Sunday, August 09, 2015

ٹیم آشیانہ: سیلاب زدگان مدد (سیدہ فریال زہرہ) کی ڈائری



اسلام و علیکم دوستوں، 



نام  آپ جانتے ہی ہیں،  اور اگر نہیں جانتے تو ایک بار پھر عرض خدمت ہے "سیدہ فریال زہرہ" تعلق کینیڈا سے ہے. الله کے فضل و کرم سے مسلمان ہوں (بغیر کسی تفریق کے)، الله اور آخری نبی پر کامل ایمان رکھتی ہوں. انسانیت اپنا خدمت کو اپنا دینی اور مذہبی فریضہ سمجھ کر سر انجام دیتی ہوں. الله نے زندگی میں ہر کامیابی اور خوشی سے نوازا ہے. اچھا خاندان، تعلیم کی بدولت ایک اچھی زندگی گزار رہی ہوں. انسانیت کی خدمت کے سفر میں پاکستان کا ایک  کردار رہا جبکہ میرا دور تک کا کوئی رشتےدار پاکستان میں مقیم نہیں اور اگر کوئی ہے تو ہم خاندان والے ان سے رابطے میں نہیں. میرے دادا ابو (grand father) ایک پاکستانی تھے، جہلم شہر سے تعلق  لیکن وہ اپنی جوانی میں ہی پہلے لندن اور پھر امریکہ (شکاگو) منتقل ہو گئے، وہی شادی کری اور وہی تدفین  ہوئی، والد صاحب نے ایک اور ہجرت کری اور شکاگو (امریکہ) سے کینیڈا منتقل ہو گئے، مختصر کہ میری  پرورش کینیڈا میں ہی ہوئی، کیلگری (کینیڈا) میرا گھر بنا تعلیم سے روزگار وہی. 

 پہلی دفع پاکستان اکتوبر ٢٠٠٥ کے زلزلے کے بعد آنا ہوا، ایک ایسا انسان جس نے زلزلے میں اپنا خاندان کھویا اور پھر دل و جان سے زلزلے (٢٠٠٥) کے متاثرین کی خدمت میں لگ گیا، میں نے اس انسان (سید عدنان علی نقوی) سے زیادہ جنونی آج تک نہیں دیکھا، پہلی دفع بی بی سی (اردو) پر عدنان کو سنا اور پڑھا اور رابطہ کیا. 
یہ ہے عدنان کی ڈائری کا وہ لنک جس نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں عدنان سے فون پر بات کرتے ہی پاکستان آگئی، http://www.bbc.com/urdu/interactivity/specials/1640_adnan_diary_ms/page24.shtml


پاکستان  آکر اندازہ ہوا کہ یہاں فلاحی خدمات سر انجام دینے کے لئے بہت کچھ ہے، پھر عدنان نے کچھ ایسی رہنمائی کری کہ میں نے کافی عرصہ پاکستان میں گزارا اور اقوام متحدہ اور اسکے ذیلی اداروں سے وابستہ ہو گئی. میری تعلیم اور نوکری بھی مجھ کو نہیں روک سکی. انسانیت کی خدمت کے اس سفر میں دنیا بھر گھوم لی، مختلف اقوام، تہذیبوں (کلچر)، ممالک کے سفر کرنے کا موقع ملا لیکن جب جب عدنان نے مجھے کسی بھی طرح کے فلاحی کام کے لئے پاکستان آنے کی دعوت دی میں منع نہیں کر سکی اور موقع کوئی بھی ہو، شمالی وزیرستان جیسے مشکل، حساس علاقے ہوں یا سندھ، پنجاب، سرحد (خیبر پختونخواہ)، بلوچستان کے سیلاب متاثرین یا پھر وزیرستان کے آئ-ڈی-پیز (IDPS) ہوں، عدنان اپنی چھوٹی سی فلاحی ٹیم بنا لیتے جس میں انکے دوست، خاندان کے افراد شامل ہوتے اور مجھے بھی دعوت دیتے کہ میں بھی شامل ہو جاؤں اور میں بھی مختصر وقت کے لئے ہی سہی لیکن پاکستان آکر عدنان کی "ٹیم آشیانہ" میں شامل ہو جاتی. ایسے ہی سفر جاری رہتا اور ہم لوگ مل کر  اپنے طور پر مشکل میں موجود انسانوں کی خدمات سر انجام دیتے  رہتے. پچھلی دفع جب پاکستان آئی تو حالات کچھ سازگار نہیں تھے، بنوں (خیبرپختونخواہ) میں عدنان اور ٹیم آشیانہ کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا گیا وہ ناقابل  بیان ہے، یہ وقت ان تفصیلات میں جانے کا نہیں، بقول عدنان "وہ فلاحی کام ہی کیا جس کے دوران مشکلات پیش نہ آئیں." میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ بھی ہو جائے پاکستان نہیں آؤں گی بیشک وہیں (کینیڈا) میں بیٹھ کر یہاں کے لوگوں کی مدد کروں گی. لیکن کیا کیا جائے جب عدنان جیسا بھائی خود مشکل میں ہو  اور آواز لگائے. 

