Sunday, August 27, 2017

Please help us to safe a human life. (Requesting for the assistance to safe a liver cancer patient)

محترم دوستوں، اسلام و علیکم.

 عرض خدمت یہ ہے کہ ٹیم آشیانہ کے سماجی کارکن منصور احمد بھائی کی والدہ گزشتہ برسوں سے جگر کے کینسر  جیسے موزی مرض میں مبتلا ہیں. جنکا ممکنہ علاج کراچی، پاکستان  مختلف اسپتالوں (عباسی شہید اسپتال، جناح اسپتال، دار الصحت اسپتال) میں کروانے کی کوشش کی ہے لیکن مرض میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے. مزید ٹیسٹ رپورٹس اور چیک اپ کے بعد ڈاکٹرز نے فوری لیور ٹرانسپلانٹ (Liver transplant) کا مشورہ دیا ہے جو کہ پاکستانی اسپتالوں میں نہیں ہے.  مغربی ملک میں علاج کے لئے وسائل دستیاب نہیں جس کی وجہہ سے مقامی ڈاکٹروں اور فمیلی کے لوگوں نے انکا علاج انڈیا کے شہر دہلی میں موجود راجیو گاندھی کینسرانسٹیٹیوٹ اینڈ   ریسرچ سینٹر میں کرانے کے فیصلہ کیا ہے. جسکے لئے ایک خطیر رقم کی ضرورت ہے. 

الله پاک کے فضل و کرم سے کچھ درد دل رکھنے والوں کی مدد سے کافی حد تک کی رقم کا بندوبست کر لیا گیا ہے جبکہ کچھ رقم $ ٣،٧٢٥ (تین ہزار سات سو پچیس امریکی ڈالرز. 3،92،459/67 "تین لاکھ بانوے ہزار چار سو انسٹھ پاکستانی روپے" ) کا انتظام نہیں ہو سکا ہے. (مجموعی رقم کا تقمینہ کم و بیش، ٢٥ لاکھ پاکستانی روپے کا ہے). میری آپ سے درخواست ہے کہ ہمارے بھائی منصور احمد کی والدہ کی صحتیابی کے لئے دعا کریں اور جو بھی ممکنہ مدد انکے علاج کے سلسلے میں ہو سکتی ہے کریں . اگر کوئی بھائی یا دوست مزید  تفصیلات حاصل کرنا چاہتا ہے تو ذیل پر رابطہ کر سکتے ہیں.

راجیو گاندھی اسپتال، نیو دہلی میں مریضہ کا رجسٹریشن نمبر یہ ہے جہاں سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، 
(GR No: CR:5051/368.2015/PK)

منصور احمد کراچی کے ایک پرائیوٹ اسکول میں نوکری کر رہے ہیں جہاں سے حاصل ہوئی آمدنی (16500) سے انکا گزر بسر بہت مشکل سے ہو رہا ہے. 
پروگرامر گرلز اسکول، گلشن اقبال. کراچی.  
021-34985774

Mansoor Ahmed, 
Fl 117, D-II. Munir Bridgeview Appartment.
Gulistan e Johar. Block - 18. Karachi.
Contact; 0324-2652046 / 0323-8466089

جو بھائی یا دوست انکی مدد کرنا چاہتے ہیں وہ درج ذیل بینک اکاؤنٹ میں اپنے عطیات جمع کروا سکتے ہیں. جیسے ہے مطلوبہ رقم ہم کو حاصل ہوئی ہم آپکو مزید عطیات جمع کروانے روک دیں گے اور اسی پیج پر مریضہ کے علاج اور دیگر معلومات فراہم کی جاۓ گی. 

Account Title: Mansoor Ahmed.
Account Number: 6-99-72-29311-714-167833.
IBAN: PK07 MPBL 9972 2671 4016 7833.
Habib Metropolitan Bank Ltd (HMBL).
IBB. Rashid Minhas Road Branch. 
Gulshan e Iqbal, Block - 5. Karachi. Pakistan.


جزاک الله خیر 
آپکا بھائی 
سید عدنان علی نقوی.


Date: 28th August. 2017.
No Funds transferred has found by the bank statement. 

Date: 13th September. 2017.
Pak Ruppee, 80,000/= is collected by the donations. An amount of 3,12,459/= (Three Lac tweleve thousand four hundered and fifty nine are still required.)

Date: 3rd November. 2017.
2,70,000/= (Two Lac seventy thousand still required)

Thursday, August 20, 2015

Help / Aid by Muslim Hands UK, for Pakistan. (Team Ashiyana, for flood victims in Sindh)

As'salam O Alikum!

I (Syed Adnan Ali Naqvi) and #Team_Ashiyana (Working for the relief of flood victims in #Sindh) are very thankful for @MuslimHandsUK (Muslim Hands UK) for there help / aid and contribution for flood victims of Pakistan. 






May Allah bless you all guys, But our work isn't finished at yet. We'll continue till all of our brother / sister's and children fully rehabilitate. In Sha Allah.

Please help me and my team as much as you could as we're responsible to feed hunger, to medicate sick and ill (flood victims of Sindh).






Still no positive efforts by PDMA nor by any NGO or Govt organizations. 

Please contact with me or my volunteer (s) by following;
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
team.ashiyana@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com

Call or Text: 
(0092) 345 297 1618 (Please leave a text if number is not responding as facing notwork issues in remote (katcha) areas.

Follow us on Twitter: 
@TeamAshiyana
@f4faryal
@S_AdnanAliNaqvi

For online donations / contributions:
 Ashiyana”
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 1921192110034780.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code: UNILPKKA


Jazak Allah,
Syed Adnan Ali Naqvi
Member / Head volunteer (Ashiyana Camp for flood victims, Katcha Area, Sindh, Pakistan)



Tuesday, August 18, 2015

لوگ کچے کا علاقہ چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟

چاروں اطراف پانی کا گھیراؤ ہے، ایک جھونپڑی کے نیچے کچھ لوگ موجود ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئی کشتی آگے بڑھتی ہے اور اس میں سوار شخص ان لوگوں کو پیشکش کرتے ہیں کہ وہ انھیں محفوظ مقام پر لے جانے آئے ہیں، لیکن یہ لوگ یہ کہہ کر چلنے سے انکار کر دیتے ہیں اب پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اور وہ یہاں ٹھیک ہیں۔
یہ کمشنر لاڑکانہ غلام اکبر لغاری ہیں جو کچے کے علاقے لاکھانو میں لوگوں کو سیلابی پانے سے نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں۔ سندھ میں حالیہ سیلاب کے دوران ساڑھے چھ لاکھ سے زائد افراد کا انخلا کیا گیا ہے جن میں سے دو لاکھ کا تعلق لاڑکانہ سے ہے۔
کشتی آگے بڑھتی ہے اور علی حسن جتوئی گاؤں کے ایک اور گھر کے سامنے رک جاتی ہے، جہاں کچھ خواتین اور بچے نظر آ رہے ہیں۔ کمشنر ایک نوجوان کو قریب لا کر بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ خالی کشتی بھی موجود ہے وہ انھیں لے جانے آئے ہیں۔ لیکن یہ خاندان بھی انکار کر دیتا ہے۔
لاکھوں ایکڑ اراضی پر جنگلات کو صاف کر دیا گیا ہے
ایک کچے گھر کے باہر نوجوان صحن میں پانی میں سے مٹی لگا کر اس کی سطح بلند کرتا ہوا نظر آیا جبکہ اس کے گھر کے قریب موجود ٹریکٹر نصف ڈوب چکا تھا۔ اس نوجوان کا کہنا ہے کہ کچا ان کی زندگی کا سہارا ہے۔
’پکے پر ہماری کوئی ذاتی ملکیت نہیں، وہاں ہمیں کون رہنے دےگا؟ کچے میں ہمارے پاس مال مویشی ہیں۔ ایک دو جانور بیچ کر اناج لے لیتے ہیں۔ پکے پر ملازمت ہے نہ مزدوری۔ وہاں تو بھوکے مر جائیں گے۔‘
کمشنر لاڑکانہ غلام اکبر لغاری کا کہنا ہے کہ کچے کی زمین قبضے کی زمین ہے، جب پانی اتر جاتا ہے تو پھر جھگڑے ہوتے ہیں کیونکہ یہاں مستقل نشانات نہیں ہیں۔ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ یہاں سے چلے گئے تو اس پر قبضہ ہو جائے گا جس کو ختم کرانا مشکل ہو گا۔ اسی لیے وہ یہاں سے نہیں نکلتے۔
دریائے سندھ کے اطراف میں کچے کے علاقے میں محکمہ جنگلات کی ساڑھے پانچ کروڑ ہیکٹر زمین موجود ہے، جس میں سے محکمے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ ہیکٹر پر قبضہ ہے۔
سندھ میں کچے کے علاقے میں اکثر زمین کے تنازعات پر جھگڑے ہوتے رہتے ہیں
کمشنر لاڑکانہ غلام اکبر لغاری کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر کچے کا علاقہ جنگلات کے لیے مختص ہوتا ہے، وہاں فصل اور آبادی نہیں ہونی چاہیے۔
’یہاں بدقستمی سے یہ ہوا ہے کہ گذشتہ 20 سالوں میں لوگوں نے جنگل کاٹ دیے اور یہاں کاشت کرنا شروع کر دی جس کو سب نے نظر انداز کیا۔ ہمارے یہاں کہا جاتا ہے کہ کاشت ہو رہی ہے لوگوں کو روزگار ملا ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں ہے کہ جنگلات کاٹ کر آپ لوگوں کو روزگار دیں۔ اس کا کوئی اور متبادل ہونا چاہیے تھا۔‘
صوبائی وزیر آبپاشی نثار احمد کھوڑو کا کہنا ہے کہ ’کچے میں سیلاب سے دہرا فائدہ ہوتا ہے۔ موجودہ فصل پانی میں ڈوب گئی لیکن اس کے بعد ربیع کی فصل آئے گی یعنی گندم، جس کی بمپر پیداوار ہوتی ہے۔ اگر سیلاب نہ آئے تو کپاس اور گنے کی کیش کراپ ہو جاتی ہے۔ اس لیے کچے کے لوگ اپنے حال میں خوش ہیں۔‘
دریائے سندھ کے کچے میں سرکاری اندازوں کے مطابق دس لاکھ سے زائد آبادی رہتی ہے۔ کئی بڑے بڑے زمینداروں کی کچے میں ہزاروں ایکڑ زمین ہے جو سیاست میں بھی متحرک ہیں۔
سیلاب کے باوجود لوگ اپنی جگہ نہیں چھوڑتے
صوبائی وزیر آبپاشی نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ کچے کے لوگ صدیوں سے آباد ہیں وہ غیر قانونی طور پر نہیں رہتے۔ ’خدارا کبھی نہیں سوچیے گا کہ انھیں بیدخل کر کے کچے کو ویران کر دیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ کچے میں باقاعدہ سڑکیں بنائی جائیں اور بجلی سمیت جدید دنیا کی تمام سہولیات میسر ہوں۔‘
سیلاب میں جانی و مالی نقصان ہونے کے باوجود معاشی، قبائلی اور سیاسی مفادات لوگوں کے پیروں کی زنجیر بن چکے ہیں جو انھیں کچے سے نکلنے نہیں دیتے۔

