Friday, September 23, 2011

Help the victims of flood in Sindh (For the sack of ALLAH Almighty)

اسلام و علیکم
محترم، سب سے پہلے تو میری حالت، جو یہاں اکر تھودا سا خراب ہو گے ہے، یہاں پینے کہ تو کیا عام استمال کہ پانی بھی دستیاب نہیں، ہم اپنے دوستوں سے اور جو جو یہاں آرہا ہے اس سے پانی کی بھیک مانگ رہے ہیں مگر نہیں مل رہا. یہاں پیٹ کی بیماریاں بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں، نہ تو ڈاکٹر ہیں نہ ہے ادویات، جانے ہماری قوم کو کیا ہو گیا ہے، کل تک جو ایک ہوا کرتے تھی آج ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہوں. دوسروں پر بھروسہ کرنہ نہیں چاہتے، خود سامنے آکر کام کرنے سے ڈر رہے ہیں. آخر ایسا کیوں؟ ہمارے بہت سارے بھائی اور بہنیں بہت اچھی ترہان جانتی ہیں کے یہاں کیا ہو رہا ہے، انسانیت کے نام پر لوگ ایک دوسرے کہ خون پی رہے ہیں، انٹر نشینل میڈیا، ادارے روزانہ بتا رہے ہیں کے یہاں کی لوگ کس مشکل میں ہیں، مگر افسوس ہمارا میڈیا اور خود ہم ایک دم سے بے حس بن کر بیٹھ گے ہیں. ہم حکمرانوں کو تو یہ کہتے ہیں کے "شرم تم کو مگر نہیں آتی" لیکن ہم خود کتنی شرم اور ذمداری سے کام لے رہے ہیں اس کہ احساس کرنے کو تیار ہے نہیں. ہمارے دوست ایک بوتل پانی تک دینے کو راضی نہیں ہیں. کیا الله پاک کی ذات سے امید ختم ہو گے ہے یا ہمیشہ کی ترہان کسی آسمانی مسیح کہ انتظار کر رہے ہیں؟ خدارا کچھ کریں نہیں تو بہت دائر ہو جاۓ گے، یہی وقت ہے کہ ہم ایک قوم ہونے کہ ثبوت دیں، بغیر کسی نسل، ذات، زبان، سیاسی یا مذہبی گروپ سے تعلق کے ہم صرف ایک قوم ہو کر اپنے بھائی بہنوں کی مدد کریں. میں صرف سن رہا ہوں ک کسی پا رٹی نے یہ کیا وہ کیا، حکومت بھی اپنا کہ رہی ہے مگر کوئی یہاں آکر تو دیکھے کے یہاں ہو کیا رہا ہے؟ کتنے ہی لوگ پینے کے پانی سے محروم ہیں، ہزاروں کو ادویات نہیں مل رہی ہیں، حد تو یہ ہے ک جو مر رہے ہیں ان کے پاس کفن تک نہیں ہے. بچے اور عورتیں ادھر ادھر بھگ رہے ہیں کے شاید کہی سے کچھ مل جاۓ، یہ لوگ امداد کے نام پر ہم سے پانی مانگتے ہیں، دوائی مانگتے ہیں، مگر ہمارے پا دینے ک لئے کچھ نہیں ہوتا، خود مے بیمار ہوں مگر میرے پاس صرف سر درد کی دوا ہے اور کچھ نہیں. پتا نہیں ہم کو کابھ ہوش آے گا. میری تو دوا یہی ہے کے کاش کے اسی آفتیں ہمارے سارے پاکستان میں آے، تاکے وہ  جن کو کچھ احساس نہیں ہے وہ جن کے بچے اسے بیمار نہیں ہیں ان کو یہاں کے  لوگوں کی تکلف اور مصائب کہ اندازہ ہو سکے، مے تو لکھ سکتا ہوں، یہاں کے حالت بتا سکتا ہوں، اپنے دوستوں سے دوا کی اپیل کر سکتا ہوں، ان سے مدد کی بھیک مانگ سکتا ہوں اس کی علاوہ یہاں بیٹھ کر یہاں کے لوگوں کی ساتھ اظھار یکجہتی کر سکتا ہوں ہوں، اس کے علاوہ اور کیا کروں؟ صرف ایک واقعہ لکھوں گا جو یہاں دیکھا اور اپنی بے بسی پر بہت رونا آیا. اے کاش کے میں انسان نہ ہوتا
  
بدین کہ ایک چھوٹا سا علاقہ "چاچڑ" یہاں لگ بھگ ٧-٨ ہزار لوگ رہتے ہیں. پورا پانی میں ڈوبا ہوا تقریباً ٣ فٹ پانی وہ بھی خراب، بدبو دار. یہاں کے لوگ اسی پانی کو پینے پر مجبور ہیں، یں کے پاس نہ ہے خانے کو کچھ ہے نہ ہے پینے کو ، یہاں کے سارے بچے پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، بکھر، الگ ہے، ١٠٠ سے زیادہ بہنیں حاملہ ہیں جن کو یہ نہیں پتا ک ابھ کیا ہوگا. مے جب یہاں اپنی میڈیکل ٹیم کے ساتھ آیا تو میرے پاس صرف کچھ ہی ادویات تھیں، جن ا صرف ٣٠- ٣٥ بچوں کو ہے دیکھ سکا. باقی بہت سارے بچے دوا سے محروم رہے. مے رویا مے نے اپنے دوستوں سے رابطہ کیا مگر ابھی تک صرف تسلی ملی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا. کیا ہم اتنے ہے بے حس ہو چکے ہیں. انسانیت کے ٹھیکیدار اسلام آباد میں بیٹھ کر صرف باتیں کر رہے ہیں، کراچی والے کہتے ہیں کے یہ ہمارا مسلہ نہیں کیوں کے یہاں تو سیاست بھی الگ انداز سے ہوتی ہے. جہاں تک میں سمجھا ہوں سیاست تو عوامی خدمات کہ دوسرا نام ہے اور اگر مے گلت سمجھ رہا ہوں تو لگتا ہے کے سیاست اپنی اجرا داری کو قائم کرنے کہ نام ہے، اپنی ریاست بنانے کہ نام ہے اپنی حکومت اور خود کو امیر سے امیر کرنے کہ نام ہے. مجھ کو اچھی ترہان یاد ہے جبہ زلزلے نے سری قوم کو ایک کر دیا تھا مجھ کو بہت سارے دوستوں نے فونے کیا اور کہا کے عدنان بھائی تم خود کو اکیلا نہ سمجھنا ہم تمہارے ساتھ ہیں، یہ کام ایک دن کہ نہیں بلکے سالوں کہ ہے مگر افسوس کے صرف چند دوست ہے رابطے میں رہے باقی صبح زمانے اور وقت کی ہوا کے ساتھ پتا نہیں کہاں گم ہو گے. شاید میں ان کووہ پبلسٹی نہیں دے سکا جو دوسروں کو مل رہی تھی. مے نے اپنا سفر الله پاک کے نام سے شروع کیا، کشمیر گیا، خیبر پختوں خوا گیا، وزیرستان گیا، پنجاب گیا اور مے جو کر سکتا تھا کیا، اپنے سفر سے اپنے دوستوں کو اگاہ رکھنے کی کوشش کاری، بہت مشکل اٹھائی پریشانی اٹھائی مگر اپنے سفر سے نہیں روکا. اس امید پر ک لوگ مجھ کو نہیں دیکھ رہے میرے کام کو دیکھ رہے ہیں. مگر آج مے کمزور پڑھ رہا ہوں، میری امید اور کوشش مجھ کو ناکام ہوتی نظر آرہی ہے میری محنت اور کام عیسیٰ لگ رہا ہے ک جیسے سچ میں پاگل ہے ہوں جو خود کے لئے کچھ نہیں کر سکا. بلکے اس کام میں اپنا جو بھی تھا ختم کر دیا. مے یہاں آپ سے اپنی خدمات کہ ذکر نہیں کروں گا. کیوں ک جو بھی کیا الله پاک کہ نام لے کر کیا اور کر رہا ہوں. مگر مے اکیلا کچھ بھی نہیں کر سکتا. مے یہاں انسانوں کو اسے بھوکا.، پیسہ، سسکتا، بلکتا نہیں دیکھ سکتا. نہ ہے مے خود کو روک سکتا ہوں کے کچھ نہ کروں. میں نے بہت مجبوری میں میڈیا کے دوستوں سے بھی رابطہ کیا، مختلف فلاحی اداروں سے بھی رابطہ کیا مگر صبح کہتے ہیں کے ہم کوشش کر رہے ہیں. ہم کر رہے ہیں مگر کیا کر رہے ہیں یہ ناں تو میری سمجھ مے آرہا ہے نا ہے کچھ دیکھ رہا ہے. ہو سکتا ہے کے میرے الفاظ آپ کو گلت لگیں، مگر میں کیا کروں، مے خود کو بہت مجبور سمجھ رہا ہوں، اپنی چھوٹی  سی ٹیم لے کر کابھ تک بیٹھا رہوں، جب کے ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں، اور کرنا چاہتے ہیں مگر ہمارے پاس نا تو فنڈس ہیں اور نا ہے پانی نا ہی ادویات  اسے مے اگر ہم کریں بھی تو کیا؟ کیا ہمارے دوستوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو ہماری مدد کر سکے، ان انسانوں کے لئے خود اس تھودا بہت کچھ کر سکے؟ یا ہم صبح صرف باتیں ہے کر سکتے ہیں عملی قدم اس لئے نہیں اٹھا سکتے کے ہم کو کسی پر بھروسہ نہیں ہے؟ میں یہ نہیں کہتا کے آپ اپنی امداد ہم کو دیں، ہم کو کپڑا، کھانے پینے کی اشیا، ادویات یا رقم دیں، مے صرف آپ سے اتنا عرض کرتا ہوں ک آپ جو بھی کرنا چاہتے ہیں آپ خود شریک ہوں، ہماری ٹیم کہ حصہ بن جائیں، یا خود اپنی ایک ٹیم بنا کر یں علاقوں میں جائیں، اور دیکھیں کے کتنے لوگ ہیں جو آپ کی مدد کے منتظر ہیں، کنے ہے بچے ہیں جن کو یہ نہیں پتا ک ان کو کھانا کب ملنا ہے. کتنے ہی لوگ ہیں جو یہ نہیں جانتے کے ان کو دوا ملے گی بھی کی نہیں
مے تو صرف ایک ذریع بن سکتا ہوں. ہم اپنی سچائی کہ یقین دلانا نہیں چاہتے کیوں ک الله پاک اپنے کام کرنے والوں کو شاید اسے ہے آزماتا ہے مگر میرا یمن ہے، مجھ کو یقین ہے کے الله پاک نے اگر ہم کو یہاں بھیجا ہے تو ہماری مدد بھی ضرور کرے گا اور کوئی نا کوئی یہاں اے گا . جو یہاں کے حالت کے لئے کچھ نا کچھ ضرور کرے گا. انشا الله.

