Sunday, April 22, 2012

List of Urgent Require Items! (For Ashiyana Camp, Datta Khel, North Waziristan)

Dear Brother & Sisters, 
Assalam O Alikum.
Team Ashiyana is facing a lot of the problems to run its social activities in highly infected area in Datta Khel North Waziristan.
Our funds are not meeting with our demands. For that we are requesting to all of our Family member's, Friends and reader's to give your hand of courage to us and for the victims of War on Terror, who are living under very bad condistions in remote areas of North Waziristan. 
Team Ashiyana is only a social working group which is in try to give them Medical assistance, food supply, and others. As More than 40 Orphans are the main responsibility of us, These Orphans are living under the banner of Ashiyana Camp, 2km, Datta Khel, North Waziristan. Still we are not allow to take pictures and videos of our work but we knows ALLAH is watching us and our work. 
Dear all, 
This is an urgent request to all of you with the details that what we have and what we need (urgently):

Food Stuff:
We do have food stuff just for a day or two. 
We collected very few amount of food stuff during our bhik mission here at Peshawer (Khyber Pakhtonkhwa), but this is not enough for our daily demand. We have abut 100 victims, (including Orphans, Widows, Old and handicap)

We need urgnt supply for the food stuff as:
Rice, Flour (Atta), Beans (Dallain), Sugar, Tea, Salt, Spices, Ghee or Oil. (Urgently Require)

We have a very little amount of medicines at the moment.

We need urgent supply of the Medicines on priority basis. 
All kind of the Medicines, for our medical camp which need to be held in Datta Khel and other areas of the Town. 
Medicines for the Flue, Fever, Cough and Cold, Infant, General Deseases etc.

Other Stuff:
We are planning to open a road (Mobile School) for the children of North Waziristan. For that we need used books of your childrens, (in urdu medium only). from class I to class X.
Clothes for the children and women for all ages. (Urgently Required)

Masjid & Maddarsa (Masjid School):
A Masjid school is under construction is main Datta Khel, we have a plane to make it a primary level school. We need your assistance to meet our idea. 

Team Ashiyana Current Funds Details: (as on April 21, 2012)
In Cash: 
Send by Mansoor (Karachi): Rs. 5000/= (Five Thousands only)
Send by Ms. Badar-un-Nissa (Karachi): Rs. 3000/= (Three Thousands only)
Send by Asif Kamal (Karachi): Rs. 1500/= (Fifteen Hundred only)
Send by Ms. Mussarat (Lahore): Rs. 1000/= (One Thousand only)
Send by Faisal bro (Lahore): Rs. 1000/= (One Thousand only)                           
            Total Amount: Rs. 11500/= (Eleven Thousands, Five hundred only)
By Bank Account:
Current Balance as on April 21, 2012: Rs. 75/= (Seventy five only) 
"No new transaction or transfer available at yet"
By Other's: As on April 21, 2012: Rs. Nil (none)

Food Stuff (Collection in Bhik Mission in Karachi and Peshawer)
Send by Mansoor bro (Karachi): 42 suits for children & women (all used) 
Collected at Peshawer: 100 suites for Men, Women & Children.
Other cities: None

Food Stuff:
Send by Mansoor & Ms Badar (Khi):
Flour, Rice, Oil, and other general items worth of Rs. 10000/= (Ten Thousands only)
Collected at Peshawer:
Rice - 40kg, Flour 120 - kg, Beans (Dallain) 10 - kg, Oil - 15 kg, Salt - 50 bas, Suger - 100 kg, Tea - 1 kg, Spices etc.

Send by Ms. Badar (Khi): Worth of Rs. 1500/= (Fifteen Hundred's only)
Collected at Peshawer: Worth of Rs. 5000/= (Five Thousands only)

Dear all, the above mentioned data is subjected to availability as on April 21, 2012. Our prayers and best wishes are always with the worker and donors. May ALLAH gives them Ajr e Azeem for there efforts. But this is sorry to inform you that the amount of items is less and it is not meeting with our daily demands.

Team Ashiyana and the victims of war on terror, including our Orphans, Disable, and Widows are requesting to all of you to send your donation your used clothes, books, or medicines to us. as we can use it with thanks.

for the further details please visit:
or write us:

or call us at +92 345 297 1618

Jazak ALLAH Kher.
Team Ashiyana
D'tta Khel, North Waziristan.

محترم بھائی، بہنوں!
ہم لوگ یہاں (وزیرستان) میں اپنی خوشی  سے یا کسی اور مقصد کے تحت نہیں  ہیں، بلکہ ہم صرف اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ فرض جو ہم سب کو ایک قوم کی حثیت  سے مل کر ادا کرنا تھا. مجھ کو بہت اچھی ترہان اندازہ ہے کہ ہم اکیلے ہیں تنہاں ہیں، مگر الله پاک کی ذات پر مکمل بھروسہ اور یقین رکھتے  ہیں کہ ووہی ہے جس  نے ہم کو یہاں آنے کی ہدایت دی اور ووہی ہے جو ہم کو یہاں سے عزت کے ساتھ نکالے گا.
ٹیم آشیانہ، آج کل بہت شدید مشکلات کا شکار ہے، ہمارے اپر ٤٠ (چالیس) سے زیادہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی زمیداری ہے. جن کا کھانا پینا، ادویات وغیرہ  کا انتظام ہم کو ہی کرنا ہوتا ہے.  ہم ان بچوں کو کہی اور نہیں رکھ سکتے، کشمیر کے یتیم بچوں کے ساتھ جو سلوک لال مسجد میں کیا گیا وہ ساری دنیا نے دیکھا. ہم یہ بھی اچھی ترہان جانتے ہیں کہ آئ ڈی پیز کیمپ جلو زئی میں متاثرین کے ساتھ کیسا سلوک کیا جا رہا ہے. اور وزیرستان کے لوگوں کے لئے تو شاید پاکستان میں فلحال کہی کوئی جگہ نہیں جہاں وہ عزت کے ساتھ رہ سکیں. ہم ہمیشہ آپ ہی لوگوں کی مدد سے اپنے فلاحی کاموں کو جاری رکھتے ہیں اور انشاہ الله آیندہ بھی رکھیں گے. 
ہم (ٹیم آشیانہ) آج آپ سب سے، انسانیت، کے نام پر آپ سب سے اپنے وزیرستانی بھائی بہنوں اور بچوں کے لئے مدد کی درخواست کرتے ہیں، بھیک مانگتے ہیں مشکل کے ان لمحات میں ہمارا ساتھ  دیں، الله پاک ہماری مدد کرے، آمین.

ہم کو الله پاک کی ذات پر پورا یقین اور بھروسہ ہے کہ وہ ہماری مدد ضرور کرے گا. اور ہم کو اس مشکل سے ضرور نکالے گا.  آپ کی تھوڑی تھوڑی مدد یہاں ہمارے لئے بہت بڑی مدد بن سکی ہے. آپ جس طریقے سے ہماری مدد کرنا چاہیں کر سکتے ہیں، ہم کو اپنے بچوں کے لئے کچھ نیا نہیں چاہیے ہم آپ کے اور آپ کے بچوں کے پرانے کپڑے، اور آپ کی دی ہوئی غذائی اجناس سے خود کو سمبھالنا جانتے ہیں.
الله پاک آپ کا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو. 
جزاک الله
ٹیم آشیانہ
دتہ خیل، شمالی وزیرستان  

Saturday, April 21, 2012

بھوجا ائر لائن کے حادثے میں شہید ہونے والوں سے تعزیت

اسلام و علیکم، 
ٹیم آشیانہ اور شمالی وزیرستان میں موجود سارے ساتھی، آج بھوجا ائرلائن کے حادثے میں شہید ہوے لوگوں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور الله پاک سے دعا کرتے ہیں کے الله پاک مرحومین کو جوار رحمت میں مقام عطا فرماے اور لواحقین کو صبر و تحمل اور برداشت عطا فرماے، آمین.
ٹیم آشیانہ براے شمالی وزیرستان.

Friday, April 20, 2012

وزیرستان ڈائری: دتہ خیل میں میرا پہلا جمعہ، میران شاہ میں ڈرون حملہ اور ہم

اسلام و علیکم، 
آج کی ڈائری لکھتا ہوں. 

