Tuesday, July 10, 2012

Team Ashiyana: Team Ashiyana Without help

اسلام و علیکم 

آج مجھ کو یہاں (شمالی وزیرستان) آے ہوے دس (١٠) دن سے زیادہ گئے ہیں ان گزرے ہوۓ دنوں میں میں کچھ زیادہ کام نہیں کر پایا ٹیم آشیانہ بھی اپنے محدود وسائل کی بنا پر اپنی فلاحی سرگرمیوں کو محدود کرنے پر مجبور ہے. ٹیم آشیانہ اور مقامی دوستوں کے مشورے پر عمل کرتے ہوۓ میں نی اپنا ٹینٹ سکول بھی محدود کر لیا، مگر دل میں عجیب سی خلش ہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے کے جیسے میرا یہاں آنا بے مقصد اور بے سود ہو رہا ہے، میں یہاں صرف شدت پسندوں سے ڈرنے، طالبان کا خوف محسوس کرنے، یا ڈرون حملوں سے محفوظ رہنے کے لئے نہیں آیا ہوں. میں کراچی سے ایک مقصد لے کر نکلا تھا، ایک امید اور جذبے سے روانہ ہوا تھا مگر یہاں آکر میں خود کو بہت مجبور اور لاچار محسوس کر رہا ہوں. 

الله پاک نے ہم کو جو ہمت اور صبر دیا ہے دعا کرتا ہوں کے وہ قائم رہے، اور الله پاک پر ہمارا ایمان مزید پختہ ہو. آمین.

گزرے دنوں میں ٹیم آشیانہ کی جانب سے کیا گیا فلاحی کام:

گزرے دنوں میں ٹیم آشیانہ کو کسی قسم کی کوئی مدد (امداد) نہیں ملی، ٹیم آشیانہ کے پشاور، راولپنڈی میں مقیم کارکنوں نیں کچھ اشیا جمع  کرنے کا کہا ہے مگر آمدورفت کی فلحال کوئی سہولت میسر نہیں ہے، میں نے گزری رات بھی ٹیم آشیانہ کے سارے کارکنان سے بات کاری اور کہا کہ صرف ہم لوگ ہی پاگل نہیں ہیں جو یہاں اتنے برے حالت میں فلاحی کاموں کو کرتے پھیریں، پاکستان میں اور دنیا میں ایسے بہت سارے ادارے موجود ہیں جن کے لئے یہاں فلاحی منصوبوں کو شروع کرنا کوئی بڑا مسلہ یا بڑی بات نہیں ہے. آخر ہم لوگ کب تک لوگوں کے آگے بھیک مانگیں گے. کتنی اپیل کریں گے. کب تک چندہ جمع کر کر کے یہاں (شمالی وزیرستان) میں چھوٹے چھوٹے فلاحی کام کرتے رہیں گے؟ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس ترہان کے کاموں کا صلہ ہم کو کیا ملنا ہے.
گزشتہ دو (٢) دیں سے ہم میران شاہ میں موجود پولیٹیکل حکام کو اور ڈاکٹرز کو پیغام بھجوا رہے ہیں کہ یہاں (دتہ خیل) اور آس پاس کے علاقوں میں بچوں میں وبائی امراض خاص کر خسرہ اور پیٹ کے امراض بہت تیزی پھیل رہی ہیں خدارا کچھ کریں یہاں کے بچے انسان کے بچے ہیں، ان کو بھی جینے کا حق ہے، ان کو بھی کھانے پینے کی اشیا چاہیے ان کو بھی دوا کی ضرورت ہے مگر ابھی تک کسی کی طرف سے کوئی جواب تک نہیں ملا، حکومتی حکم فنڈز نہ ملنے کا رونا روتے ہیں ڈاکٹرز حضرت سیکورٹی کی وجہہ سے یہاں نہیں آتے. تو کیا ہم ایسے بچوں اور لوگوں کو اپنے سامنے مرتا دیکھتے رہیں؟ 
ہمارے پاسس زیادہ ادویات نہیں ہیں، ہمارے پاس میڈیکل ایکسپرٹس نہیں ہیں بس ٹیم آشیانہ کے کارکنان اپنے تجربات کی بنیاد پر جو بھی کر سکتے ہیں کر رہے ہیں. 