List of urgent required medicines for free medical camps in Sindh, Pakistan. (Flood victims relief)



Dear all, 
Please check this list of urgently required medicines which need for free medical camps in (Katcha area) Khairpur, Sindh. Pakistan.

Following medicines are required in the form of suspensions, tablets, capsules or Drip.
Cafadroxil, 
Tramado, 
Amoxil, Trimax (Amoxcillin)
Carbencillin
Cafamandro
Lincomysin
Gentimicin
Oxolinic Acid (Uroxin)
Lemofloxacin (Cipro)
Declomycin
Doxycycline
Polymyxin B
Diclofenic (Cataflam, Voltran, Zipzor)
Ibuprofen
Ansaid
Ketoprofen
Mefenic Acid
Naproxen
Celecoxin
Tramadol
Capsaicim
Cafcol
Augementen DS
Augmenten
Cefloxin
Calpol
Septron DS
Paracetomol / Panadol DS / Panadol Extra
Ponstan Fort
Medi-Scab
S-Zole
Neurobion
Mucaine
Acefyl
Britanyl
Xilcof
Dijex MP
Blisscarma
Zyrtec (Ceririzine 2HCL)
Lysovit
Multivitamins, Antibiotics etc

Ps Note:  A request from all social workers / volunteers to attend this request on priority basis, As we need them on urgent basis to serve with free medical camps for flood victims in Sindh. 

Please contact with;
Syeda Faryal Zehra (Twitter: @f4faryal) 
Team Ashiyana (Twitter: teamashiyana)

Or contact us on (0092 345 297 1618)

Email us;
team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com

For online donations please use this bank details;
 “Ashiyana”
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 1921192110034780.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code: UNILPKKA

Jazak Allah
Syed Adnan Ali Naqvi 



Sunday, August 09, 2015

ٹیم آشیانہ: سیلاب زدگان مدد (سیدہ فریال زہرہ) کی ڈائری



اسلام و علیکم دوستوں، 



نام  آپ جانتے ہی ہیں،  اور اگر نہیں جانتے تو ایک بار پھر عرض خدمت ہے "سیدہ فریال زہرہ" تعلق کینیڈا سے ہے. الله کے فضل و کرم سے مسلمان ہوں (بغیر کسی تفریق کے)، الله اور آخری نبی پر کامل ایمان رکھتی ہوں. انسانیت اپنا خدمت کو اپنا دینی اور مذہبی فریضہ سمجھ کر سر انجام دیتی ہوں. الله نے زندگی میں ہر کامیابی اور خوشی سے نوازا ہے. اچھا خاندان، تعلیم کی بدولت ایک اچھی زندگی گزار رہی ہوں. انسانیت کی خدمت کے سفر میں پاکستان کا ایک  کردار رہا جبکہ میرا دور تک کا کوئی رشتےدار پاکستان میں مقیم نہیں اور اگر کوئی ہے تو ہم خاندان والے ان سے رابطے میں نہیں. میرے دادا ابو (grand father) ایک پاکستانی تھے، جہلم شہر سے تعلق  لیکن وہ اپنی جوانی میں ہی پہلے لندن اور پھر امریکہ (شکاگو) منتقل ہو گئے، وہی شادی کری اور وہی تدفین  ہوئی، والد صاحب نے ایک اور ہجرت کری اور شکاگو (امریکہ) سے کینیڈا منتقل ہو گئے، مختصر کہ میری  پرورش کینیڈا میں ہی ہوئی، کیلگری (کینیڈا) میرا گھر بنا تعلیم سے روزگار وہی. 

 پہلی دفع پاکستان اکتوبر ٢٠٠٥ کے زلزلے کے بعد آنا ہوا، ایک ایسا انسان جس نے زلزلے میں اپنا خاندان کھویا اور پھر دل و جان سے زلزلے (٢٠٠٥) کے متاثرین کی خدمت میں لگ گیا، میں نے اس انسان (سید عدنان علی نقوی) سے زیادہ جنونی آج تک نہیں دیکھا، پہلی دفع بی بی سی (اردو) پر عدنان کو سنا اور پڑھا اور رابطہ کیا. 
یہ ہے عدنان کی ڈائری کا وہ لنک جس نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں عدنان سے فون پر بات کرتے ہی پاکستان آگئی، http://www.bbc.com/urdu/interactivity/specials/1640_adnan_diary_ms/page24.shtml


پاکستان  آکر اندازہ ہوا کہ یہاں فلاحی خدمات سر انجام دینے کے لئے بہت کچھ ہے، پھر عدنان نے کچھ ایسی رہنمائی کری کہ میں نے کافی عرصہ پاکستان میں گزارا اور اقوام متحدہ اور اسکے ذیلی اداروں سے وابستہ ہو گئی. میری تعلیم اور نوکری بھی مجھ کو نہیں روک سکی. انسانیت کی خدمت کے اس سفر میں دنیا بھر گھوم لی، مختلف اقوام، تہذیبوں (کلچر)، ممالک کے سفر کرنے کا موقع ملا لیکن جب جب عدنان نے مجھے کسی بھی طرح کے فلاحی کام کے لئے پاکستان آنے کی دعوت دی میں منع نہیں کر سکی اور موقع کوئی بھی ہو، شمالی وزیرستان جیسے مشکل، حساس علاقے ہوں یا سندھ، پنجاب، سرحد (خیبر پختونخواہ)، بلوچستان کے سیلاب متاثرین یا پھر وزیرستان کے آئ-ڈی-پیز (IDPS) ہوں، عدنان اپنی چھوٹی سی فلاحی ٹیم بنا لیتے جس میں انکے دوست، خاندان کے افراد شامل ہوتے اور مجھے بھی دعوت دیتے کہ میں بھی شامل ہو جاؤں اور میں بھی مختصر وقت کے لئے ہی سہی لیکن پاکستان آکر عدنان کی "ٹیم آشیانہ" میں شامل ہو جاتی. ایسے ہی سفر جاری رہتا اور ہم لوگ مل کر  اپنے طور پر مشکل میں موجود انسانوں کی خدمات سر انجام دیتے  رہتے. پچھلی دفع جب پاکستان آئی تو حالات کچھ سازگار نہیں تھے، بنوں (خیبرپختونخواہ) میں عدنان اور ٹیم آشیانہ کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا گیا وہ ناقابل  بیان ہے، یہ وقت ان تفصیلات میں جانے کا نہیں، بقول عدنان "وہ فلاحی کام ہی کیا جس کے دوران مشکلات پیش نہ آئیں." میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ بھی ہو جائے پاکستان نہیں آؤں گی بیشک وہیں (کینیڈا) میں بیٹھ کر یہاں کے لوگوں کی مدد کروں گی. لیکن کیا کیا جائے جب عدنان جیسا بھائی خود مشکل میں ہو  اور آواز لگائے. 