آج جمعہ مبارک کا دن ہے، خوش قسمتی سے آج کی رات نسبتاً پرسکون گزری، میری بھی آنکھ صبح فجر کے وقت ہی کھلی، صبح فجر میں اٹھنے کی عادت جو ہوتی جا رہی تھی، آج کسی کو اٹھانا نہیں پڑا. میں اپنے بستر سے اٹھ کر باہر آیا تو دیکھا کے ٹیم آشیانہ کے سارے ساتھی نماز کی تیاری میں مشغول ہیں. میں بھی وضو وغیرہ سے فارغ ہو کر نماز کی جگہ آکر بیٹھ گیا. تھوڑا ہی دیر میں باقی ساتھی بھی آگئے، امامت ظہیر خان بھائی نے کری، ماشا الله بہت ہی خوش کلامی سے تلاوت قرآن کری، نماز پڑھنے میں خود ہی بہت مزہ آیا. روح اور جسم سب الله کے حوالے کر دینے کا فیصلہ کیا اور نماز کی سہی حقیقت آج ہی کھلی. الله اکبر، کاش کہ میں پہلے ہی ان سب سچائیوں کو جان پاتا. اپنے ماضی پر افسوس اور کردار پر ندامت کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتا تھا. نماز کے بعد رو رو کر دعا کری کہ،
 "الله پاک، مجھ کو سیدھا راستہ دکھا، وہ راستہ جس میں میری فلاح ہو، میرے غیر والو کی فلاح ہو، میرے دوست احباب، عزیز اور رشتےداروں کی فلاح ہو، اور جس میں توحید کا کلمہ پڑھنے والو کی فلاح ہو."  
دعا کے بعد، عدنان بھائی نے ایک تعلیمی نشست کا اہتمام کیا تھا. جس میں قرآن پاک کی کچھ آیات پڑھ کر اس کا اردو اور پشتو ترجمہ کیا گیا، ایک اور بھی سے کہا گیا کے ان آیات پر علمی روشنی ڈالیں، سورج کی روشنی اب ہر طرف پھیلتی جا رہی تھی، نیند تو کب کی ختم ہوچکی تھی اب درس قرآن کے بعد ناشتہ کرنا تھا اور آج کیا کام کرنا ہے اس کی معلومات اور نماز جمعہ کی تیاری. 
میں نہیں، درس کے بعد اکرم بھائی سے معلوم کیا کے آج ہم (ٹیم آشیانہ) کیا کام کر رہی ہے تو جواب ملا کہ ناشتے کے بعد ہی پاتا لگے گا کہ آج کیا کرنا ہے. شاید اب ہمارے پاس ادویات اور امدادی سامان بہت کام رہ گیا تھا جس کی وجہہ سے کوئی نئی حکمت عملی بنانا مشکل ہو رہی تھی، میں نے اکرم بھائی سے معلوم کرنے کی کوشش کری کہ اگر یہاں سے فون کرنا چاہوں تو؟ جواب ملا کے ہمارے پاس کوئی جدید سہولت میسر نہیں، ایسی سہولیات تو صرف بڑے خان، طالبان، یا حکومتی اہلکاروں کے پاس ہے ہم ایسی سہولیات سے آراستہ نہیں. تھوڑا سا دکھ ہوا، کیوں کہ کافی دنوں سے امی سے بات نہیں ہوئی تھی پتہ نہیں وہ کیسی ہونگی؟ الله پاک امی کو صحت اور تندرستی دی، آمین.
ناشتہ بہت رسمی سے تھا جس میں رات کی بچی ہوئی روٹی اور چائے تھی. میں نے صرف چائے پینے پر ہی بس کیا کیوں کہ بھوک نہ ہونے کے برابر تھی. اچانک مجھ کو دونوں خواتین کے بڑے میں خیال آیا تو میں نے پوچھا تو پتہ چلا کے ایک اور خاتوں کے ہاں بیٹا ہوا ہے مگر تیسری خاتوں کی حالات کچھ بہتر نہیں، دعا کی اشد ضرورت ہے، دل سے دعا کری کہ الله پاک خاتون کو صحت عطا فرماے، آمین. 
دل کچھ بوجھل ہونے لگا. میں ٹہلنے کی غرض سے اٹھا ہی تھا کہ سارے ساتھیوں کو ایک جگا جمع ہونے کی ہدایت کی گئی. ہم سب ایک کھلی جگہ پر اکھٹا ہو گئے. عدنان بھائی اور اکرم بھائی بھی آگئے. پھر اکرم بھائی نے ابتدا کری. "ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے پاس اب صرف ضروری سامان رہ گیا ہے. ہمارے پاس اب اتنی ادویات نہیں کہ کوئی اور میڈیکل کیمپ لگا سکیں، نہ ہی ہم اب غذائی اجناس کی فراہمی کر سکتے ہیں، اس لئے آج جمعہ مبارک کی نماز کے بعد ٹیم آشیانہ کے کچھ اراکین میران شاہ اور پشاور روانہ ہو رہے ہیں جہاں سے کچھ سامان اکھٹا کیا جا سکے، آپ میں سے جو جو یہاں روک کر کام کرنا چاہتا ہے وہ ایک طرف ہو جائیں اور جو بھیک مشن کے لئے جانا چاہتا ہے وہ ایک طرف ہو جائیں اور جو آرام کرنے کی غرض سے اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں وہ ایک طرف ہو جائیں. 
میں بہت حیران زدہ تھا کہ کل تک ایسی کوئی بات بیان نہیں کری گئی تھی اور آج اچانک یہ صبح، اور جو لوگ ٹیم آشیانہ کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتے اور واپس جانا چاہتے ہیں ان کو بہت عزت اور احترام کے ساتھ واپس جانے کا بھی کہہ دیا گیا تھا. میرے حساب سے ایک میں ہی تھا جو بہت دور (کراچی) سے آیا تھا، باقی افراد زیادہ تر یہاں ہی کے تھے مطلب وزیرستان ہی کے کسی نہ کسی علاقے کے یا پشاور کے. مجھ کو کچھ اچھا محسوس نہیں ہوا، میری خود سمجھ نہیں آرہا تھا کے میں کس طرف کھڑا ہوں، اسی سوچ میں جہاں تھا وہی کھڑا رہ گیا جبکے باقی ساتھی تین الگ الگ جگہوں پر کھڑے ہو گئے. عدنان اور اکرم بھائی نے آواز دی کے بھائی منصور آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ میں نے کہا میں ابھی کچھ دن اور یہاں روک کر آپ کے ساتھ فلاحی کاموں میں حصہ لینا چاہتا ہوں، یہ سن کر ہلکی ہلکی سی آواز ہے جن میں صدا تھی، الله اکبر، ماشا الله، سبحان الله. . . ایسا لگا کے جیسے میں نے کسی جہاد میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہو. اکرم بھائی نے آگے بڑھ کر مجھ کو گلے سے لگایا. مگر عدنان بھائی کسی سوچ میں تھے، عدنان بھائی نے مجھ کو ایک طرف آنے کے اشارہ کیا اور اکرم بھائی باقی ساتھیوں کو ہدایات دینے لگے. 
عدنان بھائی نے مجھ کو ٹیم آشیانہ کی ملی مشکلات سے اگاہ کیا، یہ بتایا کے ہو سکتا ہے کے اب ہمارے پاس دو (٢) وقت کا کھانا بھی مشکل ہو، یا پھر کسی دن کا روزہ بھی رکھنا پڑے، ادویات کا انتظام کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں. باقی حالات تو میرے سامنے ہی ہیں. "آپ کو واپس جانا چاہیے آپ کراچی میں رہ کر ہماری بہتر مدد کر سکتے ہیں" عدنان بھائی نے کہا مگر میں نے جواب دیا کہ میں کچھ دن اور یہاں روکنا چاہتا ہوں، سمجھنا چاہتا ہوں حالات کو دیکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ جب میں واپس جاؤں تو بہت بہتر طریقے سے یہاں کے حالت بیان کر سکوں، یہاں کی مشکلات کو سمجھ سکوں اور کوئی بہتر حل تلاش کر سکوں. ہو سکتا ہے کے یہاں روک کر جو دکھوں میں کوئی اچھی راے دے سکوں. لیکن اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کے میں آپ پر بوجھ بنوں گا تو میں نماز کے بعد چلا جاتا ہوں، میں نے کہا. عدنان بھائی نے مجھ کو گلے لگا لیا اور ان کی آنکھوں میں آنسوں تھے، میری بھی آنکھیں بھر آی. کراچی میں رہ کر کبھی ایسے حالت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، آج پہلی دفع محسوس ہوا، کہ فاقہ کیا ہوتا ہے ابھی کیا نہیں تھا صرف سوچا ہی تھا تو ادھ جان جا رہی تھی. الله اکبر، پتہ نہیں یہاں کے لوگ کتنے فاقے کرتے ہونگے، کتنے ہی لوگ بغیر ادویات اور علاج کے مر جاتے ہونگے، کتنے ہی لوگ ایسے بورے حالات سے تنگ اور پریشان ہو کر ملک دشمنوں کے ہاتھوں کا ہتھیار بن جاتے ہونگے، نام نہاد طالبان بھی شاید ایسے ہی موقے اور لوگوں کی تلاش میں رہتے ہونگے، تبھی وزیرستان اور قبائلی علاقوں میں طالبان اور نام نہاد اسلام کے ٹھیکیداروں کا علاقہ ہے. اور ان کا زور چلتا ہے. ان سب کے ذمے دار ہم سب ہی ہیں. ہم خود تو شہسروں میں بیٹھ کر اپنی روزی روٹی کی فکر کرتے ہیں مگر کبھی نہیں سوچتے کے پتہ نہیں کتنے لوگ ہیں جن کو ایک وقت کی روٹی تک میسر نہیں، ہم کو تھوڑا سا سر درد ہوتا ہے تو ڈاکٹر کے پاس بھاگتے ہیں. اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں دوا لیتے ہیں، مگر یہاں تو ایک ٹیبلٹ تک مشکل سے ملتی ہے. یا الله! یہ کیسا امتحان ہے؟ یہ کیسی مشکل ہے؟ مجھ کو ہمت دینا، صبر دینا، کہ میں اپنے اس فیصلے پر ثابت قدم رہوں. آمین.

دن کے ١١ بجے کا وقت:
اچانک ہی کچھ افرا تفری مچی، اکرم بھائی میرے طرف بھاگتے ہووے آی اور میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف بھاگنے لگے، میں اس بھاگم بھگ کے لئے بلکل تیار نہیں تھا. بلال بھی کہیں نظر نہیں آرہا تھا. نہ ہی ٹیم کا کوئی دوسرا کارکن نظر آرہا تھا. 
یا الله یہ کیا ماجرا ہے؟ میں اکرم بھائی کے ساتھ تیز نہیں بھگ سکتا تھا. اپنی معذوری پر پہلی دفع بہت غصہ آیا. ١٥ منٹ کے بعد ہم ایک جگا روکے، میری سانس بوری تارہا چل رہی تھی، حلق میں کانٹے پڑھ رہے تھے، فکر اور گھبراہٹ الگ ہو رہی تھی. اکرم بھائی مجھ کو ایک چھوٹے سے گھر میںلے گئے ہے مجھ کو ہدایت دی کے جب تک وو واپس نہیں آتے مجھ کو اسی گھر میں روکنا ہے اور کسی سے کوئی بات نہیں کرنی. میں ہکا بکا، تھا. کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا. وہ مجھ کو چھوڑ کر چلے گئے، میں ایک طرف بیٹھ گیا، صبح سے ہونے والی سری باتوں کو یاد کرنے لگا. آج جمعہ بھی ہے، میں سمجھا کے آج کسی بڑے میدان میں نماز کی تیاری ہوگی جس سے مجھ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دیکھنا اور ملنے کا موقع ملے گا، مگر یہ سب تو الٹا ہی ہو رہا تھا. تھوڑی دیر میں ایک بچہ (١٢-١٣) برس کا میرے لئے ایک پلیٹ میں چاول اور دنبے کے گوشت کا سالن دل کر لے آیا، ساتھ پانی بھی تھا، میں نے بچے کو اردو میں ہی کہا الله اجر عظیم دے، میں بھوکا نہیں بس پانی دی دو. بچا اردو سمجھ گیا اور کہا کھاؤ، میں نے انکار کر دیا، اور یہ انکار صرف خوف کی وجہہ سے نہیں تھا، مجھ کو سچ میں بھوک نہیں لگ رہی تھی. وہ بچہ پلیٹ واپس لے کر چلا گیا. میں نے آگے بڑھ کر پانی کا گلاس اٹھایا، پانی پر نظر پڑی تو دیکھا پانی بہت مٹی والا تھا. بہت مٹی تھی. میں کیسے پی سکتا تھا پانی. میں نے اپنی قمیض کا دامن پانی کے گلاس پر رکھا اور جتنا پانی پی سکتا تھا الله کا شکر ادا کر کے پی لیا. 
  دن کے ایک (ا) بجے:  
ابھی تک کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کے باہر ہو کیا رہا ہے ہر طرف سناٹا تھا. ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں کسی قبرستان میں آگیا ہوں. وہ بچہ جو کھانا اور پانی لیا تھا واپس نہیں آیا تھا. میں کمرے سے باہر نکلنا نہیں چاہتا تھا کے کوئی گڑ بڑ ہوئی تو اکرم بھائی جانے کیا کہے گے. پریشان اور لاچار ایک طرف بیٹھ گیا، صرف گھڑی میں وقت دیکھ کر سوچ میں تھا کے آج نماز بھی ادا ہوگی کہ نہیں؟
اسی سوچ میں تھا کہ، اکرم بھائی آگئے، میری جان میں جان آی، ایک انجانی خوشی کا احساس ہونے لگا. میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی اکرم بھائی نے بتایا، "منصور بھائی آج صبح نماز فجر کے بعد دتہ خیل سے کچھ آگے، اور میران شاہ پر ڈرون نے حملہ کیا ہے، جس میں بہت جانی نقصان ہوا ہے. کافی غیر ملکی (نام نہاد) جہادی مارے گے ہیں. اور کچھ مقامی لوگ بھی مارے گئے ہیں. پورا امکان ہے کے آج جمعہ کی نماز پرایک دفع پھر سے حملہ ہو. اسی خدشے کے پیش نظر ہم کو سر پر پیر رکھ کر جس حال میں تھے بھاگنا پڑا. ہم کسی بھی قسم کا نقصان برداشت کر سکتے ہنی مگر جانی نقصان بلکل نہیں. میرا کچھ سامان جو میرے بستر پر تھا وہ بھی لا کر دیا. کے فلحال آپ کو یہی روکنا ہوگا. میں نے باقی ساتھیوں کا پوچھا تو بتایا گیا الله کے فضل اور کرم سے سب ہی محفوظ جگہوں پر ہیں. اب کچھ اور پوچھنے کے لئے باقی نہیں رہ گیا تھا. نماز کا پوچھا تو کہا کے آج نماز اسی کمرے میں ادا کرنی ہے کچھ مقامی لوگ آرہے ہیں، کیوں کے ڈرون حملے کی وجہہ سے نماز کھلی جگہ پر اور اجتماع کے ساتھ ادا نہیں کی جا سکتی. 
مجھ کو وضو کا پانی دیا گیا، مجھکو کچھ حجت محسوس ہو رہی تھی میرا اشارہ سمجھ کر اکرم بھائی نے مجھ کو راستہ دکھایا، میں باہر نکلا کھلے آسمان کی طرف دیکھا، الله کا شکر ادا کیا اور اپنے کام سے فارغ ہوکر وضو کر کے کمرے میں واپس آگیا. میری واپسی تک ٨-١٠ مقامی افراد کمرے میں موجود تھے اور نماز کی تیاری کر لی گئی تھی. مقامی افراد سے میرا تعارف کرایا گیا جو رسماً تھا. ایک مولانا ٹائپ کے صاحب نے جمعہ کا عربی خطبہ دیا، اقامت ہوئی اور نماز پڑھی گئی، نماز کے بعد بقیہ نماز ادا کری اور ایک ایک کر کے وہ سب رخصت ہوتے چلے گئے، صرف اکرم بھائی اور ایک اور صاحب جن کا نام نہیں پتہ وہی رک گئے.

