Sunday, June 02, 2013

میرانشاہ، شمالی وزیرستان: احمد بھائی کی ڈائری

محترم دوستوں، اسلام و علیکم....

جب سے یہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) آیا ہوں نہ ہی انٹرنیٹ کی سہولت ملی ہے نہ ہی کوئی اور ایسا راستہ جس سے میں اپنی امی (والدہ)، دوست احباب و دیگر سے رابطے میں رہ سکوں، بہن فریال ہمارے ساتھ یہاں (آشیانہ کیمپ) میں مقیم نہیں ہیں وہ میرانشاہ شہر میں ہیں اور وہاں ان کو کبھی کبھار انٹرنیٹ اور فون جیسی سہولیات میسر آجاتی ہیں جس سے وو تھودا بہت جتنا بھی ممکن ہو یہاں (میرانشاہ) کے حالات سے اپنے دوست احباب و دیگر کو آگاہ کر دیتی ہیں. 

گزشتہ  ماہ جب میں یہاں آیا تھا تو آشیانہ کیمپ میں ہر طرف پریشانی اور بدحالی موجود تھی، ہر طرف پریشانی ہی پریشانی تھی، عدنان بھائی ہمیشہ کی طرح ایک طرف بیٹھے رہ کر آسمان کی جانب منہ کر کے دعاؤں میں مشغول رہتے اور باقی کارکنان ادھر ادھر رہتے، یہاں کے قوانین اور رواج کے مطابق فریال باجی کو آشیانہ کیمپ میں مقیم رہنے کی اجازت نہیں وہ پتا نہیں کس حال میں اور کدھر ہونگی ان کی خیر خبر ملتی رہتی ہے. 

عدنان بھائی نے فلاحی خدمات کا جو سفر آج سے برسوں پہلے شروع کیا تھا آج بھی وو سفر جیسے تیسے کر کے جاری ہے اور اس سفر میں ہمیشہ کی طرح اونچ نیچ آتی جاتی رہتی ہے. میں کراچی سے اپنے ساتھ جو کچھ امدادی سامان لا سکتا تھا لے آیا، جن میں زیادہ تر کتابیں کاپیاں اور پڑھنے لکھنے کا سامان موجود تھا. دیگر میں مقامی طور پر راشن اور ادویات کی خریداری کری. یہاں آج کل بدلتے موسم کی وجہہ سے مختلف بیماریوں کا بہت زیادہ اثر ہے، بچوں میں بخار، خسرہ اور دیگر بیماریاں جنم لے رہی ہیں جبکہ خواتین میں سے اکثر ہیپاٹٹس (پیلیا) کی بیماری میں ہیں، مرد حضرت بھی اکثر بیمار ہیں. 

میرانشاہ میں جہاں ایک طرف غذائی قلت کا سامنا ہے وہی جو غذائی اجناس دستیاب ہیں ان کی قیمت آسمان سے باتیں کرتی نظر آرہی ہیں. دوسری طرف پورے میرانشاہ میں صرف اور صرف ٢ اسپتال کام کر رہے ہیں جن میں ادویات و دیگر کی شدید کمی ہے. مجھے ایسا لگا تھا کہ حالات کچھ بہتر ہوۓ ہونگے اور یہاں کچھ تو بہتری آئی ہوگی مگر ایسا کچھ بھی نہیں. ایک دفع پھر سے رونے، جلنے اور پریشان ہونے کے سوا میرے پاس کوئی راستہ نہیں ہے. 

ٹیم آشیانہ کو ملنے والے فنڈز، غذائی اجناس، ادویات و دیگر امداد اب نہ ہونے کے برابر ہے. صرف کچھ مقامی اور ہم دوستوں کے اہل کخانہ جو کچھ بھی کر سکتے ہیں کر رہے ہیں، مگر یہ سب اتنا آسان اور کافی نہیں ہے. عدنان بھائی بھی اب ایسا  ہوتا ہے کے جیسے تھک سے گئے ہیں ، تمام تر کوشش اور محنت کے باوجود ہم یہاں کے لوگوں کو بچا نہیں پا رہے ہیں. دوسری طرف کچھ ایسے لوگ جن کو ٹیم آشیانہ کی جانب سے کیے جانے والے فلاحی کم پسند نہیں، یا پھر جو ایسا سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ یہاں کسی ایجنڈے یا کسی کی ترجمانی کرنے یہاں آئے ہیں ہم لوگوں کو ہر طرح سے یہاں (شمالی وزیرستان) میں فلاحی کم کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں. عدنان بھائی کی سبط قدمی اور مقامی لوگوں کی جانب سے دے گئے حوصلے کی وجہہ سے ٹیم آشیانہ کے کارکنان ابھی تک کسی نہ کسی طرح یہاں (میرانشاہ شمالی وزیرستان) میں فلاحی کم سر انجام دے رہے ہیں.

