‏Victim of War on Terror لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Victim of War on Terror لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ, جون 27, 2012

ٹیم آشیانہ: ایک دفع پھر میدان عمل من

محترم دوستوں اور ساتھیوں،
اسلام و علیکم،

ٹیم آشیانہ ایک دفع پھر قومی خدمت ک جذبے سے سرشار ہو کر شمالی وزیرستان روانہ ہو چکی ہے، ہم اس سے پہلے ٹیم آشیانہ کا فلاحی کاموں کی تفصیلات اور خدمات یہاں اور دیگر طریقوں سے آپ کو بتاتے رہے ہیں. آپ سب کے دیے گئے عطیات اور فنڈز سے ہی ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان میں موجود اپنے پاکستانی بھائی بہنوں کے لئے خدمات سرانجام دے رہی ہے. افسوس کے گزشتہ ماہ بار بار ہونے والے ڈرون حملوں اور پاکستانی افواج کی کاروائی کے سبب ٹیم آشیانہ کو بھی حفاظتی اقدام کے طور پر شمالی وزیرستان سے باہر آنا پڑا. مگر ہمارا یہ قدم ٹیم آشیانہ کے کارکنوں کی جنوں کی حفاظت کے لئے تھا نہ کے ہم کسی دار اور خوف کے سبب شمالی وزیرستان چھوڑتے. دتہ خیل اور میران شاہ کے علاقوں میں بار بار کے ڈرون حملوں نی ایک خوف کا ماحول بنا دیا ہے ہم جتنی بھی محنت کر لیں مگر طالبان اور ان سے متاثر لوگوں کے غم، دکھ اور  تکالیف کو الفاظوں میں بیان نہیں کر سکتے. 

میں (فریال) جب  سے واپس کینیڈا گئی تھی تو اس امید پر کہ شاید آنے والے وقتوں میں یہاں کے حالات میں کچھ بہتری آجاۓ گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا، بلکہ ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا، ہماری افواج نی بھی جہاں جہاں شدت پسندوں کی نشان دہی ہوئی وہاں حملہ کیا، شاید ان حملوں میں شاید کچھ شدت پسند اور طالبان مارے بھی گئے ہوں مگر اکثر مقامی لوگوں کا جانی اور ملی نقصان ہوا جن کی تفصیل کچھ وجوہات کی بنا پر میں یہاں نہیں لکھ سکتی. عدنان بھائی اور ٹیم آشیانہ کے ممبران کو بھی دتہ خیل چھوڑ کر پہلے میران شاہ پھر پشاور جانا پڑا. ٹیم آشیانہ جو برسوں سے مقامی (شمالی وزیرستان) میں رہنے والوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثر لوگوں کے لئے خدمات انجام دے رہی ہے، وہاں کے لوگوں میں پاکستان کی محبت اور وفاداری کا جذبہ جگانے کی کوشش کر رہی ہے، اسلام کا سہی اور حقیقی تصور جگانے کی کوشش کر رہی ہے، شمالی وزیرستان کے بچوں اور بچیوں میں تعلیم اور علم کی شمع جلانے کی کوشش کر رہی ہے، اور تنہا یہاں کے مشکل ترین حالات کا سامنا کرتے ہوۓ کام اور فلاحی منصوبوں کو مکمل کرنے کی کوشش میں ہے، ہم کواس طرھ کے حملوں اور اقدامات سے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے. مشکل یہ ہے کہ ہمارے عقلمند اور زیرک حکمران اور فلاحی خدمات کا دعواہ کرنے والے ادارے پتا نہیں کیوں شمالی وزیرستان سے منہ موڑے ہوے ہیں. ہم نے بہت دفع حکمرانوں کو سماجی اور فلاحی اداروں کو خطوط تحریر کیے، رابطے کیے، مگر صرف زبانی تسلی اور وعدوں کے کچھ نہیں سنا اور ملا.

