Wednesday, March 21, 2012

From Waziristan ( A page of my dairy)

محترم دوستوں
اسلام و علیکم
میرا نام منصور احمد ہے اور آج ٹیم آشیانہ کی جانب سے مجھ کو یہ ذمےداری دی گی
ہے کہ میں ٹیم آشیانہ کے وزیرستان کے بارے میں ایک رپورٹ تحریر کروں اور
وزیرستان کے حالت کے بارے میں آگہی دوں. الله پاک کے حضور دعآ کرتا ہوں کہ
میرا رب مجھ کو سہی لکھنے اور بیان کرنے کی توفیق عطا فرماے - امین.
وزیرستان کے بارے میں میرا تجربہ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا ہے، میں ہمیشہ عدنان
بھائی اور ٹیم آشیانہ کے مستقل ممبران سے یہی کہتا رہا ہوں کہ پاکستان کے اور
بھی علاقے ہیں جہاں فلاحی کام بہت اچھے طریقے سے کیے جا سکتے ہیں، مگر عدنان
بھائی اور فریال بہن ہمیشہ میری اس تجویز کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے ہیں اور
وزیرستان یا وزیرستان جیسے دوسرے علاقوں میں ہی کام کرنے کو ترجیح دیتے رہے
ہیں، سندھ کے سیلاب زدگان کے لئے کام کرتے ہووے جو تجربہ مجھ کو حاصل ہوا اس
کو سامنے رکھتے ہووے ہی میں نے ٹیم آشیانہ وزیرستان میں شمولیت اختیار کری.
مگر اسلام آباد سے پشاور اور پھر ٹانک پھر وزیرستان تک کے سفر میں جو کچھ
دیکھا اور جو کچھ ہمری ٹیم کے ساتھ ہوا اس کو دیکھ کار میری ہمت بہت زیادہ پست
ہوئی. ہم لوگ ٣ دیں کے تھاکہ دینے والے سفر کے بعد جب میرامشاہ پہنچے تو بہت
بری زیادہ تھکن کا شکار تھے اور میں بہت زیادہ خوفزدہ بھی تھا. جگا جگا سکورٹی
کے ناکے کہیں قدامت پسند پٹھان. اف خدا کیسے کیسے منظر، سفر کے دوران میں
سوچتا جا رہا تھا عدنان بھائی اور ٹیم کس ترہان اتنے مشکل لوگوں کے ساتھ کام
کر رہی ہے. ایک تو زبان کا مسلہ پشاور سے مرامشاہ تک پتا نہیں کتنی دفع پشتو
زبان کو بدلتے دیکھا. میں کیوں کہ کراچی کا رہنے والا ہوں. اور اردو یا تھوڑا
بہت انگریزی سمجھ لیتا ہوں تو میرے لئے تو چپ رہنا ہی بھلا تھا. خیر جیسے تیسے
کر کے مرامشاہ آیا مرامشاہ کیا آیا میں تو جیسے یہاں کے لوگوں کے لئے ایک
عجوبہ بن گیا، گو کہ عدنان بھائی کی ہدایت کے مطابق میں نے قمیض شلوار پہن
رکھا تھا مگر چل ڈھال اور چہرہ تو پھر بھی شہر والا ہی تھا. میں آج سے ٢ برس
پہلے ایک بہت مختصر دورے پر وزیرستان آیا تھا صرف ٢ دیں کے لئے اس دفع کچھ
لوگوں سے ملنے کا شرف حاصل ہوا تو کچھ زیادہ تبدیلی نہیں تھی مگر آج کا
میرامشاہ کل کے میرامشاہ کل کے شہر سے بہت الگ اور بدلہ ہوا ہے. اور مجھ کو
عدنان بھائی اور فریال بہن کی بہت باتیں یاد آرہی ہیں. جبہ وہ ہم کو وزیرستان
کے بارے میں بتایا کرتے تھے تو عیسیٰ لگتا تھا کے جیسے ہم کوئی الف لیلہ کی
