بدھ, جون 27, 2012

ٹیم آشیانہ: ایک دفع پھر میدان عمل من

محترم دوستوں اور ساتھیوں،
اسلام و علیکم،

ٹیم آشیانہ ایک دفع پھر قومی خدمت ک جذبے سے سرشار ہو کر شمالی وزیرستان روانہ ہو چکی ہے، ہم اس سے پہلے ٹیم آشیانہ کا فلاحی کاموں کی تفصیلات اور خدمات یہاں اور دیگر طریقوں سے آپ کو بتاتے رہے ہیں. آپ سب کے دیے گئے عطیات اور فنڈز سے ہی ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان میں موجود اپنے پاکستانی بھائی بہنوں کے لئے خدمات سرانجام دے رہی ہے. افسوس کے گزشتہ ماہ بار بار ہونے والے ڈرون حملوں اور پاکستانی افواج کی کاروائی کے سبب ٹیم آشیانہ کو بھی حفاظتی اقدام کے طور پر شمالی وزیرستان سے باہر آنا پڑا. مگر ہمارا یہ قدم ٹیم آشیانہ کے کارکنوں کی جنوں کی حفاظت کے لئے تھا نہ کے ہم کسی دار اور خوف کے سبب شمالی وزیرستان چھوڑتے. دتہ خیل اور میران شاہ کے علاقوں میں بار بار کے ڈرون حملوں نی ایک خوف کا ماحول بنا دیا ہے ہم جتنی بھی محنت کر لیں مگر طالبان اور ان سے متاثر لوگوں کے غم، دکھ اور  تکالیف کو الفاظوں میں بیان نہیں کر سکتے. 

میں (فریال) جب  سے واپس کینیڈا گئی تھی تو اس امید پر کہ شاید آنے والے وقتوں میں یہاں کے حالات میں کچھ بہتری آجاۓ گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا، بلکہ ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا، ہماری افواج نی بھی جہاں جہاں شدت پسندوں کی نشان دہی ہوئی وہاں حملہ کیا، شاید ان حملوں میں شاید کچھ شدت پسند اور طالبان مارے بھی گئے ہوں مگر اکثر مقامی لوگوں کا جانی اور ملی نقصان ہوا جن کی تفصیل کچھ وجوہات کی بنا پر میں یہاں نہیں لکھ سکتی. عدنان بھائی اور ٹیم آشیانہ کے ممبران کو بھی دتہ خیل چھوڑ کر پہلے میران شاہ پھر پشاور جانا پڑا. ٹیم آشیانہ جو برسوں سے مقامی (شمالی وزیرستان) میں رہنے والوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثر لوگوں کے لئے خدمات انجام دے رہی ہے، وہاں کے لوگوں میں پاکستان کی محبت اور وفاداری کا جذبہ جگانے کی کوشش کر رہی ہے، اسلام کا سہی اور حقیقی تصور جگانے کی کوشش کر رہی ہے، شمالی وزیرستان کے بچوں اور بچیوں میں تعلیم اور علم کی شمع جلانے کی کوشش کر رہی ہے، اور تنہا یہاں کے مشکل ترین حالات کا سامنا کرتے ہوۓ کام اور فلاحی منصوبوں کو مکمل کرنے کی کوشش میں ہے، ہم کواس طرھ کے حملوں اور اقدامات سے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے. مشکل یہ ہے کہ ہمارے عقلمند اور زیرک حکمران اور فلاحی خدمات کا دعواہ کرنے والے ادارے پتا نہیں کیوں شمالی وزیرستان سے منہ موڑے ہوے ہیں. ہم نے بہت دفع حکمرانوں کو سماجی اور فلاحی اداروں کو خطوط تحریر کیے، رابطے کیے، مگر صرف زبانی تسلی اور وعدوں کے کچھ نہیں سنا اور ملا.

گزشتہ ہفتوں کے دوران کیے  جانے والے ڈرون اور پاک افواج کے حملوں سے جہاں شدت پسندوں اور طالبان کا نقصان ہوا وہیں مقامی آبادی کا بھی بہت نقصان ہوا. سب سے بڑھ کر طالبان نی ایک دفع پھر سے اکثر علاقوں میں اپنی دھونس دھمکی چلانا شروع کر دی. ایسے علاقے جہاں ہم آسانی سے جا کر میڈیکل کیمپ لگا لیا کرتے تھے، لوگوں میں غزائی اجناس تقسیم کر دیا کرتے تھے، بچوں میں کچھ کتابیں دے دیا کرتے تھے، وہاں ابہ طالبان کی اجازت کے بغیر داخلہ ممکن نہیں رہا، سنا جا رہا ہے کے مقامی طالبان اور شدت پسند ہم کو بھی اچھا نہیں سمجھ رہے ہیں. ایسے حالت میں شمالی وزیرستان کے بے بس اور لاچار عوام کے لئے کام کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے.
میرے  کینیڈا سے آنے کے بعد عدنان بھائی نے ٹیم آشیانہ کے تمام دوستوں اور کارکنان سے گزشتہ روز ایک تفصیلی ملاقات کری جس میں تمام حالت کا جائزہ لیا گیا، شمالی وزیرستان کے حالات، وہاں کی لوگوں کو درپیش پریشانیاں، ٹیم آشیانہ کے سکول منصوبہ، صاف پانی کا منصوبہ، میڈیکل کیمپ کا منصوبہ، ٹیم آشیانہ کے سابقہ، موجودہ، اور درکار فنڈز کی تفصیلات، ٹیم آشیانہ کے مقامی کارکنان (شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کارکنان)، اور دوسرے علاقوں سے آنے والے کارکنان کے مسائل کا تفصیلی جایزہ لیا گیا. ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان نے شمالی وزیرستان میں فلاحی اور سماجی منصوبوں کو جاری رکھنے پر مکمل اتفاق پایا گیا، جس کے لئے قرآن پاک اور مختلف احادیث کا بھی حوالہ دیا گیا، دنیا کے دیگر علاقوں (خاص کر جنگ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے اداروں) کے کام کرنے کے انداز کا بھی جایزہ لیا گیا. اور ٹیم آشیانہ کے  سرپرست عدنان بھائی کو مکمل اختیار دیا گیا کہ وہ ٹیم آشیانہ کے  حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے ٹیم آشیانہ اس کو منظور کرے گے اور  عمل کرے گی.
عدنان بھائی ، نے گزشتہ رات بعد نمازعشا، ہم سب کو ایک دفع پھر اکھٹا کیا اور  کہا کہ،
"میرے  احترام دوستوں، تمام حالات کا تفصیلی جایزہ لینے کے بعد تفصیلی جایزہ لینے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ٹیم آشیانہ جیسے پہلے فلاحی اور سماجی کام سر انجام دے رہی تھی ویسے ہی کرتے رہے گی، ہم اپنے فلاحی منصوبوں کو ادھورا اور نہ مکمل نہیں چھوڑ سکتے. کچھ وقت کے لئے میں مطلبی یا خود غرض ہو گیا تھا، مگر اب ایسا نہیں، ہم شمالی وزیرستان میں صرف اور صرف خدمت انسانیت کے لئے موجود تھے، ہیں اور رہیں گے، ہم نے یہ سفر الله کے نام سے شروع کیا تھا اور آج تک ہمارا سفر جاری ہے، اور اس دنیا میں کوئی ایسی طاقت یا قوت نہیں جو الله پاک کی رضا کے لئے شروع کے گئے کام میں یا کام کرنے والوں کے لئے مشکلات  پیدا کرے،ہمارا ہی ایمان کمزور اور ادھورا ہے جو ہم کبھی جان اور کبھی مال کے خوف سے کمزور ہو جاتے ہیں یا ڈر جاتے ہیں. ہم کو الله پاک پر پورا بھروسہ، یقین اور امن رکھنا ہو، یہی ہماری طاقت ہوگی اور یہی ہمارا منشور اور یہی ہماری سب سے بڑی دولت. ہم کل (٢٧ مارچ ٢٠١٢) سے اپنا سفر پھر شروع کریں گے اور اپنے فلاحی کاموں کو مکمل کر کے اپنے فرض کو پورا کریں گے. ہمارے اس سفر میں جو ساتھ شریک ہونا چاہیں وہ کل صبح نماز فجر تک اچھی طرھ سوچ لیں اور سفر کی تیاری کریں اور جو ساتھ آرام کرنا چاہیں اور آرام کی غرض سے اپنے گھروں کو جانا چاہیں وہ بخوشی ہم کو الوداع کر سکتے ہیں. الله پاک ہم سب کی مدد کرے، ہمارا حامی اور ناصر ہو، الله پاک ہمارے ایمان کو مضبوطی دے، ہم کوصبر، ہمت، حوصلہ، اور استقامت دے، ٹیم آشیانہ کے پاسس ابھی جو کچھ ہے جتنا ہے ہم اسی کو لے کر صبح بعد نماز فجر میران شاہ روانہ ہو رہے ہیں، ٹیم آشیانہ کے کچھ کارکنان بشمول فریال بہن فلحال یہاں (جگہ کا نام نہیں بتا سکتی)روک کر ٹیم آشیانہ کے لئے بھیک مشن شروع کریں، اور ٹیم آشیانہ کے لئے فنڈز اکھٹا کریں. الله پاک ہمارے لئے بہتر سے بہتر اسباب کا راستہ ہم کو دیکھے. جزاک الله "

الله پاک کے فضل اور کرم سے ٹیم آشیانہ میران شاہ کے لئے روانا ہو چکی ہے میں (فریال) ابھی یہاں ہی ہوں اور آج سے بھک مشن شروع کر رہی ہوں. آپ جس ترہان چاہیں ہماری مدد کر سکتے ہیں. ٹیم آشیانہ کو درکار سامان کی تفصیل انشا الله آج رات تک بتا دی جاۓ گی. 