گزشتہ ہفتوں کے دوران کیے  جانے والے ڈرون اور پاک افواج کے حملوں سے جہاں شدت پسندوں اور طالبان کا نقصان ہوا وہیں مقامی آبادی کا بھی بہت نقصان ہوا. سب سے بڑھ کر طالبان نی ایک دفع پھر سے اکثر علاقوں میں اپنی دھونس دھمکی چلانا شروع کر دی. ایسے علاقے جہاں ہم آسانی سے جا کر میڈیکل کیمپ لگا لیا کرتے تھے، لوگوں میں غزائی اجناس تقسیم کر دیا کرتے تھے، بچوں میں کچھ کتابیں دے دیا کرتے تھے، وہاں ابہ طالبان کی اجازت کے بغیر داخلہ ممکن نہیں رہا، سنا جا رہا ہے کے مقامی طالبان اور شدت پسند ہم کو بھی اچھا نہیں سمجھ رہے ہیں. ایسے حالت میں شمالی وزیرستان کے بے بس اور لاچار عوام کے لئے کام کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے.
میرے  کینیڈا سے آنے کے بعد عدنان بھائی نے ٹیم آشیانہ کے تمام دوستوں اور کارکنان سے گزشتہ روز ایک تفصیلی ملاقات کری جس میں تمام حالت کا جائزہ لیا گیا، شمالی وزیرستان کے حالات، وہاں کی لوگوں کو درپیش پریشانیاں، ٹیم آشیانہ کے سکول منصوبہ، صاف پانی کا منصوبہ، میڈیکل کیمپ کا منصوبہ، ٹیم آشیانہ کے سابقہ، موجودہ، اور درکار فنڈز کی تفصیلات، ٹیم آشیانہ کے مقامی کارکنان (شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کارکنان)، اور دوسرے علاقوں سے آنے والے کارکنان کے مسائل کا تفصیلی جایزہ لیا گیا. ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان نے شمالی وزیرستان میں فلاحی اور سماجی منصوبوں کو جاری رکھنے پر مکمل اتفاق پایا گیا، جس کے لئے قرآن پاک اور مختلف احادیث کا بھی حوالہ دیا گیا، دنیا کے دیگر علاقوں (خاص کر جنگ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے اداروں) کے کام کرنے کے انداز کا بھی جایزہ لیا گیا. اور ٹیم آشیانہ کے  سرپرست عدنان بھائی کو مکمل اختیار دیا گیا کہ وہ ٹیم آشیانہ کے  حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے ٹیم آشیانہ اس کو منظور کرے گے اور  عمل کرے گی.
عدنان بھائی ، نے گزشتہ رات بعد نمازعشا، ہم سب کو ایک دفع پھر اکھٹا کیا اور  کہا کہ،
"میرے  احترام دوستوں، تمام حالات کا تفصیلی جایزہ لینے کے بعد تفصیلی جایزہ لینے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ٹیم آشیانہ جیسے پہلے فلاحی اور سماجی کام سر انجام دے رہی تھی ویسے ہی کرتے رہے گی، ہم اپنے فلاحی منصوبوں کو ادھورا اور نہ مکمل نہیں چھوڑ سکتے. کچھ وقت کے لئے میں مطلبی یا خود غرض ہو گیا تھا، مگر اب ایسا نہیں، ہم شمالی وزیرستان میں صرف اور صرف خدمت انسانیت کے لئے موجود تھے، ہیں اور رہیں گے، ہم نے یہ سفر الله کے نام سے شروع کیا تھا اور آج تک ہمارا سفر جاری ہے، اور اس دنیا میں کوئی ایسی طاقت یا قوت نہیں جو الله پاک کی رضا کے لئے شروع کے گئے کام میں یا کام کرنے والوں کے لئے مشکلات  پیدا کرے،ہمارا ہی ایمان کمزور اور ادھورا ہے جو ہم کبھی جان اور کبھی مال کے خوف سے کمزور ہو جاتے ہیں یا ڈر جاتے ہیں. ہم کو الله پاک پر پورا بھروسہ، یقین اور امن رکھنا ہو، یہی ہماری طاقت ہوگی اور یہی ہمارا منشور اور یہی ہماری سب سے بڑی دولت. ہم کل (٢٧ مارچ ٢٠١٢) سے اپنا سفر پھر شروع کریں گے اور اپنے فلاحی کاموں کو مکمل کر کے اپنے فرض کو پورا کریں گے. ہمارے اس سفر میں جو ساتھ شریک ہونا چاہیں وہ کل صبح نماز فجر تک اچھی طرھ سوچ لیں اور سفر کی تیاری کریں اور جو ساتھ آرام کرنا چاہیں اور آرام کی غرض سے اپنے گھروں کو جانا چاہیں وہ بخوشی ہم کو الوداع کر سکتے ہیں. الله پاک ہم سب کی مدد کرے، ہمارا حامی اور ناصر ہو، الله پاک ہمارے ایمان کو مضبوطی دے، ہم کوصبر، ہمت، حوصلہ، اور استقامت دے، ٹیم آشیانہ کے پاسس ابھی جو کچھ ہے جتنا ہے ہم اسی کو لے کر صبح بعد نماز فجر میران شاہ روانہ ہو رہے ہیں، ٹیم آشیانہ کے کچھ کارکنان بشمول فریال بہن فلحال یہاں (جگہ کا نام نہیں بتا سکتی)روک کر ٹیم آشیانہ کے لئے بھیک مشن شروع کریں، اور ٹیم آشیانہ کے لئے فنڈز اکھٹا کریں. الله پاک ہمارے لئے بہتر سے بہتر اسباب کا راستہ ہم کو دیکھے. جزاک الله "

الله پاک کے فضل اور کرم سے ٹیم آشیانہ میران شاہ کے لئے روانا ہو چکی ہے میں (فریال) ابھی یہاں ہی ہوں اور آج سے بھک مشن شروع کر رہی ہوں. آپ جس ترہان چاہیں ہماری مدد کر سکتے ہیں. ٹیم آشیانہ کو درکار سامان کی تفصیل انشا الله آج رات تک بتا دی جاۓ گی. 

الله پاک ہم سب کو ہمت دے اور ہم کو ایک سچا اور با عمل مسلمان بننے کو توفیق دے- آمین 

جزاک الله خیر 
سیدہ فریال زہرہ 
کارکن ٹیم آشیانہ 
شمالی وزیرستان 

رابطے کے لئے 
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca 
faryal.zehra@gmail.com
team.ashiyana@gmail.com
+ 92 345 297 1618 

منگل, جون 12, 2012

شمالی وزیرستان کے لئے فوری مدد کی اپیل

محترم دوستوں  اور ساتھیوں 
اسلام و علیکم 

شمالی وزیرستان میں ہوے ڈرون حملوں کی وجہہ سے ٹیم آشیانہ کا رابطہ دوسرے شہروں میں رہنے والے ساتھیوں سے ممکن نہیں رہا تھا جس کی وجہہ سے  ہم اپنے کام اور حالات کے بارے میں آگاہ نہیں کر سکے. اپنے دوستوں اور ساتھیوں  کو کوئی مشکل اور پریشانی کے لئے ہم معذرت چاہتے ہیں.ہم آج صبح  ہی پشاور آے ہیں. اور ٹیم آشیانہ کے حالات کے بارے میں اپنے ساتھیوں کو آگاہ کر رہے ہیں. ڈرون  حملوں نے جہاں طالبان اور شدت پسندوں کے لئے مشکلات کھڑی کاری ہیں وہیں ٹیم آشیانہ بھی بہت نقصانات کا شکار رہی ہے. ٹیم آشیانہ کا دتہ خیل کیمپ ختم ہو چکا ہے، اور ابہ ہم میران شاہ سے اپنے کاموں کو جاری رکھے ہووے ہیں. دیگر حالات کے بارے میں آپ کو انشا الله اگاہ کرتے رہیں گے 

ٹیم آشیانہ اور اس کے  سارے کارکنان بہت برے حالت ہونے کے باوجود اپنے وزیرستانی بھی بہنوں کے ساتھ ان کی خدمات کرنے کے لئے پر عزم اور حوصلہ مند ہیں اس وقت ٹیم آشیانہ کے پاسس اپنے وزیرستانی بھائی  بہنوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے. ڈرون  حملوں نے ہمارے بھی ایک فلاحی کمپ کو برباد کر دیا ہے جس میں موجود کچھ سامان بھی جل کر ختم ہو چکا ہے
ہم ہمیشہ کی طرھ  الله پاک کی ذات سے پر امید ہیں کے وہی ذات ہماری مدد کرنے والی ہے

محترم دوستوں اور ساتھیوں، ڈرون حملوں کے بعد جو حالت شمالی وزیرستان کی ہے الفاظمیں بیان کرنا ممکن نہیں ہے. وہاں طالبان اور شدت پسند پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں. اور ان کا اثر و رسوق بڑھتا جا رہا ہے. مزید ہم لوگوں کو کم کرنے میں بھی مشکلات کا  سامنا ہے.ہمارا سکول کا منصوبہ بھی اس وقت روکا ہوا ہے. جبکہ دتہ خیل اور منسلک علاقوں میں کھانے پینے اور دیگر اشیا کی بہت زیادہ کمی ہے

ہم ایک دفع پھر آپ سب سے الله پاک کے نام پر ہمارے بھیک  مشن میں شامل ہونے کی درخواست کرتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کے ہماری مدد کر، اسس وقت شمالی وزیرستان کے لوگ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، بہت لوگوں کو املاک کا نقصان ہوا ہے  نقصان بھی بہت زیادہ ہے ادویات اور کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہے. 