دن کے ٣ بجے:  
کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی، اکرم بھائی تلاوت قرآن کر رہے تھے اور وہ صاحب تسبیح پر کچھ پڑھ رہے تھے، وہی بچہ جو پہلے کھانا لے کر آیا تھا ایک دفع پھر کمرے میں داخل ہوا اب اس کے پاس تین (٣) پلیٹیں تھی کھانا وہی تھا جو وہ پہلے لے کر آیا تھا، گلاس کی جگہ ایک چھوٹی سی مٹکی تھی جس میں پانی بھرا تھا. میں خود کو پتھروں کے دور کا انسان محسوس کر رہا تھا یا ایسا لگ رہا تھا کے میں افغانستان میں کہیں موجود ہوں. اکرم بھائی نے اشارے سے بچے کو کھانا رکھ کر جانے کا کہا اور تھوڑا دیر میں فارغ ہو کر کھانا خانے بیٹھ گئے. بھوک بھی تھی مگر حالات کی وجہہ سے خانے کو دل نہیں کر رہا تھا. پھر بھی کوشش کری کے جتنا کھا سکتا ہوں کھاؤں کیا پتہ آنے والا وقت کیسا ہو. اکرم بھائی میری دوا کی تھیلی بھی لے آی تھے میں نے دوا کھائی، اور ایک طرف بیٹھ گیا. اس میں کوئی شک نہیں کے میں بہت زیادہ پریشان تھا. ایسے حالات کے لئے تیار ہی نہیں تھا. مجھ کو تیار رہنا چاہیے تھا. آج پہلی دفع احساس ہوا کے میں ایک ایسے علاقے میں ہوں جہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے. آج ہی یہ پتہ چلا کے کیوں فلاحی ادارے اور حکومتی ادارے یہاں آکر کام نہیں کرتے. اور آج ہی عدنان بھائی کی عزت، وقار،ٹیم آشیانہ کی ہمت، صبر سب ہی میری نظروں میں بہت بڑھ گے، دل چہ رہا تھا کے اگر سب میرے سامنے ہوں تو اک ایک کا ہاتھ چوموں ان سب کو سلام کروں کہ کتنے سالوں سے یہ لوگ اتنے برے حالات میں ایسے خطرناک علاقوں میں کام کر رہے ہیں. اس کا کوئی صلہ نہیں  دی سکتا. صرف الله پاک کی ذات ہی ہے جو اس کا صلہ دے سکتی ہے. 
اکرم بھائی نے میری ڈائری کی طرف دیکھا اور پوچھا کے یہ کیا ہے؟میں نے کہا کے یہ میری ڈائری ہے جو میں لکھتا ہوں. انہوں نے کہا کے اپنی جان سے زیادہ اس کی حفاظت کرنا کیوں کے ایسی تحریر تم کو کسی مشکل میں نہ ڈال دیں. میں نے سر ہلا کر ان کی مشورے کا شکریہ ادا کیا. اور پوچھا کے اور کب تک یہاں روکنا ہوگا؟ جواب ملا کچھ اندازہ نہیں. میں ایک طرف بچی ہوئی چادر پر لیٹ گیا.

شام کے ٤-٥ کا وقت ہوگا جب مجھ کو اٹھایا گیا میں سو گیا تھا. نماز عصر ادا کری، پھر بیٹھ کر تھوڑا قرآن پڑھا. نماز مغرب کا وقت ہوا تو ادا کری. اور ایک طرف بیٹھ گیا. آج رات یہاں نہ ہی لالٹین تھی نہ ہی چراغ. ہر طرف اندھیرا تھا. جس میں میں اور اکرم بھائی بیٹھے تھے. اکرم بھائی کبھی کبھی کچھ کہتے تو میں ہاں یا ہوں میں جواب دے دیتا. یہ اندھیرا مجھ کو کاٹنے لگا تھا. باہر جانے کی اجازت نہیں تھی. میں سوچنے لگا کے اس وقت کراچی میں میرے گھر پر کیا ہو رہا ہوگا. آج جمعہ ہے میری بہنیں گھر آئ ہونگی، کھانے بن رہے ہونگے. گلی میں بچے ادھر ادھر بھگ رہے ہونگے. یہ خیال بھی میرے کو بہت اچھا لگ رہا تھا. تھوڑا دیر میں ایک شب آے اندھیرے میں پتہ نہیں لگا کے کون ہیں، اکرم بھائی نے پشتو میں کچھ کہا اور مجھ کو اردو میں کہا کے چلو بھائی منصور، خطرہ کچھ کام ہوا باہر چلتے ہیں. اف، میں بتا نہیں سکتا تھا کے باہر جانے کا سن کر جو خوشی محسوس ہوئی تھی وہ کیسی تھی. میں فورن کھڑا ہو گیا اور اکرم بھائی کے آواز کے سہارے کمرے سے باہر نکلنے لگا. باہر کھلی فضا میں آکر گہرے گہرے سانس لئے دل کو بہت اطمینان ہوا. اکرم بھائی میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف چلنے لگے، اور ہم تھوڑا دیر چلنے کے بعد ایک ڈھلوان والی جگہ پر آکر. روک گئے، یہاں دیکھا کے عدنان بھائی موجود ہیںاور ٹیم کے کچھ دوسرے ارکان بھی خوشی کے مارے میرے مون سے آواز نکلی "عدنان" اور میں جھپٹ کر ان کے گلے لگ گیا. میںنے ان سے کہا کے حالت کچھ بھی ہوں آپ مجھ کو اکیلا نہ چھوڑنا. انہوں نے کہا، بھائی سب کچھ اتنا جلدی اور تیزی سے ہوا کے کچھ بھی سوچنے سمجھنے کا وقت نہیں ملا اور یہ سب تو یہاں چلتا ہی رہتا ہے. فٹ بھی میں پوری کوشش کروں گا کے اگر ایسا ہو تو تم میرے ساتھ ہی رہو. ہم سب نے مل کر عشا کی نماز ادا کری، رات میں کچھ کھانے کا انتظام نہیں تھا بس ہلکا پھلکا جو ملا کھا لیا، آج عدنان بھائی نے بتایا کے، "٥ ساتھی جو مختلف علاقوں سے آے تھے وہ آرام کرنے واپس چلے گئے ہیں، ٥ ساتھی پشاور کے لئے نکل گئے ہیں جو ادویات، غذائی اجناس وغیرہ کے لئے وہاں بھیک مہم چلیں گئی اور دوسرے ساتھیوں سے رابطہ کر کے مدد مانگے گئی. اور ہم یہاں رہ گئے ہیں. ابہ تم بتاؤ کے ایسے حالت میں کیا کرنا چاہیے. کیا ہم کو امداد کا انتظار کرنا چاہیے یا یہاں روک کر ہم کچھ اور کر سکتے ہیں؟ میں نے اکرم بھائی کے کان میں کہا کے بھائی اگر ممکن ہو تو چائے پلوا دو اور اگر ایک سگریٹ مل سکتی ہے تو مہربانی ہوگی. "یہ بتا دوں کے مجھ کو بے شک دن میں ایک دفع کھانا ملے، مگر میں چاہیے اور سگریٹ ضرور پیتا ہوں." آج کافی دن کے بعد مجھ کو شدت سے چائے اور سگریٹ کی طالب محسوس ہو رہی تھی. اکرم بھائی نے مسکرا کر کہا جی بلکل!اور وہ اٹھ کر ایک طرف چلے گئے.
عدنان بھائی کے چہرے پر ایک اطمینان تھا، جس کو دیکھ کر مجھ کو بھی سکوں مل رہا تھا کے چلو دن بھر کی ٹینشن کے بعد کچھ ذہنی سکوں تو ملا. اب عدنان بھائی نے ایک دفع پھر سے دہرایا کہ " بھائی کچھ سوچا کہ اب کیا کرنا ہے؟" میں نے کہا بھائی جی، آپ تو سالوں سے یہاں ہو آپ کیا کرتے ہو جب آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا؟ جواب ملا کے میں مقامی لوگوں کی ساتھ ان کے کام کاج میں مدد کرتا ہوں وغیرہ وغیرہ. میں نے کہا کے اکرم بھائی کو آجانے دیں جب تک میں کچھ نوٹس لکھ لیتا ہوں پھر کھل کر بات کرتے ہیں. میں نے آج اپنے سارے تجربے اور تجزیے کو ایک دفع پھر سے لکھنا شروع کیا، ڈائری کا ایک ایک صفحہ بار بار پڑھا اور جو بھی بہتر سے بہتر مشورے لکھ سکتا تھا لکھنا شروع کیا. 
رات کے ٩-٩:٣٠ کا وقت ہوگا جب اکرم بھائی واپس آے تو ان کے ایک ہاتھ میں برتن (چائے والا) تھا، میں نے شکر کیا کے آج پیٹ بھر کے چائے تو پینے کو ملے گی، سگریٹ شاید نہیں ملی ہوگی. مگر اکرم بھائی نے قریب آتے ہی میرے ہاتھ میں مارون گولڈ کے ٢ پاکٹ رکھے اور گلاس میں چائے نکال کردی. الله کا شکر ہر حال میں کرنا چاہیے اب یہ سگریٹ کا نشہ کا شکر ادا کروں کے نہیں. دل میں آسمان کی طرف دیکھ کر الله کا شکر ادا کیا کے دن بھر کے ہنگامے کے بعد رات کتنی پرسکون عطا کری. الله تیرا شکر ہے!