الله پاک ہم سب کو ہمت دے اور ہم کو ایک سچا اور با عمل مسلمان بننے کو توفیق دے- آمین 

جزاک الله خیر 
سیدہ فریال زہرہ 
کارکن ٹیم آشیانہ 
شمالی وزیرستان 

رابطے کے لئے 
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca 
faryal.zehra@gmail.com
team.ashiyana@gmail.com
+ 92 345 297 1618 

جمعہ, جون 15, 2012

شمالی وزیرستان میں فلاحی کاموں کے لئے مدد کی درخواست

محترم دوستوں اور ساتھیوں، 
اسلام و علیکم 

الله پاک کی  سے امید اور دعا کرتے ہیں کہ آپ سب پر الله کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی رہیں. آمین.

ٹیم آشیانہ الله پاک کے فضل اور کرم سے شمالی وزیرستان میں خدمت خلق کے کاموں کو جاری رکھے ہووے ہے. شمالی وزیرستان میں جاری مستقل ڈرون حملوں کے باوجود ٹیم آشیانہ فلاحی کاموں کو جاری رکھے ہووے ہے. الله پاک ہم سب کی حفاظت کرنے والا اور بہترین محافظ ہے.

ہماری آپ سب دوستوں سے ٹیم آشیانہ کے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل ہے. اس وقت ٹیم آشیانہ کو اپنے فلاحی کاموں کو جاری رکھنے کے لئے فنڈ کی ضرورت ہے جس کے لئے آپ سب کی مدد درکار ہے، الله پاک ہم سب کو ہی، صبر اور حوصلہ دے امین.

مزید تفصیلات اور معلومات ک لئے ہم سے رابطہ کریں:

team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
mansoorahmed.aaj@gmail.com

یا ہم کو میسج کریں:
0092 345 297 1618

 آپ ہمارے اکونٹ میں بھی براہے راست اپنے صدقات وغیرہ جما کرا سکتے ہیں.

  "Ashiyana"
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 0100-34780.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code:UNILPKKA

جزاک الله خیر 
ٹیم آشیانہ، میران شاہ، شمالی وزیرستان 

منگل, جون 12, 2012

شمالی وزیرستان کے لئے فوری مدد کی اپیل

محترم دوستوں  اور ساتھیوں 
اسلام و علیکم 

شمالی وزیرستان میں ہوے ڈرون حملوں کی وجہہ سے ٹیم آشیانہ کا رابطہ دوسرے شہروں میں رہنے والے ساتھیوں سے ممکن نہیں رہا تھا جس کی وجہہ سے  ہم اپنے کام اور حالات کے بارے میں آگاہ نہیں کر سکے. اپنے دوستوں اور ساتھیوں  کو کوئی مشکل اور پریشانی کے لئے ہم معذرت چاہتے ہیں.ہم آج صبح  ہی پشاور آے ہیں. اور ٹیم آشیانہ کے حالات کے بارے میں اپنے ساتھیوں کو آگاہ کر رہے ہیں. ڈرون  حملوں نے جہاں طالبان اور شدت پسندوں کے لئے مشکلات کھڑی کاری ہیں وہیں ٹیم آشیانہ بھی بہت نقصانات کا شکار رہی ہے. ٹیم آشیانہ کا دتہ خیل کیمپ ختم ہو چکا ہے، اور ابہ ہم میران شاہ سے اپنے کاموں کو جاری رکھے ہووے ہیں. دیگر حالات کے بارے میں آپ کو انشا الله اگاہ کرتے رہیں گے 

ٹیم آشیانہ اور اس کے  سارے کارکنان بہت برے حالت ہونے کے باوجود اپنے وزیرستانی بھی بہنوں کے ساتھ ان کی خدمات کرنے کے لئے پر عزم اور حوصلہ مند ہیں اس وقت ٹیم آشیانہ کے پاسس اپنے وزیرستانی بھائی  بہنوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے. ڈرون  حملوں نے ہمارے بھی ایک فلاحی کمپ کو برباد کر دیا ہے جس میں موجود کچھ سامان بھی جل کر ختم ہو چکا ہے
ہم ہمیشہ کی طرھ  الله پاک کی ذات سے پر امید ہیں کے وہی ذات ہماری مدد کرنے والی ہے

محترم دوستوں اور ساتھیوں، ڈرون حملوں کے بعد جو حالت شمالی وزیرستان کی ہے الفاظمیں بیان کرنا ممکن نہیں ہے. وہاں طالبان اور شدت پسند پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں. اور ان کا اثر و رسوق بڑھتا جا رہا ہے. مزید ہم لوگوں کو کم کرنے میں بھی مشکلات کا  سامنا ہے.ہمارا سکول کا منصوبہ بھی اس وقت روکا ہوا ہے. جبکہ دتہ خیل اور منسلک علاقوں میں کھانے پینے اور دیگر اشیا کی بہت زیادہ کمی ہے

ہم ایک دفع پھر آپ سب سے الله پاک کے نام پر ہمارے بھیک  مشن میں شامل ہونے کی درخواست کرتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کے ہماری مدد کر، اسس وقت شمالی وزیرستان کے لوگ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، بہت لوگوں کو املاک کا نقصان ہوا ہے  نقصان بھی بہت زیادہ ہے ادویات اور کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہے. 

ہم کو اس وقت ایک بہت بڑے فنڈ کی ضرورت ہے جس کے لئے آپ کی مدد کا شامل ہونا بہت ضروری ہے . ہم کو ادویات، کھانے پینے کی اشیا بچوں خواتین کے لئے کپڑے، اور صاف پانی کی بہت سخت ضرورت ہے. ہم نے جو اندازہ لگایا ہے اس کے مطابق ہم کو ٨٠٠ سے ١٠٠٠ لوگوں کو فوری مدد کرنی ہے جن کے پاس نہ رہنے کے لئے گھر ہے اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان  نہ ہی ادویات. ہم آپ سب دوستوں، ساتھیوں اور اپنے اپنے گھر والوں سے اپنے وزیرستانی بھائی بہنوں  جن کا اس جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں کے لئے الله کے نام پر بھیک  کی اپیل کرتے ہیں. جتنا ہو سکے اور جو ممکن ہو سکے ہماری مدد کریں. ہم صبح آپ ک لئے دعا گو راہیں گئی. اجر کا وعدہ اللہ  پاک نے  کیا ہے. آپ صبح اگر ٹھوڑا تھوڑا  بھی ہماری مدد کریں تو ہم اپنا کام بہتر طریقے سے ادا کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں

الله پاک ہم سب  کو ہمت حوصلہ اور ثابت قدم رکھے ، آمین 

ہماری  بھی ترہان مدد کرنے کرنے کے لئے ہم سے رابطہ کریں:
0092 345 297 1618
ہم کو ای میل کریں 
team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
mansoorahmed.aaj@gmail.com
یا ہمارے آن لائن اکاونٹ میں اپنے صدقات،  زکات ، خیرات یا مدد جمع  کرائیں 
  "Ashiyana"
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 0100-34780.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code:UNILPKKA
ٹیم آشیانہ کا ایک ایک کارکن  الله پاک کو حاضر نظر جن کر اور الله پاک کی رضا  اور حکم کے مطابق آپ کا دیا ہوا مال اور سامان اپنے وزیرستانی بھائی بہنوں تک پچانے کا حلف اٹھاتا ہے اور پوری دیانت داری اور ایمانداری کے ساتھ لوگوں کی مدد کرتا ہے 

ہم کو آپ کی فوری مدد اور توجہہ کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے فلاحی کاموں میں کسی بھی قسم کی دیر کیے بغیر لگ جائیں
ٹیم آشیانہ اور مجھے (سید عدنان علی نقوی) کو آپ کی مدد کا انتظار ہے. 

مزید تفصیلات کے لئے ہمارے کارکنان کم کر رہے ہیں جن سے سب ہی ساتھیوں اور دوستوں کو اگاہ کر دیا جاۓ گا. انشا الله.
جزاک الله 
آپ سب کی مدد اور دعاؤں کے طلبگار.
ٹیم آشیانہ 
براۓ شمالی وزیرستان 

اتوار, مئی 20, 2012

Team Ashiyana: Work update for the month of April - May 2012.