ہم کو اس وقت ایک بہت بڑے فنڈ کی ضرورت ہے جس کے لئے آپ کی مدد کا شامل ہونا بہت ضروری ہے . ہم کو ادویات، کھانے پینے کی اشیا بچوں خواتین کے لئے کپڑے، اور صاف پانی کی بہت سخت ضرورت ہے. ہم نے جو اندازہ لگایا ہے اس کے مطابق ہم کو ٨٠٠ سے ١٠٠٠ لوگوں کو فوری مدد کرنی ہے جن کے پاس نہ رہنے کے لئے گھر ہے اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان  نہ ہی ادویات. ہم آپ سب دوستوں، ساتھیوں اور اپنے اپنے گھر والوں سے اپنے وزیرستانی بھائی بہنوں  جن کا اس جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں کے لئے الله کے نام پر بھیک  کی اپیل کرتے ہیں. جتنا ہو سکے اور جو ممکن ہو سکے ہماری مدد کریں. ہم صبح آپ ک لئے دعا گو راہیں گئی. اجر کا وعدہ اللہ  پاک نے  کیا ہے. آپ صبح اگر ٹھوڑا تھوڑا  بھی ہماری مدد کریں تو ہم اپنا کام بہتر طریقے سے ادا کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں

الله پاک ہم سب  کو ہمت حوصلہ اور ثابت قدم رکھے ، آمین 

ہماری  بھی ترہان مدد کرنے کرنے کے لئے ہم سے رابطہ کریں:
0092 345 297 1618
ہم کو ای میل کریں 
team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
mansoorahmed.aaj@gmail.com
یا ہمارے آن لائن اکاونٹ میں اپنے صدقات،  زکات ، خیرات یا مدد جمع  کرائیں 
  "Ashiyana"
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 0100-34780.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code:UNILPKKA
ٹیم آشیانہ کا ایک ایک کارکن  الله پاک کو حاضر نظر جن کر اور الله پاک کی رضا  اور حکم کے مطابق آپ کا دیا ہوا مال اور سامان اپنے وزیرستانی بھائی بہنوں تک پچانے کا حلف اٹھاتا ہے اور پوری دیانت داری اور ایمانداری کے ساتھ لوگوں کی مدد کرتا ہے 

ہم کو آپ کی فوری مدد اور توجہہ کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے فلاحی کاموں میں کسی بھی قسم کی دیر کیے بغیر لگ جائیں
ٹیم آشیانہ اور مجھے (سید عدنان علی نقوی) کو آپ کی مدد کا انتظار ہے. 

مزید تفصیلات کے لئے ہمارے کارکنان کم کر رہے ہیں جن سے سب ہی ساتھیوں اور دوستوں کو اگاہ کر دیا جاۓ گا. انشا الله.
جزاک الله 
آپ سب کی مدد اور دعاؤں کے طلبگار.
ٹیم آشیانہ 
براۓ شمالی وزیرستان 

جمعہ, اپریل 20, 2012

وزیرستان ڈائری: دتہ خیل میں میرا پہلا جمعہ، میران شاہ میں ڈرون حملہ اور ہم

اسلام و علیکم، 
آج کی ڈائری لکھتا ہوں. 