اس دفع پھر پاکستان میں سیلاب آیا، جس وقت سیلاب آیا عدنان "ٹیم آشیانہ" کے ہمراہ تھر (سندھ) میں بھوکے لوگوں کو دو (٢) وقت کا کھانا روزانہ تقسیم کر رہا  تھا. پھر سندھ میں جو ہوا وہ بھی  سب کے علم میں ہے. پہلے میں نے سوچا کے ایک نیشنل ڈیزاسٹر ہے پاکستانی عوام اپنی مدد آپ کر لے گی، لیکن میں نے اپنے گزشتہ تجربات سے جتنا پاکستانی عوام کو سمجھا ہے وہ یہی ہے کہ یہاں کوئی اپنی مدد خود کرنا ہی نہیں چاہتا (معذرت کے ساتھ).

میں نے جولائی ٢٠١٥، میں عدنان سے رابطہ کیا اور جب انہوں نے پاکستان کے حالت بتائے تو میں نے اپنے روزگار والوں کو کہا کہ لمبے سفر پہ نکل رہی ہوں، رخصت درکار ہے، روزگار والوں نے بھی کہا، جی بلکل! اور میں ٣، اگست ٢٠١٥ کی صبح (براستہ فرینکفرٹ، دبئی) پاکستان (کراچی) پہنچ گئی. ٹیم آشیانہ کے کارکنان نے میرا استقبال کیا. میں ایک لمبے سفر سے پاکستان پہنچی تھی لیکن دماغ پر سب سے پہلے عدنان سے ملنے اور انکے فلاحی مشن میں شامل ہونے کا جنون سوار تھا. لیکن عدنان جو کہ سندھ کے کچے کے علاقے میں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے "ٹیم آشیانہ" کے ہمراہ  موجود تھے نے مجھے کراچی میں کچھ کام  مکمل کرنے کو کہا. 

کراچی:
 ایک ایسا شہر جس کے برتاؤ کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا  جاسکتا، ایک ایسا شہر جہاں امرا، اشرافیہ، غریب ہر طرح کے لوگ موجود ہیں، لیکن افسوس کے کسی بھی طرح سے مہذب نہیں، کسی طرح کا ڈسپلن موجود نہیں، سڑکوں پر ٹریفک ایسا بےہنگم کے الله کی پناہ، لوگ ایسے بھاگے جاتے ہیں جیسے پیچھے موت کا فرشتہ لگا ہے یا پھر کوئی بلا. صبر نام کو نہیں. خیر مجھے کیا، میں عدنان کے کہنے پر پہلے  (PDMA) کے دفتر گئی جہاں کچھ اپیل جمع کرانا تھی لیکن کوئی ذمہ دار نہیں مل سکا جو ملا اتنا غریب کے ہماری فائل کو صاحب کی ٹیبل تک پہچانے کے لئے کم از کم ٥٠٠ روپے درکار تھے. وہ بھی دیے. وہاں سے سندھ کے خادم حضرت قائم علی شاہ کے دفتر جانا تھا، لیکن انکے دفتر تو دور دفتر کا دروازہ تک دیکھنا نصیب نہ ہو سکا، وزیر اعلی سندھ کی سیکورٹی، پھر ہماری (ٹیم آشیانہ) کی کوئی حیثیت ہی نہیں، یہاں تو بڑے بڑے ساہوکار، کاروباری، رقم کا لین دین کرنے والوں کو ملاقات کا وقت دیا جاتا ہے، میں نے سوچا یہ میں کہاں آگئی ہوں جہاں عوام کے خادم کے پاس عوامی مسائل سننے کے لئے وقت نہیں. عدنان کو فون پر سری صورت حال سے آگاہ کیا، اپنی ناکامی اور مایوسی کا بتایا لیکن ہمیشہ کی طرح عدنان نے کہا "کوئی بات نہیں، کوئی ملے یا نہ ملے، مدد کرے یا نہ کرے، ہم اپنے طور پر سیلاب زدگان کی مدد کے لئے جو کر سکتے ہیں کریں گے." 

مجھے "ٹیم آشیانہ" کے ایک  کارکن " احمد  بھائی" سے رابطہ کرنے کو کہا گیا جنہوں نے میرے رہنے کا انتظام گلستان جوہر میں "ٹیم آشیانہ" کی ایک بہت دیرینہ ساتھی "بدر باجی" کے گھر پر کیا، گھر آکر تھوڑا آرام کیا، عدنان کی فراہم کی گئی لسٹ کے مطابق سامان جن میں ادویات، کھانے پینے کی اشیا، کپڑے وغیرہ کچھ دوستوں کے گھر سے جمع کرنے تھے اور کچھ فنڈز دستیاب تھے انسے خریداری کرنا تھی. سوچا تھا جب ہم بازار میں جاکر لوگوں کو بتائیں گے کہ ہم سیلاب زدگان کی مدد کے لئے ادویات، کھانے پینے کا سامان اور کپڑے خرید رہے ہیں تو کچھ رعایت ملے گی، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا. الٹا لینے کے دینے پڑھ گئے کیونکہ پوری کوشش کے باوجود میں بہت اچھی اردو نہیں بول سکتی اور شاید سمجھ بھی نہیں سکتی، خیر جو ہونا تھا ہوا، قدم قدم پر مجھے مایوسی ہو رہی تھی کہ میں کینیڈا سے پاکستان ایسے لوگوں کی مدد کرنے آئی ہوں جسکو کوئی احساس ہی نہیں کہ انکے پاکستانی ساتھی کس طرح کی مشکلات کا شکار ہیں. میں نے ایک بار پھر عدنان سے رابطہ کر کہ انکو اپنی کیفیت بتائی اور جو انہوں نے کہا اسنے مجھے حوصلہ  دیا. عدنان بھی بس عدنان ہی ہے. ہر ناکامی سے کامیابی کا پہلو نکل لیتا ہے. 

دو (٢) دن کراچی میں ادویات و دیگر کی خریداری، فنڈز جمع اور پیکنگ میں لگ گئے اور ٥، اگست ٢٠١٥ کو وہ وقت آگیا جب ایک ٹرک پر امدادی سامان لادا گیا اور مجھے کہا گیا کہ فنڈز کی کمی کی وجہہ سے ہم کوئی اور سواری کا انتظام نہیں کر سکے اسی لئے مجھے اور دیگر کارکنان کو اسی ٹرک پر سوار ہو کر سکھر (سندھ) کے قریب کچے کے علاقے میں جانا ہوگا. میرے ساتھی دوست شرمندہ تھے لیکن میں عدنان پر فخر کر رہی تھی کہ کوئی تو ہے جو اس طرح کے ماحول میں انسانیت کی خدمات کا فریضہ انجام دے رہا ہے. سفر بہت کٹھن تھا، ٹرک کی سواری کا پہلے کوئی تجربہ نہیں تھا، پھر جگہہ جگہہ پاکستانی پولیس کے فرض شناس آفیسرز موقع پر ہی سارے ٹیکس وصول کرنے کے لئے  تیار، (پاکستانی دوست میری اس بات کا مطلب بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہونگے).
 ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد آخر ہم ایسے علاقے میں داخل ہوۓ جہاں محسوس ہوا کہ اب ہم کسی آفت زدہ علاقے میں داخل ہو گئے ہیں. ٹیم آشیانہ کا ایک چھوٹا سا کیمپ سکھر سے کچھ فاصلے پر قائم لیکن بنیادی سہولیات سے محروم، ایک لمبے عرصے بعد عدنان کو دیکھا، جو پہلے سے کہی زیاد کمزور، لیکن انسانیت کے جذبے سے سرشار، میرے استقبال کے لئے موجود. ہمیشہ کی طرح میرے سر پر ہاتھ  پھیرا، بہت ساری دعا دی اور مجھے ویلکم کیا. رات ہو چکی تھی، کراچی سے میں نے ذاتی طور پر کچھ جنک فوڈ ساتھ رکھ لی تھی جو کھائی الله کا شکر ادا کیا اور عدنان "ٹیم آشیانہ" کے ساتھ اگلی صبح کے لئے جو کام کرنے تھے اسکو ڈسکس کیا اور جو کچھ بھی میسر تھا آرام کرنے کے لئے لیٹ گئی. 

