، آج عدنان بھائی نے بتایا کے، "٥ ساتھی جو مختلف علاقوں سے آے تھے وہ آرام کرنے واپس چلے گئے ہیں، ٥ ساتھی پشاور کے لئے نکل گئے ہیں جو ادویات، غذائی اجناس وغیرہ کے لئے وہاں بھیک مہم چلیں گئی اور دوسرے ساتھیوں سے رابطہ کر کے مدد مانگے گئی. اور ہم یہاں رہ گئے ہیں. ابہ تم بتاؤ کے ایسے حالت میں کیا کرنا چاہیے. کیا ہم کو امداد کا انتظار کرنا چاہیے یا یہاں روک کر ہم کچھ اور کر سکتے ہیں؟ میں نے اکرم بھائی کے کان میں کہا کے بھائی اگر ممکن ہو تو چائے پلوا دو اور اگر ایک سگریٹ مل سکتی ہے تو مہربانی ہوگی. "یہ بتا دوں کے مجھ کو بے شک دن میں ایک دفع کھانا ملے، مگر میں چاہیے اور سگریٹ ضرور پیتا ہوں." آج کافی دن کے بعد مجھ کو شدت سے چائے اور سگریٹ کی طالب محسوس ہو رہی تھی. اکرم بھائی نے مسکرا کر کہا جی بلکل!اور وہ اٹھ کر ایک طرف چلے گئے.
  
عدنان بھائی کے چہرے پر ایک اطمینان تھا، جس کو دیکھ کر مجھ کو بھی سکوں مل رہا تھا کے چلو دن بھر کی ٹینشن کے بعد کچھ ذہنی سکوں تو ملا. اب عدنان بھائی نے ایک دفع پھر سے دہرایا کہ " بھائی کچھ سوچا کہ اب کیا کرنا ہے؟" میں نے کہا بھائی جی، آپ تو سالوں سے یہاں ہو آپ کیا کرتے ہو جب آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا؟ جواب ملا کے میں مقامی لوگوں کی ساتھ ان کے کام کاج میں مدد کرتا ہوں وغیرہ وغیرہ. میں نے کہا کے اکرم بھائی کو آجانے دیں جب تک میں کچھ نوٹس لکھ لیتا ہوں پھر کھل کر بات کرتے ہیں. میں نے آج اپنے سارے تجربے اور تجزیے کو ایک دفع پھر سے لکھنا شروع کیا، ڈائری کا ایک ایک صفحہ بار بار پڑھا اور جو بھی بہتر سے بہتر مشورے لکھ سکتا تھا لکھنا شروع کیا. 
رات کے ٩-٩:٣٠ کا وقت ہوگا جب اکرم بھائی واپس آے تو ان کے ایک ہاتھ میں برتن (چائے والا) تھا، میں نے شکر کیا کے آج پیٹ بھر کے چائے تو پینے کو ملے گی، سگریٹ شاید نہیں ملی ہوگی. مگر اکرم بھائی نے قریب آتے ہی میرے ہاتھ میں مارون گولڈ کے ٢ پاکٹ رکھے اور گلاس میں چائے نکال کردی. الله کا شکر ہر حال میں کرنا چاہیے اب یہ سگریٹ کا نشہ کا شکر ادا کروں کے نہیں. دل میں آسمان کی طرف دیکھ کر الله کا شکر ادا کیا کے دن بھر کے ہنگامے کے بعد رات کتنی پرسکون عطا کری. الله تیرا شکر ہے!


To get in touch with Team Ashiyana (North Waziristan) please email us: 
team.ashiyana@gmail.com,
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca,
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
or call / text us at: +92 345 297 1618

Waziristan Dairy: Another Page from dairy.