آج جمعہ مبارک کا دن ہے، خوش قسمتی سے آج کی رات نسبتاً پرسکون گزری، میری بھی آنکھ صبح فجر کے وقت ہی کھلی، صبح فجر میں اٹھنے کی عادت جو ہوتی جا رہی تھی، آج کسی کو اٹھانا نہیں پڑا. میں اپنے بستر سے اٹھ کر باہر آیا تو دیکھا کے ٹیم آشیانہ کے سارے ساتھی نماز کی تیاری میں مشغول ہیں. میں بھی وضو وغیرہ سے فارغ ہو کر نماز کی جگہ آکر بیٹھ گیا. تھوڑا ہی دیر میں باقی ساتھی بھی آگئے، امامت ظہیر خان بھائی نے کری، ماشا الله بہت ہی خوش کلامی سے تلاوت قرآن کری، نماز پڑھنے میں خود ہی بہت مزہ آیا. روح اور جسم سب الله کے حوالے کر دینے کا فیصلہ کیا اور نماز کی سہی حقیقت آج ہی کھلی. الله اکبر، کاش کہ میں پہلے ہی ان سب سچائیوں کو جان پاتا. اپنے ماضی پر افسوس اور کردار پر ندامت کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتا تھا. نماز کے بعد رو رو کر دعا کری کہ،
 "الله پاک، مجھ کو سیدھا راستہ دکھا، وہ راستہ جس میں میری فلاح ہو، میرے غیر والو کی فلاح ہو، میرے دوست احباب، عزیز اور رشتےداروں کی فلاح ہو، اور جس میں توحید کا کلمہ پڑھنے والو کی فلاح ہو."  
دعا کے بعد، عدنان بھائی نے ایک تعلیمی نشست کا اہتمام کیا تھا. جس میں قرآن پاک کی کچھ آیات پڑھ کر اس کا اردو اور پشتو ترجمہ کیا گیا، ایک اور بھی سے کہا گیا کے ان آیات پر علمی روشنی ڈالیں، سورج کی روشنی اب ہر طرف پھیلتی جا رہی تھی، نیند تو کب کی ختم ہوچکی تھی اب درس قرآن کے بعد ناشتہ کرنا تھا اور آج کیا کام کرنا ہے اس کی معلومات اور نماز جمعہ کی تیاری. 
میں نہیں، درس کے بعد اکرم بھائی سے معلوم کیا کے آج ہم (ٹیم آشیانہ) کیا کام کر رہی ہے تو جواب ملا کہ ناشتے کے بعد ہی پاتا لگے گا کہ آج کیا کرنا ہے. شاید اب ہمارے پاس ادویات اور امدادی سامان بہت کام رہ گیا تھا جس کی وجہہ سے کوئی نئی حکمت عملی بنانا مشکل ہو رہی تھی، میں نے اکرم بھائی سے معلوم کرنے کی کوشش کری کہ اگر یہاں سے فون کرنا چاہوں تو؟ جواب ملا کے ہمارے پاس کوئی جدید سہولت میسر نہیں، ایسی سہولیات تو صرف بڑے خان، طالبان، یا حکومتی اہلکاروں کے پاس ہے ہم ایسی سہولیات سے آراستہ نہیں. تھوڑا سا دکھ ہوا، کیوں کہ کافی دنوں سے امی سے بات نہیں ہوئی تھی پتہ نہیں وہ کیسی ہونگی؟ الله پاک امی کو صحت اور تندرستی دی، آمین.
ناشتہ بہت رسمی سے تھا جس میں رات کی بچی ہوئی روٹی اور چائے تھی. میں نے صرف چائے پینے پر ہی بس کیا کیوں کہ بھوک نہ ہونے کے برابر تھی. اچانک مجھ کو دونوں خواتین کے بڑے میں خیال آیا تو میں نے پوچھا تو پتہ چلا کے ایک اور خاتوں کے ہاں بیٹا ہوا ہے مگر تیسری خاتوں کی حالات کچھ بہتر نہیں، دعا کی اشد ضرورت ہے، دل سے دعا کری کہ الله پاک خاتون کو صحت عطا فرماے، آمین. 
دل کچھ بوجھل ہونے لگا. میں ٹہلنے کی غرض سے اٹھا ہی تھا کہ سارے ساتھیوں کو ایک جگا جمع ہونے کی ہدایت کی گئی. ہم سب ایک کھلی جگہ پر اکھٹا ہو گئے. عدنان بھائی اور اکرم بھائی بھی آگئے. پھر اکرم بھائی نے ابتدا کری. "ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے پاس اب صرف ضروری سامان رہ گیا ہے. ہمارے پاس اب اتنی ادویات نہیں کہ کوئی اور میڈیکل کیمپ لگا سکیں، نہ ہی ہم اب غذائی اجناس کی فراہمی کر سکتے ہیں، اس لئے آج جمعہ مبارک کی نماز کے بعد ٹیم آشیانہ کے کچھ اراکین میران شاہ اور پشاور روانہ ہو رہے ہیں جہاں سے کچھ سامان اکھٹا کیا جا سکے، آپ میں سے جو جو یہاں روک کر کام کرنا چاہتا ہے وہ ایک طرف ہو جائیں اور جو بھیک مشن کے لئے جانا چاہتا ہے وہ ایک طرف ہو جائیں اور جو آرام کرنے کی غرض سے اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں وہ ایک طرف ہو جائیں. 
میں بہت حیران زدہ تھا کہ کل تک ایسی کوئی بات بیان نہیں کری گئی تھی اور آج اچانک یہ صبح، اور جو لوگ ٹیم آشیانہ کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتے اور واپس جانا چاہتے ہیں ان کو بہت عزت اور احترام کے ساتھ واپس جانے کا بھی کہہ دیا گیا تھا. میرے حساب سے ایک میں ہی تھا جو بہت دور (کراچی) سے آیا تھا، باقی افراد زیادہ تر یہاں ہی کے تھے مطلب وزیرستان ہی کے کسی نہ کسی علاقے کے یا پشاور کے. مجھ کو کچھ اچھا محسوس نہیں ہوا، میری خود سمجھ نہیں آرہا تھا کے میں کس طرف کھڑا ہوں، اسی سوچ میں جہاں تھا وہی کھڑا رہ گیا جبکے باقی ساتھی تین الگ الگ جگہوں پر کھڑے ہو گئے. عدنان اور اکرم بھائی نے آواز دی کے بھائی منصور آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ میں نے کہا میں ابھی کچھ دن اور یہاں روک کر آپ کے ساتھ فلاحی کاموں میں حصہ لینا چاہتا ہوں، یہ سن کر ہلکی ہلکی سی آواز ہے جن میں صدا تھی، الله اکبر، ماشا الله، سبحان الله. . . ایسا لگا کے جیسے میں نے کسی جہاد میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہو. اکرم بھائی نے آگے بڑھ کر مجھ کو گلے سے لگایا. مگر عدنان بھائی کسی سوچ میں تھے، عدنان بھائی نے مجھ کو ایک طرف آنے کے اشارہ کیا اور اکرم بھائی باقی ساتھیوں کو ہدایات دینے لگے. 
عدنان بھائی نے مجھ کو ٹیم آشیانہ کی ملی مشکلات سے اگاہ کیا، یہ بتایا کے ہو سکتا ہے کے اب ہمارے پاس دو (٢) وقت کا کھانا بھی مشکل ہو، یا پھر کسی دن کا روزہ بھی رکھنا پڑے، ادویات کا انتظام کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں. باقی حالات تو میرے سامنے ہی ہیں. "آپ کو واپس جانا چاہیے آپ کراچی میں رہ کر ہماری بہتر مدد کر سکتے ہیں" عدنان بھائی نے کہا مگر میں نے جواب دیا کہ میں کچھ دن اور یہاں روکنا چاہتا ہوں، سمجھنا چاہتا ہوں حالات کو دیکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ جب میں واپس جاؤں تو بہت بہتر طریقے سے یہاں کے حالت بیان کر سکوں، یہاں کی مشکلات کو سمجھ سکوں اور کوئی بہتر حل تلاش کر سکوں. ہو سکتا ہے کے یہاں روک کر جو دکھوں میں کوئی اچھی راے دے سکوں. لیکن اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کے میں آپ پر بوجھ بنوں گا تو میں نماز کے بعد چلا جاتا ہوں، میں نے کہا. عدنان بھائی نے مجھ کو گلے لگا لیا اور ان کی آنکھوں میں آنسوں تھے، میری بھی آنکھیں بھر آی. کراچی میں رہ کر کبھی ایسے حالت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، آج پہلی دفع محسوس ہوا، کہ فاقہ کیا ہوتا ہے ابھی کیا نہیں تھا صرف سوچا ہی تھا تو ادھ جان جا رہی تھی. الله اکبر، پتہ نہیں یہاں کے لوگ کتنے فاقے کرتے ہونگے، کتنے ہی لوگ بغیر ادویات اور علاج کے مر جاتے ہونگے، کتنے ہی لوگ ایسے بورے حالات سے تنگ اور پریشان ہو کر ملک دشمنوں کے ہاتھوں کا ہتھیار بن جاتے ہونگے، نام نہاد طالبان بھی شاید ایسے ہی موقے اور لوگوں کی تلاش میں رہتے ہونگے، تبھی وزیرستان اور قبائلی علاقوں میں طالبان اور نام نہاد اسلام کے ٹھیکیداروں کا علاقہ ہے. اور ان کا زور چلتا ہے. ان سب کے ذمے دار ہم سب ہی ہیں. ہم خود تو شہسروں میں بیٹھ کر اپنی روزی روٹی کی فکر کرتے ہیں مگر کبھی نہیں سوچتے کے پتہ نہیں کتنے لوگ ہیں جن کو ایک وقت کی روٹی تک میسر نہیں، ہم کو تھوڑا سا سر درد ہوتا ہے تو ڈاکٹر کے پاس بھاگتے ہیں. اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں دوا لیتے ہیں، مگر یہاں تو ایک ٹیبلٹ تک مشکل سے ملتی ہے. یا الله! یہ کیسا امتحان ہے؟ یہ کیسی مشکل ہے؟ مجھ کو ہمت دینا، صبر دینا، کہ میں اپنے اس فیصلے پر ثابت قدم رہوں. آمین.