اگلی صبح:
بہت خوفناک صبح تھی، بہت شور سے آنکھ کھلی، پہلے فون کی طرف دیکھا جو چارجنگ نہ ہونے کے سبب آخری سانسیں لے رہا تھا، پہلے کینیڈا کال کر کہ dad (ابا جی) کو اپنی خیریت دی، ٹینٹ سے باہر نکل کر دیکھا تو ایک ہجوم تھا جو ہر طرف موجود تھا، بچوں کے جسم پر کپڑے نہیں تھے، عورتوں کے سروں پر چادر نہیں تھی، مردوں کے پیروں میں چپل نہیں تھی، عجیب منظر تھا. عدنان اور ٹیم آشیانہ کے کارکنان پوری کوشش کر رہے تھے کہ اس ہجوم کو کنٹرول کریں لیکن اپنے سامنے امداد دیکھ کر کوئی بھی نہیں رک رہا تھا. میں نے اپنی کوشش کری لیکن ناکام رہی. کسی نہ کسی طرح ہجوم قابو ہوا. ٹیم آشیانہ کی  خواتین کارکنان کی مدد سے پہلے اپنا حلیہ بہتر کیا، اور مجھے جو کام دیا گیا تھا اسکو انجام دینے میں لگ گئی، صبح سے دن ہوا اور دن سے رات لیکن ہمارا کام ختم نہی ہو سکا. دن بھر لوگوں میں  غذائی اجناس کی تقسیم، ایک مقامی ڈاکٹر کی مدد سے میڈیکل کیمپ میں خواتین اور بچوں کے چیک اپ. ایک تھکا دینے والا دن. رات ہوئی تو پتا لگا کے آج ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان کے لئے دال چاول پکایا گیا ہے. سب کے ساتھ مل کر کھایا، الله کا شکر ادا کیا. اور اگلے دن جو فلاحی کام سر انجام دینے تھے انکی تیاری.

اگلی صبح مجھے ایک دفع پھر کراچی جانے کے لئے کہا گیا، جہاں مجھے ٹیم آشیانہ کے لئے فنڈز جمع کرنا تھا، ادویات خریدنا تھی، غذائی اجناس لینا تھی. لیکن کیسے اسکا خود مجھے بھی پتہ نہیں تھا.

نوٹ: مذکورہ بالا تحریر "ٹیم آشیانہ" کی ایک فلاحی کارکن "سیدہ فریال زہرہ" نے لکھی ہے، جسکو "فریال" کی اجازت اور ضروری تدوین (ایڈیٹنگ) کے بعد سید عدنان علی نقوی بھائی کی اجازت سے یہاں شایع (publish) کیا جارہا ہے. ٹیم آشیانہ اس وقت سندھ کے کچے کے علاقے میں موجود ہے اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے کوشش کر رہی ہے. 

Follow Faryal on Twitter: @F4Faryal
Follow us on Twitter: @TeamAshiyana   
         
   

Saturday, August 01, 2015

Team Ashiyana: Volunteers required to serve flood effectees in Sindh. (Appeal)

Team Ashiyana is serving flood victims in #Sindh.
More then 0.8m peoples are being displaced.

We need volunteers to work with us in remote areas which are highly effected by the recent flood. 

If you're a doctor, para-medic, student, or belongs to any feild and wilingly to work with Team Ashiyana under the supervision of Syed Adnan Ali Naqvi to serve suffering humanity in #Sindh so please contact with us on followings;

(0092) 345 297 1618
(0092) 333 342 6031
Whatsapp: (0092) 0306 028-7640

team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca

What we need to help flood effetes in #Sindh:-
Medicines: All kind of medicines (On urgently basis)
Drinking Water: In huge quantity.
Food Stuff: T feed displaced & hunger peoples.
Clothes: For Women and Children.

What we have at this moment:
Medicines: General Medicines (Cost of Rs. 15,000/=)
Food Stuff: Including Rashan. (Cost of Rs. 25,000/=)
Drinking Water: 1000 liter. 
Clothes: We don;t have clothes at yet.

Volunteers (Serving in Katcha Area - Sindh:
Syed Adnan Ali Naqvi (Chief Volunteer)
Arsalan Ali (Karachi)
Dr. Tabasum Naz (Karachi)
Dr. Afshan Navi (Karachi)
Manzoor Sumroo (Dadu)
Ahsan (Hyderabad)
Danish Khan (Nawabshah)
Farheen Bhutto (Badin)
Qaiser Ghulamani (Badin)
Qasim Raza (Hyderabad)
Akash (Mirpurkhas)
Salman Palejo (Sehwan)

Volunteers (Karachi, collecting donations)
Ms. Badar un Nisa.
Ms. Asma 
Ahmad 

Appeal;
We need Medicines (all kind), Food stuff, Drinking water and clothes to serve suffering and flood effected peoples in Sindh. 
Please contact on above given contact details. Leave us a text if not respond as having network issue in working areas. 
You can send us your aid through Pakistan Army or Sindh Rangers. Just tag on your packing "For Adnan & Group" at any collection point for "flood effected peoples" of Pakistan Army or Sindh Rangers. 
Click here for Online donations or contribution
For online contribution use the following:
 “Ashiyana”
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 1921192110034780.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code: UNILPKKA

Friday, July 31, 2015

Help Flood Victims in Pakistan. (Flood update 2015)

 A lot of flood victims in Sindh is awaiting for a powerful quick response from the nation. There's no help by any N.G.O or any Govt organization for the flood victims in Sindh. 
Facing shortage of Medicines / Food at this time. 

We need support, We need you to be with us to help our brother & sister who has lost there homes, food and everything during this flood. 

Team Ashiyana is looking for volunteer's, to come & join us to help flood victims in remote areas of Sindh. Pakistan. 

Team Ashiyana is looking for Medicines and food stuff to care flood victims. To help these people contact us on: +92 345 297 1618 
or email us;
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
team.ashiyana@gmail.com

Twitter: @teamashiyana / @S_AdnanAliNaqvi

For donation with medicines / Food or cloth please contact on +92 333 342 6031 (Karachi)

We're starting with a very small amount Rs. 60,000/= (Sixty thousands) with the hope that more people will join us and help us to give our support to flood victims. 






Sunday, September 14, 2014

شمالی وزیرستان کے متاثرین کیلئے مدد کی اپیل - ٹیم آشیانہ

محترم دوستوں اور ساتھیوں،
اسلام و علیکم 

الله پاک کے حضور دعا گو ہوں کہ آپ جہاں کہیں ہوں الله پاک کی رحمت کے سایے میں ہوں.
الله پاک کے فضل و کرم سے میں اور میرے ساتھی (ٹیم آشیانہ) دوست شمالی وزیرستان کے بے گھر (آئ-ڈی-پیز) کے مدد اور خدمات اپنے موجودہ وسائل کو پوری طرح استعمال کرتے ہوۓ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ جو بھی اپنے بھائی، بہنوں اور بچوں کے لئے کر سکتے ہیں کریں. الله پاک کا نے ہم کو جو بھی توفیق اور ہمت دی ہے ہم اس کے سہارے اپنا فلاحی مشن جاری رکھے ہوۓ ہیں. اپنے فلاحی مشن کی تفصیلات بیان کرنے سے پہلے کچھ زمینی حقائق کو یہاں بتانا اپنا فرض سمجھتا ہوں. 
گزشتہ ایک ماہ سے پورے پاکستان کی سیاسی  حالات اور بگڑی ہوئی معیشت کہ اثرات شمالی وزیرستان کے بے گھر لوگوں کے لئے بھی مشکلات کا سبب .بن رہے ہیں. مجھے نہیں علم کہ بنوں سے باہر کیا چل رہا ہے لیکن یہاں موجود فلاحی کارکنان، فلاحی تنظیمیں سرکاری اور غیر سرکاری ادارے شمالی وزیرستان کے بے گھر لوگوں کی مدد کرنے سے پوری طرح ناکام ہو رہے ہیں، صرف پاکستانی افواج ہی ہیں جو پوری تندہی، جانفشانی اور محنت سے ان لوگوں کی مدد اور خدمات کرنے میں مصروف عمل ہیں. ہم جیسے لوگ صرف باتیں کرنے اور وقت ہے گزار رہے ہیں. الله پاک ہم کو ہمت دے، حوصلہ دے، استقامت دے - آمین 

ایک قوم کی طرح پتہ نہیں ہم کب سوچیں گے، ہم سب کے مسائل بہت ہیں لیکن حل کسی کے پاس نہیں خود ہمارے اپنے پاس ہمارے مسائل کا کوئی  حل موجود نہیں. بحیثیت پاکستانی ہم ہمیشہ کسی غیبی امداد / مدد کا انتظار کرتے رہتے ہیں. لیکن کیا کبھی ایسا ہوا کے انسان کچھ بھی کرے بغیر کوئی مدد حاصل کر سکے؟ پہلے ہم کو خود کو اس قابل کرنا ہوگا کے الله پاک ہماری مدد کرے. نہیں تو جہاں ٦٥ برس گزر گئے ہیں کسی غیبی مدد کے انتظار میں وہیں مزید ١٠٠ برس گزر جانے ہیں. 

شمالی وزیرستان کے بے گھر بھائی، بہنوں اور بچوں کو فلحال فوری طور پر جس مدد کی ضرورت ہے وہ کچھ اس طرح ہے:
غذائی اجناس: 
 آٹا، چاول، شکر (چینی)، گھی، نمک، مصالے، پیاز، آلو، ٹماٹر، وغیرہ.
کپڑے:
خواتین، مرد، بچوں کے لئے کپڑے.
ادویات:
مفت طبی امداد (فری میڈیکل کیمپ) کے لئے ادویات. خاص طور پر خواتین اور بچوں کے امراض کے لئے ادویات. 
دیگر اشیا:
بچوں کے لئے کتابیں،  کھلونے وغیرہ.