To get in touch with Team Ashiyana (North Waziristan) please email us:,,
or call / text us at: +92 345 297 1618

Waziristan Dairy: Another Page from dairy.

اسّلام و علیکم 
ڈائری ایک دفع پھر ایک دن اور لیٹ ہو گئی، وجہہ وہی ہے جو میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں. آج پشاور میں عدنان بھائی اور فریال باجی سے بات کرنے کا موقع ملا، دل کو اطمینان ہوا کہ ٹیم آشیانہ خیریت سے ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہے. عدنان بھائی اور فریال باجی کی تحریر پڑھنے کہ بھی موقع ملا. عدنان بھائی اور فریال باجی کے خیالات سے آگاہی ملی، بہن فریال کہ مشورہ اپنی جگہ بلکل درست ہے میں بھی اب اپنی پوری کوشش کروں گا کہ کچھ ایسا تحریر نہ کروں جس سے ٹیم آشیانہ کے ساتھیوں اور وزیرستان میں رہنے والے بھائی بہنوں کے لئے کسی بھی طرھ کی کوئی بھی مشکلات پیدا ہوں. آج صبح کیوں کے یہاں نہم جماعت کہ پرچہ تھا اس میں مصروف تھا اس سے فارغ ہو کر سیدھا بس سٹاپ گیا اور جتنا بھی سامان پچھلے دنوں میں جمع کیا تھا وہ سامان بس میں لوڈ کروایا اور اب سے تھوڑا ہی دیر قبل گھر آیا ہوں اور ضروری کاموں سے فارغ ہو کر ڈائری لکھنے بیٹھ گیا ہوں کیوں کہ رات کہ کچھ پتا نہیں بجلی ہو بھی کہ نہیں کیوں کہ آج کراچی کہ موسم ابر آلود ہے اور بارش کہ امکان ہے. 
"اور محترم دوستوں، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، مطلب کے بجلی چلی گئی. اسی لئے میری ڈائری ادھوری رہ گئی."  

میں نماز پڑھنے کو تو تیار تھا مگر یہاں (وزیرستان) میں پتہ نہیں کے میرے نماز پڑھاۓ جانے کے کیا اثرات ہونگیں بس یہی ایک خوف تھا. شکر الله کا کے عدنان بھی آگئے اور انہوں نے اکرم بھی کو امامت کے لئے کہا. میں نے الله پاک کا دل ہی دل میں بہت شکر ادا کیا اور نماز میں مشغول ہو گیا.
نماز سے فارغ ہو کر عدنان بھائی نیں بتایا کے ابھی تک ان خواتین کے لئے hکچھ نے ہو سکا جن کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا ضروری تھا. کوئی مدد میسر نہیں ہے. بس الله پاک غیب سے مدد فرماے اور تینوں خواتین کو اور ان کی ہونے والی اولادوں کو صحت، تندرستی عطا کرے اور زندگی عطا فرماے، آمین. یہی دعا نماز کے بعد مانگی گئی. میں سوچنے لگا کہ انسان کتنی بھی ترقی کر لے، دنیا منی کسی بھی مقام پر پہنچ جاۓ مگر الله پاک کہی نہ کہی ایسا امتحان دیتے ہیں جس سے بندے کے ایمان کا اندازہ ہو جاتا ہے. مجھ جیسے گھن چکر کے لئے یہ بلکل نیا مگر روح کو سکون دینے والا تجربہ تھا.
ہم سب کچھ دیر کے لئے آرام کی غرض سے ایک طرف بیٹھ گئے، بلال محسود ابھی تک ہمارے ساتھ ہی تھا. میں نے عدنان بھائی سے باتوں ہی باتوں میں ذکر کیا کہ بلال کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے؟ عدنان بھائی نے مجھ کو کہا جیسا تم کو بہتر لگتا  ہے کرو. میں نے بلال اور اس کی بوڑھی ماں اور بیمار بہن کو اپنے ساتھ کراچی لیجانے کی بارے میں سوچا مگر کراچی کے حالت اور وزیرستان کا نام اپر سے نام میں محسود، یہی کچھ باتیں تھی جو مجھ کو بلال کو کراچی لیجانے سے روک رہی تھی. میں نے ایک دفع پھر بلال سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کو صاف صاف  بتانے کا سوچا کہ میں کیوں اس کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا، ہاں میں کراچی رہ کر اس کے لئے  وہاں سےکچ نہ کچھ مدد ضرور کر سکتا ہوں. 
تھوڑی ہی دیر میں مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا، یہاں (دتہ خیل) میں عصر اور مغرب کی نمازوں میں کچھ زیادہ  وقفہ نہیں ہے.
نماز مغرب ادا کر کہ فارغ ہوے ہی تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ آج جلدی کھانا کھا کر نمازعشا پڑھتے ہی آرام کروں گا مگر نماز سے فارغ ہوتے ہی کسی نے اطلاع دی کہ ایک خاتون کے بیٹا ہوا ہے اور دونوں زچہ اور بچہ الله پاک کے فضل اور کرم سے ٹھیک ہیں ہم سب نے الله کہ شکر ادا  کیا اورباقی دو خواتین کے لئے بھی دعا کری کہ الله پاک دونو خواتین کی بھی مدد کرے اور آسانی کرے. آمین.
آج کے میڈیکل کیمپ کی وجہہ سے تھکن بہت ہو رہی تھی اور بھوک بھی  لگ رہی تھی. اوپر سے ایک اور مشکل تھی کہ ٹیم آشیانہ کے پاس پینے کہ پانی تک ختم ہو گیا تھا. (یہاں یہ بتانا ضروری ہے کے ٹیم آشیانہ جس علاقے میں موجود ہے وہاں پینے کہ پانی ڈیڑھ کلومیٹر دور سے لانا پڑھتا ہے). اس وقت صرف رات کے کھانے تک کے لئے پانی موجود تھا. عدنان بھائی نے کچھ مقامی لوگوں سے مدد مانگی اور کچھ لوگ کسی نہ کسی برتن میں پانی لے ہے. یہاں ایک بہت اچھی بات یہی تھی کہ مقامی لوگ ہم وقت مدد کے لئے تیار رہتے ہیں. وسائل نہ ہونے کے باوجود بھی کوشش کرتے ہیں کہ جو بھی کم ان کو دیا جاۓ وہ پورا کریں. یہاں ویسے بھی کوئی کام وغیرہ تو ہے نہیں جس میں یہاں کے لوگ مصروف رہے، سکول کہ نام تو جانتے ہیں مگر ہے کوئی نہیں، میران شاہ کے حالت اور دتہ خیل کے حالت میں زمیں آسمان کہ فرق ہے. نمازعشا کہ وقت ہوتے ہے نماز کی تیاری ہوئی اور میرے چاہنے کے باوجود بھی کھانا ہم نے نماز کے بعد ہی کھایا. کھانے میں دن کہ ہی بچہ ہوا کھانا تھا معلوم کرنے پر پتہ چلا کے اب ٹیم آشیانہ کے پاس کھانے پینے کہ ذخیرہ بھی ختم ہونے کو ہے. فریال باجی کی یاد بہت آرہی  ہے مگر مل نہیں سکتا تھا کیوں کے یہاں کا پردہ قانون بہت ہی سخت ہے.  اور میں فریال باجی یہ ٹیم آشیانہ کے لئے کوئی مشکل کھڑی کرنا نہیں چاہتا تھا.  
کھانا ابھی تک لذیز تھا اور خوب پیٹ بھر کہ کھایا، الله پاک کا شکر ادا کیا کے بد ترین حالات میں بھی ہم کو سونے سے پہلے پیٹ بھر کھانا عطا فرمایا. یہاں قرآن کی ایک سورہ "اور تم اپنی پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" بہت بار پڑھنے کا دل کرا. میں عدنان بھائی، اکرم بھائی اور کچھ دوسرے ساتھ ایک طرف بیٹھے تھے کہ ایک بچے نے آکر یاد دلایا کہ آج ابھی تک اردو کی کلاس نہیں ہوئی ہے، میں بہت تھکا ہوا تھا عدنان بھائی کو  اشارہ کرکے اپنی آرام گاہ مطلب ٹینٹ میں چلا گیا. میرے پیچھے پیچھے بلال بھی آیا اور مجھ سے اجازت لے کے روانہ ہو گیا. میں ابہ اپنی ڈائری لکھنے بیٹھا ہوں، لالٹین کی روشنی میں لکھنا آسان نہیں. آج سارا دن کی کارستانی لکھی ہے، مگر بلال کے بارے میں کچھ بھی فیصلہ نہیں کر پا رہا ہوں. اس کے رویہ سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کے جیسے  ان کومجھ سے بہت امیدیں ہیں، الله مجھ کو ہمت اور توفیق دے کہ میں کسی ایک کی امید پر پورا اتر سکوں. آمین.
آج شب جمعہ ہے کل جمعہ کی نماز ادا کرنی ہے. اسی لئے سوتا ہوں. اس امید پر کے آنے والی صبح ہم سب ہی کے لئے خوشی اور آسانی کا پیغام لیے گی. انشا الله

Thursday, April 19, 2012

Team Ashiyana (Waziristan): Faryal is going back to Canada.