اسّلام و علیکم 
ڈائری ایک دفع پھر ایک دن اور لیٹ ہو گئی، وجہہ وہی ہے جو میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں. آج پشاور میں عدنان بھائی اور فریال باجی سے بات کرنے کا موقع ملا، دل کو اطمینان ہوا کہ ٹیم آشیانہ خیریت سے ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہے. عدنان بھائی اور فریال باجی کی تحریر پڑھنے کہ بھی موقع ملا. عدنان بھائی اور فریال باجی کے خیالات سے آگاہی ملی، بہن فریال کہ مشورہ اپنی جگہ بلکل درست ہے میں بھی اب اپنی پوری کوشش کروں گا کہ کچھ ایسا تحریر نہ کروں جس سے ٹیم آشیانہ کے ساتھیوں اور وزیرستان میں رہنے والے بھائی بہنوں کے لئے کسی بھی طرھ کی کوئی بھی مشکلات پیدا ہوں. آج صبح کیوں کے یہاں نہم جماعت کہ پرچہ تھا اس میں مصروف تھا اس سے فارغ ہو کر سیدھا بس سٹاپ گیا اور جتنا بھی سامان پچھلے دنوں میں جمع کیا تھا وہ سامان بس میں لوڈ کروایا اور اب سے تھوڑا ہی دیر قبل گھر آیا ہوں اور ضروری کاموں سے فارغ ہو کر ڈائری لکھنے بیٹھ گیا ہوں کیوں کہ رات کہ کچھ پتا نہیں بجلی ہو بھی کہ نہیں کیوں کہ آج کراچی کہ موسم ابر آلود ہے اور بارش کہ امکان ہے. 
"اور محترم دوستوں، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، مطلب کے بجلی چلی گئی. اسی لئے میری ڈائری ادھوری رہ گئی."  