کہانی سن رہے ہیں مگر آج خود کو اسی وزیرستان میں دیکھ کر صبح کچھ سمجھ آرہا
تھا. خوبصورت وزیری بچے ہمارے اس پاس تھے، ہماری وزیری بہنیں لمبے لمبے
گھونگھٹ نکالے ہم سے دور کھڑی ہم کو دیکھ رہی تھیں. کچھ بزرگ عدنان بھائی سے
بات کرنے میں مصروف تھے. تھودا دیر بعد ٹیم آشیانہ کے ممبران نے میرا تعارف
کروانا شروع کیا. اور جبہ میں وزیری بھائی بہنوں کو سلام کر رہا تھا تو ایک
طرف خوف تھا کے جانے یہ لوگ مجھ کو کیا سمجھ رہے ہیں اور دوسری طرف الله پاک
کا شکر ادا کر رہا تھا کے اس نے مجھ کو یہ عزت بخشی کے میں یہاں کہ لوگوں کے
درمیان ہوں اور خود کو بہت خوش نسب سمجھ رہا تھا
ایک ایسی جگا جس کا نام سنتے ہی ڈرون کی یاد آجاۓ، خوفناک طالبان اور شدت پسند
جہادی لوگوں کی مکروہ اشکال نظر آنی شروع ہو جاۓ. آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ مجھ
جیسے انجن کا کیا حال ہوگا. مگر قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضے میں میری جان
ہے کے جیسے ہی میرا تعارف ان لوگوں سے ہوا ایسی اپنایت ملی کے میں خود ہی بھول
گیا کہ میں کہاں ہوں. جتنا خوف کراچی سے چلتے وقت میرے دل میں تھا وہ سب کچھ
ہی لمحات میں ختم ہو گیا. کچھ ہی دیر میں نماز کا اعلان کیا گیا اور ایک مقامی
مولانا کے پیچھے ہم صبح نے نماز ظہر ادا کری. اس کے بعد عدنان بھائی نے مجھ کو
میری زمداریوں کے بارے میں بتایا اور میں نے فورن ہی اپنا کام سمبھال لئے.
میرا کام وزیری بچوں سے ملاقات کرنا اور ان کے اندر تعلیم کا شوق اجاگر کرنا
تھا ساتھ ہی مجھ کو رات کے خانے کے انتظام میں ٹیم کے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ
ہاتھ بٹانا تھا. جب میں وزیری بچوں سے ملا تو سب سے پہلے مجھ کو زبان کا مسلہ
پیش آیا میں نے اپنی پوری کوشش کری کے جتنی آسان اردو بول سکتا ہوں بولوں مگر
بچے میری اردو کو سن کر اور شاید سمجھ کر کسر جواب وزیری میں ہی دی رہے تھے جس
کو سمجھنا فلحال میرے لئے ممکن نہیں تھا. میں نے اپنی اس مشکل کا ذکر فریال
بہن سے کیا اور انہوں نے ایک اور ٹیم ممبر محترم بلال محسود کو میرے ساتھ کر
دیا جو مترجم کا کردار ادا کر رہے تھے. بہرحال میرا یہ تجربہ بہت کامیاب رہا.
ہم لوگ مرامشاہ سے کچھ ہی فاصلے پر موجود ہیں. ایک طرف پہاڑ اور دوسری طرف
مرامشاہ شام میں یہ منظر بہت خوبصورت لگ رہا تھا. کچھ ہی دیر میں کرفیو کا
اعلان ہو گیا اور عدنان بھائی نے ٹیم ممبران کو ضروری ہدایت دینی شروع کردی.
میرا کیوں کہ کچھ عرصہ پہلے اکسیڈنٹ ہوا تھا تو ایسی وجہہ سے ابھی تک چلنے
پھرنے میں کچھ معذوری ہے. الله پاک کا شکر اور احسن ہے کے اس رب نے مجھکو
زندگی عطا فرمائی. الله پاک کی اس کرم نوازی پر جتنا شکر ادا کروں کم ہے.