اسلام و علیکم،
میں فریال زہرہ، پشاور میں ہوں اور عدنان بھائی کے ساتھ ہوں، شمالی وزیرستان میں کچھ وقت گزرنے کے بعد میں واپس کینیڈا جا رہی ہوں اس  امید پرکہ عدنان بھائی اپنی پور لگن، خلوص، محنت کے ساتھ اپنے فلاحی کام میں مصروف رہے گیں.میں اپنی پوری کوشش کروں گی کہ کینیڈا جا  کر وہاں کی پاکستانی کمیونٹی کو وزیرستان کے حالات سے اور اپنے تجربات سے آگاہ کروں اور جو کچھ بھی میں کینیڈا میں رہ کر شمالی وزیرستان کے بھائی بہنوں کے لئے کر سکتی ہوں کروں. میری دعا اور محبت ٹیم آشیانہ کے ایک ایک  فرد کے ساتھ ہیں. 
میں اپنے بھائی عدنان، منصور، اکرم، بلال،  بہن بدر، شائستہ، زینب اور سب ہی وزیرستان والوں کی شکر گزار ہوں کہ سب ہی نی مجھ کو بہت پیار، محبت اور خلوص سے نوازا. بدترین حالات میں بھی مجھ کو بہت عزت دی، اور میری حفاظت کری. خاص کر بھائی اکرم، جنہوں نی مجھ کو دو (٢) بہت پیارے بچے جن کے نام اسماعیل اور سدرہ ہیں دے، کہ ان کی کفالت میں کروں. ایک اور بھائی نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ بہت جلد ان دونو بچوں کے پاسپورٹ اور ضروری کاغذات بنوا دیں گے جس کے بعد میں ان پیارے بچوں کو کینیڈا بلوا سکوں گی. وزیرستان میں ایسے بہت بچے ہیں جن کا مستقبل کا کچھ پتہ نہیں، اکثر بچوں کے گھر والے کہی چلے گئے ہیں یا پھر یہ بچے اپنے گھر والوں سے بچھڑ گئے ہیں. آشیانہ کیمپ دتہ خیل میں فلحال ایسے ٤٠ (چالیس) بچے موجود ہیں، جن کی کفالت اور دوسری ذمداریاں ٹیم آشیانہ پوری کرنے کی کوشش میں ہے. الله پاک ٹیم آشیانہ کو اس کام کا صلہ دے، آمین.
آج منصور بھائی (کراچی) سے بات ہوئی ہے، وہ آج ہی کچھ سامان اور دوسری چیزیں ایک بس کے ذریے روانہ کر رہے ہیں امید کی جاسکتی ہے کہ ان کا امدادی سامان ٢ دن تک پشاور پہنچ جاۓ گا اور اور ٣-٤ دن تک دتہ خیل شمالی وزیرستان. میں نہیں منصور بھائی کی وزیرستان ڈائری کا بھی مطالعہ کیا ہے، میرا منصور بھائی کو مشورہ ہے کہ واقعات اور حالات کو بیان کرنے میں عجلت اور مکمل سچائی سے کام نہ لیں اس سے ٹیم آشیانہ اور مقامی لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑھ سکتا  ہے. آپ فرضی کردار اور جگہوں کے ناموں کا استعمال کر سکتے ہیں. عدنان بھائی آپ کو بہتر طریقے سے رہنمائی دے سکتے ہیں.
الله پاک، ٹیم آشیانہ کی رہنمائی فرماے، اور اسی محنت اور لگن اور جوش و جذبے سے اپنا فلاحی کام جاری رکھنے کی ہمت اور حوصلہ دے. آمین.
میری خدمات پہلے بھی حاضر تھی اور آیندہ جب بھی ٹیم آشیانہ اور پاکستان کو میری ضرورت ہوئی میری خدمات حاضر رہے گی. میں یہاں بھائی فیصل کی بہت شکر گزار ہوں جنہوں نیں ہر حالات میں مجھ سے رابطہ رکھا، اور ٹیم آشیانہ کے بلاگ کو ہدایات ملنے پر اپ ڈیٹ کرتے رہے. 
زندگی رہی تو انشا الله آپ سب ہی ساتھیوں سے پھر ملاقات ہوگی. الله پاک ہم سب کا  حامی و ناصر ہو. مجھ کو اپنی دعاؤں یاد رکھیے گا اور دعا کیجئے گا کے ان دو بچوں کی جو ذمے داری میں نی لی ہے اس کو بہتر اور احسن طریقے سے نبھا سکوں.
جزاک الله
سیدہ فریال زہرہ
f4faryal @ twitter

Wednesday, April 18, 2012

A few Image of my cam, taken at Waziristan (North)

Assalam O Alikum,
I am going back to Canada within few days, I've been worked with Team Ashiyana under the supervision of Adnan bro.I enjoyed with my work and stay at that place. Although, photography isn't allow due to some social and security reasons by the social and team ashiyana. I took a few images and now here they are for the sharing. Hope to share more with the world.
Syeda Faryal Zehra

North Waziristan, Team Ashiyana, Adnan and Bheek Mission In Peshawar.

محترم دوستوں اور ساتھیوں، 
                                        اسلام و علیکم!

"اور وہی (الله) ہے، جو جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جو مانگتا ہے ذلت."
الله پاک کے فضل اور کرم کے ساتھ، آپ کی دعاؤں، دی گی امداد، محبت، اور خلوص سے، ٹیم آشیانہ، دتہ خیل - شمالی وزیرستان میں اپنا فلاحی کاموں کا سفر جاری رکھے ہوے ہے. گزشتہ ماہ (مارچ - اپریل) میں ہم نیں دتہ خیل اور آس پاس کے علاقوں میں ٣ میڈیکل کیمپ لگاۓ جہاں ١٢٠٠ (بارہ سو) بچوں، خواتین اور بزرگوں کا علاج کیا گیا اور ان کو ضروری ادویات فراہم کری. 
اس کہ علاوہ، دتہ خیل میں ٹیم آشیانہ کے ١٢ (بارہ) کارکن ابھی بھی موجود ہیں، جن میں ٤ (چار) کارکن کا تعلق پاکستان کے دوسرے علاقوں سے ہے اور باقی ٨ (آٹھ) کارکن مقامی ہیں. ٹیم آشیانہ کے کارکن دتہ خیل اور ملحقہ علاقوں میں کسی بھی قسم کی فلاحی مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں، ضروری نہیں کہ اگر ہمارے پاس امدادی اشیاء موجود نہ ہوں تو ہم واپس آجائیں، ہم وہاں کوئی بھی کام کرنے کو تیار ہیں، ہم کسی بھی مقامی یا بینلاقوامی فلاحی انجمن کے ساتھ مل کر ایک والینٹر کے حثیت سے کام کرتے ہیں، ہم مقامی لوگوں کو تعلیم دینے کےلئے اپنی کوشش کرتے ہیں. ہم مقامی بیمار لوگوں کو وزیرستان کے دوسرے علاقوں میں پہچانے کے لئے انتظامات کرنے میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں. اس کے علاوہ اگر ہم کچھ امدادی سامان جیسے، ادویات، کپڑے، کھانے پینے کا سامان جمع کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہم اس سامان کو جلد از جلد وزیرستان (شمالی) کے مجبور اور بے بس بھائی،  بہنوں تک پہچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں. ہم اپنی بلاگ، موبائل میسج، ای میل، اور ملاقاتوں کے ذریے وزیرستان کے موجودہ حالات سے بھی اپنی دوستوں اور آپ سب کو آگاہ کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں.
"آج کافی دنوں کہ بعد میرا (سید عدنان علی نقوی) کا پشاور آنا ہوا ہے، اور کچھ ای میلز، بلاگ پڑھنے کا موقع ملا، کچھ دوستوں، عزیز، رشتےداروں اور احباب سے فون پر بات کرنے کا موقع ملا. سب کے خیالات جانے، سب کی باتیں پڑھی اور سنیں، مگر بہت کم لوگ میری بات کو سمجھ پاۓ، الله پاک مجھ کو اپنی بات اور اپنے کام اور اپنے مقصد کو بیان کرنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرماے، اور مجھ کو اور میری ٹیم کو صبر، ہمت اور حوصلہ و استقامت عطا فرماے، آمین. 
عزیز دوستوں اور ساتھیوں، میں سب سے پہلے اپنی ٹیم کے موجودہ اور سابقہ ساتھیوں کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں کے ہر مشکل وقت اور حالات میں میرے ساتھ رہے، تمام تر پریشانیوں اور خطروں کے باوجود، میرا ساتھ دیا، اس کا بدلہ ووہی دے گا جس نے نیک اعمال کا اجر اور بدلہ دینا کا وعدہ کیا ہے. الله پاک آپ سب کو زندگی کے ہر مقصد میں کامیاب اور کامران کرے، زندگی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی (آخرت کی زندگی) میں آپ سب کا مقام بلند کرے اور آپ سب کے ساتھ میرا انجام (بروز حشر) اپنے نیک اور داہنے ہاتھ والے بندوں میں کرے، آمین."
"یہاں میں بہت خاص طور پر اپنے ان دوستوں، ساتھیوں اور ہمدردوں کا دل کی گہرایوں سے شکر گزار ہوں، جو ہمارے ساتھ موجود نہیں تھے، مگر انہوں نے ہر مشکل وقت پر ہمارا کسی نہ کسی طریقے سے ساتھ دیا، وہ سب دوست اور احباب، جنہوں نے ہماری کسی نہ کسی طریقے سے مدد کری، (جنہوں نے، ہم کو کپڑے دے، ادویات دی، کھانے پینے کی اشیا فراہم کری یا مالی مدد دی) ان سب کا احسان مند ہوں اور میں اور میری پوری ٹیم، اور وہ سب افراد جن کو امداد فراہم کی گی ہم سب آپ کے دل کی گہرایوں سے شکر گزار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ آیندہ بھی ہم کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گے، الله پاک آپ سب ہی کو اس کا عظیم اجر اور صلہ عطا فرماے، اور آپ کو آپ کی زندگی میں بہت ترقی عطا فرماے، آمین. الله پاک ہی بہترین اجر اور صلہ دینے والا ہے. اور وہی ہے جو ہم سے کام لیتا ہے اور ہر کام کی اجرت میں ہمارے درجات بلند کرتا ہے. جزاک الله."
عزیز دوستوں اور ساتھیوں، یہاں کچھ نام بھی ہیں جن کا ذکر اگر نہ کروں تو خود کی نظروں میں بہت شرمندہ رہوں گا، میری عزیز بہن، جو حقیقی زندگی میں میری سگی بہن نہیں، بس ایک فون کا رشتہ تھا جو اب حقیقی رشتے سے  زیادہ مضبوط ہو چکا ہے. فریال زہرہ، جو کناڈا میں رہتی ہے مگر میری ایک آواز پر پاکستان چلی آتی ہے، مجھ کو ہمت اور حوصلہ دیتی ہے اور میرے ساتھ فلاحی کاموں میں مصروف ہو جاتی ہے. الله پاک میری بہن فریال کو سادہ خوشیاں عطا فرماے اور مزید ہمت عطا کرے کہ وہ آیندہ بھی میرے ساتھ صبر اور استقامت کے ساتھ کھڑی رہے، آمین. میری ایک اور بہن بدرانسا جو کراچی میں ہوتی ہیں اور ٹیم آشیانہ کہ لئے فنڈز جمع کرتی ہیں، سامان اکھٹا کرتی ہیں، ان کو بہت اچھی ترہان پیک کرتی ہیں اور جہاں بھی ضرورت ہوتی ہے وہاں روانہ کرتی ہیں، پچھلے دنوں وہ شمالی وزیرستان آئین اور کچھ وقت ہمارے ساتھ گزارا. الله پاک ان کو سدا خوش رکھے اور زندگی اور آخرت کی فلاح عطا فرماے، آمین. میری ایک اور بہن جن کا نام یہاں لکھنے کی اجازت نہیں ہے، مگر میری اس بہن ہی کی وجہہ سے آج تک میں (عدنان) اس مقام پر ہوں وہ ہیں میرے عزیز ترین دوست ڈاکٹر کاشان (جن کا انتقال زلزلے کے بعد فلاحی کاموں میں میرا ساتھ دیتے ہوے، کشمیر میں ایک لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ہوگیا تھا) کی بیوہ، میری اس بہن نے خود ایک بہت بڑی مشکل اور دکھ کو جھیلا تھا مگر ہمیشہ مجھ کو بہت ہمت دلائی اور ہمیشہ یہی کہا "عدنان، تم کبھی بھی اس مشن کو ادھورا نہ چھوڑنا جس کے لئے میرے شوہر نے اپنی جن دی." آج ڈاکٹر کاشان کا بیٹا ماشا الله برا ہو گیا ہے اور جب بھی میں شہر عطا ہوں تو اس سے فون پر بات کر کے بہت خوشی ہوتی ہے اور ہمت حوصلہ ملتا ہے. الله پاک میری اس بہن کو اور حوصلہ ہمت صبر اور استقامت عطا فرماے، اور ڈاکٹر کاشان کے بیٹے کو زندگی میں بہت خوشیاں عطا کرے اور کامیابی اس بچے کے قدم چومے. آمین. 
میرے بھائی اور عزیز ترین دوست، قدم قدم پر میرا ساتھ دینے والے، میری ہمت بڑھنے والے، مجھ پر سب سے زیادہ تنقید کرنے والے، میرے فلاحی مقصد کے لئے ہمیشہ اچھی صلاح اور مشورہ دینے والے، عزیز ترین منصور بھائی. جن کا میرے سے رشتہ زلزلے ٢٠٠٥ کے دوران ہی بنا اور آج کافی برس گزر جانے کے بعد بھی ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں. کچھ عرصہ قبل جب ٹیم آشیانہ بدین (سندھ) میں اپنی سندھ سے سیلاب زدگان بھائی اور بہنوں کی مدد کر رہی تھی اور جگا جگا میڈیکل کیمپ لگا رہی تھی اسی دوران ایک سفر میں بدین سے کراچی آتے وقت اک حادثے کا شکار ہوے اور ایک ٹانگ سے وقتی طور پر معزور ہوے، مگر اس کے باوجود، میری دعوت پر شمالی وزیرستان ہے اور کچھ وقت ہمارے ساتھ گزارا. پوری ٹیم آشیانہ ان کی صحت اور تندرستی کے لئے دعاگو ہے اور ہم سب ان کے دل کی گہرایوں سے شکر گزار ہیں کہ ہم سے بہت اختلاف ہونے کے باوجود، وہ (منصور بھائی) کسی بھی لمحہ ہم سے غفل نہیں رہتے اور ہر وقت جیسے بھی مدد مانگی جاتی ہے کرنے کی کوشش کرتے ہیں. الله پاک ان کو ان کی محنت کا بہتر اجر دینے والے ہیں. ہم سب ان کے لئے دعا کرتے ہیں کہ الله پاک ان کو ہمیشہ کامیاب کرے اور وہ جو وعدہ دتہ خیل کے بچوں سے کر کے گے ہیں اس کو پورا کرنے کی ہمت، اور توفیق عطا فرماے، آمین.
کراچی سے ہمارے دوست، جناب ندیم بھائی، جناب شکیل بھائی، جناب تیمور بھائی، جناب افسر نقوی بھائی، محترم قیصر انکل، محترمہ حفصہ باجی، انجمن آب حیات کے ساتھ، کراچی ینیورسیٹی کے دوست، اور دوسرے ساتھی جو کسی نہ کسی طریقے سے ہم سے منسلک رہے یا ہیں، ان سب کا شکریہ، الله پاک آپ سب کو اجر عظیم عطا فرماے، آمین. 
لاہور سے ہمارے دوست، ہمارے ساتھی، فیصل بھائی، خاور بھائی، ملک انوار صاحب، کچھ تعلیمی اداروں کے ساتھی اور وہ سب دوست جو ہم سے رابطہ کر کے ہمارے لئے امداد جمع کرتے رہے اور ہم کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھا، آپ سب ہی کا بہت بہت شکریہ. الله پاک آپ سب ہی کو بہتر سے بہتر اجر دینے والا ہے. آمین. 
اسلام آباد، راولپنڈی، کشمیر، پشاور، ایبٹ آباد، کوہاٹ، تربیلا، ڈیرہ غازی خان، درہ آدم خیل کے تمام ساتھیوں کا شکریہ جنہوں نے ہمارے لئے ہمیشہ کچھ نہ کچھ کیا اور اپنی دعاؤں میں یاد رکھا. الله پاک آپ سب ہی کو اجے عطا فرماے، آمین. 