Funds and Work Report for the Month Of April - May 2012. Waziristan (North):

Funds (Donation) Details:
In Pak Ruppee’s
Bank Account   (“Qatar”)                                            : Rs. 82,000/= (Eighty two Thousands in Pak rupee)
Bank Account (Unknown)                                              : Rs 2,00,000/= (Two Lac in Pak rupee)
From Western Union (C/o, Faryal Zehra “Canada”) : Rs.  Nil
Ms Badar & Family                                                        : Rs. 15,000/= (Fifteen Thousands in Pak rupees)
Mansoor Ahmad Family                                             : Rs.   10, 000/= (Ten Thousands in Pak rupee)   
                Total Amount                   : Rs   3,07,000/= (Three lac & Seven Thousand)                        


Raw stuff (Donation) Details:
Cloths for women (Old & New)        : 100 Nos (from Sidiqu sb & Asma baji)
Clothes for Children (Old & New)    : 50 Nos (Ms Badar Un Nissa’s family)
Medicines                                        : Worth of Rs. 35,000/= (Thirty five Thousands)
Food Stuff                                        : Worth of Rs. 50,000/= (Fifty Thousands)
Others                                              :  Worth of Rs. 15,000/= (Fifteen Thousands)
Books                                      : from class I to X (1000 books)
Al Quran (With Urdu & Farsi Translation)         : 200 (Alhamd ul ALLAH)
Raw stuff (Purchased) Details:
Medicines                                        : Rs. 2,00,000/= (Two lac rupee)
Food Stuff                                        : Rs. 70,000/= (Seventy Thousands ruppee)
Credit Return                                        : Rs. 25,000/= (Seventy Thousands rupee)
Water                                               : Rs. Nil
Wood, Coal, etc                               : Rs. 5,000/= (Five Thousands)
Warm Clothes, Blanket, Jacket etc    : Rs.Nil
Transportation                                 : Rs. 15,000/= (Fifteen thousands, Half on credit)
_________________________________________________________________________
______Total Amount Expensive  : Rs.3,15,000/= (Three lac and Fifteen thousands)        
            Balance Amount                : Rs. Nil                                                                        
            Credit Amount                   : Rs. 8000/= (Eight Thousands)                        
·         Purchased slips, Vouchers and other’s papers are available (can be shown on request).

Area’s Visited in April - May 2012. Details:
Free 7 days medical camp at Datta Khel and surrounding areas.
 (With free medical checkup and medicines supply into 780 children and women)
Food stuff supply into 75 families for a week (is in the form of pack bags with limited quantity of flour, rice, bean, sugar, and other stuff)
ALLAH Akber, Thanks Almighty ALLAH to give us courage and devotion.
Team Ashiyana is thankful for the contribution, funds. All who give us there funds and contributions are highly aprriciatated. We are all praying for the, specially a person who didn’t made any contact with us but send his / her high donation of rupee 200000/= in the a/c. Jazak ALLAH.
Insha ALLAH we will serve our Brother’s, Sisters and children with the same spirit, and with the feeling of humanity.

Team Ashiyana is thankful for our Friends / Donor’s / Contributor’s, for there kind efforts, fund and supplies. May ALLAH gives us Agr e Azeem for this work and gives more courage to do this kind of the work in future.

If you read all of the blog then you can find the sources of our funds and contribution's We don't wants huge amount in our accounts, we need stuff, like medicines, clothes, books and others to distribute into the victims of War on terror specially for the children and women who living under the low level. Team Ashiyana, is under the burden of huge credit day by day, friends and family members are requesting to give there hand of courage to get remove it and for the continue work in these remote areas.
We are Pakistani and proud to be Pakistani. We are proudly Muslim and belongs from different cities and different cast but here we are working together just for the sack of the nation and for the name of ALLAHA Almighty. May ALLAH help us - Ameen.
Friends and readers who wants to know more about team Ashiyana or our working areas or any other details please contact on the following;
team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
taimour.farhad@gmail.com
or +92 345 297 1618 (If number is going off or not answering please leave your text, this is just because of no signals in the area)

List of Friends / Donor’s / Contributor for April - May ’12.  Session:
Sister Badar Un Nissa, (Karachi)
C/o, Sister Syeda Faryal Zehra (Canada).
Brother Unknown  (Doha – Qatar)
Brother Siddique & Family (Karachi)
Brother Mansoor & Family (Karachi.
Unknown Brother / Sister (who contributed Rs. 2,00,000/= directly in the a/c)
List of Volunteers for April - May’12.  Session:
Syed Adnan Ali Naqvi (Chief Volunteer)
Faisal Alvi (Volunteer / Incharge  Medicines)
Mahnoor Mehsood (Volunteer / Incharge Food & Supply)
Mansoor Ahmed (Volunteer / Incharge Children & Education)
Meesam Khan (Volunteer)
Dr Rabia (General Physician)
Mahrukh Bibi (Volunteer)
Arbab Nabi Khan (Volunteer)
Um-e-Fatima (Volunteer)

Dear all, as you know that Team Ashiyana still not an organization or Registered group from Social Welfare Board Pakistan, for that we don’t have any organizational structure to work out. We are in our best try to reform our group but the Rate’s (Official & un-official) to register any N.G.O in Pakistan is so high and our funds can not meet with the said criteria (it is above one lac to be in official). We would like to work same as like we are working now-a-days, our friends, friends of friends, family members are our volunteers and we have proud on them to be a part of Team Ashiyana. May ALLAH give them Agr e Azeem for there work, Ameen.  

Jazak ALLAH
Faisal and Akram
Coordinator / Volunteer
Team Ashiyana (Waziristan)
Khyber Pakhtoonkhwa - Pakistan.

اتوار, مئی 06, 2012

Team Ashiyana, North Waziristan

اسلام و علیکم 
محترم دوستوں ٹیم آشیانہ وزیرستان شمالی میں موجود ہے اور اپنے پاکستانی بھائی بہنوں کے لئے خدمات انجام دے رہی ہے. انشا الله بہت جلد تفصیلات  سے اپنے دوستوں کو اگاہ کر دیا جاۓ گا.
ہم اپنے دوستوں اور بھائی بہنوں کے شکر گزر ہیں جنہوں نے ہماری بہت مدد کی. الله پاک جزاۓ خیر دے. امین 

ہم کو ملنے والے فنڈز اور امداد کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں بہت جلد اپ لوڈ کر دی جائیں گی. انشا الله.
ٹیم آشیانہ کا ایک ایک کارکن اور وزیرستان میں موجود سارے ساتھی آپ کی دواؤں اور مدد کے محتاج ہیں. الله پاک ہم کو ہمت حوصلہ اور غیب سے مدد کرے. امین.
جزاک الله خیر.
کارکن ٹیم آشیانہ برائے وزیرستان شمالی 
آشیانہ کیمپ، دتہ خیل ، شمالی وزیرستان.
اسلام و علیکم  

اتوار, اپریل 22, 2012

List of Urgent Require Items! (For Ashiyana Camp, Datta Khel, North Waziristan)

Dear Brother & Sisters, 
Assalam O Alikum.
Team Ashiyana is facing a lot of the problems to run its social activities in highly infected area in Datta Khel North Waziristan.
Our funds are not meeting with our demands. For that we are requesting to all of our Family member's, Friends and reader's to give your hand of courage to us and for the victims of War on Terror, who are living under very bad condistions in remote areas of North Waziristan. 
Team Ashiyana is only a social working group which is in try to give them Medical assistance, food supply, and others. As More than 40 Orphans are the main responsibility of us, These Orphans are living under the banner of Ashiyana Camp, 2km, Datta Khel, North Waziristan. Still we are not allow to take pictures and videos of our work but we knows ALLAH is watching us and our work. 
Dear all, 
This is an urgent request to all of you with the details that what we have and what we need (urgently):

Food Stuff:
We do have food stuff just for a day or two. 
We collected very few amount of food stuff during our bhik mission here at Peshawer (Khyber Pakhtonkhwa), but this is not enough for our daily demand. We have abut 100 victims, (including Orphans, Widows, Old and handicap)

We need urgnt supply for the food stuff as:
Rice, Flour (Atta), Beans (Dallain), Sugar, Tea, Salt, Spices, Ghee or Oil. (Urgently Require)

Medicines:
We have a very little amount of medicines at the moment.

We need urgent supply of the Medicines on priority basis. 
All kind of the Medicines, for our medical camp which need to be held in Datta Khel and other areas of the Town. 
Medicines for the Flue, Fever, Cough and Cold, Infant, General Deseases etc.

Other Stuff:
We are planning to open a road (Mobile School) for the children of North Waziristan. For that we need used books of your childrens, (in urdu medium only). from class I to class X.
Clothes for the children and women for all ages. (Urgently Required)

Masjid & Maddarsa (Masjid School):
A Masjid school is under construction is main Datta Khel, we have a plane to make it a primary level school. We need your assistance to meet our idea. 