عدنان بھائی اور ٹیم کے دوسرے ممبران میرا بہت خیال رکھ رہے ہیں. خاص کر یہاں
کے بچے تو بہت ہی محبت کرنے والے اور ملنسار ہیں. مجھ کو ان بچوں اور یہاں کے
حالت پر بہت فکر ہو رہی ہے کے آخر ان بچوں کا مستقبل کیا ہے؟ بس ایسے ہی رہنا
یا یہ بچے بھی ایک دیں پاکستان کی ترقی میں حصہ لینے والے ہیں. یہی سوچ کر
میرے اندر ایک نیا جذبہ جگا اور میں نہیں اپنی پوری توجہ ان بچوں پر ہی مرکوز
کر ڈالی. میں کیوں کہ ایک استاد ہوں اور بچوں کی نفسیات سے کافی حد تک واقف
بھی ہوں تو پہلے ان بچوں کو اپنے ساتھ لائی ہوئی کتابیں دیں جن میں پاکستان
اور اسلام کے بارے میں کچھ معلومات تھیں. پھر ان کتابوں کو پڑھنا اور سمجھانا
شروع کیا. شروع میں زبان کی وجہہ سے بہت مسائل ہووے مگر الله پاک نہیں مشکل
آسان کری اور بچوں کو میری اردو زبان کسی حد تک سمجھ میں آنا شروع ہو گی اور
آرہی ہے.
یہاں میں پاکستان کی افواج اور اداروں کا ذکر نا کروں تو بہت نا انصافی ہوگی.
پہلے صرف سنا ہی تھا اور آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کے ہمری افواج، ہمارے
جوان، کس دلیری سے، اور کتنی بہادری سے اپنے دشمنوں سے نبرد آزمان ہیں.
پاکستان کے دوسرے علاقوں میں تو افواج کے بارے میں جانے کیا کیا کہا جا رہا ہے
مگر اگر کسی نے ہماری افواج اور اداروں کو دیکھنا ہے، ہمارے جوانوں کی ہمت کو
دیکھنا ہے تو وزیرستان آے اور دیکھ کے ہماری افواج وہ کام کر رہی ہیں جو شاید
ہمارے دوسرے اداروں کا ہے. ہمارے جوان، کسی بھی قسم کی تنقید اور باتوں کی
پروا کیے بغیر ہماری سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں، ایک خاموش جنگ لڑ رہے ہیں
اور ہماری عزتوں کی، جانوں کی حفاظت کر رہے ہیں. میں اپنی افواج پر اور اپنی
قومی اداروں پر جتنا فخر کروں کم ہے. مجھ کو ناز ہے اپنی افواج پر اور اپنے
اداروں پر. اور کاش کے دوسرے پاکستانی بھائی بہنوں کو بھی اپنی افواج پر ناز
ہو.
عدنان بھائی اور ٹیم کے ممبران نے مجھ کو بتایا کے پاکستانی افواج کے جوان نا
صرف وزیرستان میں موجود لوگوں کی حفاظت کا کم سر انجام دی رہے ہیں بلکے تقریبن
تمام ہی انتظامی امور بھی سر انجام دی رہے ہیں. الله پاک ہمارے جوانوں کو ہمت،
حوصلہ اور استقامت دے اور ایسی جذبے کے ساتھ ملک اور قوم کی خدمات کرنے کی
توفیق عطا فرماے - آمیں.
باقی کا انشا الله اگلے صفحات میں لکھوں گا، یہاں صرف ایک ہی لیپ ٹاپ ہے جس پر
ٹیم کے سب ہی ممبران نے اپنے کام کی تفصیل لکھنی ہوتی ہے ہے. زندگی رہی اور
الله پاک نے ہمت عطا کری تو بہت جلد آپ کے سامنے یہاں کے حالت اور ٹیم کی
کارکردگی رکھوں گا.
جزاک الله
منصور احمد
ٹیم ممبر، ٹیم آشیانہ.
Khyber Pakhttonkhwa