میری تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ شمالی وزیرستان کے بے گھر اور متاثرین کے لئے دل کھول کر مدد کریں. چاہے ہم سے رابطہ کریں یا دیگر فلاحی تنظیموں سے جو یہاں (بنوں) میں فلاحی خدمات سر انجام دے رہی ہیں سے رابطہ کریں. 

اگر آپ شمالی وزیرستان کے متسیریں کی کسی بھی طرح مدد کرنا چاہتے ہیں اور ہم سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں تو براہ کرم درج ذیل پر رابطہ کریں.
http://teamashiyana.blogspot.com/2012/11/for-contrubution-help-or-any-assistance.html

جزاک الله 
آپ کا بھائی 
سید عدنان علی نقوی اور ساتھی فلاحی کارکنان 
 

Tuesday, July 08, 2014

آئ-ڈی-پیز (بنوں) کے حالت اور حالات: "سید عدنان علی نقوی کی تحریر"

محترم دوستوں اور ساتھیوں 
اسلام و علیکم 

الله کے حضور دعا گو ہوں کہ آپ جہاں کہیں ہوں رمضان کریم کی رحمتیں سمیٹ رہے ہوں. الله پاک  رحمت کا سایہ آپ اور ہم سب پر سلامت رکھے - آمین.

کچھ سمجھ نہیں آرہا کہاں سے شروع کروں؟ اور کیا لکھوں؟ میرے دوست اور ساتھی جو شمالی وزیرستان سے آنے والے ہمارے بھائی، بہنوں اور بچوں کے ساتھ فلاحی خدمات میں مصروف ہیں مجھ سے مستقل تقاضہ کر رہے ہیں کہ جو کچھ یہاں چل رہا ہے اس کے بارے میں پاکستان اور دنیا کو بتایا جائے. لیکن ایک سماجی کارکن ہونے اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہماری کچھ مجبوریاں اور پابندیاں بھی ہیں،جن کی وجہہ سے سب کچھ جیسا ہے بیان نہیں کیا جا سکتا. 

میں اپنی پچھلی پوسٹ میں آئ -ڈی - پیز  کو درپیش مشکلات کا ذکر بہت تفصیل میں کر چکا ہوں. میرے سامنے ہزاروں کی تعداد میں شمالی وزیرستان سے آنے والے، (کچھ لوگوں کے بقول، نکالے جانے والے) وزیری بھائی، بہن اور بچے موجود ہیں. یہاں بنوں (خیبر پختونخواہ) پوری طرح سے بھر چکا ہے ہر جگہ لوگوں کے اجتماع لگے ہوۓ ہیں. میں یہاں خاص کر بنوں کے لوگوں کی مہمان نوازی کی جتنی تعریف کروں کم ہے، یہاں کے لوگ بہت محبت اور اپنایت کے ساتھ شمالی وزیرستان سے آنے والے لوگوں کو فوری طور پر جو بھی مدد دے سکتے ہیں دے رہے ہیں. یہاں کے لوگوں نے اپنے گھروں، دکانوں، راستوں کے دروازے اپنے وزیری بھائی، بہنوں کے لئے کھول رکھے ہیں، اس کا اجر الله پاک ہے ان کو دے گا. ہم سب صرف دعا ہے کر سکتے ہیں کے الله پاک ہم کو بھی ایسی ہی ہمت، صبر اور استقامت دے کے کے ہم پوری ایمانداری، خلوص کے ساتھ اپنے لوگوں کی خدمات کر سکیں. ہمارے ساتھی سمجھی کارکنان نے پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے اپنے کاموں کو سر انجام دیا ہے اور دے رہے ہیں لیکن ایک انسان ہونے کے ناطے  ہم سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں. ہم سب الله پاک کے حضور دعا گو ہیں کے ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور اپنے فلاحی کاموں کو بہتر سے بہتر کر سکیں - آمین.
بنوں (خبیر پختونخواہ) میں "آئ -ڈی -پیز" کے حالات:
جتنا لکھوں، جو لکھوں کم ہے. بس اتنا کہ ہمارے وزیری بھائی، بہنوں کا جذبہ، اور صبر کی تعریف میں جتنا کہوں الفاظ کم ہیں. ایک خاندان کو اگر صرف ایک بوتل پانی کی دے دی جائے یہ اسی میں خوش ہو جاتے ہیں اور الله پاک کا شکر ادا کرتے ہیں. لیکن ان کی حالت اور حالات کا بہتر اندازہ آپ خود یہاں (بنوں) میں آکر لگا سکتے ہیں. متعلقہ ادارے اور حکام اپنی جو کوشش کر سکتے ہیں کر رہے ہیں اور کر بھی رہے ہونگے لیکن افراد زیادہ ہیں، اور وسائل بہت کم ہیں.
 بنوں کے اکثر آئ -ڈی -پیز کیمپ میں گنجائش سے زیادہ افراد موجود ہیں.
آئ -ڈی -پیز کو رقم کی فراہمی کافی حد تک مکمل کی جا چکی ہے لیکن دیگر وسائل بہت کم ہیں. 
پینے کے صاف پانی کی مستقل فراہمی بڑھتی ہوئی تعداد کے وجہہ سے مکمل نہیں ہو پا رہی ہے. افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر پانی جو ممکنہ طور پر آپ کی مدد یا عطیات کی شکل میں یہاں لایا جا رہا ہے ٹھیک نہی ہے.  ہم نے اپنے طور پر متعلقہ حکم کو آگاہ کیا ہے اور انہوں نےاقیں دلایا ہے کہ اب جو بھی پانی متاثرین کو فراہم کیا جائے گا اس کو پہلے اچھی طرح چیک کرنے کے بعد ہی متاثرین میں تقسیم کیا جائے گا.  ہم کو بھی جو پانی مختلف لوگوں نے فراہم کیا اس میں سے اکثر پانی پینے کے  قبل نہیں تھا جس کو ہم نے متاثرین کو عام استعمال کے لئے دے دیا. 

شروع میں جو راشن یہاں کے متاثرین میں تقسیم وو کچھ بہتر معیار کا تھا لیکن ابھی جو راشن مختلف فلاحی اداروں کی طرف سے تقسیم کیا جا رہا ہے اس کے متعلق بھی کچھ شکایات ہیں. میری تمام فلاحی کارکنان سے اور فلاحی اداروں سے اپیل اور درخواست ہے کہ راشن اور اجناس کی فراہمی سے قبل اس کے معیار کو ضرور چیک کریں، ہمارے وزیری بھائی، بہن جنہوں نے یہ راشن کھانا ہے انسان ہیں اور ان کی صحت جتنی ہماری لئے ہماری صحت ہے اہم ہے. خدا کے لئے غیر معیاری اجناس کی فراہمی سے گریز کریں.

متاثرین کے لئے مفت طبی امداد (فری میڈیکل کیمپ) نہ ہونے کے برابر ہیں، ایک ڈسٹرکٹ ہسپتال اور کچ میڈیکل کیمپ لاکھوں کی تعداد میں موجود متاثرین کی طبی امداد کے لئے ناکافی ہیں. یہاں متاثرین خاص کر خواتین اور بچوں میں سے اکثر کو طبی امداد دینے کی ضرورت ہے. حاملہ خواتین میں سے اکثر بغیر کسی تیبیمداد کے بچوں کو جنم دے رہی ہیں. یہاں موجود لوگوں کا دستور ہے کہ ضرورت پیش آنے پر ہی اپنے گھروں کے قریب موجود طبی مراکز پر لے جایا جاتا ہے لیکن ابھی یہ اپنے گھروں پر موجود نہیں ہیں خیموں میں تنگدستی اور کم خوراکی کا شکار ہیں جس کی وجھہ سے جسمانی کمزوری کی شکار ہیں. مزید نوزائدہ (پیدا ہونے والے بچوں) کے لئے کسی بھی طرح کی وکسنیشن کا انتظام بھی  موجود نہیں. یہاں بنوں میں ادویات کی شدید قلت ہے اور کسی بھی وقت کوئی بھی برا اور پڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے. خدارا یہاں کے لوگوں کے لئے ادویات عطیات کریں. ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف کچھ وقت کے لئے یہاں آکر فلاحی خدمات سر انجام دیں. یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں. آج ان کو ہماری ضرورت ہے. ہو سکتا ہے کل ہم کو ان کی ضرورت پڑھ جائے. میری تمام فلاحی اداروں اور کارکنان سے اپیل ہے، درخواست ہے کہ یہاں کے لوگوں کے لئے مفت طبی امداد کے کیمپ اور زیادہ سے زیادہ ادویات کی فرہمی کو یقینی بنائیں. 
مخیر خواتین و حضرات، سے اپیل ہے کہ آپ لوگوں کو الله پاک نے بہت کچھ دیا ہے. یہ رمضان کا مہینہ ہے اور یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں. اگر آپ چاہیں تو خود یہاں آکر لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں نہیں تو کسی بھی فلاحی ادارے کے ذریے آپ ان لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں. ہم تو اپنے فرض کے ہاتھوں مجبور ہیں. لیکن اگر آپ چاہیں تو مدد کرتے وقت یہاں کے لوگوں کے ساتھ اجازت لے کر اپنا فوٹو سیشن بھی کروا سکتے ہیں. کچھ وجوہات کی بنا پر ہم کو ابھی تک ہمارے فلاحی کام سر انجام دینے کے دوران کسی بھی طرح کے فوٹو سیشن کی اجازت نہیں ہے. اور میں ذاتی طور پر اس کی کوئی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتا کیونکہ میں اور میرے ساتھ فلاحی کارکنان یہاں جو بھی فلاحی خدمات سر انجام دے رہے ہیں وہ صرف اور صرف یہاں کے لوگوں کی خدمت اور الله پاک کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہے شاید اسی لئے ہم کو ملنے والے فنڈز، عطیات اور امداد کی تعداد قبل ذکر نہی. پھر بھی الله پاک کا شکر اور احسان ہے کے ہم کو اتنی توفیق، صبر، جزبہ اور استقامت دی کہ ہم یہاں کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو سکیں اور ان کا کچھ دکھ بانٹ سکیں. الله پاک ہم کو ہمت دے. - آمین.

