Thursday, March 07, 2013

Waziristan Dairy: Dairy written by Syed Adnan Ali Naqvi



اسلام و علیکم 

ڈائری بہت لمبی ہے اور وقت کی کمی اکثر رہتی ہے، پھر بھی کوشش کرتا ہوں کے جتنا لکھ سکتا ہوں لکھوں. آج میں اپنے الفاظ نہیں لکھ رہا ہوں. بلکہ عدنان بھائی کے الفاظ لکھ رہا ہوں جنہوں نے ہم کو فلاحی کام کرنے کی ترغیب دی. ہم کو فلاحی کاموں کی اہمیت سے آگاہ کیا اور آج میں اور ہم سب ہی دوست عدنان بھائی کے ساتھ فلاحی کاموں میں جس قدر حصہ لے سکتے ہیں لے رہے ہیں.

عدنان بھائی کی ڈائری جو گزشتہ روز ہی مجھ کو ملی ہے. 

جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں ویسے ہی ہمارے فلاحی کاموں میں اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے. کراچی سے آنے والے ہمارے دوستوں نے جو مشورے یہاں (میرانشاہ) سے روانہ ہوتے وقت ہم کو دے تھے ہم تمام کارکنان نے ان سب ہی مشوروں پر بہت غور کیا اور آخر کر اسی نتیجے پر پہنچے کہ ہم کو یہاں (میرانشاہ) میں جاری فلاحی کاموں کو مزید تیز اور بہتر انداز میں کرنے کے لئے اپنے طریقے اکار میں کچھ بنیادی تبدیلیاں کرنا ہونگی. تمام مقامی کارکنان اور دوستوں کے ساتھ بار بار کے بیٹھک (میٹنگ) کے بعد ہم نے کچھ نتائج اخذ کے ہیں اب ہم انہی کو استعمال کرتے ہوۓ اپنے فلاحی کاموں کو جاری رکھیں گے. 
آج ایک بہت لمبے وقت کے بعد کراچی اور کینیڈا میں مقیم اپنی فیملی (خالہ، خالو، کزن، بھائی، بہن، اور بھانجے بھانجیوں سے بات کرنے کا موقع ملا) پتا نہیں کیوں پوری ہمت کرنے کے باوجود بھی دل بھر آیا اور میرے ساتھ ساتھ میری فیملی کے لوگ بھی جی بھر کے رو پڑے. شاید ہم سب ایک دوسرے کو بھول ہی چکے تھے. برسوں سے فلاحی کاموں سے منسلک ہونے کے بعد کبھی سکوں سے بیٹھ کر اپنے بارے میں اور اپنی فیملی (خاندان) کے بارے میں سوچنے کا موقع بھی نہیں ملا. ہر دن اور ہر رات بس اسی فکر میں گزرتی جا رہی ہے کہ اب کیا ہوگا؟ میں جس کام کو مختصر مدت کا سمجھ رہا تھا یہ فلاحی کام تو چلا ہی جا رہا ہے. اور فلاح کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آرہی ہے. بس الله پاک سے یہی دعا ہے کہ مجھ کو ہمت دے اور حوصلہ، استقامت دے کہ میں اسی جذبے کے ساتھ فلاحی کاموں سے منسلک رہوں. نہیں تو میں بھی ایک انسان ہوں اور یہ حد تک ہی دباؤ برداشت کر سکتا ہوں. میں تو اپنے دوستوں، خاندان والوں، اور احباب کا دل سے شکر گزر ہوں جو ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں. اور شاید یہی وجہہ ہے کہ میں ابھی تک یہاں موجود ہوں. 

ڈائری لکھنا بھی ایک بہت بڑی ذمہداری ہے، جس میں روز گزرتے حالات کے ساتھ ساتھ مجھ کو خود بھی اپنی شخصیت  اور اپنے فلاحی کاموں کا موازنہ  کرنے کا موقع ملتا ہے. اور آنے والے وقت کے لئے بہتر پلاننگ کرنے کے لئے بھی ایک اچھی دستاویز موجود رہتی ہے. 

یہاں (میرانشاہ) کے حالات کے بارے میں اگر کچھ لکھوں تو صرف اتنا کے برسوں سے (جب سے میں شمالی وزیرستان آیا ہوں) زندگی پر جمود طاری ہے. سب کچھ روز کی طرح ہی ہوتا ہے. لوگ صبح اٹھتے ہیں اور پہلے سے طے شدہ معملات زندگی کے مطابق اپنا دن گزارتے ہیں. سردی ہو یا گرمی    سب کے معملات بلکل اسی انداز میں جاری رہتے ہیں. 

آشیانہ کیمپ کے معملات بھی کبھی کبھی جمود کا شکار ہو جاتے ہیں. فنڈز کی کمی تو اپنی جگہ رہتی ہی ہے مگر سماجی اور معاشرتی مسائل بھی ہمیشہ سے ہی موجود رہتے ہیں. جو لوگ شمالی وزیرستان کی تہذیب و تمدن سے آگاہ ہیں تو وہ یہ بھی جانتے ہونگے کہ یہاں مختلف قبائل رہتے ہیں اور ہر قبیلے کے رسم و رواج، طور طریقے الگ الگ ہیں. اور ہم جیسے سمجی کارکنان کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلنا کبھی کبھی مشکل ہو جاتا ہے، پھر بھی مقامی لوگوں کے تعاون سے ہم کسی نہ کسی حد تک  اپنے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں. 

الله پاک کے فضل و کرم سے ہم یہاں (میرانشاہ) میں مقامی لوگوں کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کے ہم کو یہاں ایک اسکول کھولنے کی اجازت دی جائے جہاں ہم یہاں بچے اور بچوں کو تعلیم دے سکیں، آشیانہ کیمپ کے ٹینٹ کو ہی آشیانہ اسکول کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے. آج پہلے دن قریب ٢٢ بچے اور بچیاں اس اسکول میں داخل ہوۓ ہیں اور ہم کو پورا یقین ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اسکول میں آنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوگا. ہم جب سے یہاں (شمالی وزیرستان) میں ہیں یہی محسوس کر رہے ہیں کہ یہاں کے اصل رہنے والے مقامی لوگ بہت پرامن ہیں اور یہاں کی بگڑتی صورت حال سے بہت پریشان ہیں. مشاب یا مسلک کا یہاں کوئی مثلا نہیں ہے صرف اور صرف سمجھی اقدار کا مسلہ ہے جو سب قبول نہیں کر پا رہے ہیں. ہم بھی یہاں کے لوگوں کو یہی بتانے اور سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر ہم اپنے بچوں کو تعلیم دینا شروع کر دیں تو شاید ہم کسی حد تک یہاں کے لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کر لیں. اور انشا الله جس طرح ہم یاں پر معمولی سی تبدیلی کو محسوس کر رہے ہیں کہ لوگ اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے بہت فکرمند ہیں اور اب چاہتے ہیں کہ ان کے بچے بھی کچھ کریں تو ایک دن یہی تبدیلی یہاں پر امن اور یہاں کے لوگوں کے حالت بدلنے میں بہت مدد گار ثابت ہوگی. انشا الله 

تفصیلات بہت طویل  ہیں، بشرط زندگی اگلی دفع میں تحریر کروں گا. 

عاجز 
سید عدنان علی نقوی 
آشیانہ کیمپ 
١٥ کلومیٹر 
میرانشاہ، شمالی وزیرستان.