دن کے ١١ بجے کا وقت:
اچانک ہی کچھ افرا تفری مچی، اکرم بھائی میرے طرف بھاگتے ہووے آی اور میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف بھاگنے لگے، میں اس بھاگم بھگ کے لئے بلکل تیار نہیں تھا. بلال بھی کہیں نظر نہیں آرہا تھا. نہ ہی ٹیم کا کوئی دوسرا کارکن نظر آرہا تھا. 
یا الله یہ کیا ماجرا ہے؟ میں اکرم بھائی کے ساتھ تیز نہیں بھگ سکتا تھا. اپنی معذوری پر پہلی دفع بہت غصہ آیا. ١٥ منٹ کے بعد ہم ایک جگا روکے، میری سانس بوری تارہا چل رہی تھی، حلق میں کانٹے پڑھ رہے تھے، فکر اور گھبراہٹ الگ ہو رہی تھی. اکرم بھائی مجھ کو ایک چھوٹے سے گھر میںلے گئے ہے مجھ کو ہدایت دی کے جب تک وو واپس نہیں آتے مجھ کو اسی گھر میں روکنا ہے اور کسی سے کوئی بات نہیں کرنی. میں ہکا بکا، تھا. کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا. وہ مجھ کو چھوڑ کر چلے گئے، میں ایک طرف بیٹھ گیا، صبح سے ہونے والی سری باتوں کو یاد کرنے لگا. آج جمعہ بھی ہے، میں سمجھا کے آج کسی بڑے میدان میں نماز کی تیاری ہوگی جس سے مجھ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دیکھنا اور ملنے کا موقع ملے گا، مگر یہ سب تو الٹا ہی ہو رہا تھا. تھوڑی دیر میں ایک بچہ (١٢-١٣) برس کا میرے لئے ایک پلیٹ میں چاول اور دنبے کے گوشت کا سالن دل کر لے آیا، ساتھ پانی بھی تھا، میں نے بچے کو اردو میں ہی کہا الله اجر عظیم دے، میں بھوکا نہیں بس پانی دی دو. بچا اردو سمجھ گیا اور کہا کھاؤ، میں نے انکار کر دیا، اور یہ انکار صرف خوف کی وجہہ سے نہیں تھا، مجھ کو سچ میں بھوک نہیں لگ رہی تھی. وہ بچہ پلیٹ واپس لے کر چلا گیا. میں نے آگے بڑھ کر پانی کا گلاس اٹھایا، پانی پر نظر پڑی تو دیکھا پانی بہت مٹی والا تھا. بہت مٹی تھی. میں کیسے پی سکتا تھا پانی. میں نے اپنی قمیض کا دامن پانی کے گلاس پر رکھا اور جتنا پانی پی سکتا تھا الله کا شکر ادا کر کے پی لیا. 
  دن کے ایک (ا) بجے:  
ابھی تک کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کے باہر ہو کیا رہا ہے ہر طرف سناٹا تھا. ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں کسی قبرستان میں آگیا ہوں. وہ بچہ جو کھانا اور پانی لیا تھا واپس نہیں آیا تھا. میں کمرے سے باہر نکلنا نہیں چاہتا تھا کے کوئی گڑ بڑ ہوئی تو اکرم بھائی جانے کیا کہے گے. پریشان اور لاچار ایک طرف بیٹھ گیا، صرف گھڑی میں وقت دیکھ کر سوچ میں تھا کے آج نماز بھی ادا ہوگی کہ نہیں؟
اسی سوچ میں تھا کہ، اکرم بھائی آگئے، میری جان میں جان آی، ایک انجانی خوشی کا احساس ہونے لگا. میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی اکرم بھائی نے بتایا، "منصور بھائی آج صبح نماز فجر کے بعد دتہ خیل سے کچھ آگے، اور میران شاہ پر ڈرون نے حملہ کیا ہے، جس میں بہت جانی نقصان ہوا ہے. کافی غیر ملکی (نام نہاد) جہادی مارے گے ہیں. اور کچھ مقامی لوگ بھی مارے گئے ہیں. پورا امکان ہے کے آج جمعہ کی نماز پرایک دفع پھر سے حملہ ہو. اسی خدشے کے پیش نظر ہم کو سر پر پیر رکھ کر جس حال میں تھے بھاگنا پڑا. ہم کسی بھی قسم کا نقصان برداشت کر سکتے ہنی مگر جانی نقصان بلکل نہیں. میرا کچھ سامان جو میرے بستر پر تھا وہ بھی لا کر دیا. کے فلحال آپ کو یہی روکنا ہوگا. میں نے باقی ساتھیوں کا پوچھا تو بتایا گیا الله کے فضل اور کرم سے سب ہی محفوظ جگہوں پر ہیں. اب کچھ اور پوچھنے کے لئے باقی نہیں رہ گیا تھا. نماز کا پوچھا تو کہا کے آج نماز اسی کمرے میں ادا کرنی ہے کچھ مقامی لوگ آرہے ہیں، کیوں کے ڈرون حملے کی وجہہ سے نماز کھلی جگہ پر اور اجتماع کے ساتھ ادا نہیں کی جا سکتی. 
مجھ کو وضو کا پانی دیا گیا، مجھکو کچھ حجت محسوس ہو رہی تھی میرا اشارہ سمجھ کر اکرم بھائی نے مجھ کو راستہ دکھایا، میں باہر نکلا کھلے آسمان کی طرف دیکھا، الله کا شکر ادا کیا اور اپنے کام سے فارغ ہوکر وضو کر کے کمرے میں واپس آگیا. میری واپسی تک ٨-١٠ مقامی افراد کمرے میں موجود تھے اور نماز کی تیاری کر لی گئی تھی. مقامی افراد سے میرا تعارف کرایا گیا جو رسماً تھا. ایک مولانا ٹائپ کے صاحب نے جمعہ کا عربی خطبہ دیا، اقامت ہوئی اور نماز پڑھی گئی، نماز کے بعد بقیہ نماز ادا کری اور ایک ایک کر کے وہ سب رخصت ہوتے چلے گئے، صرف اکرم بھائی اور ایک اور صاحب جن کا نام نہیں پتہ وہی رک گئے.