میں نماز پڑھنے کو تو تیار تھا مگر یہاں (وزیرستان) میں پتہ نہیں کے میرے نماز پڑھاۓ جانے کے کیا اثرات ہونگیں بس یہی ایک خوف تھا. شکر الله کا کے عدنان بھی آگئے اور انہوں نے اکرم بھی کو امامت کے لئے کہا. میں نے الله پاک کا دل ہی دل میں بہت شکر ادا کیا اور نماز میں مشغول ہو گیا.
نماز سے فارغ ہو کر عدنان بھائی نیں بتایا کے ابھی تک ان خواتین کے لئے hکچھ نے ہو سکا جن کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا ضروری تھا. کوئی مدد میسر نہیں ہے. بس الله پاک غیب سے مدد فرماے اور تینوں خواتین کو اور ان کی ہونے والی اولادوں کو صحت، تندرستی عطا کرے اور زندگی عطا فرماے، آمین. یہی دعا نماز کے بعد مانگی گئی. میں سوچنے لگا کہ انسان کتنی بھی ترقی کر لے، دنیا منی کسی بھی مقام پر پہنچ جاۓ مگر الله پاک کہی نہ کہی ایسا امتحان دیتے ہیں جس سے بندے کے ایمان کا اندازہ ہو جاتا ہے. مجھ جیسے گھن چکر کے لئے یہ بلکل نیا مگر روح کو سکون دینے والا تجربہ تھا.
ہم سب کچھ دیر کے لئے آرام کی غرض سے ایک طرف بیٹھ گئے، بلال محسود ابھی تک ہمارے ساتھ ہی تھا. میں نے عدنان بھائی سے باتوں ہی باتوں میں ذکر کیا کہ بلال کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے؟ عدنان بھائی نے مجھ کو کہا جیسا تم کو بہتر لگتا  ہے کرو. میں نے بلال اور اس کی بوڑھی ماں اور بیمار بہن کو اپنے ساتھ کراچی لیجانے کی بارے میں سوچا مگر کراچی کے حالت اور وزیرستان کا نام اپر سے نام میں محسود، یہی کچھ باتیں تھی جو مجھ کو بلال کو کراچی لیجانے سے روک رہی تھی. میں نے ایک دفع پھر بلال سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کو صاف صاف  بتانے کا سوچا کہ میں کیوں اس کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا، ہاں میں کراچی رہ کر اس کے لئے  وہاں سےکچ نہ کچھ مدد ضرور کر سکتا ہوں. 
تھوڑی ہی دیر میں مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا، یہاں (دتہ خیل) میں عصر اور مغرب کی نمازوں میں کچھ زیادہ  وقفہ نہیں ہے.
نماز مغرب ادا کر کہ فارغ ہوے ہی تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ آج جلدی کھانا کھا کر نمازعشا پڑھتے ہی آرام کروں گا مگر نماز سے فارغ ہوتے ہی کسی نے اطلاع دی کہ ایک خاتون کے بیٹا ہوا ہے اور دونوں زچہ اور بچہ الله پاک کے فضل اور کرم سے ٹھیک ہیں ہم سب نے الله کہ شکر ادا  کیا اورباقی دو خواتین کے لئے بھی دعا کری کہ الله پاک دونو خواتین کی بھی مدد کرے اور آسانی کرے. آمین.
آج کے میڈیکل کیمپ کی وجہہ سے تھکن بہت ہو رہی تھی اور بھوک بھی  لگ رہی تھی. اوپر سے ایک اور مشکل تھی کہ ٹیم آشیانہ کے پاس پینے کہ پانی تک ختم ہو گیا تھا. (یہاں یہ بتانا ضروری ہے کے ٹیم آشیانہ جس علاقے میں موجود ہے وہاں پینے کہ پانی ڈیڑھ کلومیٹر دور سے لانا پڑھتا ہے). اس وقت صرف رات کے کھانے تک کے لئے پانی موجود تھا. عدنان بھائی نے کچھ مقامی لوگوں سے مدد مانگی اور کچھ لوگ کسی نہ کسی برتن میں پانی لے ہے. یہاں ایک بہت اچھی بات یہی تھی کہ مقامی لوگ ہم وقت مدد کے لئے تیار رہتے ہیں. وسائل نہ ہونے کے باوجود بھی کوشش کرتے ہیں کہ جو بھی کم ان کو دیا جاۓ وہ پورا کریں. یہاں ویسے بھی کوئی کام وغیرہ تو ہے نہیں جس میں یہاں کے لوگ مصروف رہے، سکول کہ نام تو جانتے ہیں مگر ہے کوئی نہیں، میران شاہ کے حالت اور دتہ خیل کے حالت میں زمیں آسمان کہ فرق ہے. نمازعشا کہ وقت ہوتے ہے نماز کی تیاری ہوئی اور میرے چاہنے کے باوجود بھی کھانا ہم نے نماز کے بعد ہی کھایا. کھانے میں دن کہ ہی بچہ ہوا کھانا تھا معلوم کرنے پر پتہ چلا کے اب ٹیم آشیانہ کے پاس کھانے پینے کہ ذخیرہ بھی ختم ہونے کو ہے. فریال باجی کی یاد بہت آرہی  ہے مگر مل نہیں سکتا تھا کیوں کے یہاں کا پردہ قانون بہت ہی سخت ہے.  اور میں فریال باجی یہ ٹیم آشیانہ کے لئے کوئی مشکل کھڑی کرنا نہیں چاہتا تھا.  
کھانا ابھی تک لذیز تھا اور خوب پیٹ بھر کہ کھایا، الله پاک کا شکر ادا کیا کے بد ترین حالات میں بھی ہم کو سونے سے پہلے پیٹ بھر کھانا عطا فرمایا. یہاں قرآن کی ایک سورہ "اور تم اپنی پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" بہت بار پڑھنے کا دل کرا. میں عدنان بھائی، اکرم بھائی اور کچھ دوسرے ساتھ ایک طرف بیٹھے تھے کہ ایک بچے نے آکر یاد دلایا کہ آج ابھی تک اردو کی کلاس نہیں ہوئی ہے، میں بہت تھکا ہوا تھا عدنان بھائی کو  اشارہ کرکے اپنی آرام گاہ مطلب ٹینٹ میں چلا گیا. میرے پیچھے پیچھے بلال بھی آیا اور مجھ سے اجازت لے کے روانہ ہو گیا. میں ابہ اپنی ڈائری لکھنے بیٹھا ہوں، لالٹین کی روشنی میں لکھنا آسان نہیں. آج سارا دن کی کارستانی لکھی ہے، مگر بلال کے بارے میں کچھ بھی فیصلہ نہیں کر پا رہا ہوں. اس کے رویہ سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کے جیسے  ان کومجھ سے بہت امیدیں ہیں، الله مجھ کو ہمت اور توفیق دے کہ میں کسی ایک کی امید پر پورا اتر سکوں. آمین.
آج شب جمعہ ہے کل جمعہ کی نماز ادا کرنی ہے. اسی لئے سوتا ہوں. اس امید پر کے آنے والی صبح ہم سب ہی کے لئے خوشی اور آسانی کا پیغام لیے گی. انشا الله