کل ہم نے دو (٢) بچوں کو میران شاہ کے اسپتال بھجوایا بچوں کو خسرہ کی تکلف تھی اور بہت تیز بخار تھا، الله کرے کے ان بچوں کو میران شاہ  میں سہی علاج مل رہا ہو. 

میری ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان، ساتھیوں، اپنے گھر والوں اور پڑھنے والوں سے انسانیت کے نام پر اپیل ہے کہ خدارا یہاں کے مظلوم لوگوں کے لئے کچھ کریں، عدنان بھائی ہر دفع یہی اپیل کرتے ہیں کہ انسانیت کے نام پر کام کرنے والے فلاحی ادارے یہاں آئیں اور یہاں کے لوگوں کے دکھ درد کو دیکھیں، یہاں کے لوگ ویسے نہیں جیسا بنا کر پیش کر دیا گیا ہے، یہاں کے لوگ بہت مخلص، اخلاق اور محبت سے پیش آنے والے لوگ ہیں. یہاں کے لوگ مجبور ہیں ان کے سامنے کوئی دوسرا راستہ نہیں نہ ہی ان کو طالبان سے کوئی ہمددری ہے نہ ہی پاکستان سے کچھ لگاؤ وجہہ صرف محرومی، غربت بےعزتی اور حالات ہیں. 

خود نہیں آسکتے تو کسی بھی حکومتی ادارے کی مدد لیں، پاکستانی افواج کی مدد لیں، ہم کو پورا یقین ہے اور بھروسہ ہے کے انسانیت کے نام پر کام کرنے والوں کے لئے پاک افواج اور سیکورٹی ادارے بھی مدد کرنے کو تیار رہتے ہیں. ہمارے جوان صرف سرحدوں پر نہیں لڑتے بلکے ہمارے جوان وزیرستان جیسے علاقوں میں فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور تیار رہتے ہیں. موسم اور حالات بہت تیزی سے خراب ہو رہے ہیں. یہاں کے لوگوں کی سوچ ایک دفع پھر بہت تیزی سے بدل رہی ہے اور اس تبدیلی کا پورا پورا فائدہ ملک اور اسلام دشمن عناصر اٹھا رہے ہیں اور اٹھاتے رہے گے. 
ٹیم آشیانہ اپنی پوری کوشش کے باوجود بہت زیادہ لوگوں اور بچوں کی ادویات کا انتظام نہیں کر سکتی، مہنگائی صرف پاکستان کے شہروں میں نہیں ہے بلکے یہاں بھی ہے، ادویات کو خریدنا اب آسان نہیں رہا ہے، بلکے اور مشکل ہو گیا ہے، غذائی اجناس اور دیگر چیزیں بھی مہنگی ہو گئی ہیں. اور ٹیم آشیانہ کے فنڈز بہت کم. بات صرف خریداری تک ہی محدود نہیں ہے بلکے شہروں سے یہاں (شمالی وزیرستان) تک کی آمدورفت بھی آسان نہیں رہی. کبھی سیکورٹی کا مسلہ کبھی ڈرون کا مسلہ. ہم بھی کبھی کبھی خود کو بہت مجبور اور محروم محسوس کرتے ہیں. 

آج ٹیم آشیانہ کے پاس اتنی ادویات بھی موجود نہیں کہ ٥٠ - ٦٠ بچوں کے لئے ہی میڈیکل کیمپ لگا سکیں، جو ادویات بچی ہیں ان سے ہم صرف ١٠-١٥ بچوں کے لئے ہی معمولی کام کر سکتے ہیں. 

میں ذاتی طور پر ٹیم آشیانہ کے دوسرے شہروں میں مقیم دوستوں، ساتھیوں اور ہمدردوں سے اپیل کرتا ہوں کے ٹیم آشیانہ کے شمالی وزیرستان میں جاری فلاحی منصوبوں خاص کر فری میڈیکل کیمپ، غذائی اجناس کی تقسیم اور دیگر کے لئے جو کچھ جمع کر سکتے ہیں کریں. اور یہاں (شمالی وزیرستان) بھجوانے کی کوشش کریں. ہم یہاں صرف تماشا دیکھنے یا ڈرون حملوں سے بچنے کے لئے نہیں ہیں بلکے ہم کو یہاں کے لوگوں کی خدمات کرنی ہے بغیر کسی رنگ، ذات اور قوم کی تفریق کے.

جزاک الله 
ٹیم آشیانہ، دتہ خیل، شمالی وزیرستان.