دن کے ٣ بجے:  
کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی، اکرم بھائی تلاوت قرآن کر رہے تھے اور وہ صاحب تسبیح پر کچھ پڑھ رہے تھے، وہی بچہ جو پہلے کھانا لے کر آیا تھا ایک دفع پھر کمرے میں داخل ہوا اب اس کے پاس تین (٣) پلیٹیں تھی کھانا وہی تھا جو وہ پہلے لے کر آیا تھا، گلاس کی جگہ ایک چھوٹی سی مٹکی تھی جس میں پانی بھرا تھا. میں خود کو پتھروں کے دور کا انسان محسوس کر رہا تھا یا ایسا لگ رہا تھا کے میں افغانستان میں کہیں موجود ہوں. اکرم بھائی نے اشارے سے بچے کو کھانا رکھ کر جانے کا کہا اور تھوڑا دیر میں فارغ ہو کر کھانا خانے بیٹھ گئے. بھوک بھی تھی مگر حالات کی وجہہ سے خانے کو دل نہیں کر رہا تھا. پھر بھی کوشش کری کے جتنا کھا سکتا ہوں کھاؤں کیا پتہ آنے والا وقت کیسا ہو. اکرم بھائی میری دوا کی تھیلی بھی لے آی تھے میں نے دوا کھائی، اور ایک طرف بیٹھ گیا. اس میں کوئی شک نہیں کے میں بہت زیادہ پریشان تھا. ایسے حالات کے لئے تیار ہی نہیں تھا. مجھ کو تیار رہنا چاہیے تھا. آج پہلی دفع احساس ہوا کے میں ایک ایسے علاقے میں ہوں جہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے. آج ہی یہ پتہ چلا کے کیوں فلاحی ادارے اور حکومتی ادارے یہاں آکر کام نہیں کرتے. اور آج ہی عدنان بھائی کی عزت، وقار،ٹیم آشیانہ کی ہمت، صبر سب ہی میری نظروں میں بہت بڑھ گے، دل چہ رہا تھا کے اگر سب میرے سامنے ہوں تو اک ایک کا ہاتھ چوموں ان سب کو سلام کروں کہ کتنے سالوں سے یہ لوگ اتنے برے حالات میں ایسے خطرناک علاقوں میں کام کر رہے ہیں. اس کا کوئی صلہ نہیں  دی سکتا. صرف الله پاک کی ذات ہی ہے جو اس کا صلہ دے سکتی ہے. 
اکرم بھائی نے میری ڈائری کی طرف دیکھا اور پوچھا کے یہ کیا ہے؟میں نے کہا کے یہ میری ڈائری ہے جو میں لکھتا ہوں. انہوں نے کہا کے اپنی جان سے زیادہ اس کی حفاظت کرنا کیوں کے ایسی تحریر تم کو کسی مشکل میں نہ ڈال دیں. میں نے سر ہلا کر ان کی مشورے کا شکریہ ادا کیا. اور پوچھا کے اور کب تک یہاں روکنا ہوگا؟ جواب ملا کچھ اندازہ نہیں. میں ایک طرف بچی ہوئی چادر پر لیٹ گیا.

شام کے ٤-٥ کا وقت ہوگا جب مجھ کو اٹھایا گیا میں سو گیا تھا. نماز عصر ادا کری، پھر بیٹھ کر تھوڑا قرآن پڑھا. نماز مغرب کا وقت ہوا تو ادا کری. اور ایک طرف بیٹھ گیا. آج رات یہاں نہ ہی لالٹین تھی نہ ہی چراغ. ہر طرف اندھیرا تھا. جس میں میں اور اکرم بھائی بیٹھے تھے. اکرم بھائی کبھی کبھی کچھ کہتے تو میں ہاں یا ہوں میں جواب دے دیتا. یہ اندھیرا مجھ کو کاٹنے لگا تھا. باہر جانے کی اجازت نہیں تھی. میں سوچنے لگا کے اس وقت کراچی میں میرے گھر پر کیا ہو رہا ہوگا. آج جمعہ ہے میری بہنیں گھر آئ ہونگی، کھانے بن رہے ہونگے. گلی میں بچے ادھر ادھر بھگ رہے ہونگے. یہ خیال بھی میرے کو بہت اچھا لگ رہا تھا. تھوڑا دیر میں ایک شب آے اندھیرے میں پتہ نہیں لگا کے کون ہیں، اکرم بھائی نے پشتو میں کچھ کہا اور مجھ کو اردو میں کہا کے چلو بھائی منصور، خطرہ کچھ کام ہوا باہر چلتے ہیں. اف، میں بتا نہیں سکتا تھا کے باہر جانے کا سن کر جو خوشی محسوس ہوئی تھی وہ کیسی تھی. میں فورن کھڑا ہو گیا اور اکرم بھائی کے آواز کے سہارے کمرے سے باہر نکلنے لگا. باہر کھلی فضا میں آکر گہرے گہرے سانس لئے دل کو بہت اطمینان ہوا. اکرم بھائی میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف چلنے لگے، اور ہم تھوڑا دیر چلنے کے بعد ایک ڈھلوان والی جگہ پر آکر. روک گئے، یہاں دیکھا کے عدنان بھائی موجود ہیںاور ٹیم کے کچھ دوسرے ارکان بھی خوشی کے مارے میرے مون سے آواز نکلی "عدنان" اور میں جھپٹ کر ان کے گلے لگ گیا. میںنے ان سے کہا کے حالت کچھ بھی ہوں آپ مجھ کو اکیلا نہ چھوڑنا. انہوں نے کہا، بھائی سب کچھ اتنا جلدی اور تیزی سے ہوا کے کچھ بھی سوچنے سمجھنے کا وقت نہیں ملا اور یہ سب تو یہاں چلتا ہی رہتا ہے. فٹ بھی میں پوری کوشش کروں گا کے اگر ایسا ہو تو تم میرے ساتھ ہی رہو. ہم سب نے مل کر عشا کی نماز ادا کری، رات میں کچھ کھانے کا انتظام نہیں تھا بس ہلکا پھلکا جو ملا کھا لیا، آج عدنان بھائی نے بتایا کے، "٥ ساتھی جو مختلف علاقوں سے آے تھے وہ آرام کرنے واپس چلے گئے ہیں، ٥ ساتھی پشاور کے لئے نکل گئے ہیں جو ادویات، غذائی اجناس وغیرہ کے لئے وہاں بھیک مہم چلیں گئی اور دوسرے ساتھیوں سے رابطہ کر کے مدد مانگے گئی. اور ہم یہاں رہ گئے ہیں. ابہ تم بتاؤ کے ایسے حالت میں کیا کرنا چاہیے. کیا ہم کو امداد کا انتظار کرنا چاہیے یا یہاں روک کر ہم کچھ اور کر سکتے ہیں؟ میں نے اکرم بھائی کے کان میں کہا کے بھائی اگر ممکن ہو تو چائے پلوا دو اور اگر ایک سگریٹ مل سکتی ہے تو مہربانی ہوگی. "یہ بتا دوں کے مجھ کو بے شک دن میں ایک دفع کھانا ملے، مگر میں چاہیے اور سگریٹ ضرور پیتا ہوں." آج کافی دن کے بعد مجھ کو شدت سے چائے اور سگریٹ کی طالب محسوس ہو رہی تھی. اکرم بھائی نے مسکرا کر کہا جی بلکل!اور وہ اٹھ کر ایک طرف چلے گئے.
  
