Wednesday, July 11, 2012

شمالی وزیرستان کے بچوں کے بدلتے ہوۓ ذہن اور ٹیم آشیانہ

محترم دوستوں اور ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے کارکنان،
اسلام و علیکم.

گزشتہ روز ٹیم آشیانہ (دتہ خیل، شمالی وزیرستان) نے دتہ خیل کے قریب ہی ایک میڈیکل کیمپ لگایا تھا. جہاں ہم نی  پاس تمام ادویات کا استعمال کیا. ہمارا کیمپ بہت زیادہ لوگوں کی دوائی اور علاج کا انتظام نہیں کر سکا. کچھ تفصیل اور آنکھوں دیکھا حال تحریر کر کے روانہ کر رہا ہوں دوست اور احباب سے توجہ اور مدد کی درخواست ہے.

ہمارے کیمپ دتہ خیل سے کچھ ہی فاصلے پر لگایا گیا میران شاہ سے ہے ہوۓ دو (٢) ڈاکٹرز نے ہمارا ساتھ دیا ہم ڈاکٹر حسام اور ڈاکٹر توصیف کے شکر گزار ہیں کے اس مشکل وقت میں ٹیم آشیانہ کے کیمپ میں تشریف لاۓ اور یہاں موجود بچوں اور دیگر کا علاج کیا. ٹیم آشیانہ اور تمام لوگ آپ دونوں ڈاکٹرز کے لئے دعاگو ہیں. الله پاک آپ کو اس خدمت کے لئے اجرعظیم عطا فرماے، آمین.

ٹیم آشیانہ کے گزشتہ روز لگے میڈیکل کیمپ میں بخار، پیٹ کے امراض اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ١٠٠ سے زیادہ بچے لائے گئے. ان بچوں میں سے ١٠ -١٣ بچوں میں خسرہ کی بیماری تشخیص کی گئی ادویات اور سہولت نہ ہونے کے سبب ان بچوں کو میران شاہ کے مقامی اسپتال لے جانے کے لئے کہا گیا الله پاک ان بچوں کو زندگی عطا فرماے اور ہم کو انتے وسائل عطا فرماے کے ہم ٹیم آشیانہ کے کیمپ میں ہے ان بچوں کا سہی علاج کر سکیں، آمین.

میڈیکل کیمپ میں کچھ حاملہ خواتین کو بھی لایا گیا مگر ہمارے پاس حاملہ خواتین کے لئے کوئی ادویات نہیں تھی اس لئے ان کے علاج سے معذرت کر لی گئی. (ایک اور مسلہ ہمرے ساتھ کسی خاتون ڈاکٹر کا نہ ہونا تھا)

میڈیکل کیمپ میں کچھ اور خواتین اور مرد حضرت بھی لائے گئے جن کو مختلف امراض کی شکایات تھی جن کو دستیاب ادویات دے کر میران شاہ کے کسی اسپتال میں تفصیلی چیک اپ کرانے کا مشورہ دیا گیا. 

یہاں موسم اور حالات آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں. پورے دتہ خیل میں صرف ایک ہی کلینک موجود ہے جہاں اکثر ادویات یا ڈاکٹر موجود نہیں ہوتے. ٹیم آشیانہ ایک عرصے سے یہاں کے لوگوں کے لئے فری میڈیکل کیمپ لگا رہی ہے مگر ہم بھی فنڈز کے عدم دستیابی ، ڈاکٹرز کے عدم موجودگی ادویات کے نہ ہونے کے سبب اپنا میڈیکل کیمپ کی سہولت بار بار نہیں دے سکتے. اس دفع بھی ہم چاہ کر بھی ہم یہاں کے لوگوں کی مدد نہیں کر سکے، جس کے لئے ہم الله پاک کے حضور معافی اور توبہ  کرتے ہیں اور بہت شرمندہ ہیں. 