Team Ashiyana Current Funds Details: (as on April 21, 2012)
In Cash: 
Send by Mansoor (Karachi): Rs. 5000/= (Five Thousands only)
Send by Ms. Badar-un-Nissa (Karachi): Rs. 3000/= (Three Thousands only)
Send by Asif Kamal (Karachi): Rs. 1500/= (Fifteen Hundred only)
Send by Ms. Mussarat (Lahore): Rs. 1000/= (One Thousand only)
Send by Faisal bro (Lahore): Rs. 1000/= (One Thousand only)                           
            Total Amount: Rs. 11500/= (Eleven Thousands, Five hundred only)
By Bank Account:
Current Balance as on April 21, 2012: Rs. 75/= (Seventy five only) 
"No new transaction or transfer available at yet"
By Other's: As on April 21, 2012: Rs. Nil (none)

Food Stuff (Collection in Bhik Mission in Karachi and Peshawer)
Clothes:
Send by Mansoor bro (Karachi): 42 suits for children & women (all used) 
Collected at Peshawer: 100 suites for Men, Women & Children.
Other cities: None

Food Stuff:
Send by Mansoor & Ms Badar (Khi):
Flour, Rice, Oil, and other general items worth of Rs. 10000/= (Ten Thousands only)
Collected at Peshawer:
Rice - 40kg, Flour 120 - kg, Beans (Dallain) 10 - kg, Oil - 15 kg, Salt - 50 bas, Suger - 100 kg, Tea - 1 kg, Spices etc.

Medicines:
Send by Ms. Badar (Khi): Worth of Rs. 1500/= (Fifteen Hundred's only)
Collected at Peshawer: Worth of Rs. 5000/= (Five Thousands only)

Dear all, the above mentioned data is subjected to availability as on April 21, 2012. Our prayers and best wishes are always with the worker and donors. May ALLAH gives them Ajr e Azeem for there efforts. But this is sorry to inform you that the amount of items is less and it is not meeting with our daily demands.

Team Ashiyana and the victims of war on terror, including our Orphans, Disable, and Widows are requesting to all of you to send your donation your used clothes, books, or medicines to us. as we can use it with thanks.

for the further details please visit:
or write us:

or call us at +92 345 297 1618

Jazak ALLAH Kher.
Volunteer
Team Ashiyana
D'tta Khel, North Waziristan.


محترم بھائی، بہنوں!
ہم لوگ یہاں (وزیرستان) میں اپنی خوشی  سے یا کسی اور مقصد کے تحت نہیں  ہیں، بلکہ ہم صرف اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ فرض جو ہم سب کو ایک قوم کی حثیت  سے مل کر ادا کرنا تھا. مجھ کو بہت اچھی ترہان اندازہ ہے کہ ہم اکیلے ہیں تنہاں ہیں، مگر الله پاک کی ذات پر مکمل بھروسہ اور یقین رکھتے  ہیں کہ ووہی ہے جس  نے ہم کو یہاں آنے کی ہدایت دی اور ووہی ہے جو ہم کو یہاں سے عزت کے ساتھ نکالے گا.
ٹیم آشیانہ، آج کل بہت شدید مشکلات کا شکار ہے، ہمارے اپر ٤٠ (چالیس) سے زیادہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی زمیداری ہے. جن کا کھانا پینا، ادویات وغیرہ  کا انتظام ہم کو ہی کرنا ہوتا ہے.  ہم ان بچوں کو کہی اور نہیں رکھ سکتے، کشمیر کے یتیم بچوں کے ساتھ جو سلوک لال مسجد میں کیا گیا وہ ساری دنیا نے دیکھا. ہم یہ بھی اچھی ترہان جانتے ہیں کہ آئ ڈی پیز کیمپ جلو زئی میں متاثرین کے ساتھ کیسا سلوک کیا جا رہا ہے. اور وزیرستان کے لوگوں کے لئے تو شاید پاکستان میں فلحال کہی کوئی جگہ نہیں جہاں وہ عزت کے ساتھ رہ سکیں. ہم ہمیشہ آپ ہی لوگوں کی مدد سے اپنے فلاحی کاموں کو جاری رکھتے ہیں اور انشاہ الله آیندہ بھی رکھیں گے. 
ہم (ٹیم آشیانہ) آج آپ سب سے، انسانیت، کے نام پر آپ سب سے اپنے وزیرستانی بھائی بہنوں اور بچوں کے لئے مدد کی درخواست کرتے ہیں، بھیک مانگتے ہیں مشکل کے ان لمحات میں ہمارا ساتھ  دیں، الله پاک ہماری مدد کرے، آمین.

ہم کو الله پاک کی ذات پر پورا یقین اور بھروسہ ہے کہ وہ ہماری مدد ضرور کرے گا. اور ہم کو اس مشکل سے ضرور نکالے گا.  آپ کی تھوڑی تھوڑی مدد یہاں ہمارے لئے بہت بڑی مدد بن سکی ہے. آپ جس طریقے سے ہماری مدد کرنا چاہیں کر سکتے ہیں، ہم کو اپنے بچوں کے لئے کچھ نیا نہیں چاہیے ہم آپ کے اور آپ کے بچوں کے پرانے کپڑے، اور آپ کی دی ہوئی غذائی اجناس سے خود کو سمبھالنا جانتے ہیں.
الله پاک آپ کا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو. 
جزاک الله
ٹیم آشیانہ
دتہ خیل، شمالی وزیرستان  
   

ہفتہ, اپریل 21, 2012

بھوجا ائر لائن کے حادثے میں شہید ہونے والوں سے تعزیت

اسلام و علیکم، 
ٹیم آشیانہ اور شمالی وزیرستان میں موجود سارے ساتھی، آج بھوجا ائرلائن کے حادثے میں شہید ہوے لوگوں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور الله پاک سے دعا کرتے ہیں کے الله پاک مرحومین کو جوار رحمت میں مقام عطا فرماے اور لواحقین کو صبر و تحمل اور برداشت عطا فرماے، آمین.
ٹیم آشیانہ براے شمالی وزیرستان.


جمعہ, اپریل 20, 2012

وزیرستان ڈائری: دتہ خیل میں میرا پہلا جمعہ، میران شاہ میں ڈرون حملہ اور ہم

اسلام و علیکم، 
آج کی ڈائری لکھتا ہوں. 