بیرون ملک، کینیڈا، امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، اور دوسرے ملکوں کے ساتھی، دوست، اور احباب، جنہوں نے ہمیشہ ہماری حوصلہ افزائی کری اور ہمت بڑھائی، کچھ نے مدد کری اور کچھ نے وعدہ کیا کے وہ ہم کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھے گئی اور کسی نہ کسی موڑ پر ہماری مدد کریں گے، الله پاک آپ سب ہی کو اس دنیا میں ترقی، عزت، خوشیاں اور کامیابی عطا فرماے، اور آخرت میں آپ کے لئے بہتر سے بہتر مقام عطا فرماے، آمین. 

یہاں پر میں اپنے تمام دوستوں اور ساتھیوں کے معزرت چاہتا ہوں، جن کے ساتھ ہم یا وہ ہم سے رابطے میں رہ سکے، کیوں کہ آج کے اس جدید دور میں بھی پاکستان کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات موجود نہیں. کچھ لوگ ہم کو بھول گے، کچھ کو شاید ہم بھول گے، مگر ہمیشہ دعاؤں میں اپنے سب ہی دوستوں اور ساتھیوں کو یاد رکھا ہے. میں ذاتی طور پر اور ٹیم آشیانہ، (سید عدنان علی نقوی اور گروپ) کی طرف سے بھی معافی چاہتا ہوں. کہ اکثر دوستوں کی فرمائش ہم پوری نہ کر سکے، جس میں اکثر دوست اور احباب ہم سے ہمارے کام کی تصور وغیرہ کا کہتے رہے ہیں. حالات اور وقت کے نامناسب ہونے کی وجہہ سے ایسا ہو رہا ہے. ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ ہم اپنی کام کی کچھ تصور بھی اپنی دوستوں اور ساتھیوں کو روانہ کریں، مگر کیا کریں، جہاں ہم ہیں وہاں ہم کو ہمارے کام سے زیادہ اور کچھ کرنے کی اجازت نہیں. ویسے بھی ہم یہاں کسی بھی قسم کی پبلسٹی یا فوٹو سیشن کے لئے نہیں آے ہیں ہم تو یہاں اپنی بے بس، بےسہارہ، بچوں کی مدد کرنے اور بس تھوڑا بہت ساتھ دینے کی غرض سے مقیم ہیں. اور کب تک یہاں رہنا ہے اس کا اندازہ خود مجھ کو نہیں. 
یہاں پر میں اپنی ٹیم کے ایسے ساتھیوں کا بھی شکر گزار ہوں جن کو میں بلکل نہیں جانتا نہ ہی میری کبی ان سے ملاقات ہوئی ہے مگر وہ کسی نہ کسی طرہان ہماری مدد کرتے رہے ہیں، الله پاک آپ سب کی محنت کو قبول کرے اور آپ کو کامیابیاں عطا فرماے، آمین. 

عزیز دوستوں، آج مجھ کو یہاں (پشاور) کے ایک تعلیمی ادارے میں بلایا گیا، جہاں کچھ طالب علموں نیں مجھ سی ٹیم آشیانہ کے کام کے بارے میں ایک چھوٹی سی تفصیل مانگی، جو میں نے دینے کی پوری کوشش کری، مگر آج کی اس ملاقات سے مجھ کو ماضی کا ایک واقعہ یاد آگیا، جو میں یہاں ضرور بیان کرنا چاہوں گا. 
اکتوبر ٢٠٠٥ کے زلزلے کے بعد جب میں کشمیر میں زلزلہ متاثرین کے لئے کام کر رہا تھا تو لاہور میں مقیم ایک دوست محترم شیراز بھائی نے مجھ سے رابطہ کیا جنہوں نے مجھ کو لاہور آنے کی دعوت دی، کچھ عرصہ بعد میرا لاہور جانا ہوا تو محترم شیراز بھائی نے ایک اور ساتھی دوست کے ہمراہ میرا بہت بہترین استقبال کیا،  مجھ کو رہنے کے لئے اپنی گھر میں پرآسائش کمرہ دیا اور مجھ کو اگلے دن ایک تعلیمی ادارے اور کچھ دوسرے اداروں کا دورہ کرایا، میری ملاقات کافی لوگوں سے ہوئی، محترم شیراز بھائی، محترم کلیم بھائی اور دوسرے ساتھیوں نے میری بہت مدد کری، سری مدد رقم کی صورت میں تھی. جو ایک بہت بڑا سرمایا تھا. اس وقت تک مجھ کو اپنا کام لمبے عرصے تک جاری رکھنے کا خیال بلکل نہیں تھا. میں بس جلد از جلد اپنی کام سے جو میں کشمیر میں کر رہا تھا فارغ ہو کر واپس کراچی جانا چاہتا تھا. مگر شیراز بھائی کی اس مدد نے مجھ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا. اور میں نے اپنی کچھ ساتھیوں کا ساتھ خود کو فلاحی کاموں کے لئے وقف کر دینے کا فیصلہ کیا. مجھ کو کسی نے کہا، "ہے زندگی کا مقصد، اوروں کے کام آنا" آج بھی میں شیراز بھائی اور سارے ساتھیوں کا دل کی گہرایوں سے احسان مند ہوں، کے انہوں نے مجھ کو میری زندگی کا مقصد دکھانے میں میری بھرپور مدد کری، اور میں دعا کرتا ہوں کہ شیراز بھائی اور دوسرے ساتھی جن سے میری ملاقات ہوئی تھی، وہ سب جہاں کہیں بھی ہوں الله پاک ان کو کامیاب رکھے اور زندگی میں سدا خوش رکھے، آخرت کی فلاح عطا فرماے، آمین.  "وقت کی چکی میں شیراز بھائی اور بہت سارے ساتھی پتا نہیں کہاں گم ہوتے چلے گے، آج بھی ان سب کی یاد بہت آتی ہے. کیوں کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے مجھ کو میرے ابتدائی ایام میں بہت حوصلہ، ہمت، دیا، اور بہت زیادہ مدد فراہم کری. اگر میری یہ تحریر شیراز بھائی (لاہور) یا دوسرے ساتھیوں تک پہنچ سکتی ہے تو ان سے میرا یہی کہنا ہے کے "الله پاک آپ سب کو سدا خوشیاں عطا فرماے ، آمین".
آج شام کچھ اور لوگوں سے ملاقات کا امکان ہے الله پاک سے دعا کرتا ہوں کہ ہم کو مستقل امداد کا کوئی ذریہ مل جاۓ، تو ہم اس ترہان گلی گئی، گھروں پر جا کر بھیک مانگنے پر مجبور نہ ہوں. الله پاک ہماری غیب سے مدد کرے اور ہم کو مشکلات سے آسانی سے نکالے - آمین.

پچھلے دنوں عزیزم منصور بھائی نے ہمارے ساتھ دتہ خیل میں کچھ عرصہ قیام کیا جس کی وہ ڈائری تحریر کر رہے ہیں، آپ کو بھی اس ڈائری کے پڑھنے سے دتہ خیل کے حالت اور ٹیم آشیانہ کے کام کے بارے میں بہتر اندازہ ہو سکے گا. 