بلال محسود اور کچھ بچوں کے خیالات:
بلال محسود کا ذکر میں اکثر کرتا ہوں، میں جب بھی نادم  ہوتا ہوں، شرمندہ ہوتا ہوں، کچھ کر نہیں پاتا یا کچھ سمجھ نہیں آتا تو بلال کے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں، بلال مجھ سے ہر بات کرتا ہے اور اس کے ذہن میں جو بھی ہوتا ہے کھ ڈالتا ہے، رات کو بلال کچھ بچوں کو لے کر میرے پاس آیا    ان بچوں کے کپڑے بہت میلے اور پورانے تھے، بچوں کو سہی سے اردو بولنا بھی نہیں آتی تھی، بچوں نے مجھ سے بہت محبت سے سلام کرا اور ایک طرف ادب سے بیٹھ گئے. بلال میرے اور بچوں کے درمیان مترجم کا کردار ادا کر رہا تھا. مجھ کو اب اکثر ایسا محسوس ہونے لگا تھا کے جیسے بلال میرا چوتھا بھائی ہے جب وہ سامنے ہوتا ہے تو میں کچھ نہ کچھ سمجھاتا رہتا ہوں اور جب سامنے نہیں ہوتا  تو مجھ کو اس کی فکر ہونے لگتی ہے کہ وہ کہا ہوگا؟ کیا کر رہا ہوگا؟ پتا نہیں اس نے کھانا بھی کھایا ہے یا کس حل میں ہے؟ میں نی بلال کو ایک دفع پھر ٹیم آشیانہ کے حالات بتانا شروع کیے بلال کی حالت مجھ سے بھی زیادہ خراب ہونے لگی وہ اپنی ہے سوچ میں گم ہو گیا، میں نے بلال کو سمجھایا کے ہم اس ترہان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا. تو بلال نے جو جواب دیا اس نے مجھ کو دہلا کر رکھ دیا. 
اس نے مجھ سے کہا "بھائی آپ اپنے دوستوں کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو چلے جاؤ، ہم لوگ تو ویسے بھی زندگی کو بھول چکے ہیں، یہاں طالبان والے آتے جاتے رہتے ہیں، اور ہم کو جہاد پر جانے کا کہتے ہیں اور ہم کو لالچ دیتے ہیں کے جس گھر کا ایک بندہ جہاد پر جائے گا اس کے گھر والوں کے ہر بات کا خیال وہ لوگ کریں گے جو بندہ ایک امریکی کو مارے گا اس کو بہت پس اور عزت ملے گی، جو بندہ جہاد میں شہید ہوگا اس کے گھر والوں کے ساری زندگی خیال رکھا جائے گا اس ترہان کے بہت لالچ دیا جاتا ہے. حالات سے مجبور اور تنگ لوگ جہاد پر جانے کی حامی بھر لیتے ہیں اور ان کے گھر والوں کا یہ لوگ خیال رکھتے ہیں.  تو بھائی آپ واپس جاؤ ہم لوگ (بلال اور بچے) جہاد پر جانے والوں میں نام لکھوا لیتے ہیں اس طرھ ہمارے گھر والوں کی پریشانی اور تکلیفیں تو دور ہونگی ." 
میں بلال کی باتیں سن کر بہت زیادہ پریشان ہو گیا تھا، میں نے عدنان بھائی کو بلوایا اور ان کے سامنے ساری بات رکھی. عدنان  بھائی کے چہرے پر بھی پریشانی کے آثار نظر آرہے تھے، انہوں نی بہت شفقت اور محبت سے بلال کے سر پر ہاتھ پھیرا بلال رونے لگا تو اور بچے بھی رونے لگے مجھ کو اور عدنان بھائی کو بھی رونا آگیا. کچھ دیر بعد عدنان بھائی نے سورۂ فاتحہ تلاوت کری اس کا پشتو، اردو ترجمہ کیا. صبح بچوں کو سمجھایا کے الله پاک کیا فرماتے ہیں. پھر جہاد کے بارے میں کچھ بتایا کے جہاد کیا ہے؟ اور کس کس قسم کا ہوتا ہے؟ اور الله کی راہ میں جہاد کس کو کہتے ہیں. اور جو طالبان کہ رہے ہیں یا کر رہے ہیں وہ کونسا اور کیسا جہاد  ہے؟ اور اس جہاد کو جہاد نہیں خودکشی کہا جاتا ہے. میں جب سے ٹیم آشیانہ کے ساتھ ہوں عدنان بھائی کو ہمیشہ بہت محتاط انداز میں بات کرتے دیکھا اور سنا ہے، وہ کبھی ایسی بات نہیں کرتے جس سے ٹیم آشیانہ یا مقامی لوگوں کو کوئی پریشانی ہو  مگر آج وہ بہت کھل کر طالبان اور شدت پسندوں کے خلاف اظہار کر رہے تھے، اور بچوں کو بچوں کے ہی انداز میں سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، میں سمجھ گیا تھا کے خود عدنان بھائی بھی بچوں کی بدلتی سوچ سے پریشان ہیں اور میں تو خوفزدہ ہی تھا. وہ کچھ دیر بچوں کے ساتھ بیٹھ کر واپس دوسرے ساتھیوں کے پاس چلے گئے. اور مجھ کو بچوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہنے کا اشارہ کر دیا. میں نی ایک دفع پھر دل سے الله کو یاد کیا اپنے گناہوں پر معافی مانگی توبہ کاری اور دعا کاری کے میرا رب (الله) مجھ کو اتنی ہمت اور طاقت دے کے میں ان بچوں کے بدلتے ہووے ذہنوں کو بدل سکوں اور ان کے خیالات کو سہی کر سکوں. آمین.