آج جمعہ مبارک کا دن ہے، خوش قسمتی سے آج کی رات نسبتاً پرسکون گزری، میری بھی آنکھ صبح فجر کے وقت ہی کھلی، صبح فجر میں اٹھنے کی عادت جو ہوتی جا رہی تھی، آج کسی کو اٹھانا نہیں پڑا. میں اپنے بستر سے اٹھ کر باہر آیا تو دیکھا کے ٹیم آشیانہ کے سارے ساتھی نماز کی تیاری میں مشغول ہیں. میں بھی وضو وغیرہ سے فارغ ہو کر نماز کی جگہ آکر بیٹھ گیا. تھوڑا ہی دیر میں باقی ساتھی بھی آگئے، امامت ظہیر خان بھائی نے کری، ماشا الله بہت ہی خوش کلامی سے تلاوت قرآن کری، نماز پڑھنے میں خود ہی بہت مزہ آیا. روح اور جسم سب الله کے حوالے کر دینے کا فیصلہ کیا اور نماز کی سہی حقیقت آج ہی کھلی. الله اکبر، کاش کہ میں پہلے ہی ان سب سچائیوں کو جان پاتا. اپنے ماضی پر افسوس اور کردار پر ندامت کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتا تھا. نماز کے بعد رو رو کر دعا کری کہ،
 "الله پاک، مجھ کو سیدھا راستہ دکھا، وہ راستہ جس میں میری فلاح ہو، میرے غیر والو کی فلاح ہو، میرے دوست احباب، عزیز اور رشتےداروں کی فلاح ہو، اور جس میں توحید کا کلمہ پڑھنے والو کی فلاح ہو."  
دعا کے بعد، عدنان بھائی نے ایک تعلیمی نشست کا اہتمام کیا تھا. جس میں قرآن پاک کی کچھ آیات پڑھ کر اس کا اردو اور پشتو ترجمہ کیا گیا، ایک اور بھی سے کہا گیا کے ان آیات پر علمی روشنی ڈالیں، سورج کی روشنی اب ہر طرف پھیلتی جا رہی تھی، نیند تو کب کی ختم ہوچکی تھی اب درس قرآن کے بعد ناشتہ کرنا تھا اور آج کیا کام کرنا ہے اس کی معلومات اور نماز جمعہ کی تیاری. 
میں نہیں، درس کے بعد اکرم بھائی سے معلوم کیا کے آج ہم (ٹیم آشیانہ) کیا کام کر رہی ہے تو جواب ملا کہ ناشتے کے بعد ہی پاتا لگے گا کہ آج کیا کرنا ہے. شاید اب ہمارے پاس ادویات اور امدادی سامان بہت کام رہ گیا تھا جس کی وجہہ سے کوئی نئی حکمت عملی بنانا مشکل ہو رہی تھی، میں نے اکرم بھائی سے معلوم کرنے کی کوشش کری کہ اگر یہاں سے فون کرنا چاہوں تو؟ جواب ملا کے ہمارے پاس کوئی جدید سہولت میسر نہیں، ایسی سہولیات تو صرف بڑے خان، طالبان، یا حکومتی اہلکاروں کے پاس ہے ہم ایسی سہولیات سے آراستہ نہیں. تھوڑا سا دکھ ہوا، کیوں کہ کافی دنوں سے امی سے بات نہیں ہوئی تھی پتہ نہیں وہ کیسی ہونگی؟ الله پاک امی کو صحت اور تندرستی دی، آمین.
ناشتہ بہت رسمی سے تھا جس میں رات کی بچی ہوئی روٹی اور چائے تھی. میں نے صرف چائے پینے پر ہی بس کیا کیوں کہ بھوک نہ ہونے کے برابر تھی. اچانک مجھ کو دونوں خواتین کے بڑے میں خیال آیا تو میں نے پوچھا تو پتہ چلا کے ایک اور خاتوں کے ہاں بیٹا ہوا ہے مگر تیسری خاتوں کی حالات کچھ بہتر نہیں، دعا کی اشد ضرورت ہے، دل سے دعا کری کہ الله پاک خاتون کو صحت عطا فرماے، آمین. 
دل کچھ بوجھل ہونے لگا. میں ٹہلنے کی غرض سے اٹھا ہی تھا کہ سارے ساتھیوں کو ایک جگا جمع ہونے کی ہدایت کی گئی. ہم سب ایک کھلی جگہ پر اکھٹا ہو گئے. عدنان بھائی اور اکرم بھائی بھی آگئے. پھر اکرم بھائی نے ابتدا کری. "ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے پاس اب صرف ضروری سامان رہ گیا ہے. ہمارے پاس اب اتنی ادویات نہیں کہ کوئی اور میڈیکل کیمپ لگا سکیں، نہ ہی ہم اب غذائی اجناس کی فراہمی کر سکتے ہیں، اس لئے آج جمعہ مبارک کی نماز کے بعد ٹیم آشیانہ کے کچھ اراکین میران شاہ اور پشاور روانہ ہو رہے ہیں جہاں سے کچھ سامان اکھٹا کیا جا سکے، آپ میں سے جو جو یہاں روک کر کام کرنا چاہتا ہے وہ ایک طرف ہو جائیں اور جو بھیک مشن کے لئے جانا چاہتا ہے وہ ایک طرف ہو جائیں اور جو آرام کرنے کی غرض سے اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں وہ ایک طرف ہو جائیں. 
میں بہت حیران زدہ تھا کہ کل تک ایسی کوئی بات بیان نہیں کری گئی تھی اور آج اچانک یہ صبح، اور جو لوگ ٹیم آشیانہ کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتے اور واپس جانا چاہتے ہیں ان کو بہت عزت اور احترام کے ساتھ واپس جانے کا بھی کہہ دیا گیا تھا. میرے حساب سے ایک میں ہی تھا جو بہت دور (کراچی) سے آیا تھا، باقی افراد زیادہ تر یہاں ہی کے تھے مطلب وزیرستان ہی کے کسی نہ کسی علاقے کے یا پشاور کے. مجھ کو کچھ اچھا محسوس نہیں ہوا، میری خود سمجھ نہیں آرہا تھا کے میں کس طرف کھڑا ہوں، اسی سوچ میں جہاں تھا وہی کھڑا رہ گیا جبکے باقی ساتھی تین الگ الگ جگہوں پر کھڑے ہو گئے. عدنان اور اکرم بھائی نے آواز دی کے بھائی منصور آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ میں نے کہا میں ابھی کچھ دن اور یہاں روک کر آپ کے ساتھ فلاحی کاموں میں حصہ لینا چاہتا ہوں، یہ سن کر ہلکی ہلکی سی آواز ہے جن میں صدا تھی، الله اکبر، ماشا الله، سبحان الله. . . ایسا لگا کے جیسے میں نے کسی جہاد میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہو. اکرم بھائی نے آگے بڑھ کر مجھ کو گلے سے لگایا. مگر عدنان بھائی کسی سوچ میں تھے، عدنان بھائی نے مجھ کو ایک طرف آنے کے اشارہ کیا اور اکرم بھائی باقی ساتھیوں کو ہدایات دینے لگے. 
عدنان بھائی نے مجھ کو ٹیم آشیانہ کی ملی مشکلات سے اگاہ کیا، یہ بتایا کے ہو سکتا ہے کے اب ہمارے پاس دو (٢) وقت کا کھانا بھی مشکل ہو، یا پھر کسی دن کا روزہ بھی رکھنا پڑے، ادویات کا انتظام کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں. باقی حالات تو میرے سامنے ہی ہیں. "آپ کو واپس جانا چاہیے آپ کراچی میں رہ کر ہماری بہتر مدد کر سکتے ہیں" عدنان بھائی نے کہا مگر میں نے جواب دیا کہ میں کچھ دن اور یہاں روکنا چاہتا ہوں، سمجھنا چاہتا ہوں حالات کو دیکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ جب میں واپس جاؤں تو بہت بہتر طریقے سے یہاں کے حالت بیان کر سکوں، یہاں کی مشکلات کو سمجھ سکوں اور کوئی بہتر حل تلاش کر سکوں. ہو سکتا ہے کے یہاں روک کر جو دکھوں میں کوئی اچھی راے دے سکوں. لیکن اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کے میں آپ پر بوجھ بنوں گا تو میں نماز کے بعد چلا جاتا ہوں، میں نے کہا. عدنان بھائی نے مجھ کو گلے لگا لیا اور ان کی آنکھوں میں آنسوں تھے، میری بھی آنکھیں بھر آی. کراچی میں رہ کر کبھی ایسے حالت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، آج پہلی دفع محسوس ہوا، کہ فاقہ کیا ہوتا ہے ابھی کیا نہیں تھا صرف سوچا ہی تھا تو ادھ جان جا رہی تھی. الله اکبر، پتہ نہیں یہاں کے لوگ کتنے فاقے کرتے ہونگے، کتنے ہی لوگ بغیر ادویات اور علاج کے مر جاتے ہونگے، کتنے ہی لوگ ایسے بورے حالات سے تنگ اور پریشان ہو کر ملک دشمنوں کے ہاتھوں کا ہتھیار بن جاتے ہونگے، نام نہاد طالبان بھی شاید ایسے ہی موقے اور لوگوں کی تلاش میں رہتے ہونگے، تبھی وزیرستان اور قبائلی علاقوں میں طالبان اور نام نہاد اسلام کے ٹھیکیداروں کا علاقہ ہے. اور ان کا زور چلتا ہے. ان سب کے ذمے دار ہم سب ہی ہیں. ہم خود تو شہسروں میں بیٹھ کر اپنی روزی روٹی کی فکر کرتے ہیں مگر کبھی نہیں سوچتے کے پتہ نہیں کتنے لوگ ہیں جن کو ایک وقت کی روٹی تک میسر نہیں، ہم کو تھوڑا سا سر درد ہوتا ہے تو ڈاکٹر کے پاس بھاگتے ہیں. اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں دوا لیتے ہیں، مگر یہاں تو ایک ٹیبلٹ تک مشکل سے ملتی ہے. یا الله! یہ کیسا امتحان ہے؟ یہ کیسی مشکل ہے؟ مجھ کو ہمت دینا، صبر دینا، کہ میں اپنے اس فیصلے پر ثابت قدم رہوں. آمین.