ٹیم آشیانہ کی جانب سے روزانہ دو (٢) وقت کے کھانے (غذا) کی فراہمی کا نیک کام گزشتہ ٢ ماہ سے رکا ہوا ہے، جس کی صرف ایک ہی وجھہ ہے فنڈز کا نہ ہونا. اکثر لوگ جو شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں سے امن، سکون، روزگار کی تلاش میں یہاں (میرانشاہ) آئے ہیں، ان کے پاس نہ ہی سر چھپانے کا کوئی ٹھکانہ ہے اور نہ ہی دو (٢) وقت کی روٹی کا کوئی انتظام ہے، ایسے میں آشیانہ کیمپ میں ایسے لوگوں کو وقتی طور پر سر چھپانے اور کھانے پینے کی سہولت مل جایا کرتی تھی جو کہ ابھی ممکن نہیں رہی ہے. 

ٹیم آشیانہ، ہر ماہ ٢ سے ٣ دفع فری میڈیکل کیمپ لگایا کرتی تھی جہاں پر یہاں (میرانشاہ) کے مقامی لوگوں کو کچھ طبی امداد اور ادویات مل جایا کرتی تھیں مگر فنڈز کی شدید کمی اور دیگر مجبنوریوں کی بنا پر ہفتواری فری میڈیکل کیمپ نہیں لگایا جا رہا ہے. 

آشیانہ  کیمپ کے زیر اہتمام، مقامی لوگوں (وزیرستانی) کی اجازت اور ان کی مدد سے ایک اسکول شروع کیا گیا جہاں پہلے ہے دن ٤٠ (چالیس) سے زیادہ مقامی بچوں نے داخلہ لیا، یہ اسکول ایک ٹینٹ میں بنایا گیا ہے. اس میں فالحال ٢ بلیک بورڈ اور ٤ اساتذہ موجود ہیں اور آج تک اس اسکول میں ٦٠ سے زیادہ بچے داخل ہو چکے ہیں. مقامی افراد اپنے بچوں کو پڑھانا لکھنا چاہتے ہیں مگر ہم کو اس اسکول کو بھی جاری رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے. یہاں کی مقامی آبادی لڑکوں کو تو اسکول بھیجنے پر راضی ہے مگر لڑکیوں (بچیوں) کو کسی بھی طرح اسکول بھیجنے پر راضی نہیں ہو رہی ہے. اس سلسلہ میں عدنان بھائی اور دیگر کارکنان مقامی آبادی کے ساتھ روزانہ ہی بات چیت کرتے ہیں، کچھ مقامی افراد جو اپنی بچیوں کو اسکول بھیجنے پر راضی ہوۓ ہیں مگر انجانے خوف سے عمل کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں. 

میری بنیادی ذمہ داری میں آشیانہ اسکول کے انتظام اور بچوں کو تعلیم دینا شامل ہے. میں کیونکہ پیشے کے حساب سے ایک استاد ہوں اور اپنے زمانہ طالبعلمی سے ہی پڑھاتا رہا ہوں تو عدنان بھائی اور دیگر کارکنان نے مجھ کو آشیانہ اسکول کا نگران منتخب کیا ہے اور مجھ کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ جب تک یہاں مقیم ہوں یہاں کے بچوں کو بہتر سے بہتر انداز میں تعلیم ڈان اور یہاں کے کچھ پڑھے لکھے لوگوں کی تربیت کر کے اساتذہ بنا جاؤں تاکہ میرے یہاں سے جانے کے بعد یہاں کے لوگوں میں علم حاصل کرنے کا جوش بر قرار رہے، جس کے لئے میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں اور پوری محنت و لگن کے ساتھ چاہتا ہوں کہ یہاں کے بچوں میں علم حاصل کرنے کی جستجو پیدا ہو سکے، یہاں کے بڑے، بزرگ علم کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے بچوں کو درسگاہوں میں بھیجیں. (انشا الله ہم سب ایک نہ ایک دن اپنی اس کوشش میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے)

پاکستان کے دیگر شہروں کے برخلاف یہاں کے مقامی لوگ جو برسوں سے میرانشاہ میں مقیم ہیں. یا شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں سے امن و سکون اور روزگار کی تلاش میں میرانشاہ میں آکر مقیم ہو رہے ہیں کے ذہنی حالت بہت زیادہ  خراب ہے.یہاں کے مقامی لوگ ہمیشہ کسی نہ کسی انجانے خوف کا شکار رہتے ہیں. خاص کر یہاں کے جوان، اور بچے، خواتین کی حالت بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے، یہاں خواتین کو صنف نازک سے کچھ زیادہ ہی سمجھا جاتا ہے، بہت کم امری میں شادی کردینا عام بات ہے خواتین نہایت پردے میں رکھی جاتی ہیں جس کی وجہہ سے ان میں شعور موجود نہی. کچھ خواتین جو کچھ زیادہ سوال جوان کرتی ہیں یا باہر کی دنیا سے آشنا ہونا چاہتی ہیں ان کو سزا کے طور پر کمروں میں قید کر دیا جاتا ہے. یا پھر میرانشاہ سے کہی دور بھیج دیا جاتا ہے. 