میں نے بلال کے ذریے باقی بچوں کو مخاطب کیا اور بچوں کو تعلیم کی طرف توجہ دینے کا کہا بچوں کو تعلیم کے فوائد اور آسانی کے بارے میں بتایا اور کوشش کاری کے بچوں میں پڑھنے لکھنے کا شعور بیدار ہو. جب میری بات مکمل ہوئی تو بلال پھر سے بولا، "بھائی جب ایک انسان دن بھر کا بھوکا ہو، اور اس کی ماں، بہن، بھائی یا باپ بیمار ہو اور دوا نہ ہو، سر پر ڈرون ہوں اور زمیں پر فوج حملے کر رہی ہو تو کوئی بھلا کیسے کتاب کھول کر بیٹھ سکتا ہے؟ بلال کی یہ بات غلط نہیں تھی اور بلکل سہی تھی،  ہم (ٹیم آشیانہ) ان حالات کا سامنا کر رہی ہے، ہم کسی بھی فلاحی کو پوری دلجمعی سے نہیں کر پا رہے ہیں تو ان بچوں کی سوچ سہی ہے یہ لوگ تو یہاں کے رہنے والے ہیں اور ان سب مشکلات میں گھرے ہوے ہیں. یہ بھلا کیسے پڑھیں گے؟ میرے دل میں ایک خیال آیا میں نی بچوں سے کہا کے وہ اپنے اپنے گھروں یا ٹھکانے پر جائیں اور کل صبح پھر میرے پاس ہے ہم کم از کم مل کر بیٹھ تو سکتے ہیں بات تو کر سکتے ہیں. اور الله کو یاد کرتے رہیں. الله پاک ضرور کوئی نہ کوئی راستہ دکھائے گے.
 سب چلے گئے مگر بلال نہیں گیا کچھ بولا بھی نہیں مگر اس کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کے اس کی سوچ کس راستے پر چل پڑی ہے، اور یہی سوچ کر مجھ کو خوف محسوس ہو رہا تھا. میں نے بلال سے ادھر ادھر کی باتیں کرنا شروع کاری مگر وہ کچھ نہیں بول رہا تھا بس کبھی آسمان کی طرف دیکھتا کبھی میری طرف کبھی زمیں کی طرف بول کچھ نہیں رہا تھا. میری معلومات کے مطابق وہ شدید نفسیاتی دباؤ میں تھا یا پھر پچھلے دنوں میں شدت پسندوں کا کوئی رہنما بلال کی ذہن پر اچھی ترہان کم کر چکا تھا اور اگر ایسا تھا تو بلال بھی، میں اس سے آگے کچھ اور سوچنا نہیں چاہتا تھا، مجھ کو جو بھی کرنا تھا بہت جلدی کرنا ہوگا، یہی سوچ کر میں نی بلال کو ساتھ لیا اور عدنان بھائی کی طرف چلا گیا. میں بلال کو لے کر بہت زیادہ پریشان  ہوں. 

عدنان بھائی سے مل کر کیا باتیں ہوئی؟ میں کیا سوچ رہا ہوں یہ سب میں انشا الله اگلی ڈائری میں لکھوں گا. فلحال مجھ کو کم از کم بلال کو بچانا ہے، بلال کو حرام موت نہیں مرنے دینا، اور میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کے مجھ کو کیا کرنا ہے. آپ سب میرے لئے، بلال کے لئے اور ٹیم آشیانہ کے لئے دعا کریں کے ہم ثابت  قدم رہیں، اگر ہم غلط ہیں، ہماری سوچ اور فکر غلط ہے تو الله پاک ہم کو  ہدایت دے، ہم کو سیدھا راستہ دکھائے جس پر چل کر ہم سب اپنے بچوں کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روک سکیں، ملک دشمن اور اسلام دشمن لوگوں سے محفوظ رکھ سکیں. آمین.

کارکن،
ٹیم آشیانہ، دتہ خیل، شمالی وزیرستان.