عدنان بھائی کے چہرے پر ایک اطمینان تھا، جس کو دیکھ کر مجھ کو بھی سکوں مل رہا تھا کے چلو دن بھر کی ٹینشن کے بعد کچھ ذہنی سکوں تو ملا. اب عدنان بھائی نے ایک دفع پھر سے دہرایا کہ " بھائی کچھ سوچا کہ اب کیا کرنا ہے؟" میں نے کہا بھائی جی، آپ تو سالوں سے یہاں ہو آپ کیا کرتے ہو جب آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا؟ جواب ملا کے میں مقامی لوگوں کی ساتھ ان کے کام کاج میں مدد کرتا ہوں وغیرہ وغیرہ. میں نے کہا کے اکرم بھائی کو آجانے دیں جب تک میں کچھ نوٹس لکھ لیتا ہوں پھر کھل کر بات کرتے ہیں. میں نے آج اپنے سارے تجربے اور تجزیے کو ایک دفع پھر سے لکھنا شروع کیا، ڈائری کا ایک ایک صفحہ بار بار پڑھا اور جو بھی بہتر سے بہتر مشورے لکھ سکتا تھا لکھنا شروع کیا. 
رات کے ٩-٩:٣٠ کا وقت ہوگا جب اکرم بھائی واپس آے تو ان کے ایک ہاتھ میں برتن (چائے والا) تھا، میں نے شکر کیا کے آج پیٹ بھر کے چائے تو پینے کو ملے گی، سگریٹ شاید نہیں ملی ہوگی. مگر اکرم بھائی نے قریب آتے ہی میرے ہاتھ میں مارون گولڈ کے ٢ پاکٹ رکھے اور گلاس میں چائے نکال کردی. الله کا شکر ہر حال میں کرنا چاہیے اب یہ سگریٹ کا نشہ کا شکر ادا کروں کے نہیں. دل میں آسمان کی طرف دیکھ کر الله کا شکر ادا کیا کے دن بھر کے ہنگامے کے بعد رات کتنی پرسکون عطا کری. الله تیرا شکر ہے!


To get in touch with Team Ashiyana (North Waziristan) please email us: 
team.ashiyana@gmail.com,
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca,
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
or call / text us at: +92 345 297 1618

جمعرات, مارچ 22, 2012

Team Ashiyana: Work Report for February - March 2012 - Waziristan


Funds and Work Report for the Month Of February – March 20, 2012. Waziristan (North):

Funds (Donation) Details:
In Pak Ruppee’s
Bank Account   (“Qatar”)                                            : Rs. 20,000/= (Twenty Thousands in Pak rupee)
From Western Union (C/o, Faryal Zehra “Canada”) : Rs. 50,000/= (Fifty Thousands in Pak rupees)
Taimour & Family                                               : Rs. 25,000/= (Twenty Five Thousands in Pak rupees)
Mansoor Ahmad Family                                             : Rs.   5, 000/= (Five Thousands in Pak rupee)   
                                        Total Amount                   : Rs 1,00,000/= ( One Lac Only)                          


Raw stuff (Donation) Details:
Cloths for women (Old & New)        : 50 Nos (from Farhad Taimour M-TV)
Clothes for Children (Old & New)    : 100 Nos (Ms Badar Un Nissa’s family)
Medicines                                        : Worth of Rs. 5,000/= (Five Thousands frm Nabil bro – Lhr)
Food Stuff                                        : Nil
Others                                              : Nil

Raw stuff (Purchased) Details:
Medicines                                        : Rs. 50,000/= (Fifty Thousands)
Food Stuff                                        : Rs. 80,000/= (Eighty Thousands “Rs 40,000/= on Credit)
Water                                               : Rs. Nil
Wood, Coal, etc                               : Rs. 5,000/= (Five Thousands)
Warm Clothes, Blanket, Jacket etc    : Rs.Nil
Transportation                                 : Rs. 15,000/= (Fifteen thousands, Half on credit)
Other Raw stuff “Tent, other items”   : Rs. 5,000/= (Five Thousands)                                         
______Total Amount Expensive  : Rs.1,55,000/= (One Lac, Fifty Five Thousands)        
            Balance Amount                : Rs. Nil                                                                           
            Credit Amount                   : Rs. 55, 000/= (Fifty Five Thousands)                        
·         Purchased slips, Vouchers and other’s papers are available (can be shown on request).

Area’s Visited in February– March 2012. Details:
=> .Data Khel and surrounding areas. Medical camp at Datta khel with improper food supply.
=> Visited more than 300 victims of war on terror near Miramshah. Medical camp & clothes supply.

We’re all member’s of Team Ashiyana are thankful to ALLAH Almighty to give us courage to do this act and to serve our brother’s and sister’s in Datta Khel and Miramshah.
Insha ALLAH we will serve our Brother’s, Sisters and children with the same spirit, and with the feeling of humanity.

Team Ashiyana is thankful for our Friends / Donor’s / Contributor’s, for there kind efforts, fund and supplies. May ALLAH gives us Agr e Azeem for this work and gives more courage to do this kind of the work in future.