میں ایک دفع پھر ذکر کر دوں کہ یہاں (بنوں، خیبر پختونخواہ) میں موجود متاثرین (شمالی وزیرستان) ہمارے اپنے ہیں، یہ بھی پاکستانی ہیں اور ان کا بھی اس وطن پر ہم پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ہم جیسے دیگر شہروں میں رہنے والی پاکستانی لوگوں  کا، خدارا اس مشکل وقت میں ان لوگوں کی مدد کریں، ان کا ساتھ دن. پورا پاکستان اگر ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو ہم کو کسی بھی بیرونی مدد یا امداد کی کوئی ضرورت ہی نہ رہے. 

یہاں پینے کے صاف پانی کی مستقل فراہمی، غذائی اجناس یا پکی پکائی غذا کی کم از کم دو (٢) وقت (سحر و افطار) میں مستقل فراہمی اور طبی امداد کے مراکز اور مستقل ادویات کی فرہمی کی اشد ضرورت ہے. خیموں (ٹینٹ) کی بھی کمی ہے جس کے بارے میں مطلقہ حکام کا کہنا ہے کچھ روز میں پوری کر لی جائے گے.     

شمالی وزیرستان سے یہاں (بنوں) میں آنے والے ہمارے بھائی، بہن اور بچے شدید احساس کمتری کا شکار ہیں، یہ پاکستان کو اپنے لئے اجنبی سمجھ رہے ہیں ایسا صرف ہمارے برتاؤ کی وجہہ سے ہے، ان لوگوں کی ذہنی حالت بھی بہتر نہیں جس کے لئے نفسیاتی ڈاکٹرز کی بھی یہاں ضرورت ہے جو یہاں کہ لوگوں کے ساتھ مل کر بیٹھیں اور ان کا احساس کمتری ختم کرنے میں مدد دیں. یہ لوگ ایک طرح کی بے اعتباری، ڈر و خوف کا شکار ہیں کہ اس فوجی کاروائی کے بعد کیا ہوگا؟ اس بات کی ضمانت تو خود ہم بھی نہی دے سکتے لیکن ان لوگوں میں اچھے سے اچھا ہونے کے احساس جو جگانے کی سخت ضرورت ہے. 

میں نے بہت ہی مختصر اور نپے تلے الفاظ میں متاثرین (شمالی وزیرستان) کو در پیش مسائل کا ذکر کیا ہے اور جن وسائل کی ضرورت ہے ان کا بھی ذکر کر دیا ہے. مجھے الله پاک کی ذات پر پورا یقین ہے کہ ہم سب مل کر اس مشکل وقت سے نکل کر رہیں گے. انشا الله 

میں اور میرے ساتھ کارکنان ٹیم آشیانہ کے نام سے ایک چھوٹا اور مختصر کیمپ (آشیانہ کیمپ) میرانشاہ - بنوں روڈ پر لگے ہوے ہیں. ہم پر ابھی تک ٣٠٠ افرد کو روزانہ دو (٢) وقت کی غذا کی فراہمی، پینے کے صف پانی اور افطار کے وقت کھجور کی فراہمی کی ذمہ داری ہے. میں اور میرے ساتھ کارکنان اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں کہ جس طرح   بھی ممکن ہو ہمارے فلاحی کام میں کوئی کمی نہ ہو بلکہ ہو سکے تو اضافہ ہی کر سکیں. ہم کو بھی فنڈز کی کمی کا بہت سامنا ہے. ہم اپنے دوستوں، گھر والوں سے مدد کی بار بار اپیل اور درخواست کر رہے ہیں اور جو کر سکتے ہیں کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں. تمام دوستوں سے مدد اور دعا کی درخواست ہے کہ الله پاک ہمارے اس فلاحی کام کو قبول کرے اور ہم کو حوصلہ، صبر و استقامت دے.

میں اپنے تمام دوستوں، ساتھیوں کا دل کی گہرایوں سے شکر گزار ہوں جنہوں نے کسی بھی طرح ہماری مدد کری اور کر رہے ہیں. خاص کر ہماری بہن فریال زہرہ جو کینیڈا سے یہاں ہمارے فلاحی کاموں میں شریک ہونے آئ ہیں اور ہر طرح کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں. کراچی،  لاہور، پشاور، دبئی، قطر، برطانیہ، امریکہ اور دیگر میں رہنے والے دوست جو ہماری مدد کر رہے ہیں یا اپنے پیغامات سے ہماری ہمت بڑھا رہے ہیں. الله پاک آپ سب کی خدمات کو قبول کرے  اور اجر عظیم عطا کرے - آمین.

میں ذاتی طور پر خیبر پختونخواہ کی حکومت اور اداروں کا شکر گزار ہوں جوبہت کم وسائل ہونے کے باوجود ان لوگوں کی مدد میں کوشاں ہیں. پاک افواج پر ہم کو فخر ہے جو نہ صرف ایک طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں دوسری طرف متاثرین  کے لئے بھی خدمات میں کوشاں ہیں. 

نام نہاد سمجھی تنظیموں اور حقوق انسانیت کے اداروں کو بھی میرا سلام ہے جو یہاں آنا اپنی شان میں توہین سمجھتے ہیں اور اتنی گرمی میں کہیں ان کی طبیعت خراب نہ ہوجاے تو بہتر موسم کے انتظار میں بیٹھے ہوۓ ہیں. لیکن اتنا یاد رکھیں بیٹا ہوا موسم اور گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا.

اگر آپ کسی بھی طرح متاثرین (شمالی وزیرستان) می مدد کرنا چاہتے ہیں یا کر سکتے ہیں. تو اس لنک پر ہم سے رابطہ کریں. 
http://teamashiyana.blogspot.com

اگر آپ ایک ڈاکٹر ہیں، ایک نرس ہیں، ایک ٹیچر (استاد) ہیں، ایک طالبعلم ہیں، ایک سماجی کارکن ہیں تو ہم کو اور یہاں (بنوں) میں موجود لوگوں کو آپ کی ضرورت ہے. آیے متاثرین (شمالی وزیرستان) کی مشکلات کو کم کرنے میں ہمارا ساتھ دیں، ہماری مدد کریں. یہاں کسی بھی قسم کی سیکورٹی کا کوئی مسلہ نہیں ہے. بنوں کے لوگ اور شمالی وزیرستان سے آنے والے بہت محبت کرنے والے، پر خلوص اور مہمان نواز ہیں. اگر آپ کو کچھ مشکل ہوگی تو صرف گرمی اور ناکافی سہولیات کی وجہہ سے ہوگی لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان مشکل حالات اور مشکل وقت میں گزارا ہوا ایک ایک لمحہ آپ کو ساری عمر تسکین اور سچی خوشی دے گا. انشا الله.

جزاک الله 
آپ کا بھائی    
سید عدنان علی نقوی 
آشیانہ کیمپ . میرانشاہ - بنوں روڈ 
بنوں، خیبر پختونخواہ.

ہم سے رابطے کے لئے:
team.ashiyana@gmail.com
faryal.zehra@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
+92 345 297 1618 (if not answer please leave a text)
Twitter: 
@TeamAshiyana
@F4Faryal




Thursday, July 03, 2014

Ashiyana Camp for IDPs, Bannu. "Funds Details".

Respected Brother, Sister and Readers.
Assalam O Alikum.

Here's a details of "Funds, Collection & Contributions" from "Wednesday, 25th, June. 2014 till Wednesday, 2nd, July. 2014."

Details of Funds (Amount):
In A/c (Bank Transaction)
 “Ashiyana”
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 0100-34780-0.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code: UNILPKKA

  • Pak Rs. 30,000/= (Thirty Thousands) Donation by brother "Doha-Qatar".
  • Pak Rs. 15,500/= (Fifteen Thousands & Five Hundred) Donation by Sister "Japan"
Total amount by bank transaction is Pak Rs. 40,500/= (Fourty Thousands & Five Hundred only)

By Western Union:
Pak Rs. 20,000/= (Twenty Thousands) Donation by Suliman Bhai "U.K"

Collection from friends & family of  Team Ashiyana volunteers:
Pak Rs. 10,000/= (Ten Thousands) "Lahore Friends & Family".
Pak Rs. 18,000/= (Eighteen Thousands) "Karachi Friends & Family".