ابھی یہاں کن چیزوں کی ضرورت ہے ان کی کچھ تفصیل لکھ رہا ہوں اس امید پر ک ہم صبح مل کر زیادہ نہیں تو تھودا بہت کچھ نا کچھ کر سکتے ہیں. مجھ کو اور میری ٹیم کو آپ کی دعاؤں کی اور مدد کی بہت ضرورت ہے. خدارا ہم کو اسے تنہاں  نا چھوڑیں کے روز حشر ہم دست و گریبان ہوں. الله پر پورا یقین رکھتے ہوۓ ہماری ٹیم کی مدد کریں، کے ہم آپ کی امداد کہ ایک ایک حصہ صرف اور صرف یہاں کے لوگوں کے لئے ہے استمال کرے گے. اور ایک دن ہم جب آپ کے سامنے پیش ہونگے تو انشا الله سرخرو رہے گے.

انتہائی ضرورت کی اشیا
پینے کا صاف پانی. جتنی مقدار دستیاب ہو سکتی ہو
پیٹ کے امراض کی ادویات، بخار، جلدی امراض کی ادویات
حاملہ خواتین کے لئے ادویات
بچوں کے لئے کپڑے اور کچھ کھانے پینے کی اشیا
دیگر مے جو بھی آپ دے سکتے ہیں.

اگر آپ ہماری ٹیم میں شامل ہو کر یہاں کے لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں.

سید عدنان علی نقوی
 00923452971618
سیدہ فریال زہرہ

00923132798085
منصور احمد
00923333426031
فیصل بھائی
00923238466089
نبیل بھائی
0092342650964

جزاک الله
سید عدنان علی نقوی اور دوست
ٹیم آشیانہ براۓ سیلاب زدگان بدین سندھ.