اس دفع پھر پاکستان میں سیلاب آیا، جس وقت سیلاب آیا عدنان "ٹیم آشیانہ" کے ہمراہ تھر (سندھ) میں بھوکے لوگوں کو دو (٢) وقت کا کھانا روزانہ تقسیم کر رہا  تھا. پھر سندھ میں جو ہوا وہ بھی  سب کے علم میں ہے. پہلے میں نے سوچا کے ایک نیشنل ڈیزاسٹر ہے پاکستانی عوام اپنی مدد آپ کر لے گی، لیکن میں نے اپنے گزشتہ تجربات سے جتنا پاکستانی عوام کو سمجھا ہے وہ یہی ہے کہ یہاں کوئی اپنی مدد خود کرنا ہی نہیں چاہتا (معذرت کے ساتھ).

میں نے جولائی ٢٠١٥، میں عدنان سے رابطہ کیا اور جب انہوں نے پاکستان کے حالت بتائے تو میں نے اپنے روزگار والوں کو کہا کہ لمبے سفر پہ نکل رہی ہوں، رخصت درکار ہے، روزگار والوں نے بھی کہا، جی بلکل! اور میں ٣، اگست ٢٠١٥ کی صبح (براستہ فرینکفرٹ، دبئی) پاکستان (کراچی) پہنچ گئی. ٹیم آشیانہ کے کارکنان نے میرا استقبال کیا. میں ایک لمبے سفر سے پاکستان پہنچی تھی لیکن دماغ پر سب سے پہلے عدنان سے ملنے اور انکے فلاحی مشن میں شامل ہونے کا جنون سوار تھا. لیکن عدنان جو کہ سندھ کے کچے کے علاقے میں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے "ٹیم آشیانہ" کے ہمراہ  موجود تھے نے مجھے کراچی میں کچھ کام  مکمل کرنے کو کہا. 

کراچی:
 ایک ایسا شہر جس کے برتاؤ کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا  جاسکتا، ایک ایسا شہر جہاں امرا، اشرافیہ، غریب ہر طرح کے لوگ موجود ہیں، لیکن افسوس کے کسی بھی طرح سے مہذب نہیں، کسی طرح کا ڈسپلن موجود نہیں، سڑکوں پر ٹریفک ایسا بےہنگم کے الله کی پناہ، لوگ ایسے بھاگے جاتے ہیں جیسے پیچھے موت کا فرشتہ لگا ہے یا پھر کوئی بلا. صبر نام کو نہیں. خیر مجھے کیا، میں عدنان کے کہنے پر پہلے  (PDMA) کے دفتر گئی جہاں کچھ اپیل جمع کرانا تھی لیکن کوئی ذمہ دار نہیں مل سکا جو ملا اتنا غریب کے ہماری فائل کو صاحب کی ٹیبل تک پہچانے کے لئے کم از کم ٥٠٠ روپے درکار تھے. وہ بھی دیے. وہاں سے سندھ کے خادم حضرت قائم علی شاہ کے دفتر جانا تھا، لیکن انکے دفتر تو دور دفتر کا دروازہ تک دیکھنا نصیب نہ ہو سکا، وزیر اعلی سندھ کی سیکورٹی، پھر ہماری (ٹیم آشیانہ) کی کوئی حیثیت ہی نہیں، یہاں تو بڑے بڑے ساہوکار، کاروباری، رقم کا لین دین کرنے والوں کو ملاقات کا وقت دیا جاتا ہے، میں نے سوچا یہ میں کہاں آگئی ہوں جہاں عوام کے خادم کے پاس عوامی مسائل سننے کے لئے وقت نہیں. عدنان کو فون پر سری صورت حال سے آگاہ کیا، اپنی ناکامی اور مایوسی کا بتایا لیکن ہمیشہ کی طرح عدنان نے کہا "کوئی بات نہیں، کوئی ملے یا نہ ملے، مدد کرے یا نہ کرے، ہم اپنے طور پر سیلاب زدگان کی مدد کے لئے جو کر سکتے ہیں کریں گے." 