If you read all of the blog then you can find the sources of our funds and contribution's We don't wants huge amount in our accounts, we need stuff, like medicines, clothes, books and others to distribute into the victims of War on terror specially for the children and women who living under the low level. Team Ashiyana, is under the burden of huge credit day by day, friends and family members are requesting to give there hand of courage to get remove it and for the continue work in these remote areas.
We are Pakistani and proud to be Pakistani. We are proudly Muslim and belongs from different cities and different cast but here we are working together just for the sack of the nation and for the name of ALLAHA Almighty. May ALLAH help us - Ameen.
Friends and readers who wants to know more about team Ashiyana or our working areas or any other details please contact on the following;
team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
taimour.farhad@gmail.com
or +92 345 297 1618 (If number is going off or not answering please leave your text, this is just because of no signals in the area)

List of Friends / Donor’s / Contributor for February - March ’12.  Session:
Sister Badar Un Nissa, (Karachi)
C/o, Sister Syeda Faryal Zehra (Canada).
Brother Unknown  (Doha – Qatar)
Brother Taimour & Family (Karachi)
Brother Mansoor & Family (Karachi.
List of Volunteers for February – March ’12.  Session:
Syed Adnan Ali Naqvi (Chief Volunteer)
Syeeda Faryal Zehra (Coordinator / Incharge Women wing)
Faisal Alvi (Volunteer / Incharge  Medicines)
Mahnoor Mehsood (Volunteer / Incharge Food & Supply)
Mansoor Ahmed (Volunteer / Incharge Children & Education)
Meesam Khan (Volunteer)
Dr Azfar (General Physician)
Dr Rabia (General Physician)
Mahrukh Bibi (Volunteer)
Arbab Nabi Khan (Volunteer)
Um-e-Fatima (Volunteer)

Dear all, as you know that Team Ashiyana still not an organization or Registered group from Social Welfare Board Pakistan, for that we don’t have any organizational structure to work out. We are in our best try to reform our group but the Rate’s (Official & un-official) to register any N.G.O in Pakistan is so high and our funds can not meet with the said criteria (it is above one lac to be in official). We would like to work same as like we are working now-a-days, our friends, friends of friends, family members are our volunteers and we have proud on them to be a part of Team Ashiyana. May ALLAH give them Agr e Azeem for there work, Ameen.  

Jazak ALLAH
Syeeda Faryal Zehra
Coordinator / Volunteer
Team Ashiyana (Waziristan)
Khyber Pakhtoonkhwa - Pakistan.

اتوار, مارچ 11, 2012

On the way for Waziristan!

Assalam O Alikum and Good Evening all,

I am on the way for Waziristan from Peshawar. It is our 2nd try as in 1st we didn't reach there due to high security check. Ashiyana Team # 1, is still there and I am sure that they guys are waiting for us.
Hope that we will be there on next day.

Details will be updated shortly (Insha ALLAH).
Jazak ALLAH
S Faryal Zehra
Team Coordinator "Team Ashiyana"
A group of friends, Syed Adnan Ali Naqvi
Working for the IDP's and Victims of War on Terror in Waziristan & Flood in Sindh.

Friends and family members can follow us at on
http://twitter.com/F4Faryal
team.ashiyana@gmail.com

اتوار, اگست 21, 2011

Syed Adnan Ali Naqvi is in Islamabad on his bheek mission for the victims of war on terror (Waziristan)

Assalam O ALikum,

All of the friends and family memeber's of Syed Adnan Ali Naqvi & group. are being informed that Syed Adnan Ali Naqvi is in Islamabad now for 2-days on the bheek mission for the collection of stuf and donation for Ashiyana Camp, North Waziristan, Pakistan. from today till Tuesday afternoon.
Friends or family member who wants to meet him in personal or for any kind of the contribution please contact on the mobile number:
+92 333 342 6031

+92 313 279 8085
or email; s_adnan_ali_naqvi@yahoo.com
You can find us on the street of Islamabad and Rawalpindi from Sehri to Eftar. We are not gonna ask by the people we are just standing in front of the mall, shops where the mall kepper's or shope keepers allow us to stand for a few time to collect the donation.

or for nght time you can find us at Dargah Imam Bari (Islamabad).

Jazak ALLAH
Syed Adnan Ali Naqvi And Team

اتوار, جولائی 03, 2011

Free Medical Camp at Miranshah North Waziristan -Pakistan.




 With The Name Of ALLAH Almighty

Assalam O Alikum,
Syed Adnan Ali Naqvi & Friends who are running Ashiyana Camp for the Victims of War on Terror with 800+ Victims in North Waziristan , Pakistan are requesting to our friends, Doctors, Nurses, Peramedics, LHV Nurses to attend the Free Medical Camp at Waziri Muhalla, Miranshah North Waziristan - Pakistan, from 8th July 2011 till 10th July 2011. In this free Medical Camp we will medicate Children & Women who are suffering from several disease and waiting for the medication since many long. 

Insha ALLAH we will try our best to proved best medicines and medicinal expertise for our victims children, sisters & brother's.
 For any kind of the personal quires please fell free to contact with us on the following.

Faryal Zehra (faryal.zehra@gmail.com)
Syed Adnan Ali Naqvi (s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca)
Mohd Nadeem (nadem.mohd@hotmail.com)
Sarim Baig (sareturn@hotmail.com)

for text or phone call:
+92 345 297 1618 (Only for the text reply)
+92 333 342 6031 (for general queries)
+92 313 279 8085 (For the donation's of Medicines / Child stuff)
+92 342 265 0964 (For the donation of Clothes / Food & others)

Note:
May be we can't response or reply your queries or text or call on first as we are working on the remote areas and very effected areas from the war on terror (Waziristan) In this area we are facing the problem of Networking and mobile calling. We don't have satellite phone to be in touch with our friends for that it is possible to late in response in first. But any one of our volunteer from Lahore, Karachi or Peshawar will contact with you as soon as possible.
Many of our friends are asking for the footage's (images or video etc), for that we are sorry as we are unable to make any kind of the footage's due to the honor of these peoples they are not going to allow us to make there footage's to use inn, another hand we will not encourage any kind of the commercial publicity of our work as we are working only for Humanity on the name of ALLAH Almighty not for the earning of Name, Fame or Money. For that please accept our deep apology and consider it as personal. But, as soon we will be able to make a few of the album of our work and this area we will share it with our friends and blogs, Insha ALLAH.

Looking for your hand of courage and Dua.
Jazak ALLAH
Syed Adnan Ali Naqvi & FriendsAshiyana Camp.
Miranshah North Waziristan.

For the Denotation please use this account (Tax free).
“Ashiyana”
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 0100-34780.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code: UNILPKKA