Friday, April 20, 2012

Waziristan Dairy: Another Page from dairy.

اسّلام و علیکم 
ڈائری ایک دفع پھر ایک دن اور لیٹ ہو گئی، وجہہ وہی ہے جو میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں. آج پشاور میں عدنان بھائی اور فریال باجی سے بات کرنے کا موقع ملا، دل کو اطمینان ہوا کہ ٹیم آشیانہ خیریت سے ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہے. عدنان بھائی اور فریال باجی کی تحریر پڑھنے کہ بھی موقع ملا. عدنان بھائی اور فریال باجی کے خیالات سے آگاہی ملی، بہن فریال کہ مشورہ اپنی جگہ بلکل درست ہے میں بھی اب اپنی پوری کوشش کروں گا کہ کچھ ایسا تحریر نہ کروں جس سے ٹیم آشیانہ کے ساتھیوں اور وزیرستان میں رہنے والے بھائی بہنوں کے لئے کسی بھی طرھ کی کوئی بھی مشکلات پیدا ہوں. آج صبح کیوں کے یہاں نہم جماعت کہ پرچہ تھا اس میں مصروف تھا اس سے فارغ ہو کر سیدھا بس سٹاپ گیا اور جتنا بھی سامان پچھلے دنوں میں جمع کیا تھا وہ سامان بس میں لوڈ کروایا اور اب سے تھوڑا ہی دیر قبل گھر آیا ہوں اور ضروری کاموں سے فارغ ہو کر ڈائری لکھنے بیٹھ گیا ہوں کیوں کہ رات کہ کچھ پتا نہیں بجلی ہو بھی کہ نہیں کیوں کہ آج کراچی کہ موسم ابر آلود ہے اور بارش کہ امکان ہے. 
"اور محترم دوستوں، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، مطلب کے بجلی چلی گئی. اسی لئے میری ڈائری ادھوری رہ گئی."  