Collection of Items:
Karachi:
200 suites for Women, Men & Children.
Raw food items:
Flour 50kg, Rice 24kg, Sugar 15kg, Tea 4kg, Dates (Khajoor) 20kg, Drinking water 400 liter. Biscuit's etc 5 kg.
Medicines: None
Lahore:
50 suites for Children only.
Raw food items:
Flour 15kg, Rice 8kg, Sugar 5kg, Tea 1kg, Dates 3kg, Drinking water 8 liter.
Medicines: None

Purchased Items by available funds "Pak Rs.93,500/=" (Ninety Three Thousands & Five Hundred).
Food Items: Amount of  Rs. 40,000/= (Forty Thousands)
Medicines: Amount of Rs. 35,000/= (Thirty-five Thousands)
Dates (Khajoor) & Drinking water: 10,000/= (Ten Thousands)
Transportation: Rs. 8,000/= (Eight Thousands)
Total Amount used in Purchasing: Rs. 93,000/= (Ninety Three Thousands)
Balance Amount: Rs. 500/= (Five Hundred)

Al Hamd Ul ALLAH, we are doing our best for our beloved brothers, sisters and children who are coming as our guest from North Waziristan. But we need more funds, more things (relief items) to help them. A lot of IDPs are still waiting for good hope for them, they need drinking water, they need proper supply of prepare or raw food stuff. Free medical camps are also a big requirement to establish in different places here at Bannu - KPK. 

Those who want to work as volunteer with us or help these peoples (IDPs) from us kindle contact with us on given below;
team.ashiyana@gmail.com
faryal.zehra@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
or Call / Text us on +92 345 297 1618 (If not responding leave a text for us please)

Jazak ALLAH
Volunteer
Ashiyana Camp for IDPs,
Bannu, KPK.
Pakistan



Thursday, June 26, 2014

آشیانہ کیمپ (بنوں) سے عدنان کی تحریر "آئ-ڈی-پیز کے حالات اور ہم"

"بھائی  مجھے یہاں نہیں رہنا، مجھے میرے گھر جانا ہے!"

"عدنان بھائی، مجھے اور میرے گھر والوں کو آپ کی بھیک یا خیرات نہیں چاہیے. ہم کو ہماری عورتوں اور بچوں کے لئے عزت والی جگا چاہیے!"

"بھائی، آپ کب تک ہم کو اس طرح کھانا دو گے؟ ایک دن، دو دن، ایک ہفتہ، ایک مہینہ؟ ہم کو اپنی محنت کا کھانا کب ملے گا؟"

"عدنان بھائی،  اگر تم ہم کو اپنا بھائی سمجھتے ہو اور ہماری عورتوں کو اپنی بہنیں اور ہمارے بچوں کو اپنے بچے تو بس ہم کو عزت سے رہنے کے لئے کوئی جگہہ دے دو. ہم محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرے گا مگر یہ خیرات اور بھیک کا کھانا ہم سے نہیں کھایا جاتا جس کے لئے جانوروں کی طرح لڑنا پڑتا ہے." 

"باجی، ہم کو صرف پینے کا پانی اور کھجور دے دو ہم اسی میں الله کا شکر ادا کر لیں گے. ہم جب سے یہاں پہنچے ہیں ہم کو .کچھ نہیں ملا."

"باجی، ہم کو ہمارے گھر بھیج دو، یہاں رہنے سے اچھا ہے ہم کو وہیں طالبان والے مار ڈالیں."

"بھائی، کیا آپ کو پتا ہے اس فوجی آپریشن کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟ اگر ایک بھی طالب (طالبان) رہ گیا وو ہم سب کو مار ڈالے گا."

"ہم کو خیرات نہی عزت چاہیے. وہ  کون دے گا؟"

"باجی، ہمارے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں کر رہے ہیں؟ ہم تو طالبان نہیں ہیں. ہمارا بس اتنا قصور ہے کہ ہم وزیری (وزیرستانی) ہیں. شاید اسی لئے."

"بھائی خدا کے لئے ہمارا فوٹو نہیں کھینچو. ہم کوئی بھکاری نہیں ہے، ہم یہاں صرف آپ لوگوں کی وجہہ سے ہیں. آپ لوگوں نے ہم پر آپریشن کیا ابھی طالبان بھاگ گیا اپنے علاقے میں ابھی ہم جب بھی واپس جائے گا وو ہم کو نہیں چھوڑے گا."

"او بھائی، ہم کو ہمارے خاندان کو کیا یہاں ذلیل اور تذلیل کرنے کے لئے بلایا گیا ہے؟" 

بھائی، اپ کو پتا ہے ہمارا آدھا لوگ ابھی تک اپنے علاقے میں موجود ہے. جب ان کو یہاں (آئ-ڈی-پیز کیمپ) کے حالات کا پتا چلا تب ان لوگوں نے یہاں نہیں آنے کا فیصلہ کیا. ابھی ان لوگوں کا کیا ہوگا؟"

"ابھی ہم کب تک یہاں رہیں گے؟ کیا آپریشن کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟"

"ہم کو یہاں نہیں رہنا ہے، ہم کو ہمارے گھر بھیجو یا ہم کو کوئی اور جگہ دو."'


محترم دوستوں، ساتھیوں، اسلام و علیکم.

جو کچھ لکھا ہے یہ میرے یا میرے کسی فلاحی کارکنان کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ ان متاثرین کہ ہیں جو گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں سے ایف-آر. بنوں، اور بنوں کے کیمپس میں منتقل ہوۓ ہیں. مجھے اور میرے کارکنان کو کوئی ایک بھی ایسا انسان نہیں ملا جو یہاں آنے پر خوش ہو یا اس کو کوئی شکایات نہ ہو. ہر شخص، عورت، بچہ بوڑھا، جوان  سب اس اچانک انے والی آفت پر نہ صرف پریشان بلکہ شدید اذیت میں مبتلا ہیں. آئ -ڈی -کیمپس میں منتقل ہونے والے اکثر متاثرین کو اپنے اسباب (گھریلو سامان، مال، مویشی ) کو اپنے ساتھ لانے تک کا موقع نہی مل سکا. وجہہ شمالی وزیرستان میں مستقل کرفیو اور ٹرانسپورٹ کی کمی اور علاقے سے نکلنے کے لئے محدود مدت رہی. یہاں آنے والے اکثر متاثرین میلوں پیدل چل کر یہاں تک پہنچ سکے ہیں. ابھی (٢٦-٠٦-٢٠١) تک ٥، لاکھ کے لگ بھگ لوگ شمالی وزیرستان سے مختلف علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں یا کر دے گئے ہیں. یہاں ایک بات قابل تحسین ہے کہ بہت قلیل اور محدود مدت میں 
مقامی لوگوں میں وہ جذبہ دیکھا جو میں نے اسس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا. ٢٠٠٥ کے زلزلے کے بعد بھی میں نے اس طرح کا ایثار و قربانی کا جذبہ نہیں دیکھا جو آج کل یہاں بنوں کے لوگوں میں دیکھ رہا ہوں اور میرے کچھ دوست مجھے بتا رہے ہیں کہ خیبر پختونخواہ کے دوسرے علاقوں میں بھی مقامی آبادی میں موجود مرد، عورتیں، بچے سب مل کر شمالی وزیرستان سے آنے والے قافلوں کو جس طرح سے فوری مدد فراہم کر سکتے ہیں کریں، اس کا عملی نمونہ میں یہاں بنوں میں دیکھ رہا ہوں. خبیر پختونخواہ کی صوبائی حکومت  نے بھی کافی اقدامات کے ہیں جو اب نظر آنا شروع ہو گئے ہیں لیکن متسیریں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور وسائل کی اشد کمی کی وجھہ سے ان متاثرین کو سمبھالنے اور مینیج کرنے میں بہت دشواری اور دقت پیش آرہی ہے. 

افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ متاثرین کی مدد کے لئے پاکستانی قوم کو جس طرح مدد کرنا چاہیے تھی اس طرح سے مدد نہیں کر رہے. کوئی دھوکہ دہی کی وجہہ سے مدد کرنے کو تیار نہیں کوئی اس کو حکومتی کا مسلہ سمجھ کر مدد نہی کر رہا اور کچ بے ضمیر لوگ ہیں جو بس اتنا ہے کہ رہی ہیں کہ الله مدد کرے گا. یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں. ان لوگوں نے اپنا گھر، اپنا علاقہ ہمارے لئے، پاکستان کے لئے صرف ایک آواز پر چھوڑا ہے. ان لوگوں کو خود نہی علم کے جب یہ لوگ اپنے علاقوں میں واپس ہونگے تو وہاں ان کے گھر کیسے اور کس حال میں ہونگے، اور کس طرح سے یہ لوگ اپنی زندگیوں میں واپس پلٹیں گے. 

