Friday, October 11, 2013

زلزلہ: اقوام متحدہ کے امدادی کارکنان کو بلوچستان جانے سے روک دیا گیا

پاکستان نے اقوام متحدہ کے اداروں کو بلوچستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے اور منگل کو بذریعہ سڑک آواران روانگی کے لیے کراچی پہنچنے والے اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے ارکان کو روک دیا گیا ہے۔

دوسری طرف وزیر اعلٰی بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی از سر نو آباد کاری کے لیے عالمی اداروں کو کام کرنے کی اجازت دیں۔
 
دریں اثنا صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے شعبۂ ایمرجنسی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فواد خان نے بی بی سی کو بتایا ڈبلیو ایچ او ، یونیسیف اور ورلڈ فوڈ پروگرام سمیت اقوام متحدہ کے تمام ہی اداروں کے نمائندے کوئٹہ سے کراچی پہنچے تھے اور یہاں سے انہیں بذریعہ سڑک آواران جانا تھا لیکن نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے انہیں اجازت نہیں دی، اس لیے مشن کو مؤخر کردیا گیا ہے۔
 
اقوام متحدہ کے یہ ادارے صحت، غذائیت، شیلٹر، خوراک اور واش کلسٹر کی صورت میں کام کرتے ہیں۔
 
ڈاکٹر فواد خان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مشن مقامی ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کرتے ہیں پھر متاثرہ علاقوں میں جاتے ہیں اور ضروریات کا جائزہ لیتے ہیں جن کی بنیاد پر امدادی کام شروع کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صحت کے عالمی ادارے کے جو مقامی لوگ پولیو مہم میں کام کرتے ہیں اب وہی ان کی آنکھیں اور کان ہیں، یہ لوگ متاثرہ علاقے میں آسانی سے سفر کر رہے ہیں اور انہیں اب تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ پاکستان کی حکومت نے اس سے پہلے فرانس کے ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کو بھی زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دینے انکار کردیا تھا۔
 
پاکستان کے نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان ادریس محسود کا کہنا ہے کہ حکومت نے بین الاقوامی اداروں یا ممالک سے مدد کی اپیل نہیں کی ہے کیونکہ حکومت سمجھتی ہے کہ متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے اس کے پاس وسائل، اہلیت اور قابلیت موجود ہے۔
 
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے بین الاقومی اداروں سے مدد کی اپیل کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ جس پیمانے کی تباہی ہوئی ہے وہ اکیلے اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

این ڈی ایم کے ترجمان نے اس ایپل سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ نے قومی اداروں اور مخیر حضرات سے مدد کی اپیل کی ہوگی، کیونکہ بین الاقوامی مدد کا فیصلہ وفاقی حکومت کرتی ہے۔
 
بلوچستان کے صوبائی ڈزاسٹر مینجنمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ زلزلے سے آواران اور کیچ کی پونے دو لاکھ آْبادی متاثر ہوئی ہے، جبکہ قومی ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کا دعویٰ ہے کہ متاثرین کی تعداد سوا لاکھ ہے۔