مجھے "ٹیم آشیانہ" کے ایک  کارکن " احمد  بھائی" سے رابطہ کرنے کو کہا گیا جنہوں نے میرے رہنے کا انتظام گلستان جوہر میں "ٹیم آشیانہ" کی ایک بہت دیرینہ ساتھی "بدر باجی" کے گھر پر کیا، گھر آکر تھوڑا آرام کیا، عدنان کی فراہم کی گئی لسٹ کے مطابق سامان جن میں ادویات، کھانے پینے کی اشیا، کپڑے وغیرہ کچھ دوستوں کے گھر سے جمع کرنے تھے اور کچھ فنڈز دستیاب تھے انسے خریداری کرنا تھی. سوچا تھا جب ہم بازار میں جاکر لوگوں کو بتائیں گے کہ ہم سیلاب زدگان کی مدد کے لئے ادویات، کھانے پینے کا سامان اور کپڑے خرید رہے ہیں تو کچھ رعایت ملے گی، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا. الٹا لینے کے دینے پڑھ گئے کیونکہ پوری کوشش کے باوجود میں بہت اچھی اردو نہیں بول سکتی اور شاید سمجھ بھی نہیں سکتی، خیر جو ہونا تھا ہوا، قدم قدم پر مجھے مایوسی ہو رہی تھی کہ میں کینیڈا سے پاکستان ایسے لوگوں کی مدد کرنے آئی ہوں جسکو کوئی احساس ہی نہیں کہ انکے پاکستانی ساتھی کس طرح کی مشکلات کا شکار ہیں. میں نے ایک بار پھر عدنان سے رابطہ کر کہ انکو اپنی کیفیت بتائی اور جو انہوں نے کہا اسنے مجھے حوصلہ  دیا. عدنان بھی بس عدنان ہی ہے. ہر ناکامی سے کامیابی کا پہلو نکل لیتا ہے. 

دو (٢) دن کراچی میں ادویات و دیگر کی خریداری، فنڈز جمع اور پیکنگ میں لگ گئے اور ٥، اگست ٢٠١٥ کو وہ وقت آگیا جب ایک ٹرک پر امدادی سامان لادا گیا اور مجھے کہا گیا کہ فنڈز کی کمی کی وجہہ سے ہم کوئی اور سواری کا انتظام نہیں کر سکے اسی لئے مجھے اور دیگر کارکنان کو اسی ٹرک پر سوار ہو کر سکھر (سندھ) کے قریب کچے کے علاقے میں جانا ہوگا. میرے ساتھی دوست شرمندہ تھے لیکن میں عدنان پر فخر کر رہی تھی کہ کوئی تو ہے جو اس طرح کے ماحول میں انسانیت کی خدمات کا فریضہ انجام دے رہا ہے. سفر بہت کٹھن تھا، ٹرک کی سواری کا پہلے کوئی تجربہ نہیں تھا، پھر جگہہ جگہہ پاکستانی پولیس کے فرض شناس آفیسرز موقع پر ہی سارے ٹیکس وصول کرنے کے لئے  تیار، (پاکستانی دوست میری اس بات کا مطلب بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہونگے).
 ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد آخر ہم ایسے علاقے میں داخل ہوۓ جہاں محسوس ہوا کہ اب ہم کسی آفت زدہ علاقے میں داخل ہو گئے ہیں. ٹیم آشیانہ کا ایک چھوٹا سا کیمپ سکھر سے کچھ فاصلے پر قائم لیکن بنیادی سہولیات سے محروم، ایک لمبے عرصے بعد عدنان کو دیکھا، جو پہلے سے کہی زیاد کمزور، لیکن انسانیت کے جذبے سے سرشار، میرے استقبال کے لئے موجود. ہمیشہ کی طرح میرے سر پر ہاتھ  پھیرا، بہت ساری دعا دی اور مجھے ویلکم کیا. رات ہو چکی تھی، کراچی سے میں نے ذاتی طور پر کچھ جنک فوڈ ساتھ رکھ لی تھی جو کھائی الله کا شکر ادا کیا اور عدنان "ٹیم آشیانہ" کے ساتھ اگلی صبح کے لئے جو کام کرنے تھے اسکو ڈسکس کیا اور جو کچھ بھی میسر تھا آرام کرنے کے لئے لیٹ گئی. 