بنوں اور (ایف-آر -بنوں ) کے آئ -ڈی -کیمپ کے حالات :

افسوس صد افسوس پوری کوشش کے باوجود بد نظمی، بد حالی بہت آسانی سے دیکھی جا سکتی ہے. صوبائی حکومت اپنی پوری کوشش کر رہی ہے لیکن بنوں اس وقت مکمل طور پر متاثرین سے بھر چکا ہے. یہاں موجود کیمپ میں گنجائش سے بہت زیادہ متاثرین  آ چکے ہیں. اس پر سب سے بڑی مشکل یہ ہے کے ایف-آر بنوں میں موجود کیمپ جو پاکستن آرمی اور وفاقی حکومت کے زیر نگرانی چل رہا ہے جہاں ابھی تک ٣٥ کے قریب خاندان موجود ہیں کا حل بھی کچھ اچھا نہیں ہے اسی لئے متاثرین وہاں جانے سے گریز کر رہے ہیں. بنوں میں مقامی لوگ اور انصاف کے نوجوان جگہ جگہ موجود ہیں. ایک سیاسی جماعت کے کچھ کیمپ موجود ہیں لیکن یہ سب بھی ان متاثرین کو ٹھیک طرح سے سمبھلنے میں ابھی تک کامیاب نہی ہو سکے ہیں. دیگر تنظیموں کے کچھ کیمپ موجود ہیں لیکن  کم ہیں یا پھر یہ کیمپ کسی اور مقصد کے لئے لگاے گئے ہیں. 

سہولیات جن کی اس وقت اشد ضرورت ہے:
اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ماہر، پڑھے لکھے، سلجھے ہوۓ سماجی کارکنان (مرد و خواتین والینٹرز) کی بہت سخت ضرورت ہے جو یہاں کے لوگوں کے مزاج سے آگاہ ہوں اور یہاں کے سخت ترین حالت میں یہاں آنے والے متاثرین کی مناسب رہنمائی کر سکیں.

پینے کے صاف پانی کی  تک شدید قلت ہے، قلت کا اندازہ اس بات سے  لگایا جا سکتا ہے کہ  لیٹر کی بوتل کو حاصل کرنے کے لئے ١٠-١٥ افراد اپس میں لڑ پڑتے ہیں.

تیار (پکی پکائی) غذا جو کم از کم دن میں دو دفع ان متاثرین کو دی جا سکے کی شدید ضرورت ہے. متاثرین کے کیمپ میں ابھی تک مکمل سہولیات موجود نہیں ہیں جیسے کے کھانا پکانے کے لئے جن اشیا کی ضرورت ہے وہ ابھی تک موجود نہی.

ادویات اور مفت طبی کیمپ (فری میڈیکل کیمپ) کی مہم فوری چلانا ہوگی کیونکہ شدید گرمی میں میلوں پیدل سفر کر کے آنے والے متاثرین میں سے اکثر پانی کی شدید کمی کا شکار ہیں. کچھ خواتین حاملہ ہیں، بچوں اور بزرگ لوگوں کی حالت بہت خراب ہے جن کو یہاں آتے ہے طبی امداد دینے کی ضرورت ہے اور جن کو مزید طبی امداد کی ضرورت ہو ان کو دوسرے شہروں میں پہچانے کے لئے بھی انتظام کرنے کی ضرورت ہے. (ریسکیو ١١٢٢ اور کچھ تنظیموں کے جوان یہاں امبولینسس کے ساتھ موجود ہیں لیکن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہہ سے مزید کی ضرورت ہے)

آئ- ڈی -پیز کیمپ جو صوبائی حکومت، مقامی لوگوں اور کچھ فلاحی تنظیموں کی طرف سے لگاے گئے ہیں ان میں صاف پانی، تیار غذا اور مفت طبی امداد کی مستقل فراہمی کی اشد ضرورت ہے. 

آشیانہ کیمپ اور ٹیم آشیانہ کے کارکنان کا کردار:
آئ - ڈی - پیز کی ایف-آر-بنوں آمد کے ساتھ ہی میں اور میرے ساتھ کارکنان یہاں موجود رہے اور پوری کوشش کرتے رہے کہ منتقل ہونے والے متاثرین کے لئے اپنی ذات سے جو کچھ کر سکتے ہیں کریں. پاکستان کے دیگر شہروں میں موجود ہمارے گھر والوں، دوستوں اور کارکنان کو یہاں کے حالات سے آگاہ کیا اور جو کچھ وہ کر سکتے تھے کرنے کے اپیل کری. مقامی لوگوں اور جوانوں کے ساتھ مل کر فوری طور پر آئ-ڈی-پیز کی رجسٹریشن اور ان کو کیمپ تک منتقل کرنے کے عمل میں ہم جو کردار ادا کر سکتے تھے کیا. جب کراچی، لاہور اور دیگر شہروں کے دوستوں نے کچھ امدادی سامان اور فنڈز جمع کے تو ان کو لسٹ کر کے یہاں روانہ کرنے کا  اس امداد کو متاثرین میں تقسیم کیا. میں اپنی اور یہاں موجود کارکنان کی طرف سے ان سب دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس مشکل وقت میں ہماری مدد کری جس سے ہم آج تک یہاں موجود ہیں اور ہم الله پاک کے شکر گزر ہیں جس نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو اتنی ہمت اور حوصلہ دیا اور ہماری مدد کر جو آج ہم اپنے بھائی بہنوں کا ساتھ دینے کے لئے یہاں موجود ہیں. یہاں میں خاص طور پر کینیڈا سے آنے والی بہن فریال کا شکر گزار ہوں جو صرف ایک کال پر یہاں آگئی اور اب ہم سب سے بڑھ کر فلاحی کاموں میں حصہ لے رہی ہیں (الله پاک بہن فریال کو مزید ہمت اور حوصلہ دے - آمین)

دوستوں اور ساتھیوں، ابھی ہمارا کم ختم نہی ہوا ہے. جب تک ہمارے بھائی، بہن یہاں سے واپس اپنے گھروں میں منتقل نہیں ہو جاتے ہم انشا الله یہاں موجود رہیں گے، ہم اگر زیادہ کچھ نہیں کر سکے تو ہماری خدمات ان لوگوں کے لئے موجود ہونگی. 

میں آپ سب سے انسانیت اور پاکستان کے نام پر ان لوگوں کی مدد کے لئے اپیل کرتا ہوں کے جتنے سلجھے ہووے لوگ یہاں اکر فلاحی خدمات سر انجام کر سکتے ہیں آجائیں. خاص کر خواتین رضا کار، ڈاکٹر، پیرا میڈیک، ٹیچرز، طالبعلم  وغیرہ. یہ ہمارے اپنے ہے لوگ ہیں. یہ وقت ہے کہ ہم کسی بھی طرح کی ذاتی رنجش، وابستگی کو ایک طرف رکھ کر اک ساتھ  مل کر کام کریں.

آشیانہ کیمپ، نے فوری طور پر ہفتے میں ایک دفع مفت طبی کیمپ (فری میڈیکل کیمپ) اور پینے کے پانی کی فرہمی کے لئے اپنے تمام دستیاب فنڈز کو مختص کرا ہے. ہمارے کیمپ میں اس وقت ٣٠٠ کے قریب لوگ موجود ہیں جن کو ہم کچھ مدت کے لئے رکھ رہے ہیں مناسب انتظام ہوتے ہی ان لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا. تمام دوست اور کارکنان بڑھ چڑھ کر ہارا ساتھ دیں. کسی بھی طرح ہماری مدد کریں، آپ غذائی اجناس، کھجور، پینے کا پانی، ادویات، گھریلو استعمال کی اشیا، ادویات وغیرہ سے ہماری مدد کر سکتے ہیں. کراچی، لاہور، راولپنڈی، میں ہمارے کارکنان موجود ہیں جن کو آپ یہ سامان دے سکتے ہیں. اگر ایسا ممکن نہیں تو اپ پاکستان آرمی کے ریلیف کیمپ جو پاکستان کے ہر علاقے میں موجود ہیں میں اپنا سامان پیک کر کے اس پر "آشیانہ کیمپ کے لئے" لکھ کر جمع کرا دیں انشا الله آپ کی امداد ہم تک پہنچ جائے گی. اگر آپ فنڈز سے ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دے گئے لنک پر جا کر آن لائن عطیات بھی دے سکتے ہیں. 

Click here to contact or donate us for IDPs of North Waziristan

میں ایک دفع پھر تمام دوستوں اور ساتھیوں کا شکر گزار ہوں جو ہماری کسی بھی طرح مدد کر رہے ہیں اور ہمارا ساتھ دے رہے ہیں. الله پاک ہماری ان خدمات کو قبول کرے اور ہم سب کو پوری ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ اپنے بھی بہنوں کی مدد کرنے کی توفیق، ہمت اور استقامت عطا فرمائے - آمین.
جزاک الله 
آپ کا بھائی 
سید عدنان علی نقوی 
آشیانہ کیمپ. 
بنوں. فاٹا. پاکستان.