مجھ کو کافی عرصے سے میرے دوست، ساتھی اور فمیلی کے کچھ لوگ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مجھ کو اپنی اور لوگوں کی مدد کے لئے میڈیا (چینلز) کا سہارا لینا چاہیے، ایک دفع اگر میں اور میری ٹیم کمیرہ کے سامنے آگئی تو ہم کو بہت امداد مل سکتی ہے اور ہم بہت بہتر طریقے سے (وزیرستان) کے لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں اور اپنی فلاحی کاموں کو کر سکتے ہیں. میرا جواب ہمیشہ انکار میں ہی رہا. اس کی بہت ساری وجوہات ہیں. سب سے پہلی وجہہ یہ ہے کہ، عدنان کی ڈائری - بی بی سی اردو ڈٹ کام پر دے کر بہت اچھی ترہان اندازہ ہو گیا تھا کے کچھ مطلب پرست عناصر کس ترہان ایک نیک مقصد کو استعمال کرتے ہیں، اور کچھ تنظیموں نے بھی میرے کام کو اور میرے نام کو بہت گلت طریقے سے استعمال کیا جس سے میرا بھروسہ اور یقین بہت زیادہ مجروح ہوا. ایک اور بات یہ کے، الله پاک کا ارشاد ہے کہ کسی بھی نیک کام کو کرنے کے لئے شہرت کا سہارا نہ لو بلکہ اس ترہان کرو کے دوسرے ہاتھ کو خبر تک نہ ہو. بس کچھ کنٹیکٹ جو ہیں ان ہی سے مدد مانگتا ہوں یا پھر بھیک مانگنے کو ترجیح دیتا ہوں. خود کو ایک خبر بنا کر پیش نہیں کرنا چاہتا. اچھی ترہان جانتا ہوں کے بہت نام ملے گا. امداد بھی ملنی ہے مگر کہیں ان سب کے ملنے کا بعد میں اپنی مقصد سے دور نہ ہو جاؤں. اور ان لوگوں جن کے لئے میں کام کر رہا ہوں شرمندہ نہ ہوجاؤں. اور اللہ پاک کی نظروں میں برا نہ ہو جاؤں اسی لئے میں اس ترہان کی خرافات سے دور رہتا ہوں اور رہنے کی کوشش کرتا ہوں. ہاں، میں دعوت دیتا ہوں تمام میڈیا والوں کو کہ وہ شمالی وزیرستان آے، یہاں کے حالات کو دیکھیں، فلمائیں، دنیا کو وزیرستان اور وزیرستان کے لوگوں کے مسائل سے آگاہ کریں، یہاں کے لوگوں سے ملاقات کریں، اور بہتر طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کریں، شاید اس ترہان دنیا کے سامنے وزیرستان کا وقار ایک دفع پھر سے بلند ہو. اور یہاں کے لوگوں کو بھی ایک پاکستانی اور انسان کی ترہان دیکھا اور سمجھا جاۓ. مگر یہ بات بھی اچھی ترہان جانتا ہوں کہ فلحال ایسا ہونا ممکن نہیں کیوں ہے، ایسا کرنے کے لئے بہت ہمت  اور حوصلہ چاہیے، ویسے بھی وزیرستان میں میڈیا والوں کو کوئی ایسی خبر نہیں ملنے والی جو ان کو بہت اچھی قیمت دلوا سکے، یا بک سکے، معزرت کے ساتھ پاکستانی میڈیا کا حال ایسا ہی ہے کہ "جو دیکھتا ہے ووہی بکتا ہے" اور معزرت کہ ساتھ وزیرستان کے لوگ اور ہم بکاؤ نہیں ہیں، سادہ لوگ ہیں، جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہوتے ہیں، دن میں ایک وقت کا کھانا کھا کر جہاں جگہ ملتی ہے سو جاتے ہیں، بیمار ہونے پر شور شرابہ نہیں کرتے کہی سے دوا مل گی تو ٹھیک نہیں تو الله کا صبر شکر کر لیتے ہیں. 

محترم دوستوں، میں اور میرے کچھ دوست آج پشاور میں ہیں، یہاں ہم جی ٹی روڈ پر بھیک لینے کے لئے بیٹھے ہیں، ایک مقامی طالب علم نے ہماری مدد اس ترہان کری ہے کہ اپنا لیپ ٹاپ لے آیا ہے اور جو میں کہ رہا ہوں وہ لکھ رہا ہے جو انشا الله آج ہی آپ کو پڑھنے کو مل جائے گا. ہم یہاں دوا جمع کر رہے ہیں، ہم کو بچوں اور خواتین کے لئے کپڑوں کی بہت ضرورت ہے. وزیرستان میں ٹیم آشیانہ اب دوسرے (اداروں) کے رحم و کرم پر ہے کیوں کے ابہ ہمارے خود کے پاس کھانے پینے کی چیزیں نہیں، بس کارکن موجود ہیں. ہمت، حوصلے اور صبر اور استقامت کے ساتھ. الله پاک ہماری مدد کے لئے ذریے فراہم کرے اور ہم کو استقامت کے ساتھ اپنی مقصد پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرماے، آمین. 
کراچی سے منصور بھائی نے فون پر بتایا ہے کے تھوڑا بہت سامان جو انہوں نے جمع کیا ہے وہ آج ہی روانہ کر رہے ہیں الله پاک سے دعا ہے کہ کل رات تک وہ  ہم کو مل جاۓ،  فریال بہن ایک دفع پھر کینیڈا جانے کی تیاری میں ہیں. اور مجھ کو یقیں دلا رہی ہیں کے وہ بھی جتنا جلدی جو کچھ ہوا کریں گی. الله پاک فریال بہن کو بھی ہمت اور حوصلہ عطا فرماے، آمین. کچھ اور دوستوں سے فون پر رابطہ کیا ہے مگر ابھی تک کچھ خاص جواب نہیں ملا. الله پاک صاحب  ثروت لوگوں کے دلوں میں رحم اور ترس ڈالے، کہ وہ مشکلات میں موجود اپنے بھائی بہنوں کی مدد فرمائیں. 
میرے پاس اب کہنے کو یا لکھوانے کو کو کچھ زیادہ نہیں ہے. ٹیم آشیانہ کے کارکن آیندہ کے حالت سے آپ سب کو آگاہ کرتے رہے گے. آپ اپنا بہت خیال رکھیے گا، مجھ کو میری ٹیم کو، میرے دوستوں کے لئے دعا کرتے رہے گا. اور جو کچھ اگر آپ کر سکتے ہیں تو ٹیم آشیانہ کے لئے ضرور کرے گا. الله پاک آپ سب کو اجر عظیم عطا فرماے، آمین.
جزاک الله خیر 
اسلام و علیکم 
آپ کا بھائی، آپ کا دوست 
سید عدنان علی نقوی
کارکن، ٹیم آشیانہ براۓ شمالی وزیرستان. 
جی ٹی روڈ، پشاور.

میرے بارے میں جاننے کے لئے درج ذیل لنک  پر کلک کریں. 
منصور بھائی کی وزیرستان ڈائری پڑھنے کے لئے کلک کریں 
To contact with us:

+92 345 297 1618


Friday, April 13, 2012

Another page of my Waziristan Dairy: "A meeting with friends of Team Ashiyana & local at North Waziristan."

اسلام و علیکم دوستوں اور ساتھیوں، 
جہاں اپنی ڈائری ختم کی تھی وہی سے شروع کر رہا ہوں، مگر شروع کرنے سے پہلے ایک اپیل اپنے دوستوں سے، اپنے بھائی بہنوں سے، اپنے فمیلی ممبرز سے، اپنے پڑھنے والوں سے، یہ اپیل مجھ کو عدنان بھائی کی طرف سے آج ہی ملی ہے، اور میں اپنی طرف سے جو کچھ ہو سکتا ہے کرنے کی کوشش میں ہوں، الله پاک مجھ کو ہدایت اور توفیق عطا فرماے اور ٹیم آشیانہ کی وزیرستان میں مشکلات کو آسان فرماے، آمین.
"ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان میں متاثرین "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے لئے فلاحی خدمات سر انجام دے رہی ہے، ٹیم آشیانہ بغیر کسی غرض، لالچ یا نام کے یہ خدمات ادا کر رہی ہے، ٹیم آشیانہ کی بنیادی ذمداری جنگ میں برباد ہوۓ خاندانوں اور یتیم، معذور بچوں کے لئے غذا، ادویات اور کپڑوں کی فراہمی ہے، ٹیم آشیانہ اپنے گھر والوں، دوستوں، احباب اور پڑھنے والوں کی مدد سے ہی یہ سارے کام سر انجام دیتی ہے. مہنگائی اور بگڑتے ہوۓ حالات کی وجہہ سے ٹیم آشیانہ کو ملنے والا فنڈ اب بہت کم رہ گیا ہے، شمالی وزیرستان میں اب بھی بہت کچھ ہونا باقی ہے، آی ڈی پی کمپ جلو زئی، کے حالات سے آپ سب ہی واقف ہیں، وہاں پر مقیم وزیرستان کے لوگ آہستہ آہستہ اب واپس آرہے ہیں. یہاں ایسے لوگوں کے رہنے اور کھانے پینے اور صحت جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں، ہم کچھ زیادہ تو نہیں کر سکتے مگر متسیریں کے لئے دو (٢) وقت کے کھانے اور بیماروں کے لئے ادویات کا انتظام ضرور کر سکتے ہیں، اسس کے علاوہ شدید بیمار افراد کو یہاں سے کسی بھی شہر منتقل کرنے کے لئے یہاں ایک بھی گاڑی موجود نہیں ہے، صرف آرمی کی گاڑیوں کو ہی استعمال کیا جا سکتا ہے جو ہر کسی کے لئے نہیں ہیں. ہم (ٹیم آشیانہ) انسانیت کے نام پر محترم جناب عبدلستار ایدھی صاحب، محترم انصار برنی صاحب، محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ اور دوسرے فلاحی اداروں کے سربراہوں اور نامی گرامی انسانیت کے ٹھیکیداروں سے اپیل کرتے ہیں، ان سے بھیک مانگتے ہیں کے یہاں ادویات کی قلت ہوتی جا رہی ہے، غذائی اجناس بھی بہت کم ہو جاتی ہے، بچوں اور خواتین کے لئے کپڑوں کی بھی کمی ہے. یہاں کے لوگ تنگ دست ہیں، یہاں کمی کا کوئی راستہ نہیں، یہاں سکول نہیں، یہاں میڈیکل سنٹر نہیں، یہاں مریضوں کو منتقل کرنے کے لئے گاڑیاں نہیں، آیئں آپ اور ہم مل کر تھوڑا تھوڑا کر کے یہاں کے مفلس، تنگ دست، لاچار، بےبس، یتیم، مسکین، بیوہ، معزور لوگوں کے لئے کچھ انسانیت کا کام کریں، باتیں تو سب ہی کرتے ہیں آپ یہاں (شمالی  وزیرستان) میں آیئں  اور ہم سب مل کر ایک نیا وزیرستان بناتے ہیں، ہمارے پاس یہاں فلاحی کم کرنے کا ٢ سال کا تجربہ ہے، ہم یہاں کے لوگوں کو اور یہاں کے لوگوں کی حالات کو بہت بہتر طریقے سے سمجھتے ہیں. ہم یہاں کسی بھی سیاسی، مذہبی یا بیرونی معملات کو کرنے نہیں آی ہیں، ہم صرف اور صرف اپنے پیارے وطن پاکستان کے لوگوں اور اپنے بھائی بہنوں کو یہ احساس دلانے کے لئے آے ہیں کے ہم سب پاکستانی اور مسلمان ہیں، اور ابھی پاکستان میں بہت لوگ ایسے ہیں جو یہاں کے لوگوں کے لئے دل میں درد رکھتے ہیں اور اپنا مانتے ہوۓ ان کی مدد کر رہے ہیں. 
ٹیم آشیانہ کو آپ سب کی محبت، خلوص اور دعاؤں کی بہت ضرورت ہے، ساتھ ہی ہر قسم کی امداد کی بھی اشد ضرورت ہے ہم یہاں ذکر نہیں کر سکتے کے یہاں کے حالات کیسے سخت ہوتے جا رہے ہیں. اسس سے پہلے کے بہت دیر ہو جاۓ ہم سب کو مل کر یہاں کے لوگوں کے لئے کام کرنا ہوگا، خاص کر، عبدالستار ایدھی صاحب اگر ایک دفع یہاں آجائیں تو دوسرے فلاحی تنظیموں اور لوگوں میں بھی یہاں اکر فلاحی کام کرنے کے لئے ہمت اور حوصلہ ملے گا. ہم سب ہی لوگوں سے یہ اپیل اور درخواست کرتے ہیں کے آپ لوگ اپنے اپنے طریقے سے ایسی عظیم ہستیوں سے رابطہ کر کے ان کو ہمارا پیغم دیں، ہو سکتا ہے کہ کسی کی بات ان لوگوں کو دل میں اتر جاۓ اور یہاں موجود ہزاروں لوگوں کے لئے خوشی اور خوش حالی کا کچھ سامان ہو جاۓ، 
جزاک الله خیر، سید عدنان علی نقوی، ٹیم ممبر، ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان. 
رابطے کے لئے، 
+92 345 297 1618
+92 333 342 6031