دن کے ١١ بجے کا وقت:
اچانک ہی کچھ افرا تفری مچی، اکرم بھائی میرے طرف بھاگتے ہووے آی اور میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف بھاگنے لگے، میں اس بھاگم بھگ کے لئے بلکل تیار نہیں تھا. بلال بھی کہیں نظر نہیں آرہا تھا. نہ ہی ٹیم کا کوئی دوسرا کارکن نظر آرہا تھا. 
یا الله یہ کیا ماجرا ہے؟ میں اکرم بھائی کے ساتھ تیز نہیں بھگ سکتا تھا. اپنی معذوری پر پہلی دفع بہت غصہ آیا. ١٥ منٹ کے بعد ہم ایک جگا روکے، میری سانس بوری تارہا چل رہی تھی، حلق میں کانٹے پڑھ رہے تھے، فکر اور گھبراہٹ الگ ہو رہی تھی. اکرم بھائی مجھ کو ایک چھوٹے سے گھر میںلے گئے ہے مجھ کو ہدایت دی کے جب تک وو واپس نہیں آتے مجھ کو اسی گھر میں روکنا ہے اور کسی سے کوئی بات نہیں کرنی. میں ہکا بکا، تھا. کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا. وہ مجھ کو چھوڑ کر چلے گئے، میں ایک طرف بیٹھ گیا، صبح سے ہونے والی سری باتوں کو یاد کرنے لگا. آج جمعہ بھی ہے، میں سمجھا کے آج کسی بڑے میدان میں نماز کی تیاری ہوگی جس سے مجھ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دیکھنا اور ملنے کا موقع ملے گا، مگر یہ سب تو الٹا ہی ہو رہا تھا. تھوڑی دیر میں ایک بچہ (١٢-١٣) برس کا میرے لئے ایک پلیٹ میں چاول اور دنبے کے گوشت کا سالن دل کر لے آیا، ساتھ پانی بھی تھا، میں نے بچے کو اردو میں ہی کہا الله اجر عظیم دے، میں بھوکا نہیں بس پانی دی دو. بچا اردو سمجھ گیا اور کہا کھاؤ، میں نے انکار کر دیا، اور یہ انکار صرف خوف کی وجہہ سے نہیں تھا، مجھ کو سچ میں بھوک نہیں لگ رہی تھی. وہ بچہ پلیٹ واپس لے کر چلا گیا. میں نے آگے بڑھ کر پانی کا گلاس اٹھایا، پانی پر نظر پڑی تو دیکھا پانی بہت مٹی والا تھا. بہت مٹی تھی. میں کیسے پی سکتا تھا پانی. میں نے اپنی قمیض کا دامن پانی کے گلاس پر رکھا اور جتنا پانی پی سکتا تھا الله کا شکر ادا کر کے پی لیا. 
  دن کے ایک (ا) بجے:  
ابھی تک کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کے باہر ہو کیا رہا ہے ہر طرف سناٹا تھا. ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں کسی قبرستان میں آگیا ہوں. وہ بچہ جو کھانا اور پانی لیا تھا واپس نہیں آیا تھا. میں کمرے سے باہر نکلنا نہیں چاہتا تھا کے کوئی گڑ بڑ ہوئی تو اکرم بھائی جانے کیا کہے گے. پریشان اور لاچار ایک طرف بیٹھ گیا، صرف گھڑی میں وقت دیکھ کر سوچ میں تھا کے آج نماز بھی ادا ہوگی کہ نہیں؟
اسی سوچ میں تھا کہ، اکرم بھائی آگئے، میری جان میں جان آی، ایک انجانی خوشی کا احساس ہونے لگا. میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی اکرم بھائی نے بتایا، "منصور بھائی آج صبح نماز فجر کے بعد دتہ خیل سے کچھ آگے، اور میران شاہ پر ڈرون نے حملہ کیا ہے، جس میں بہت جانی نقصان ہوا ہے. کافی غیر ملکی (نام نہاد) جہادی مارے گے ہیں. اور کچھ مقامی لوگ بھی مارے گئے ہیں. پورا امکان ہے کے آج جمعہ کی نماز پرایک دفع پھر سے حملہ ہو. اسی خدشے کے پیش نظر ہم کو سر پر پیر رکھ کر جس حال میں تھے بھاگنا پڑا. ہم کسی بھی قسم کا نقصان برداشت کر سکتے ہنی مگر جانی نقصان بلکل نہیں. میرا کچھ سامان جو میرے بستر پر تھا وہ بھی لا کر دیا. کے فلحال آپ کو یہی روکنا ہوگا. میں نے باقی ساتھیوں کا پوچھا تو بتایا گیا الله کے فضل اور کرم سے سب ہی محفوظ جگہوں پر ہیں. اب کچھ اور پوچھنے کے لئے باقی نہیں رہ گیا تھا. نماز کا پوچھا تو کہا کے آج نماز اسی کمرے میں ادا کرنی ہے کچھ مقامی لوگ آرہے ہیں، کیوں کے ڈرون حملے کی وجہہ سے نماز کھلی جگہ پر اور اجتماع کے ساتھ ادا نہیں کی جا سکتی. 
مجھ کو وضو کا پانی دیا گیا، مجھکو کچھ حجت محسوس ہو رہی تھی میرا اشارہ سمجھ کر اکرم بھائی نے مجھ کو راستہ دکھایا، میں باہر نکلا کھلے آسمان کی طرف دیکھا، الله کا شکر ادا کیا اور اپنے کام سے فارغ ہوکر وضو کر کے کمرے میں واپس آگیا. میری واپسی تک ٨-١٠ مقامی افراد کمرے میں موجود تھے اور نماز کی تیاری کر لی گئی تھی. مقامی افراد سے میرا تعارف کرایا گیا جو رسماً تھا. ایک مولانا ٹائپ کے صاحب نے جمعہ کا عربی خطبہ دیا، اقامت ہوئی اور نماز پڑھی گئی، نماز کے بعد بقیہ نماز ادا کری اور ایک ایک کر کے وہ سب رخصت ہوتے چلے گئے، صرف اکرم بھائی اور ایک اور صاحب جن کا نام نہیں پتہ وہی رک گئے.

دن کے ٣ بجے:  
کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی، اکرم بھائی تلاوت قرآن کر رہے تھے اور وہ صاحب تسبیح پر کچھ پڑھ رہے تھے، وہی بچہ جو پہلے کھانا لے کر آیا تھا ایک دفع پھر کمرے میں داخل ہوا اب اس کے پاس تین (٣) پلیٹیں تھی کھانا وہی تھا جو وہ پہلے لے کر آیا تھا، گلاس کی جگہ ایک چھوٹی سی مٹکی تھی جس میں پانی بھرا تھا. میں خود کو پتھروں کے دور کا انسان محسوس کر رہا تھا یا ایسا لگ رہا تھا کے میں افغانستان میں کہیں موجود ہوں. اکرم بھائی نے اشارے سے بچے کو کھانا رکھ کر جانے کا کہا اور تھوڑا دیر میں فارغ ہو کر کھانا خانے بیٹھ گئے. بھوک بھی تھی مگر حالات کی وجہہ سے خانے کو دل نہیں کر رہا تھا. پھر بھی کوشش کری کے جتنا کھا سکتا ہوں کھاؤں کیا پتہ آنے والا وقت کیسا ہو. اکرم بھائی میری دوا کی تھیلی بھی لے آی تھے میں نے دوا کھائی، اور ایک طرف بیٹھ گیا. اس میں کوئی شک نہیں کے میں بہت زیادہ پریشان تھا. ایسے حالات کے لئے تیار ہی نہیں تھا. مجھ کو تیار رہنا چاہیے تھا. آج پہلی دفع احساس ہوا کے میں ایک ایسے علاقے میں ہوں جہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے. آج ہی یہ پتہ چلا کے کیوں فلاحی ادارے اور حکومتی ادارے یہاں آکر کام نہیں کرتے. اور آج ہی عدنان بھائی کی عزت، وقار،ٹیم آشیانہ کی ہمت، صبر سب ہی میری نظروں میں بہت بڑھ گے، دل چہ رہا تھا کے اگر سب میرے سامنے ہوں تو اک ایک کا ہاتھ چوموں ان سب کو سلام کروں کہ کتنے سالوں سے یہ لوگ اتنے برے حالات میں ایسے خطرناک علاقوں میں کام کر رہے ہیں. اس کا کوئی صلہ نہیں  دی سکتا. صرف الله پاک کی ذات ہی ہے جو اس کا صلہ دے سکتی ہے. 
اکرم بھائی نے میری ڈائری کی طرف دیکھا اور پوچھا کے یہ کیا ہے؟میں نے کہا کے یہ میری ڈائری ہے جو میں لکھتا ہوں. انہوں نے کہا کے اپنی جان سے زیادہ اس کی حفاظت کرنا کیوں کے ایسی تحریر تم کو کسی مشکل میں نہ ڈال دیں. میں نے سر ہلا کر ان کی مشورے کا شکریہ ادا کیا. اور پوچھا کے اور کب تک یہاں روکنا ہوگا؟ جواب ملا کچھ اندازہ نہیں. میں ایک طرف بچی ہوئی چادر پر لیٹ گیا.

شام کے ٤-٥ کا وقت ہوگا جب مجھ کو اٹھایا گیا میں سو گیا تھا. نماز عصر ادا کری، پھر بیٹھ کر تھوڑا قرآن پڑھا. نماز مغرب کا وقت ہوا تو ادا کری. اور ایک طرف بیٹھ گیا. آج رات یہاں نہ ہی لالٹین تھی نہ ہی چراغ. ہر طرف اندھیرا تھا. جس میں میں اور اکرم بھائی بیٹھے تھے. اکرم بھائی کبھی کبھی کچھ کہتے تو میں ہاں یا ہوں میں جواب دے دیتا. یہ اندھیرا مجھ کو کاٹنے لگا تھا. باہر جانے کی اجازت نہیں تھی. میں سوچنے لگا کے اس وقت کراچی میں میرے گھر پر کیا ہو رہا ہوگا. آج جمعہ ہے میری بہنیں گھر آئ ہونگی، کھانے بن رہے ہونگے. گلی میں بچے ادھر ادھر بھگ رہے ہونگے. یہ خیال بھی میرے کو بہت اچھا لگ رہا تھا. تھوڑا دیر میں ایک شب آے اندھیرے میں پتہ نہیں لگا کے کون ہیں، اکرم بھائی نے پشتو میں کچھ کہا اور مجھ کو اردو میں کہا کے چلو بھائی منصور، خطرہ کچھ کام ہوا باہر چلتے ہیں. اف، میں بتا نہیں سکتا تھا کے باہر جانے کا سن کر جو خوشی محسوس ہوئی تھی وہ کیسی تھی. میں فورن کھڑا ہو گیا اور اکرم بھائی کے آواز کے سہارے کمرے سے باہر نکلنے لگا. باہر کھلی فضا میں آکر گہرے گہرے سانس لئے دل کو بہت اطمینان ہوا. اکرم بھائی میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف چلنے لگے، اور ہم تھوڑا دیر چلنے کے بعد ایک ڈھلوان والی جگہ پر آکر. روک گئے، یہاں دیکھا کے عدنان بھائی موجود ہیںاور ٹیم کے کچھ دوسرے ارکان بھی خوشی کے مارے میرے مون سے آواز نکلی "عدنان" اور میں جھپٹ کر ان کے گلے لگ گیا. میںنے ان سے کہا کے حالت کچھ بھی ہوں آپ مجھ کو اکیلا نہ چھوڑنا. انہوں نے کہا، بھائی سب کچھ اتنا جلدی اور تیزی سے ہوا کے کچھ بھی سوچنے سمجھنے کا وقت نہیں ملا اور یہ سب تو یہاں چلتا ہی رہتا ہے. فٹ بھی میں پوری کوشش کروں گا کے اگر ایسا ہو تو تم میرے ساتھ ہی رہو. ہم سب نے مل کر عشا کی نماز ادا کری، رات میں کچھ کھانے کا انتظام نہیں تھا بس ہلکا پھلکا جو ملا کھا لیا، آج عدنان بھائی نے بتایا کے، "٥ ساتھی جو مختلف علاقوں سے آے تھے وہ آرام کرنے واپس چلے گئے ہیں، ٥ ساتھی پشاور کے لئے نکل گئے ہیں جو ادویات، غذائی اجناس وغیرہ کے لئے وہاں بھیک مہم چلیں گئی اور دوسرے ساتھیوں سے رابطہ کر کے مدد مانگے گئی. اور ہم یہاں رہ گئے ہیں. ابہ تم بتاؤ کے ایسے حالت میں کیا کرنا چاہیے. کیا ہم کو امداد کا انتظار کرنا چاہیے یا یہاں روک کر ہم کچھ اور کر سکتے ہیں؟ میں نے اکرم بھائی کے کان میں کہا کے بھائی اگر ممکن ہو تو چائے پلوا دو اور اگر ایک سگریٹ مل سکتی ہے تو مہربانی ہوگی. "یہ بتا دوں کے مجھ کو بے شک دن میں ایک دفع کھانا ملے، مگر میں چاہیے اور سگریٹ ضرور پیتا ہوں." آج کافی دن کے بعد مجھ کو شدت سے چائے اور سگریٹ کی طالب محسوس ہو رہی تھی. اکرم بھائی نے مسکرا کر کہا جی بلکل!اور وہ اٹھ کر ایک طرف چلے گئے.
  
عدنان بھائی کے چہرے پر ایک اطمینان تھا، جس کو دیکھ کر مجھ کو بھی سکوں مل رہا تھا کے چلو دن بھر کی ٹینشن کے بعد کچھ ذہنی سکوں تو ملا. اب عدنان بھائی نے ایک دفع پھر سے دہرایا کہ " بھائی کچھ سوچا کہ اب کیا کرنا ہے؟" میں نے کہا بھائی جی، آپ تو سالوں سے یہاں ہو آپ کیا کرتے ہو جب آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا؟ جواب ملا کے میں مقامی لوگوں کی ساتھ ان کے کام کاج میں مدد کرتا ہوں وغیرہ وغیرہ. میں نے کہا کے اکرم بھائی کو آجانے دیں جب تک میں کچھ نوٹس لکھ لیتا ہوں پھر کھل کر بات کرتے ہیں. میں نے آج اپنے سارے تجربے اور تجزیے کو ایک دفع پھر سے لکھنا شروع کیا، ڈائری کا ایک ایک صفحہ بار بار پڑھا اور جو بھی بہتر سے بہتر مشورے لکھ سکتا تھا لکھنا شروع کیا. 
رات کے ٩-٩:٣٠ کا وقت ہوگا جب اکرم بھائی واپس آے تو ان کے ایک ہاتھ میں برتن (چائے والا) تھا، میں نے شکر کیا کے آج پیٹ بھر کے چائے تو پینے کو ملے گی، سگریٹ شاید نہیں ملی ہوگی. مگر اکرم بھائی نے قریب آتے ہی میرے ہاتھ میں مارون گولڈ کے ٢ پاکٹ رکھے اور گلاس میں چائے نکال کردی. الله کا شکر ہر حال میں کرنا چاہیے اب یہ سگریٹ کا نشہ کا شکر ادا کروں کے نہیں. دل میں آسمان کی طرف دیکھ کر الله کا شکر ادا کیا کے دن بھر کے ہنگامے کے بعد رات کتنی پرسکون عطا کری. الله تیرا شکر ہے!


To get in touch with Team Ashiyana (North Waziristan) please email us: 
team.ashiyana@gmail.com,
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca,
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
or call / text us at: +92 345 297 1618

Waziristan Dairy: Another Page from dairy.

اسّلام و علیکم 
ڈائری ایک دفع پھر ایک دن اور لیٹ ہو گئی، وجہہ وہی ہے جو میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں. آج پشاور میں عدنان بھائی اور فریال باجی سے بات کرنے کا موقع ملا، دل کو اطمینان ہوا کہ ٹیم آشیانہ خیریت سے ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہے. عدنان بھائی اور فریال باجی کی تحریر پڑھنے کہ بھی موقع ملا. عدنان بھائی اور فریال باجی کے خیالات سے آگاہی ملی، بہن فریال کہ مشورہ اپنی جگہ بلکل درست ہے میں بھی اب اپنی پوری کوشش کروں گا کہ کچھ ایسا تحریر نہ کروں جس سے ٹیم آشیانہ کے ساتھیوں اور وزیرستان میں رہنے والے بھائی بہنوں کے لئے کسی بھی طرھ کی کوئی بھی مشکلات پیدا ہوں. آج صبح کیوں کے یہاں نہم جماعت کہ پرچہ تھا اس میں مصروف تھا اس سے فارغ ہو کر سیدھا بس سٹاپ گیا اور جتنا بھی سامان پچھلے دنوں میں جمع کیا تھا وہ سامان بس میں لوڈ کروایا اور اب سے تھوڑا ہی دیر قبل گھر آیا ہوں اور ضروری کاموں سے فارغ ہو کر ڈائری لکھنے بیٹھ گیا ہوں کیوں کہ رات کہ کچھ پتا نہیں بجلی ہو بھی کہ نہیں کیوں کہ آج کراچی کہ موسم ابر آلود ہے اور بارش کہ امکان ہے. 
"اور محترم دوستوں، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، مطلب کے بجلی چلی گئی. اسی لئے میری ڈائری ادھوری رہ گئی."  

میں نماز پڑھنے کو تو تیار تھا مگر یہاں (وزیرستان) میں پتہ نہیں کے میرے نماز پڑھاۓ جانے کے کیا اثرات ہونگیں بس یہی ایک خوف تھا. شکر الله کا کے عدنان بھی آگئے اور انہوں نے اکرم بھی کو امامت کے لئے کہا. میں نے الله پاک کا دل ہی دل میں بہت شکر ادا کیا اور نماز میں مشغول ہو گیا.
نماز سے فارغ ہو کر عدنان بھائی نیں بتایا کے ابھی تک ان خواتین کے لئے hکچھ نے ہو سکا جن کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا ضروری تھا. کوئی مدد میسر نہیں ہے. بس الله پاک غیب سے مدد فرماے اور تینوں خواتین کو اور ان کی ہونے والی اولادوں کو صحت، تندرستی عطا کرے اور زندگی عطا فرماے، آمین. یہی دعا نماز کے بعد مانگی گئی. میں سوچنے لگا کہ انسان کتنی بھی ترقی کر لے، دنیا منی کسی بھی مقام پر پہنچ جاۓ مگر الله پاک کہی نہ کہی ایسا امتحان دیتے ہیں جس سے بندے کے ایمان کا اندازہ ہو جاتا ہے. مجھ جیسے گھن چکر کے لئے یہ بلکل نیا مگر روح کو سکون دینے والا تجربہ تھا.
ہم سب کچھ دیر کے لئے آرام کی غرض سے ایک طرف بیٹھ گئے، بلال محسود ابھی تک ہمارے ساتھ ہی تھا. میں نے عدنان بھائی سے باتوں ہی باتوں میں ذکر کیا کہ بلال کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے؟ عدنان بھائی نے مجھ کو کہا جیسا تم کو بہتر لگتا  ہے کرو. میں نے بلال اور اس کی بوڑھی ماں اور بیمار بہن کو اپنے ساتھ کراچی لیجانے کی بارے میں سوچا مگر کراچی کے حالت اور وزیرستان کا نام اپر سے نام میں محسود، یہی کچھ باتیں تھی جو مجھ کو بلال کو کراچی لیجانے سے روک رہی تھی. میں نے ایک دفع پھر بلال سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کو صاف صاف  بتانے کا سوچا کہ میں کیوں اس کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا، ہاں میں کراچی رہ کر اس کے لئے  وہاں سےکچ نہ کچھ مدد ضرور کر سکتا ہوں. 
تھوڑی ہی دیر میں مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا، یہاں (دتہ خیل) میں عصر اور مغرب کی نمازوں میں کچھ زیادہ  وقفہ نہیں ہے.
نماز مغرب ادا کر کہ فارغ ہوے ہی تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ آج جلدی کھانا کھا کر نمازعشا پڑھتے ہی آرام کروں گا مگر نماز سے فارغ ہوتے ہی کسی نے اطلاع دی کہ ایک خاتون کے بیٹا ہوا ہے اور دونوں زچہ اور بچہ الله پاک کے فضل اور کرم سے ٹھیک ہیں ہم سب نے الله کہ شکر ادا  کیا اورباقی دو خواتین کے لئے بھی دعا کری کہ الله پاک دونو خواتین کی بھی مدد کرے اور آسانی کرے. آمین.
آج کے میڈیکل کیمپ کی وجہہ سے تھکن بہت ہو رہی تھی اور بھوک بھی  لگ رہی تھی. اوپر سے ایک اور مشکل تھی کہ ٹیم آشیانہ کے پاس پینے کہ پانی تک ختم ہو گیا تھا. (یہاں یہ بتانا ضروری ہے کے ٹیم آشیانہ جس علاقے میں موجود ہے وہاں پینے کہ پانی ڈیڑھ کلومیٹر دور سے لانا پڑھتا ہے). اس وقت صرف رات کے کھانے تک کے لئے پانی موجود تھا. عدنان بھائی نے کچھ مقامی لوگوں سے مدد مانگی اور کچھ لوگ کسی نہ کسی برتن میں پانی لے ہے. یہاں ایک بہت اچھی بات یہی تھی کہ مقامی لوگ ہم وقت مدد کے لئے تیار رہتے ہیں. وسائل نہ ہونے کے باوجود بھی کوشش کرتے ہیں کہ جو بھی کم ان کو دیا جاۓ وہ پورا کریں. یہاں ویسے بھی کوئی کام وغیرہ تو ہے نہیں جس میں یہاں کے لوگ مصروف رہے، سکول کہ نام تو جانتے ہیں مگر ہے کوئی نہیں، میران شاہ کے حالت اور دتہ خیل کے حالت میں زمیں آسمان کہ فرق ہے. نمازعشا کہ وقت ہوتے ہے نماز کی تیاری ہوئی اور میرے چاہنے کے باوجود بھی کھانا ہم نے نماز کے بعد ہی کھایا. کھانے میں دن کہ ہی بچہ ہوا کھانا تھا معلوم کرنے پر پتہ چلا کے اب ٹیم آشیانہ کے پاس کھانے پینے کہ ذخیرہ بھی ختم ہونے کو ہے. فریال باجی کی یاد بہت آرہی  ہے مگر مل نہیں سکتا تھا کیوں کے یہاں کا پردہ قانون بہت ہی سخت ہے.  اور میں فریال باجی یہ ٹیم آشیانہ کے لئے کوئی مشکل کھڑی کرنا نہیں چاہتا تھا.  
کھانا ابھی تک لذیز تھا اور خوب پیٹ بھر کہ کھایا، الله پاک کا شکر ادا کیا کے بد ترین حالات میں بھی ہم کو سونے سے پہلے پیٹ بھر کھانا عطا فرمایا. یہاں قرآن کی ایک سورہ "اور تم اپنی پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" بہت بار پڑھنے کا دل کرا. میں عدنان بھائی، اکرم بھائی اور کچھ دوسرے ساتھ ایک طرف بیٹھے تھے کہ ایک بچے نے آکر یاد دلایا کہ آج ابھی تک اردو کی کلاس نہیں ہوئی ہے، میں بہت تھکا ہوا تھا عدنان بھائی کو  اشارہ کرکے اپنی آرام گاہ مطلب ٹینٹ میں چلا گیا. میرے پیچھے پیچھے بلال بھی آیا اور مجھ سے اجازت لے کے روانہ ہو گیا. میں ابہ اپنی ڈائری لکھنے بیٹھا ہوں، لالٹین کی روشنی میں لکھنا آسان نہیں. آج سارا دن کی کارستانی لکھی ہے، مگر بلال کے بارے میں کچھ بھی فیصلہ نہیں کر پا رہا ہوں. اس کے رویہ سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کے جیسے  ان کومجھ سے بہت امیدیں ہیں، الله مجھ کو ہمت اور توفیق دے کہ میں کسی ایک کی امید پر پورا اتر سکوں. آمین.
آج شب جمعہ ہے کل جمعہ کی نماز ادا کرنی ہے. اسی لئے سوتا ہوں. اس امید پر کے آنے والی صبح ہم سب ہی کے لئے خوشی اور آسانی کا پیغام لیے گی. انشا الله
                                          

جمعرات, اپریل 19, 2012

Team Ashiyana (Waziristan): Faryal is going back to Canada.

اسلام و علیکم،
میں فریال زہرہ، پشاور میں ہوں اور عدنان بھائی کے ساتھ ہوں، شمالی وزیرستان میں کچھ وقت گزرنے کے بعد میں واپس کینیڈا جا رہی ہوں اس  امید پرکہ عدنان بھائی اپنی پور لگن، خلوص، محنت کے ساتھ اپنے فلاحی کام میں مصروف رہے گیں.میں اپنی پوری کوشش کروں گی کہ کینیڈا جا  کر وہاں کی پاکستانی کمیونٹی کو وزیرستان کے حالات سے اور اپنے تجربات سے آگاہ کروں اور جو کچھ بھی میں کینیڈا میں رہ کر شمالی وزیرستان کے بھائی بہنوں کے لئے کر سکتی ہوں کروں. میری دعا اور محبت ٹیم آشیانہ کے ایک ایک  فرد کے ساتھ ہیں. 
میں اپنے بھائی عدنان، منصور، اکرم، بلال،  بہن بدر، شائستہ، زینب اور سب ہی وزیرستان والوں کی شکر گزار ہوں کہ سب ہی نی مجھ کو بہت پیار، محبت اور خلوص سے نوازا. بدترین حالات میں بھی مجھ کو بہت عزت دی، اور میری حفاظت کری. خاص کر بھائی اکرم، جنہوں نی مجھ کو دو (٢) بہت پیارے بچے جن کے نام اسماعیل اور سدرہ ہیں دے، کہ ان کی کفالت میں کروں. ایک اور بھائی نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ بہت جلد ان دونو بچوں کے پاسپورٹ اور ضروری کاغذات بنوا دیں گے جس کے بعد میں ان پیارے بچوں کو کینیڈا بلوا سکوں گی. وزیرستان میں ایسے بہت بچے ہیں جن کا مستقبل کا کچھ پتہ نہیں، اکثر بچوں کے گھر والے کہی چلے گئے ہیں یا پھر یہ بچے اپنے گھر والوں سے بچھڑ گئے ہیں. آشیانہ کیمپ دتہ خیل میں فلحال ایسے ٤٠ (چالیس) بچے موجود ہیں، جن کی کفالت اور دوسری ذمداریاں ٹیم آشیانہ پوری کرنے کی کوشش میں ہے. الله پاک ٹیم آشیانہ کو اس کام کا صلہ دے، آمین.
آج منصور بھائی (کراچی) سے بات ہوئی ہے، وہ آج ہی کچھ سامان اور دوسری چیزیں ایک بس کے ذریے روانہ کر رہے ہیں امید کی جاسکتی ہے کہ ان کا امدادی سامان ٢ دن تک پشاور پہنچ جاۓ گا اور اور ٣-٤ دن تک دتہ خیل شمالی وزیرستان. میں نہیں منصور بھائی کی وزیرستان ڈائری کا بھی مطالعہ کیا ہے، میرا منصور بھائی کو مشورہ ہے کہ واقعات اور حالات کو بیان کرنے میں عجلت اور مکمل سچائی سے کام نہ لیں اس سے ٹیم آشیانہ اور مقامی لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑھ سکتا  ہے. آپ فرضی کردار اور جگہوں کے ناموں کا استعمال کر سکتے ہیں. عدنان بھائی آپ کو بہتر طریقے سے رہنمائی دے سکتے ہیں.
الله پاک، ٹیم آشیانہ کی رہنمائی فرماے، اور اسی محنت اور لگن اور جوش و جذبے سے اپنا فلاحی کام جاری رکھنے کی ہمت اور حوصلہ دے. آمین.
میری خدمات پہلے بھی حاضر تھی اور آیندہ جب بھی ٹیم آشیانہ اور پاکستان کو میری ضرورت ہوئی میری خدمات حاضر رہے گی. میں یہاں بھائی فیصل کی بہت شکر گزار ہوں جنہوں نیں ہر حالات میں مجھ سے رابطہ رکھا، اور ٹیم آشیانہ کے بلاگ کو ہدایات ملنے پر اپ ڈیٹ کرتے رہے. 
زندگی رہی تو انشا الله آپ سب ہی ساتھیوں سے پھر ملاقات ہوگی. الله پاک ہم سب کا  حامی و ناصر ہو. مجھ کو اپنی دعاؤں یاد رکھیے گا اور دعا کیجئے گا کے ان دو بچوں کی جو ذمے داری میں نی لی ہے اس کو بہتر اور احسن طریقے سے نبھا سکوں.
جزاک الله
سیدہ فریال زہرہ
faryal.zehra@gmail.com
f4faryal @ twitter