میں نماز پڑھنے کو تو تیار تھا مگر یہاں (وزیرستان) میں پتہ نہیں کے میرے نماز پڑھاۓ جانے کے کیا اثرات ہونگیں بس یہی ایک خوف تھا. شکر الله کا کے عدنان بھی آگئے اور انہوں نے اکرم بھی کو امامت کے لئے کہا. میں نے الله پاک کا دل ہی دل میں بہت شکر ادا کیا اور نماز میں مشغول ہو گیا.
نماز سے فارغ ہو کر عدنان بھائی نیں بتایا کے ابھی تک ان خواتین کے لئے hکچھ نے ہو سکا جن کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا ضروری تھا. کوئی مدد میسر نہیں ہے. بس الله پاک غیب سے مدد فرماے اور تینوں خواتین کو اور ان کی ہونے والی اولادوں کو صحت، تندرستی عطا کرے اور زندگی عطا فرماے، آمین. یہی دعا نماز کے بعد مانگی گئی. میں سوچنے لگا کہ انسان کتنی بھی ترقی کر لے، دنیا منی کسی بھی مقام پر پہنچ جاۓ مگر الله پاک کہی نہ کہی ایسا امتحان دیتے ہیں جس سے بندے کے ایمان کا اندازہ ہو جاتا ہے. مجھ جیسے گھن چکر کے لئے یہ بلکل نیا مگر روح کو سکون دینے والا تجربہ تھا.
ہم سب کچھ دیر کے لئے آرام کی غرض سے ایک طرف بیٹھ گئے، بلال محسود ابھی تک ہمارے ساتھ ہی تھا. میں نے عدنان بھائی سے باتوں ہی باتوں میں ذکر کیا کہ بلال کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے؟ عدنان بھائی نے مجھ کو کہا جیسا تم کو بہتر لگتا  ہے کرو. میں نے بلال اور اس کی بوڑھی ماں اور بیمار بہن کو اپنے ساتھ کراچی لیجانے کی بارے میں سوچا مگر کراچی کے حالت اور وزیرستان کا نام اپر سے نام میں محسود، یہی کچھ باتیں تھی جو مجھ کو بلال کو کراچی لیجانے سے روک رہی تھی. میں نے ایک دفع پھر بلال سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کو صاف صاف  بتانے کا سوچا کہ میں کیوں اس کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا، ہاں میں کراچی رہ کر اس کے لئے  وہاں سےکچ نہ کچھ مدد ضرور کر سکتا ہوں. 
تھوڑی ہی دیر میں مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا، یہاں (دتہ خیل) میں عصر اور مغرب کی نمازوں میں کچھ زیادہ  وقفہ نہیں ہے.
نماز مغرب ادا کر کہ فارغ ہوے ہی تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ آج جلدی کھانا کھا کر نمازعشا پڑھتے ہی آرام کروں گا مگر نماز سے فارغ ہوتے ہی کسی نے اطلاع دی کہ ایک خاتون کے بیٹا ہوا ہے اور دونوں زچہ اور بچہ الله پاک کے فضل اور کرم سے ٹھیک ہیں ہم سب نے الله کہ شکر ادا  کیا اورباقی دو خواتین کے لئے بھی دعا کری کہ الله پاک دونو خواتین کی بھی مدد کرے اور آسانی کرے. آمین.
آج کے میڈیکل کیمپ کی وجہہ سے تھکن بہت ہو رہی تھی اور بھوک بھی  لگ رہی تھی. اوپر سے ایک اور مشکل تھی کہ ٹیم آشیانہ کے پاس پینے کہ پانی تک ختم ہو گیا تھا. (یہاں یہ بتانا ضروری ہے کے ٹیم آشیانہ جس علاقے میں موجود ہے وہاں پینے کہ پانی ڈیڑھ کلومیٹر دور سے لانا پڑھتا ہے). اس وقت صرف رات کے کھانے تک کے لئے پانی موجود تھا. عدنان بھائی نے کچھ مقامی لوگوں سے مدد مانگی اور کچھ لوگ کسی نہ کسی برتن میں پانی لے ہے. یہاں ایک بہت اچھی بات یہی تھی کہ مقامی لوگ ہم وقت مدد کے لئے تیار رہتے ہیں. وسائل نہ ہونے کے باوجود بھی کوشش کرتے ہیں کہ جو بھی کم ان کو دیا جاۓ وہ پورا کریں. یہاں ویسے بھی کوئی کام وغیرہ تو ہے نہیں جس میں یہاں کے لوگ مصروف رہے، سکول کہ نام تو جانتے ہیں مگر ہے کوئی نہیں، میران شاہ کے حالت اور دتہ خیل کے حالت میں زمیں آسمان کہ فرق ہے. نمازعشا کہ وقت ہوتے ہے نماز کی تیاری ہوئی اور میرے چاہنے کے باوجود بھی کھانا ہم نے نماز کے بعد ہی کھایا. کھانے میں دن کہ ہی بچہ ہوا کھانا تھا معلوم کرنے پر پتہ چلا کے اب ٹیم آشیانہ کے پاس کھانے پینے کہ ذخیرہ بھی ختم ہونے کو ہے. فریال باجی کی یاد بہت آرہی  ہے مگر مل نہیں سکتا تھا کیوں کے یہاں کا پردہ قانون بہت ہی سخت ہے.  اور میں فریال باجی یہ ٹیم آشیانہ کے لئے کوئی مشکل کھڑی کرنا نہیں چاہتا تھا.  
کھانا ابھی تک لذیز تھا اور خوب پیٹ بھر کہ کھایا، الله پاک کا شکر ادا کیا کے بد ترین حالات میں بھی ہم کو سونے سے پہلے پیٹ بھر کھانا عطا فرمایا. یہاں قرآن کی ایک سورہ "اور تم اپنی پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" بہت بار پڑھنے کا دل کرا. میں عدنان بھائی، اکرم بھائی اور کچھ دوسرے ساتھ ایک طرف بیٹھے تھے کہ ایک بچے نے آکر یاد دلایا کہ آج ابھی تک اردو کی کلاس نہیں ہوئی ہے، میں بہت تھکا ہوا تھا عدنان بھائی کو  اشارہ کرکے اپنی آرام گاہ مطلب ٹینٹ میں چلا گیا. میرے پیچھے پیچھے بلال بھی آیا اور مجھ سے اجازت لے کے روانہ ہو گیا. میں ابہ اپنی ڈائری لکھنے بیٹھا ہوں، لالٹین کی روشنی میں لکھنا آسان نہیں. آج سارا دن کی کارستانی لکھی ہے، مگر بلال کے بارے میں کچھ بھی فیصلہ نہیں کر پا رہا ہوں. اس کے رویہ سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کے جیسے  ان کومجھ سے بہت امیدیں ہیں، الله مجھ کو ہمت اور توفیق دے کہ میں کسی ایک کی امید پر پورا اتر سکوں. آمین.
آج شب جمعہ ہے کل جمعہ کی نماز ادا کرنی ہے. اسی لئے سوتا ہوں. اس امید پر کے آنے والی صبح ہم سب ہی کے لئے خوشی اور آسانی کا پیغام لیے گی. انشا الله