ایک بات جو یہاں قبل ذکر مجھ کو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں مذہبی رواداری بہت اچھی ہے. مقامی لوگ ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے ہیں، ایک دوسرے کے خوشی یا غم میں شریک ہوتے ہیں، علاقہ غیر یا کسی انجن کے میرانشاہ میں داخل ہوتے ہی ہر کسی کو اس کی فکر ہوتی ہے. ایک روٹی کو آپس میں تقسیم کر کے کھاتے ہیں. صبح فجر پر اٹھ جاتے ہیں اور رات جلدی سو جاتے ہیں. خالص دیسی ماحول!

سیکورٹی  ادارے جس جانفشانی سے یہاں کام کر رہے ہیں، اس کی جتنی تعریف کاری جائے کم ہے. اپنی جنوں کو ہمیشہ خطروں میں ڈال کر یہاں کے مقامی افراد کو ہر طرح کی سیکورٹی دینے کی پوری کوشش کرتے ہیں. مگر پھر بھی یہاں ایک انجن خوف جو یہاں کے رہنے والے ہر فرد کے چہروں پر دیکھا جا سکتا ہے یہاں تک کے میرے چہرے پر بھی ہر وقت چھایا رہتا ہے. یہ خوف شاید موت کا ہے یا پھر ایسی اذیت کا جس کے ہم کسی بھی طرح متحمل نہی ہو سکتے. خاص کر جب کبھی شمالی وزیرستان کے کسی بھی علاقے میں ڈرون حملہ ہوتا ہے اس کے بعد یہاں میرانشاہ میں ہلچل مچ جاتی ہے ہر طرف ایک سناٹا چا جاتا ہے. لوگ آپس میں بھی باتیں کرنا ختم کر دیتے ہیں. اور خود کو گھروں تک محدود کر لیتے ہیں. ایسے میں ہماری حالت بھی بہت خراب ہوتی ہے اور ہم سب ایک طرف بیٹھ کر یہی سوچتے ہیں کہ اب ہمارا کیا ہوگا؟ کہیں ہم پر بھی کوئی غلط اور جھوٹا الزام نہ لگا دیا جائے.

ایک مسلم کی حثیت سے موت سے ڈرنا نہیں چاہیے کیونکہ موت تو بار حق ہے مگر پتا نہیں کیوں مجھ کو ای انجن خوف نے جکڑ رکھا ہے، اور شاید میری جیسی حالت یہاں کے مقامی لوگوں اور ٹیم آشیانہ کے دیگر کارکنان کی بھی ہے بس کوئی اظہر کر دیتا ہے اور کوئی نہیں کرتا. 

فلحال  کے لئے اتنا ہی. امید کرتا ہوں آج نہیں تو کل میری یہ ڈائری میرے گھر والوں، دوستوں اور آپ سب تک پہنچ ہی جائے گی. آپ سب سے بس ایک ہی درخواست ہے. آپ ہماری (ٹیم آشیانہ) کی مدد کریں یا نہ کریں یہ آپ کی مرضی ہے. مگر شمالی وزیرستان جیسے خطرناک علاقے میں فلاحی خدمات سر انجام دینے والے میرے ساتھیوں کے لئے دعا ضرور کریں کہ الله ہم سب کو ہمت دے، حوصلہ دے، صبر دے کہ ہم اس آزمائش سے نبرد آزماں ہو سکیں. باقی اگر ہم میں سے کسی کی موت یہاں لکھی ہے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اس کو نہیں روک سکتی. دعا ہے تو بس فلاح کی، امن کی، سکوں کی اور عزت والی موت کی. 

میں  اس وقت بھی آشیانہ کیمپ میں مقیم ہوں، کراچی میں تو لائٹ (بجلی) آ ہی جاتی ہے، یہاں تو کافی دن ہوۓ بلب ضرور دیکھیں ہیں مگر جلتے کب ہیں یہ نہیں پتہ. دن کے وقت گرمی اور رات میں تھوڑا بہتر موسم ہوتا ہے. کھانے کے لئے جو کچھ ملتا ہے الله کا شکر ادا کر کے صبر سے کھا لیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کے الله پاک عزت کی زندگی دے - آمین.

کراچی اور جہاں کہیں بھی لوگ مجھے پڑھ رہے ہیں سب کو سلام دوستوں کو بہت دعا.

اسلام و علیکم 
احمد 
کارکنان و نگران 
آشیانہ اسکول، میرانشاہ، شمالی وزیرستان.
پاکستان