Wednesday, June 27, 2012

ٹیم آشیانہ: ایک دفع پھر میدان عمل من

محترم دوستوں اور ساتھیوں،
اسلام و علیکم،

ٹیم آشیانہ ایک دفع پھر قومی خدمت ک جذبے سے سرشار ہو کر شمالی وزیرستان روانہ ہو چکی ہے، ہم اس سے پہلے ٹیم آشیانہ کا فلاحی کاموں کی تفصیلات اور خدمات یہاں اور دیگر طریقوں سے آپ کو بتاتے رہے ہیں. آپ سب کے دیے گئے عطیات اور فنڈز سے ہی ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان میں موجود اپنے پاکستانی بھائی بہنوں کے لئے خدمات سرانجام دے رہی ہے. افسوس کے گزشتہ ماہ بار بار ہونے والے ڈرون حملوں اور پاکستانی افواج کی کاروائی کے سبب ٹیم آشیانہ کو بھی حفاظتی اقدام کے طور پر شمالی وزیرستان سے باہر آنا پڑا. مگر ہمارا یہ قدم ٹیم آشیانہ کے کارکنوں کی جنوں کی حفاظت کے لئے تھا نہ کے ہم کسی دار اور خوف کے سبب شمالی وزیرستان چھوڑتے. دتہ خیل اور میران شاہ کے علاقوں میں بار بار کے ڈرون حملوں نی ایک خوف کا ماحول بنا دیا ہے ہم جتنی بھی محنت کر لیں مگر طالبان اور ان سے متاثر لوگوں کے غم، دکھ اور  تکالیف کو الفاظوں میں بیان نہیں کر سکتے. 

میں (فریال) جب  سے واپس کینیڈا گئی تھی تو اس امید پر کہ شاید آنے والے وقتوں میں یہاں کے حالات میں کچھ بہتری آجاۓ گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا، بلکہ ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا، ہماری افواج نی بھی جہاں جہاں شدت پسندوں کی نشان دہی ہوئی وہاں حملہ کیا، شاید ان حملوں میں شاید کچھ شدت پسند اور طالبان مارے بھی گئے ہوں مگر اکثر مقامی لوگوں کا جانی اور ملی نقصان ہوا جن کی تفصیل کچھ وجوہات کی بنا پر میں یہاں نہیں لکھ سکتی. عدنان بھائی اور ٹیم آشیانہ کے ممبران کو بھی دتہ خیل چھوڑ کر پہلے میران شاہ پھر پشاور جانا پڑا. ٹیم آشیانہ جو برسوں سے مقامی (شمالی وزیرستان) میں رہنے والوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثر لوگوں کے لئے خدمات انجام دے رہی ہے، وہاں کے لوگوں میں پاکستان کی محبت اور وفاداری کا جذبہ جگانے کی کوشش کر رہی ہے، اسلام کا سہی اور حقیقی تصور جگانے کی کوشش کر رہی ہے، شمالی وزیرستان کے بچوں اور بچیوں میں تعلیم اور علم کی شمع جلانے کی کوشش کر رہی ہے، اور تنہا یہاں کے مشکل ترین حالات کا سامنا کرتے ہوۓ کام اور فلاحی منصوبوں کو مکمل کرنے کی کوشش میں ہے، ہم کواس طرھ کے حملوں اور اقدامات سے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے. مشکل یہ ہے کہ ہمارے عقلمند اور زیرک حکمران اور فلاحی خدمات کا دعواہ کرنے والے ادارے پتا نہیں کیوں شمالی وزیرستان سے منہ موڑے ہوے ہیں. ہم نے بہت دفع حکمرانوں کو سماجی اور فلاحی اداروں کو خطوط تحریر کیے، رابطے کیے، مگر صرف زبانی تسلی اور وعدوں کے کچھ نہیں سنا اور ملا.

