Monday, June 23, 2014

نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ




پاکستان کے قبائلی علاقے کی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ان میں 42 فیصد تعداد بچوں کی ہے۔
فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پناہ گزینوں کی کُل تعداد 423666 ہو گئی ہے جبکہ ان میں خواتین کی تعداد 133722 ہے اور بچوں کی تعداد 178523 ہے۔

شمالی وزیرستان میں پیر کے روز بھی کرفیو میں نرمی کی گئی تاکہ شہری نقل مکانی کر سکیں۔
اتھارٹی نے مزید کہا ہے کہ 34625 خاندانوں میں سے صرف 18 خاندانوں نے ایف آر بنوں کے علاقے بکا خیل میں قائم پناہ گزین کیمپ میں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق شمالی وزیرستان سے افغانستان کے راستے کرم ایجنسی آنے والے 212 خاندانوں کے 1714 افراد کو رجسٹر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ہلال احمر پاکستان کے میڈیا افسر خالد بن مجید نے بتایا کہ ہلالِ احمر 40 ہزار پناہ گزینوں کو اشیائے خورد و نوش اور صاف پینے کا پانی فراہم کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہلالِ احمر کے چیئرمین ڈاکٹر سعید الٰہی نے احکامات جاری کیے ہیں کہ چھ موبائل ہیلتھ کلینک بھی شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے دستیاب کیے جائیں۔


واضح رہے کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں کی سب سے بڑی تعداد شمالی وزیرستان میں ہے جہاں جون 2012 سے پولیو مہم معطل کر دی گئی تھی۔
عالمی ادارۂ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے آغاز کے باعث بڑی تعداد میں نقل مکانی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ملک کے دیگر علاقوں میں بھی پولیو وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔
پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت کے پولیو کوآرڈینیٹر ڈاکٹر زبیر مفتی کا کہنا ہے: ’دو سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے کہ شِمالی وزیرستان میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے۔ اب جبکہ یہ آبادی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرکے باہر آئی ہے تو بھرپور موقع ہے کہ اِن افراد کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں۔‘
ڈاکٹر زبیر مفتی نے کہا کہ دوسرے ملکوں کے تجربے سے یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جن علاقوں میں ویکسینیشن نہیں کی جاتی وہاں سے پناہ گزین دوسرے علاقوں کا رُخ کرتے ہیں تو اُن سے میزبان کمیونٹی کو بھی پولیو سمیت صحت کے دیگر مسائل کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔
’اسی لیے ایسے پناہ گزینوں کو تلاش کر کے فوری طور پر پولیو سے بچاؤ کےقطرے پلائے جانے چاہییں۔‘
نقل مکانی کرنے والے افراد کو رجسٹریشن پوائنٹ پر پولیو کے قطرے پلائے جانے پر عالمی ادارۂ صحت کے نمائندے کا کہنا ہے: ’اِن پناہ گزینوں کو کم از کم چار مراحل میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ضروری ہیں۔ لیکن چونکہ یہ افراد کیمپوں کے بجائے مختلف علاقوں میں اپنے عزیز و اقارب یا رشتے داروں کے یہاں قیام کررہے ہیں تو انھیں تلاش کرکے پولیو سے بچاؤ کا مکمل کورس کرانا ذرا مشکل کام ہوگا۔