اگلی صبح:
بہت خوفناک صبح تھی، بہت شور سے آنکھ کھلی، پہلے فون کی طرف دیکھا جو چارجنگ نہ ہونے کے سبب آخری سانسیں لے رہا تھا، پہلے کینیڈا کال کر کہ dad (ابا جی) کو اپنی خیریت دی، ٹینٹ سے باہر نکل کر دیکھا تو ایک ہجوم تھا جو ہر طرف موجود تھا، بچوں کے جسم پر کپڑے نہیں تھے، عورتوں کے سروں پر چادر نہیں تھی، مردوں کے پیروں میں چپل نہیں تھی، عجیب منظر تھا. عدنان اور ٹیم آشیانہ کے کارکنان پوری کوشش کر رہے تھے کہ اس ہجوم کو کنٹرول کریں لیکن اپنے سامنے امداد دیکھ کر کوئی بھی نہیں رک رہا تھا. میں نے اپنی کوشش کری لیکن ناکام رہی. کسی نہ کسی طرح ہجوم قابو ہوا. ٹیم آشیانہ کی  خواتین کارکنان کی مدد سے پہلے اپنا حلیہ بہتر کیا، اور مجھے جو کام دیا گیا تھا اسکو انجام دینے میں لگ گئی، صبح سے دن ہوا اور دن سے رات لیکن ہمارا کام ختم نہی ہو سکا. دن بھر لوگوں میں  غذائی اجناس کی تقسیم، ایک مقامی ڈاکٹر کی مدد سے میڈیکل کیمپ میں خواتین اور بچوں کے چیک اپ. ایک تھکا دینے والا دن. رات ہوئی تو پتا لگا کے آج ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان کے لئے دال چاول پکایا گیا ہے. سب کے ساتھ مل کر کھایا، الله کا شکر ادا کیا. اور اگلے دن جو فلاحی کام سر انجام دینے تھے انکی تیاری.

اگلی صبح مجھے ایک دفع پھر کراچی جانے کے لئے کہا گیا، جہاں مجھے ٹیم آشیانہ کے لئے فنڈز جمع کرنا تھا، ادویات خریدنا تھی، غذائی اجناس لینا تھی. لیکن کیسے اسکا خود مجھے بھی پتہ نہیں تھا.

نوٹ: مذکورہ بالا تحریر "ٹیم آشیانہ" کی ایک فلاحی کارکن "سیدہ فریال زہرہ" نے لکھی ہے، جسکو "فریال" کی اجازت اور ضروری تدوین (ایڈیٹنگ) کے بعد سید عدنان علی نقوی بھائی کی اجازت سے یہاں شایع (publish) کیا جارہا ہے. ٹیم آشیانہ اس وقت سندھ کے کچے کے علاقے میں موجود ہے اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے کوشش کر رہی ہے. 

Follow Faryal on Twitter: @F4Faryal
Follow us on Twitter: @TeamAshiyana