گزشتہ ہفتوں کے دوران کیے  جانے والے ڈرون اور پاک افواج کے حملوں سے جہاں شدت پسندوں اور طالبان کا نقصان ہوا وہیں مقامی آبادی کا بھی بہت نقصان ہوا. سب سے بڑھ کر طالبان نی ایک دفع پھر سے اکثر علاقوں میں اپنی دھونس دھمکی چلانا شروع کر دی. ایسے علاقے جہاں ہم آسانی سے جا کر میڈیکل کیمپ لگا لیا کرتے تھے، لوگوں میں غزائی اجناس تقسیم کر دیا کرتے تھے، بچوں میں کچھ کتابیں دے دیا کرتے تھے، وہاں ابہ طالبان کی اجازت کے بغیر داخلہ ممکن نہیں رہا، سنا جا رہا ہے کے مقامی طالبان اور شدت پسند ہم کو بھی اچھا نہیں سمجھ رہے ہیں. ایسے حالت میں شمالی وزیرستان کے بے بس اور لاچار عوام کے لئے کام کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے.
میرے  کینیڈا سے آنے کے بعد عدنان بھائی نے ٹیم آشیانہ کے تمام دوستوں اور کارکنان سے گزشتہ روز ایک تفصیلی ملاقات کری جس میں تمام حالت کا جائزہ لیا گیا، شمالی وزیرستان کے حالات، وہاں کی لوگوں کو درپیش پریشانیاں، ٹیم آشیانہ کے سکول منصوبہ، صاف پانی کا منصوبہ، میڈیکل کیمپ کا منصوبہ، ٹیم آشیانہ کے سابقہ، موجودہ، اور درکار فنڈز کی تفصیلات، ٹیم آشیانہ کے مقامی کارکنان (شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کارکنان)، اور دوسرے علاقوں سے آنے والے کارکنان کے مسائل کا تفصیلی جایزہ لیا گیا. ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان نے شمالی وزیرستان میں فلاحی اور سماجی منصوبوں کو جاری رکھنے پر مکمل اتفاق پایا گیا، جس کے لئے قرآن پاک اور مختلف احادیث کا بھی حوالہ دیا گیا، دنیا کے دیگر علاقوں (خاص کر جنگ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے اداروں) کے کام کرنے کے انداز کا بھی جایزہ لیا گیا. اور ٹیم آشیانہ کے  سرپرست عدنان بھائی کو مکمل اختیار دیا گیا کہ وہ ٹیم آشیانہ کے  حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے ٹیم آشیانہ اس کو منظور کرے گے اور  عمل کرے گی.
عدنان بھائی ، نے گزشتہ رات بعد نمازعشا، ہم سب کو ایک دفع پھر اکھٹا کیا اور  کہا کہ،
"میرے  احترام دوستوں، تمام حالات کا تفصیلی جایزہ لینے کے بعد تفصیلی جایزہ لینے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ٹیم آشیانہ جیسے پہلے فلاحی اور سماجی کام سر انجام دے رہی تھی ویسے ہی کرتے رہے گی، ہم اپنے فلاحی منصوبوں کو ادھورا اور نہ مکمل نہیں چھوڑ سکتے. کچھ وقت کے لئے میں مطلبی یا خود غرض ہو گیا تھا، مگر اب ایسا نہیں، ہم شمالی وزیرستان میں صرف اور صرف خدمت انسانیت کے لئے موجود تھے، ہیں اور رہیں گے، ہم نے یہ سفر الله کے نام سے شروع کیا تھا اور آج تک ہمارا سفر جاری ہے، اور اس دنیا میں کوئی ایسی طاقت یا قوت نہیں جو الله پاک کی رضا کے لئے شروع کے گئے کام میں یا کام کرنے والوں کے لئے مشکلات  پیدا کرے،ہمارا ہی ایمان کمزور اور ادھورا ہے جو ہم کبھی جان اور کبھی مال کے خوف سے کمزور ہو جاتے ہیں یا ڈر جاتے ہیں. ہم کو الله پاک پر پورا بھروسہ، یقین اور امن رکھنا ہو، یہی ہماری طاقت ہوگی اور یہی ہمارا منشور اور یہی ہماری سب سے بڑی دولت. ہم کل (٢٧ مارچ ٢٠١٢) سے اپنا سفر پھر شروع کریں گے اور اپنے فلاحی کاموں کو مکمل کر کے اپنے فرض کو پورا کریں گے. ہمارے اس سفر میں جو ساتھ شریک ہونا چاہیں وہ کل صبح نماز فجر تک اچھی طرھ سوچ لیں اور سفر کی تیاری کریں اور جو ساتھ آرام کرنا چاہیں اور آرام کی غرض سے اپنے گھروں کو جانا چاہیں وہ بخوشی ہم کو الوداع کر سکتے ہیں. الله پاک ہم سب کی مدد کرے، ہمارا حامی اور ناصر ہو، الله پاک ہمارے ایمان کو مضبوطی دے، ہم کوصبر، ہمت، حوصلہ، اور استقامت دے، ٹیم آشیانہ کے پاسس ابھی جو کچھ ہے جتنا ہے ہم اسی کو لے کر صبح بعد نماز فجر میران شاہ روانہ ہو رہے ہیں، ٹیم آشیانہ کے کچھ کارکنان بشمول فریال بہن فلحال یہاں (جگہ کا نام نہیں بتا سکتی)روک کر ٹیم آشیانہ کے لئے بھیک مشن شروع کریں، اور ٹیم آشیانہ کے لئے فنڈز اکھٹا کریں. الله پاک ہمارے لئے بہتر سے بہتر اسباب کا راستہ ہم کو دیکھے. جزاک الله "

الله پاک کے فضل اور کرم سے ٹیم آشیانہ میران شاہ کے لئے روانا ہو چکی ہے میں (فریال) ابھی یہاں ہی ہوں اور آج سے بھک مشن شروع کر رہی ہوں. آپ جس ترہان چاہیں ہماری مدد کر سکتے ہیں. ٹیم آشیانہ کو درکار سامان کی تفصیل انشا الله آج رات تک بتا دی جاۓ گی. 

الله پاک ہم سب کو ہمت دے اور ہم کو ایک سچا اور با عمل مسلمان بننے کو توفیق دے- آمین 

جزاک الله خیر 
سیدہ فریال زہرہ 
کارکن ٹیم آشیانہ 
شمالی وزیرستان 

رابطے کے لئے 
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca 
faryal.zehra@gmail.com
team.ashiyana@gmail.com
+ 92 345 297 1618