محترم دوستوں اور بھائی بہنوں، اپر لکھا گیا پیغام مجھ کو جس ترہان ملا تھا بلکل اس کو ویسے ہی لکھ دیا ہے. میں نے پچھلے ایک ہفتے میں جو کچھ جمع کیا ہے، وہ صبح اپنے دوستوں، خاندان والوں اور عزیز احباب کی مدد سے، کیا ہے اور انشا الله کل کسی وقت یہ سامان لے کر میں ایک دفع پھر یہاں سے وزیرستان (شمالی) کے لئے روانہ ہو جاؤں گا، انشا الله.
الله پاک مجھ کو اور ہمت، توفیق اور حوصلہ عطا فرماے اور مجھ کو وزیرستان جا کر لوگوں کے لئے فلاحی کام کرنے کی توفیق عطا فرماے، آمین. 
اور اب میری ڈائری کا اگلا صفحہ،
  محترم نماز عشا سے فارغ ہوکر، ہم کچھ لوگ ایک ساتھ بیٹھ گئے، عدنان بھائی نے بھی اس میٹنگ کے لئے کچھ خاص لوگوں کو ہدایت دی تھی. اس لئے ٹیم آشیانہ کے خاص ممبرز اور کچھ مقامی دوست بھی اس میٹنگ میں شریک تھے، عدنان بھائی نے ایک اور ممبر کو ہم سب کے لئے چائے بنانے کا کہ دیا تھا. ابہ مجھ کو کہا گیا تھا کہ میں وہ سب کچھ کہ ڈالوں جو میرے دل می ہے اور دماغ میں چل رہا ہے. میں نے ایک گہری سانس لی اور ساری ہمت کو جوڑ کر اپنی بات کہنا شروع کری، میری پوری کوشش یہی تھی کے میرا لہجہ اور زبان کسی بھی لمحہ سخت نہ ہو. اور ماحول میں گرمی نہ آجاۓ.
 میں نے الله کا نام لے کر اپنی بات شروع کری، "محترم عدنان بھائی، اور ٹیم آشیانہ کے جانباز ساتھیوں، عزیز ترین، وزیرستانی بھائیوں، اسلام و علیکم، الله پاک مجھ کو میری بات سہی طریقے سے بیان کرنے کی اور آپ تک پہچانے کی توفیق، ہمت اور سمجھنے کی عقل عطا فرماے، آمین.
میں پچھلے ٧ برسوں سے عدنان بھائی کو جانتا ہوں، مجھ کو اچھی ترہان یاد ہے جب عدنان بھائی کا تقریبن پورا خاندان ہی زلزلے کی نظر ہو گیا تھا اور اس کے بعد عدنان بھائی کی والدہ محترمہ کی موت کے بعد عدنان بھائی نے خود کو ایک دم تبدیل کر لیا، کراچی میں رہنے والا ایک ایسا جوان جس کی زندگی، میں ہمیشہ خوشیاں، ہلا گلہ، موج مستی، وغیرہ شامل تھی ایسے مقصد کی تلاش میں لگ گیا جس کی سمجھ ابھی تک مجھ کو نہیں آرہی ہے.. . . . . 
مزید پڑھنے کے لئے درج ذیل لنک پر کلک کریں. 

Wednesday, April 11, 2012

My days in North Waziristan (D'tta Khel)

ٹیم آشیانہ کے ایک کارکن کی ڈائری: شمالی وزیرستان میں گزارے گئے کچھ دنوں کی یادیں اور باتیں.

"عدنان بھائی ان علاقوں میں پچھلے ٢- سالوں سے فلاحی کام کر رہے ہیں، مگر اس کی وجھہ کیا ہے؟  کیوں وہ یہاں پڑے ہوۓ ہیں؟ جہاں نہ زبان اپنی ہے نہ گھر اپنا، نہ ہی لوگ اپنے، یہاں رہنے والے ہم کو پاکستانی کہتے ہیں، اور ہم ان کو پاکستانی سمجھتے ہیں، یہاں کے لوگ ہم کو کام عقل مسلمان سمجھتے ہیں اور ہم یہاں کے لوگوں کو کٹر شدت پسند مسلمان، یہاں کے لوگ امریکا کو ہمارا دوست اور اپنا دشمن سمجھتے ہیں. اور ہم امریکا کو ایک زمینی حقیقت مانتے ہوۓ اس سے روابط رکھتے ہیں. یہاں کے لوگ بلی جیسے ڈرون کو پاکستان اور امریکا کی دی ہوئی دین سمجھتے ہیں اور کم از کم میں اس کو جارحیت، مجھ کو ان سارے سوالات کے ضوابط آج ہی معلوم کرنے تھے بھلے اس کے بعد عدنان بھائی مجھ کو یہاں سے جانے کا حکم ہی دے ڈالیں."

مزید پڑھنے کے لئے درج ذیل لنک پر کلاک کریں. 

Tuesday, April 10, 2012

An Appeal from North Waziristan!

محترم دوستوں اور ساتھیوں، اسلام و علیکم!

ٹیم آشیانہ کو شمالی وزیرستان میں اپنا کام جاری رکھنے کے لئے فنڈز کی کمی کا سامنا ہے، ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مفت میڈیکل کمپ، غذائی اجناس، مختلف کتابیں اور کپڑوں کی تقسیم کرتی ہے. اسس کے علاوہ ٹیم آشیانہ یتیم لڑکیوں کی شادی کرانے میں بھی جو مدد ہو سکتی ہے فراہم کرتی ہے. 
ہمارے کام اور کارکردگی کے بارے میں ہم اسی بلاگ میں اپنی تفصیل لکھتے رہتے ہیں. ہم اپنے تمام دوستوں، فمیلی ممبرز، اور پڑھنے والوں سے انسانیت کے نام پر درخواست کرتے ہیں کہ مشکل کے اس موقع پر ہماری مدد کریں، ہم اور ہمارے دوست یہاں بہت مشکل حالت سے دو چار ہو کر بھی اپنے مسلم اور انسان ہونے کا فرض ادا کر رہے ہیں اور بہتر سے بہتر طریقے سے خدمات انسانیت کرنے کی کوشش میں ہیں. ہم الله پاک کی مدد سے ہی اس مقام تک پہنچے ہیں اور اپنا کم جاری رکھنا چاہتے ہیں. 
ہم ایک دفع پھر آپ سب سے ہی درخواست کرتے ہیں کہ ہماری جس طرح مدد کرنا چاہتے ہیں کر سکتے ہیں، ہم کو بڑی مقدار میں ادویات، خواتین اور بچوں کے کپڑوں اور مختلف کتابوں کی اشد ضرورت ہے. خدارا ہماری مدد کر کے انسانیت کے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہماری مدد کریں، ہم کسی بھی قسم کی عنایت یا کرم یا نام کا وعدہ تو نہیں کر سکتے مگر اتنا یقین ضرور دلا سکتے ہیں کہ الله پاک کی رہ میں خرچ کرنے سے مل میں تو اضافہ ہوتا ہی ہے مگر الله پاک دوسروں کے لئے بہت اسباب فراہم کر دیتے ہیں. 
ہمارے والنٹیر سے رابطہ کرنے کے لئے درج ذیل نمبر یا ای میل استعمال کریں. 
+92 345 297 1618
+92 333 342 6031
 ہو سکتا ہے کہ ریموٹ ایریا میں ہونے کی وجہہ سے ہمارے نمبرز بند ہوں یا کم نہ کر رہے ہوں آپ اپنا پیغام چھوڑ سکتے ہیں ہم پوری کوشش کریں گے کہ جتنا جلدی رابطہ ہو کر سکیں.

آپ اپنے عطیات، صدقات وغیرہ ہم کو ہمارے آن لائن بھی بھجوا سکتے ہیں. جس کے لئے آپ درج ذیل کو استعمال کر سکتے ہیں. 
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 0100-34780.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
الله پاک ہم سب کو ایک صحیح مسلمان اور انسان بننے کی توفیق اور ہدایت فرماے اور ہمارے کام کو قبول کر کے ہماری غیب سے مدد فرماے، آمین.
جزاک الله خیر
سید عدنان علی نقوی 
ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان.

Monday, April 09, 2012

دتہ خیل میں میڈیکل کمپ اور بڑے خان صاحب سے ملاقات

"نماز عشا کے بعد میں نے سوچا تھا کے یہ حضرت یہاں رک کے میری پوری بات سنیں گے مگر ایسا نہیں ہوا ان حضرت نے ہم سے اجازت مانگی اور مجھ کو کہا کہ ہم پھر آیئں گے اور آپ سے بات کریں گے اور اسلام و علیکم کہ کر چلے گئے. 
میری رات بہت مشکل تھی، میں نے جو کچھ ان حضرات سے کہا تھا وہ کچھ ایسا تھا جو یہاں کے طالبان ٹائپ لوگوں کے لئے ٹھیک نہیں تھا. یہاں بس ایک ہی بات سنی جاتی ہے جو جہاد ہے، مگر جہاد کے مطلب شاید ہی کسی کو پتہ ہوں.....
مکمل ڈائری پڑھنے کے لئے نیچے دِیے گئے لنک پر کلک کریں: