جمعہ, اپریل 13, 2012

Another page of my Waziristan Dairy: "A meeting with friends of Team Ashiyana & local at North Waziristan."

اسلام و علیکم دوستوں اور ساتھیوں، 
جہاں اپنی ڈائری ختم کی تھی وہی سے شروع کر رہا ہوں، مگر شروع کرنے سے پہلے ایک اپیل اپنے دوستوں سے، اپنے بھائی بہنوں سے، اپنے فمیلی ممبرز سے، اپنے پڑھنے والوں سے، یہ اپیل مجھ کو عدنان بھائی کی طرف سے آج ہی ملی ہے، اور میں اپنی طرف سے جو کچھ ہو سکتا ہے کرنے کی کوشش میں ہوں، الله پاک مجھ کو ہدایت اور توفیق عطا فرماے اور ٹیم آشیانہ کی وزیرستان میں مشکلات کو آسان فرماے، آمین.
"ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان میں متاثرین "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے لئے فلاحی خدمات سر انجام دے رہی ہے، ٹیم آشیانہ بغیر کسی غرض، لالچ یا نام کے یہ خدمات ادا کر رہی ہے، ٹیم آشیانہ کی بنیادی ذمداری جنگ میں برباد ہوۓ خاندانوں اور یتیم، معذور بچوں کے لئے غذا، ادویات اور کپڑوں کی فراہمی ہے، ٹیم آشیانہ اپنے گھر والوں، دوستوں، احباب اور پڑھنے والوں کی مدد سے ہی یہ سارے کام سر انجام دیتی ہے. مہنگائی اور بگڑتے ہوۓ حالات کی وجہہ سے ٹیم آشیانہ کو ملنے والا فنڈ اب بہت کم رہ گیا ہے، شمالی وزیرستان میں اب بھی بہت کچھ ہونا باقی ہے، آی ڈی پی کمپ جلو زئی، کے حالات سے آپ سب ہی واقف ہیں، وہاں پر مقیم وزیرستان کے لوگ آہستہ آہستہ اب واپس آرہے ہیں. یہاں ایسے لوگوں کے رہنے اور کھانے پینے اور صحت جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں، ہم کچھ زیادہ تو نہیں کر سکتے مگر متسیریں کے لئے دو (٢) وقت کے کھانے اور بیماروں کے لئے ادویات کا انتظام ضرور کر سکتے ہیں، اسس کے علاوہ شدید بیمار افراد کو یہاں سے کسی بھی شہر منتقل کرنے کے لئے یہاں ایک بھی گاڑی موجود نہیں ہے، صرف آرمی کی گاڑیوں کو ہی استعمال کیا جا سکتا ہے جو ہر کسی کے لئے نہیں ہیں. ہم (ٹیم آشیانہ) انسانیت کے نام پر محترم جناب عبدلستار ایدھی صاحب، محترم انصار برنی صاحب، محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ اور دوسرے فلاحی اداروں کے سربراہوں اور نامی گرامی انسانیت کے ٹھیکیداروں سے اپیل کرتے ہیں، ان سے بھیک مانگتے ہیں کے یہاں ادویات کی قلت ہوتی جا رہی ہے، غذائی اجناس بھی بہت کم ہو جاتی ہے، بچوں اور خواتین کے لئے کپڑوں کی بھی کمی ہے. یہاں کے لوگ تنگ دست ہیں، یہاں کمی کا کوئی راستہ نہیں، یہاں سکول نہیں، یہاں میڈیکل سنٹر نہیں، یہاں مریضوں کو منتقل کرنے کے لئے گاڑیاں نہیں، آیئں آپ اور ہم مل کر تھوڑا تھوڑا کر کے یہاں کے مفلس، تنگ دست، لاچار، بےبس، یتیم، مسکین، بیوہ، معزور لوگوں کے لئے کچھ انسانیت کا کام کریں، باتیں تو سب ہی کرتے ہیں آپ یہاں (شمالی  وزیرستان) میں آیئں  اور ہم سب مل کر ایک نیا وزیرستان بناتے ہیں، ہمارے پاس یہاں فلاحی کم کرنے کا ٢ سال کا تجربہ ہے، ہم یہاں کے لوگوں کو اور یہاں کے لوگوں کی حالات کو بہت بہتر طریقے سے سمجھتے ہیں. ہم یہاں کسی بھی سیاسی، مذہبی یا بیرونی معملات کو کرنے نہیں آی ہیں، ہم صرف اور صرف اپنے پیارے وطن پاکستان کے لوگوں اور اپنے بھائی بہنوں کو یہ احساس دلانے کے لئے آے ہیں کے ہم سب پاکستانی اور مسلمان ہیں، اور ابھی پاکستان میں بہت لوگ ایسے ہیں جو یہاں کے لوگوں کے لئے دل میں درد رکھتے ہیں اور اپنا مانتے ہوۓ ان کی مدد کر رہے ہیں. 
ٹیم آشیانہ کو آپ سب کی محبت، خلوص اور دعاؤں کی بہت ضرورت ہے، ساتھ ہی ہر قسم کی امداد کی بھی اشد ضرورت ہے ہم یہاں ذکر نہیں کر سکتے کے یہاں کے حالات کیسے سخت ہوتے جا رہے ہیں. اسس سے پہلے کے بہت دیر ہو جاۓ ہم سب کو مل کر یہاں کے لوگوں کے لئے کام کرنا ہوگا، خاص کر، عبدالستار ایدھی صاحب اگر ایک دفع یہاں آجائیں تو دوسرے فلاحی تنظیموں اور لوگوں میں بھی یہاں اکر فلاحی کام کرنے کے لئے ہمت اور حوصلہ ملے گا. ہم سب ہی لوگوں سے یہ اپیل اور درخواست کرتے ہیں کے آپ لوگ اپنے اپنے طریقے سے ایسی عظیم ہستیوں سے رابطہ کر کے ان کو ہمارا پیغم دیں، ہو سکتا ہے کہ کسی کی بات ان لوگوں کو دل میں اتر جاۓ اور یہاں موجود ہزاروں لوگوں کے لئے خوشی اور خوش حالی کا کچھ سامان ہو جاۓ، 
جزاک الله خیر، سید عدنان علی نقوی، ٹیم ممبر، ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان. 
رابطے کے لئے، 
+92 345 297 1618
+92 333 342 6031
team.ashiyana@gmail.com
faryal.zehra@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca

محترم دوستوں اور بھائی بہنوں، اپر لکھا گیا پیغام مجھ کو جس ترہان ملا تھا بلکل اس کو ویسے ہی لکھ دیا ہے. میں نے پچھلے ایک ہفتے میں جو کچھ جمع کیا ہے، وہ صبح اپنے دوستوں، خاندان والوں اور عزیز احباب کی مدد سے، کیا ہے اور انشا الله کل کسی وقت یہ سامان لے کر میں ایک دفع پھر یہاں سے وزیرستان (شمالی) کے لئے روانہ ہو جاؤں گا، انشا الله.
الله پاک مجھ کو اور ہمت، توفیق اور حوصلہ عطا فرماے اور مجھ کو وزیرستان جا کر لوگوں کے لئے فلاحی کام کرنے کی توفیق عطا فرماے، آمین. 
==============================================
==============================================
اور اب میری ڈائری کا اگلا صفحہ،
  محترم نماز عشا سے فارغ ہوکر، ہم کچھ لوگ ایک ساتھ بیٹھ گئے، عدنان بھائی نے بھی اس میٹنگ کے لئے کچھ خاص لوگوں کو ہدایت دی تھی. اس لئے ٹیم آشیانہ کے خاص ممبرز اور کچھ مقامی دوست بھی اس میٹنگ میں شریک تھے، عدنان بھائی نے ایک اور ممبر کو ہم سب کے لئے چائے بنانے کا کہ دیا تھا. ابہ مجھ کو کہا گیا تھا کہ میں وہ سب کچھ کہ ڈالوں جو میرے دل می ہے اور دماغ میں چل رہا ہے. میں نے ایک گہری سانس لی اور ساری ہمت کو جوڑ کر اپنی بات کہنا شروع کری، میری پوری کوشش یہی تھی کے میرا لہجہ اور زبان کسی بھی لمحہ سخت نہ ہو. اور ماحول میں گرمی نہ آجاۓ.
 میں نے الله کا نام لے کر اپنی بات شروع کری، "محترم عدنان بھائی، اور ٹیم آشیانہ کے جانباز ساتھیوں، عزیز ترین، وزیرستانی بھائیوں، اسلام و علیکم، الله پاک مجھ کو میری بات سہی طریقے سے بیان کرنے کی اور آپ تک پہچانے کی توفیق، ہمت اور سمجھنے کی عقل عطا فرماے، آمین.
میں پچھلے ٧ برسوں سے عدنان بھائی کو جانتا ہوں، مجھ کو اچھی ترہان یاد ہے جب عدنان بھائی کا تقریبن پورا خاندان ہی زلزلے کی نظر ہو گیا تھا اور اس کے بعد عدنان بھائی کی والدہ محترمہ کی موت کے بعد عدنان بھائی نے خود کو ایک دم تبدیل کر لیا، کراچی میں رہنے والا ایک ایسا جوان جس کی زندگی، میں ہمیشہ خوشیاں، ہلا گلہ، موج مستی، وغیرہ شامل تھی ایسے مقصد کی تلاش میں لگ گیا جس کی سمجھ ابھی تک مجھ کو نہیں آرہی ہے.. . . . . 
مزید پڑھنے کے لئے درج ذیل لنک پر کلک کریں. 

بدھ, اپریل 11, 2012

My days in North Waziristan (D'tta Khel)


ٹیم آشیانہ کے ایک کارکن کی ڈائری: شمالی وزیرستان میں گزارے گئے کچھ دنوں کی یادیں اور باتیں.

"عدنان بھائی ان علاقوں میں پچھلے ٢- سالوں سے فلاحی کام کر رہے ہیں، مگر اس کی وجھہ کیا ہے؟  کیوں وہ یہاں پڑے ہوۓ ہیں؟ جہاں نہ زبان اپنی ہے نہ گھر اپنا، نہ ہی لوگ اپنے، یہاں رہنے والے ہم کو پاکستانی کہتے ہیں، اور ہم ان کو پاکستانی سمجھتے ہیں، یہاں کے لوگ ہم کو کام عقل مسلمان سمجھتے ہیں اور ہم یہاں کے لوگوں کو کٹر شدت پسند مسلمان، یہاں کے لوگ امریکا کو ہمارا دوست اور اپنا دشمن سمجھتے ہیں. اور ہم امریکا کو ایک زمینی حقیقت مانتے ہوۓ اس سے روابط رکھتے ہیں. یہاں کے لوگ بلی جیسے ڈرون کو پاکستان اور امریکا کی دی ہوئی دین سمجھتے ہیں اور کم از کم میں اس کو جارحیت، مجھ کو ان سارے سوالات کے ضوابط آج ہی معلوم کرنے تھے بھلے اس کے بعد عدنان بھائی مجھ کو یہاں سے جانے کا حکم ہی دے ڈالیں."

مزید پڑھنے کے لئے درج ذیل لنک پر کلاک کریں. 

منگل, اپریل 10, 2012

An Appeal from North Waziristan!

محترم دوستوں اور ساتھیوں، اسلام و علیکم!

ٹیم آشیانہ کو شمالی وزیرستان میں اپنا کام جاری رکھنے کے لئے فنڈز کی کمی کا سامنا ہے، ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مفت میڈیکل کمپ، غذائی اجناس، مختلف کتابیں اور کپڑوں کی تقسیم کرتی ہے. اسس کے علاوہ ٹیم آشیانہ یتیم لڑکیوں کی شادی کرانے میں بھی جو مدد ہو سکتی ہے فراہم کرتی ہے. 
ہمارے کام اور کارکردگی کے بارے میں ہم اسی بلاگ میں اپنی تفصیل لکھتے رہتے ہیں. ہم اپنے تمام دوستوں، فمیلی ممبرز، اور پڑھنے والوں سے انسانیت کے نام پر درخواست کرتے ہیں کہ مشکل کے اس موقع پر ہماری مدد کریں، ہم اور ہمارے دوست یہاں بہت مشکل حالت سے دو چار ہو کر بھی اپنے مسلم اور انسان ہونے کا فرض ادا کر رہے ہیں اور بہتر سے بہتر طریقے سے خدمات انسانیت کرنے کی کوشش میں ہیں. ہم الله پاک کی مدد سے ہی اس مقام تک پہنچے ہیں اور اپنا کم جاری رکھنا چاہتے ہیں. 
ہم ایک دفع پھر آپ سب سے ہی درخواست کرتے ہیں کہ ہماری جس طرح مدد کرنا چاہتے ہیں کر سکتے ہیں، ہم کو بڑی مقدار میں ادویات، خواتین اور بچوں کے کپڑوں اور مختلف کتابوں کی اشد ضرورت ہے. خدارا ہماری مدد کر کے انسانیت کے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہماری مدد کریں، ہم کسی بھی قسم کی عنایت یا کرم یا نام کا وعدہ تو نہیں کر سکتے مگر اتنا یقین ضرور دلا سکتے ہیں کہ الله پاک کی رہ میں خرچ کرنے سے مل میں تو اضافہ ہوتا ہی ہے مگر الله پاک دوسروں کے لئے بہت اسباب فراہم کر دیتے ہیں. 
ہمارے والنٹیر سے رابطہ کرنے کے لئے درج ذیل نمبر یا ای میل استعمال کریں. 
+92 345 297 1618
+92 333 342 6031
team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
 ہو سکتا ہے کہ ریموٹ ایریا میں ہونے کی وجہہ سے ہمارے نمبرز بند ہوں یا کم نہ کر رہے ہوں آپ اپنا پیغام چھوڑ سکتے ہیں ہم پوری کوشش کریں گے کہ جتنا جلدی رابطہ ہو کر سکیں.

آپ اپنے عطیات، صدقات وغیرہ ہم کو ہمارے آن لائن بھی بھجوا سکتے ہیں. جس کے لئے آپ درج ذیل کو استعمال کر سکتے ہیں. 
  
"Ashiyana"
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 0100-34780.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code:UNILPKKA
الله پاک ہم سب کو ایک صحیح مسلمان اور انسان بننے کی توفیق اور ہدایت فرماے اور ہمارے کام کو قبول کر کے ہماری غیب سے مدد فرماے، آمین.
جزاک الله خیر
سید عدنان علی نقوی 
ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان.

پیر, اپریل 09, 2012

دتہ خیل میں میڈیکل کمپ اور بڑے خان صاحب سے ملاقات

"نماز عشا کے بعد میں نے سوچا تھا کے یہ حضرت یہاں رک کے میری پوری بات سنیں گے مگر ایسا نہیں ہوا ان حضرت نے ہم سے اجازت مانگی اور مجھ کو کہا کہ ہم پھر آیئں گے اور آپ سے بات کریں گے اور اسلام و علیکم کہ کر چلے گئے. 
میری رات بہت مشکل تھی، میں نے جو کچھ ان حضرات سے کہا تھا وہ کچھ ایسا تھا جو یہاں کے طالبان ٹائپ لوگوں کے لئے ٹھیک نہیں تھا. یہاں بس ایک ہی بات سنی جاتی ہے جو جہاد ہے، مگر جہاد کے مطلب شاید ہی کسی کو پتہ ہوں.....
مکمل ڈائری پڑھنے کے لئے نیچے دِیے گئے لنک پر کلک کریں:

جمعرات, اپریل 05, 2012

وزیرستان (شمالی) دتہ خیل کی یادیں. Wazisitstan Dairy!

عزیز ساتھیوں اسلام و علیکم،
دتہ خیل تک آنا میرے لئے کسی معجزے سے کم نہیں تھا. یہاں کا ماحول، یہاں کے لوگ، یہاں کے دن اور رات، سب کے سب میرے لئے حیران کر دینے والے تھے، دتہ خیل  کے رہنے والے لوگ ایسا محسوس ہو رہا تھا کے جیسے کسی انجانے خوف کا شکار ہیں. 
اگلی صبح، فجر کی نماز کے بعد تک میں خود کو کافی حد تک سنمبھال چکا تھا. سب سے بڑا مسلہ موبائل فون کی سروس کا نہ ہونا ہے، جس کی وجہہ سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کے جیسے میں زمین پر نہیں کسی اور دنیا میں موجود ہوں. اس کے بعد یہاں کے لوگوں کی زبان پشتو جو ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی، اردو بولنے یا سمجھنے والے بہت ہی کم لوگ ہیں، عدنان بھی نے یہاں بھی ایک صاحب کی خدمات میرے حوالے کری جو میری بات کو پشتو میں ترجمہ کر کے دوسرے لوگوں کو سمجھاتے اور مجھ کو لوگوں کی بات سمجھاتے، ابتدا میں تھوڑی مشکلات ہوئی مگر بعد منی آسانی ہونے لگی، یہاں میرا کام ساتھ لایی گئی امداد کو بچوں میں تقسیم کرنا اور بچوں کو جب تک یہاں ہوں تعلیم کی روشنی سے آگاہی دینا تھا. 
بچے ہمیشہ میری مجبوری رہے ہیں، بچو سے پیار ہر کسی کو ہوتا ہے. مگر کیوں کہ میرا پیشہ ٹیچنگ رہا ہے اسی لئے بچوں کے مزاج کو سمجھنا اور تعلیم دینا نسبتاً آسان ہوتا ہے. 

تعلیم آخری حل: 
جہاں تک میرے تجربہ ہے چاہے وزیرستان ہو یا افغانستان، (یاد رہے میں ابھی تک افغانستان نہیں گیا ہوں) یا دنیا کا کوئی اور علاقہ، صرف اور صرف تعلیم ہی ایک واحد حل ہے جس کے ذرے لوگوں کے سوچنے کا طریقہ اور زندگی کا معیار تبدیل کیا جا سکتا ہے. گولی، لاٹھی، ڈرون، عسکری قوت سے حملہ کرنا، یا پھر خفیہ ایجینسیوں کی کارستانیاں، یہ سب کسی کام کی نہیں رہتی، ان سب سے وقتی طور پر تو کچھ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے مگر اس سے عوامی جذبات میں شدید غصہ شامل ہو جاتا ہے جو کی کسی بھی معاشرے کے تباہی کا سبب بن سکتا ہے. اور میری معلومات اور تجربے کے مطابق یہاں وزیرستان (شمالی) میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے. یقیناً ہمارے ملک کے عسکری ادارے بہت مضبوط ہیں اور ہمارے جوان بہت بہادری اور بیخوفی کے ساتھ شدت پسندوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، جس کا سہی اندازہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں بیٹھ کر کرنا بہت مشکل ہے یہ تو یہاں اکر ہی پتا چلا کے ہمارے جوان کسی کسی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں. بہرحال یہ باتیں تو عسکری لوگ ہی جانتے ہیں کے کب کس کے خلاف کسی کاروائی کرنا ہے. میں صرف اتنا لکھنا چاہتا ہوں کہ، کچھ لوگوں کی گلتی کی سزا پوری قوم اور نسل کو دینا کہی کا انصاف نہیں. یہاں دتہ خیل میں بھی کچھ اس ہی محسوس ہو رہا ہے، یہاں کوئی پلاننگ ہی نہیں، بس لوگ صبح اٹھتے ہیں، کسی نہ کسی کیمپ کے سامنے جا کر بیٹھ جاتے ہیں جہاں ان کو کھانے کے لئے کچھ مل جاتا ہے، وہ خود کھاتے ہیں اور اپنے بچوں کے لئے لڑ جھگڑ کے بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور اسی بھاگم بھگ میں شام ہو جاتی ہے. کوئی یہاں بیٹھا ہوتا ہے کوئی وہاں بیٹھا ہوتا ہے. ایسے میں جب کسی کے پاس کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوگا تو بچے، خواتین ، اور مرد جہادی تنظیموں میں شامل ہے ہونگے اور انجانے میں اسلام اور پاکستان کے خلاف کاروائی بھی کرے گے.
میں نے اپنے ان خیالات کا اظہار عدنان بھی اور کچھ مقامی لوگوں سے بھی کیا تو ان سب کا کہنا یہی تھا کہ، "منصور بھی، یہاں کوئی کام دھندھا نہیں ہے، ہم لوگ اگر یہاں سے پاکستان میں کہی بھی جاتے ہیں تو لوگ ہم کو بغیر کسی تصدیق کے دہشت گرد کہتے ہیں، کوئی ہم کو کام نہیں دیتا، کوئی ہم سے پوچھتا نہیں کے کچھ کھایا بھی ہے کہ نہیں. الٹا پولیس اور دوسرے ادارے ہم لوگوں کو تنگ کرتے ہیں، ایسے میں ہم کیا کریں؟" یہ وہ سوال ہے جس کا مجھ کو جواب ڈھونڈھنا ہے، مگر میں تو صرف ایک فرد ہوں، یہ سوال تو پوری قوم کے لئے ہے. یہ سوال ہمارے اداروں کے لئے ہے، یہ سوال ہماری حکومت کے لئے ہے، کہ، "کیا وزیرستان (شمالی یا جنوبی) میں رہنے والا ہر انسان شدت پسند ہے، پاکستان اور اسلام مخالف ہے؟" میرے خیال میں ایسا بلکل نہیں ہے، کل تک میں بہت ڈرا ہوا سہما ہوا تھا. ہر آہٹ پر ڈر رہا تھا، انجانا خوف تھا، مگر صرف ٢ دن میں ہی یہاں کے لوگوں کی محبت، اور پیار اور اخلاص نے میرا سارا ڈر اور خوف دور کر ڈالا. میں بھی، لکھ کیا رہا تھا اور لکھ کیا ڈالا. 
میں صرف یہ لکھنا چاہتا ہوں کہ یہاں کے لوگوں کے ایک نسل تو ہم اسس نہ سمجھ میں آنے والی جنگ میں برباد کر چکے ہیں مگر، ابہ جو نسل بری ہو رہی ہیں، جوان ہو رہی ہے، ہم کو اس کا سوچنا ہے، ان بچوں کے پاس بھی کرنے کی لئے کچھ نہیں، یہ بچے بہت سوال رکھتے ہیں، اور ہم سب کو مل کر ہی ان بچوں کے روشن مستقبل کے لئے کام کرنا ہوگا. ٹیم آشیانہ کے مہربانی سے یہاں اکر بہت کچھ سمجھنے کو ملا، میں خود وزیرستان کو کو دہشت گردی کا ادارہ ہی سمجھتا تھا، مگر ایسا نہیں ہے، جب انسان کے پاس کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوگا تو کوئی بھی ان کو ورغلا سکتا ہے اور وطن دشمن بنا سکتا ہے. یہاں میری ملاقات کچھ ایسے لوگوں سے بھی ہوئی جو ہم کو پاکستانی اور خود کو وزیر کہلانا پسند کرتے ہیں. 

ہم پاکستان کے لوگوں کے اور پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں: 
آج شام ہی مغرب کی نماز کے بعد کچھ لوگ ٹیم آشیانہ سے ملنے آے، میں کھانا کھا کر فارغ ہوا ہی تھا کہ عدنان بھائی نہ بلوا لیا، میں جب ان کی طرف گیا تو ان میں سے ایک صاحب کھرے ہووے، سر پر بڑی سی کالے رنگ کی پگڑی، لمبے لمبے شلوار قمیض، سفید داڑھی، اور حلیہ سے ایک دم طالبان ٹائپ لگ رہے تھی، میں تھوڑا سا چونکا مگرخود کو سنمبھال کر اسی خلوص سے سلام اور مصاحفہ کیا جس ترہان انہوں نے مجھ سے کیا، میری طرف اشارہ کر کہ انہوں نے پشتو میں کچھ کہا جو میری سمجھ سے باہر تھا بعد میں ٹیم آشیانہ کہ ایک مقامی ساتھ نے بتایا کہ وہ میری ہمت اور بہادری کا کہ رہے تھے کہ میں خطروں کی سر زمین پر آیا ہوں. خیر، ان صاحب کو تھوڑا اردو بھی اتی تھی، انہوں نے جو کہا اس کی کچھ باتیں حذف کر کہ کچھ ہی باتیں یہاں لکھ رہا ہوں، 
"منصور بھائی، الله کے فضل اور کرم سے ہم سب مسلمان ہیں، اور آپس میں بھی بھائی بھائی ہیں، اور ایک مسلمان کا خوں دوسرے مسلمان پر حرام ہے، پھر بھی آپ کہ پاکستان والے مسلمان ہمارے وزیرستان والے مسلمان بھائی کا قتل کر رہے ہیں، اور ہمارے مہمانوں کو بھی بے دردی سے مر رہے ہیں، کیا ہم کو اپنے دفاع میں کچھ بھی کرنے کا حق نہیں؟ آپ کی پاکستانی فوج اور ----- امریکن ہمارے علاقوں میں گھس گے ہیں، اور ہمارے گھروں کو، ہمارے مال مویشیوں کو برباد کر دیا، ہمارے جوانوں کو بے دردی سے قتل کر دیا. تو کیا ہم کو اس قتال کا بدلہ لینے کا حکم نہیں ہے؟ آیات کی تلاوت کری گی. اور ہم چاہتے ہیں ہم کو ہمارے جوانوں کا خوں بہا، اور ہماری املاک کے نقصان کی تلافی کری جاۓ، ہم کو ووہی عزت دی جاۓ جو دوسرے لوگوں کی ہے، ہم کو ہماری مرضی سے جینے کا حق دیا جاۓ - وغیرہ وغیرہ...."    
ان صاحب کے پرجوش تقریر کہ بعد ان کے ساتھ آے ہوۓ کچھ لوگوں نہیں دبے دبے الفاظ میں الله اکبر، اور جانے کون کون سی صدائیں بلند کری، مجھ کو سچی بات ہے بہت وحشت ہو رہی تھی، یہ تو کھلم خلا طالبان نظریے کا پرچار کرنا تھا. اور دوسرے لوگوں کو اکسانے کا سب سے آسان طریقہ. میں نے احتجاجی نظروں سے عدنان بھائی کی طرف دیکھا انہوں نے آنکھوں سے ہی جواب دیا کہ جواب دینا ہے مگر ان کے جذبات کو ختم ہونے دو، میں خاموش ہی بیٹھا رہا، ایک اور صاحب نے بھرپور پشتو زبان میں تقریر کر ڈالی، میں کیوں کے پشتو زبان سے نہ بلڈ ہوں تو میری سمجھ میں بہت کام ہی سمجھ آیا مگر میرے دوست اکرم بھائی صبح کچھ اردو میں لکھ رہے تھے جو ان صاحب کی تقریر ختم ہوتے ہی مجھ کو دے دیا اور جو کچھ اس میں لکھا تھا وہ میرے لئے نا قابل برداشت تھا. میں چاہے نماز نہ پڑھتا ہوں، لیکن ایک وفادار اور شعور رکھنے والا مسلم ہوں. جو جتنا بھی ترقی پسند کیوں نہ ہو جاۓ، مگر اسلام کی بنیادی تعلیمات سے انحراف نہیں کر سکتا. نہ ہی کسی ایسے عمل کی حمایت کر سکتا ہے جو کسی بھی طریقے سے اسلامی تعلیمات اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ہو. میں نے ہمت کر کے عدنان بھی اور ان سب حضرت سے اجازت لی کہ میں ان سب باتوں کے جواب میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، دل ہی دل میں الله کا نام پڑھا، درود پاک پڑھا اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کری، اس کہ بعد میں نے سورہ رحمان کی کچھ آیات پڑھی اور پاکستان میں پڑھائی جانے والی نہم جماعت کی انگریزی کی کتاب کے پہلے سبق " حضور پاک (س ع و) کا آخری خطبہ" والا مضمون جو مجھ کو ابھی تک بہت اچھی ترہان یاد ہے پڑھ ڈالا. میں شاید کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو گیا تھا، مجھ کو عدنان بھی کا اشارہ ملا اور ایک گلز پانی خاموشی سے دیا گیا جو میں نے بلکل اسلامی طریقے سے نیچے بیٹھ کر پیا. (الله مجھ کو معاف کرے، کراچی میں ایسا بہت کام ہوا ہے کے میں بیٹھ کر پانی پیتا ہوں). میں نے ان سب حضرات کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور جو کچھ کہا وہ کچھ اس ترہان سے ہے. ( یاد رہے کے ان کے پاس ایک چھوٹا سا ریکارڈر بھی تھا اور جو بھی میں کہ رہا تھا وہ اس کو ریکارڈ کر رہے تھے، اس لئے میرے جذبات سے زیادہ احتیاط لازم تھی).
" میرے محترم دوستوں، آپ سب کی آمد کا بہت شکریہ، آپ کے جذبات اور خیالات سے آگاہی ہوئی، اور جو کچھ میں نے آپ کی زبانی سنا مجھ کو کوئی شک نہیں کہ آپ لوگ بھی ایک مخصوص نظریہ اور خیالات کے حامل ہیں. اسلام ایک امن، محبت، اور خلوص سکھانے والا مذہب ہے، جس میں قتال، جہاد اور لوٹ مار کی اجازت بلکل نہیں، اگر ایسا ہوتا تو آج ساری دنیا ہی مسلمان ہوتی، مگر الله پاک نے جو بھی حکم دیا ان سب ہی میں انسانیت کا درس دیا، ساری قرانی آیات، حضور پاک کے اعمال، اور احادیث اس بات کا ثبوت ہیں کے سہی اسلامی تعلیمات کیا ہیں، یہاں (وزیرستان) یا دوسرے علاقوں میں جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے، اس سب کے ہم ہی ذمے دار ہیں، نہ ہی کوئی سہی رہنما ملا نہ ہی کوئی سہی ہدایت، ہم کو حالت اور وقت کے حساب سے جو بھی سہی لگا ہم کرتے گئے اور انجانے میں ایسے لوگوں کے غلام ہو گئے جو نہ تو ہمارے دوست تھے نہ ہی اسلام سے وفادار. آج یہاں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ان سب میں ہمارا ہی قصور ہے. ہماری اس غلطی کے لئے انی والی نسلیں بھی ہم کو کبھی معاف نہیں کریں گی. وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوںمیں اسلامی شدت پسندوں نے حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف بہت زور و شور سے مہم چلائی، اور ان علاقوں کے سادہ لوح عوام ان لوگوں کی baton میں آگے کیوں کہ ہیں کا رواج ہے کے آپ کے علاقے کا برا یا کوئی مولوی جو بول دے وہی حق اور سچ ہے. مگر آج کے جدید دور میں یہاں نہ تو کوئی اور زریا ہے نہ ہی کوئی تعلم جو اپ لوگوں کو شعور دے، اسی وجہہ سے آج اپ لوگ ہم کو پاکستانی کہ رہے ہیں اور خود کو وزیری. آپ شاید بھول گئے ہیں کہ وزیرستان بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک حصہ ہے یہاں پر بھی حکومت پاکستان اور پاکستان کا قانون لاگو ہوتا ہے بلکل اسی ترہان جیسے ملک کے دوسرے حصوں میں. یہاں کے لوگوں کو بھی بلکل وہی حقوق حاصل ہیں جو پاکستان کے دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں. بس یہاں کے نظام میں خان، ملک یا سردار شامل ہیں جو حکومت کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور قانون کی عمل داری کو یقینی بناتے ہیں، میرے حساب سے بری گر بار یہاں ہی ہوئی کہ خان یا سردار کہتے رہے اور آپ کرتے رہے کیوں کہ آپ لوگوں کے پاس (معزرت) کے ساتھ تعلیم نہیں تھی جس کی وجہ سے شعور کی بھی کمی تھی. جہد کا جو فلسفہ آپ کو سکھایا گیا وہ اسلام کے حقیقی فلسفے سے بلکل مختلف اور علیحدہ تھا. جتنے لوگ اس جہاد نما جنگ میں مارے گۓ خود ان کو نہیں پتا تھا کہ وہ شہید بھی ہیں کے نہیں. 
میرے اتنا کہنے کی دیر تھی کے امیر صاحب نے عشاہ کی نماز کا اعلان کر دیا اور ہم سب نے نماز کی تیاری شروع کر دی. 
دوران وضو، عدنان بھائی نے میرے جذبات کا احترام کرتے ہوۓ مجھ کو کچھ اور باتیں بتائیں اور مجھ کو مزید نرم لہجے میں بات کرنے کے لئے کہا. اور ہم نماز کی تیاری میں لگ گئے. 

محترم دوستوں، انشا الله اگر زندگی نے وفا کری تو آج ہی اپنی ڈائری کے کچھ اور صفحات بھی لکھ ڈالوں گا.
جزاک الله خیر
آپ کا دوست آپ کا بھائی 
منصور احمد
   
 
           

بدھ, اپریل 04, 2012

شمالی وزیرستان میں گزرے کچھ دنوں کی یادیں:

وزیرستان (شمالی) میں میرا دوسرا دوسرا دن:
یہ صبح میری دوسرے دنوں کی صبح کی جیسی بلکل نہیں تھی، مجھ کو اسے اٹھایا جا رہا تھا کے جیسے میں کہیں مر نہ گیا ہوں. میرے سر کی جانب عدنان بھی تھے اور پیروں کی جانب ٤ - ٥ افراد، شاید تھکن کی وجہہ سے میں کچھ زیادہ ہی گہری نیند سو گیا ہونگا. آنکھ کھلی تو ایسے سب کو اپنے سامنے دیکھ کر دل دہل گیا اور پہلا خیال جو مجھ کو آیا وہ یہی تھا کہ کہیں بلی جیسے ڈرون نہیں حملہ تو نہیں کر دیا، بس یہ خیال دل میں آنے کی دیر تھی میں اپنے بستر سی ایسے اچھل کے کھڑا ہوا جیسے میرے اوپر کوئی سانپ یا بچھو رینگ رہا ہو. میری اس حرکت پر سب ہی لوگ ہنس پڑے. میں شرمندہ ہوکر کھڑا ہو گیا، خیر، نماز فجر کا وقت ہوا تھا اسی لئے اٹھایا جا رہا تھا. میں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ وضو کیا اور نماز ادا کری. نماز کے بعد ہم کو چا ئے دی گے جو پی کر تھوڑا سکوں ملا. 
نماز کے بعد ہر طرف چہل پہل شروع ہو چکی تھی. پتہ چلا کہ آج ٹیم آشیانہ وزیرستان کے صبح سے مشکل علاقے دتہ خیل جانے کی تیاری میں ہے، دتہ خیل کا نام میرے لئے نیا نہیں تھا، کراچی میں اکثر خبروں میں دتہ خیل کا ذکر بار بار آیا ہے. میں نے ایک دفع پھر جتنی دعا یاد تھی پڑھنا شروع کر ڈالی، زندگی میں شاید ہی کبھی اتنا خوف آیا ہو مجھ کو. ایک مسلم کی حیثیت سے اتنا ڈرنا شاید گناہ ہو مگر انجانا خوف تھا جو تنگ کر رہا تھا. وجہ شاید طالبان کی غنڈہ  گردی رہی ہو جس کے بارے میں اکثر سنا ہے. یا پھر بلی جیسے ڈرون کا خوف ہوگا، یا پھر اپنوں کے ہاتھوں ذلیل اور رسوا ہونے کا خوف. کیوں کے کوئی پتہ نہیں کے کوئی بھی ہم جیسوں کو دشمن که کر ہماری ہی خبر بنوا ڈالے. خیر الله پاک کا نام لے کر میں نے کوشش کری کے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ جو بھی مدد کروا سکتا ہوں کروں، مگر میری ٹوٹی ہوئی ٹانگ مجھ کو زیادہ کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی. 
صبح ٨ بجے ہمارا سفر شروع ہوا جو خیبر پختونخوا میں عام طور پر چلنے والی جیپ میں رہا. ہمارے ساتھ ٣ جیپ روانہ ہوئی جس میں مجھ کو ملا کر ٨ کارکن شامل تھے، ایک ڈاکٹر بھی تھی. ہم جیسے ہی میران شاہ سے باہر نکلے ہمارا پہلا سامنا پاکستان کے فوجی جوانوں سے ہوا، مگر یہ جوان کچھ اور ہی تھے، چہروں پی اتنا غصہ کا دیکھنے تک سے خوف آرہا تھا. عدنان بھائی اور مظفر بھائی نے ان سے بات کری، ہم کو جیپ سے باہر نکالا گیا ہمارا تفصیلی چیک اپ میرا مطلب ہے جامہ تلاشی ہوئی اس کے بعد ہم کو اگے بڑھنے کی اجازت دی گے، میں درود پاک پڑھتا جا رہا تھا. کے اچانک عدنان بھائی نے آواز لگی اور بھائی منصور کراچی کے حالت کے بارے میں بتاؤ. میں تو بہت پہلے سے ہی ان سے بات کرنا چاہ رہا تھا پھر میں بھی شروع ہو گیا اور اپنے بارے میں، اور کراچی کے حالت کے بارے میں ان کو تفصیل سے بتانا شروع کیا، راستے میں جگہ جگہ ناکے لگے ہووے تھے، اوپر سے بہت ہی عجب راستہ تھا جہاں ہر طرف ویرانی، خوف اور سناٹا ہی تھا. ہم اپنے ساتھ پانی کی بوتل اور کچھ خانے پینے کا سامان لے کر نکلے تھے، جو ہم استعمال کرتے جا رہے تھے، عدنان بھائی بھی ہر جگہ کے بارے میں کچھ نہ کچھ بتا رہے تھے، دن میں ہم نے ظہر کی نماز ادا کری اور سفر پھر شروع کر دیا. جگہ جگہ تلاشی دی کر مجھ کو غصّہ آنے لگا تھا، اور محترم عدنان بھائی صرف مسکرا کر اور مجھ کو استغفار پڑھنے کی تلقین کر رہے تھے. جبہ اثر کی نماز کے لئے ہم ایک جگہ روکے تو میں نے صاف که دیا کے یار ایسا محسوس ہو رہا ہے کے جیسے ہم بارڈر پر کر کے افغانستان میں آگے ہیں جہاں ہر کوئی ہماری تلاشی لے رہا ہے، وزیرستان بھی پاکستان کا ایک حصہ ہے، اور ہر پاکستانی کو یہاں آزادی کے ساتھ آنے جانے کی اجازت ہونی چاہیے جس کا جواب عدنان بھائی نے بہت شفقت اور پیار سے دیا اور جو جواب تھا تو اس کا خلاصہ یہ ہے کے وزیرستان اور فاٹا کے علاقے حالت جنگ میں ہیں اسس لئے حفاظتی اقدامات کے طور پر یہ سب کیا جا رہا ہے.   میں نے دل ہی دل میں کہا کے یار منصور ان سب کی ضرورت تو کراچی میں بھی ہے، کراچی میں بھی کبھی بھی کچھ بھی ہو جاتا ہے. وہاں بھی جگہ جگہ  ناکے لگے ہونا چاہیے تاکے حالت کچھ تو قابو ہوں. الله رحمان ملک انکل کا بھلا کرے جو ہر دفع کراچی اتے ہیں اور حالت سہی ہونے کا وعدہ کر کے چلے جاتے ہیں. خیر، جیسے تیسے کر کے مغرب بھی ہوئی اور عشا بھی ہوئی، اور وہ لمحات آگے جن سے میں خوف زدہ تھا، رات کا سناٹا. اور تنہائی. ابہ پتہ لگا کے وزیرستان کو وزیرستان کیوں کہتے ہیں ، یہاں ہر طرف پہاڑ ہی پہاڑ ہیں اور انہی کی حکمرانی چل رہی ہے. جیسے تیسے کر کے سفر ختم ہوا اور ہم مشہور اور معروف دتہ خیل پہنچ گے، راستے میں کچھ اسی باتیں ہوئی جن کا ذکر کرنا تو ضرور چاہتا ہوں مگر سیکورٹی کی وجہہ سے نہیں کر پاؤں گا. بس الله پاک ہم سب کو ہدایت عطا کرے، آمین.


دتہ خیل میں ہمارے دن کیسے گزرے اسس کا احوال انشا الله اپنی اگلی ڈائری میں ضرور لکھوں گا. میری دعا ہے کے ٹیم آشیانہ جس ترہان سے وزیرستان کے لوگوں کی خدمات کر رہی ہے الله پاک اس کو قبول کرے اور ٹیم آشیانہ، وزیرستان میں رہنے والوں کی مشکلات کو آسان کرے، آمین. 
جزاک الله خیر 
آپکا بھائی، آپکا دوست
منصور احمد

جمعہ, مارچ 30, 2012

Waziristan (North) Update: Another Drone Attack At Miranshah "Waziristan"

Assalam O Alikum and good afternoon all,

Another Drone attack has been made by U.S Drone at Main Bazar, Miranshah North Waziristan in this morning just before Namaz e Fajr. Thank GOD Team Ashiyana is save as they were all preparing for the Namaz e Fajr.
Many of the casualities has reported to the local hospital. We are waiting for the further news from Team Ashiyana - Waziristan. Will be updated shortly - Insha ALLAH.

Jazak ALLAH Kher
Syeda Faryal Zehra
Member Team Ashiyana for Waziristan.
Peshawar. Khyber Pakhtoonhkwa.
 

منگل, مارچ 27, 2012

وزیرستان (شمالی) سے ٹیم آشیانہ کی اپیل

محترم دوستوں اور ساتھیوں، اسلام و علیکم.
میں آج ہی وزیرستان سے واپس پشاور آی ہوں، ٹیم آشیانہ کی کچھ ارکان ابھی بھی وزیرستان میں موجود ہیں. وزیرستان خاص کر (شمالی)  کے بہت سارے لوگ بہت بوری حالت میں ہیں اور زندگی گزار رہے ہیں. مجھ کو ٹیم آشیانہ کے سرپرست نے وہاں کے پورے حالات بتانے سے روک رکھا ہے نہیں تو حالات ایسے ہیں کہ اگر بتانا چاہوں تو خود میری حالت خراب ہو جاۓ، ٹیم آشیانہ سب کے لئے تو کچھ نہیں کر سکتی مگر کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں ہم نے کچھ لوگوں کی جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں ذمےداری لے رکھی ہے. الله پاک بھی غیب سے ہماری مدد کا کوئی نہ کوئی راستہ بنا ہی دیتا ہے. 
محترم دوستوں، ٹیم آشیانہ ایک دفع پھر قلیل فنڈز کا شکار ہو رہی ہے. ١٥٠ بچوں کی ذمہ داری اور ٥٠ خواتین کے لئے کم کرنا وو بھی وزیرستان جیسے علاقے میں آسان نہیں ہے. ٹیم آشیانہ اپنے تمام تر وسائل استعمال کر رہی ہے اور ہم کو الله پاک کی ذات پر پورا یقین اور بھروسہ ہے کے جیسے پہلے ہمارے دوستوں نی احباب نے ہماری مدد کری ہے ویسے ہی اس وقت اور انے والے وقتوں میں ہماری مدد کریں گے. 
ٹیم آشیانہ کی اہم ضروریات کچھ یہ ہیں: 
١- بچوں کے لئے کپڑوں کا انتظام کرنا (خصوصاً شلوار قمیض) 
٢- بچوں اور خواتین کے لئے ادویات کا انتظام کرنا (٤ مڈیکل کیمپ کے لئے)
٣- بچوں کے لئے کتابوں کا انتظام کرنا
٤- ٹیم آشیانہ کے اراکین اور کچھ بچوں کے لئے غذا کا انتظام کرنا

مندرجہ بلا ہماری انتہائی اہم ترجیحات ہیں. ہم اپنے صبح ہی دوستوں، احباب سے رابطہ کر رہے ہیں اور ہم کو الله پاک کی ذات پر پورا یقین ہے کے کہی نہ کہی سے ہماری ضروریات پوری ہو جائیں گی - انشا الله.

آپ ہماری کیسے مدد کر سکتے ہیں؟
ہم سب ہی یہ بات اچھی ترہان جانتے ہیں کے پورے پاکستان میں تعلیمی سال ختم ہو رہا ہے. آپ کے بچوں  کی اور آپ کی گزشتہ تعلیمی سال کی کتابیں ہمارے بہت کم آسکتی ہیں. اس ترہان ٹیم آشیانہ کا کافی فنڈ بچ جاۓ گا جو کسی اور استعمال میں لیا جا سکتا ہے. ہم کو کلاس اول سے کلاس دھم (١٠) تک کی کتابیں چاہیے. جس کا انتظام اگر ہم سب مل کر کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں. اس کے علاوہ ہم کو کچھ اور کتابوں کی بھی ضرورت ہے جن میں کچھ درج زیل ہیں.
١- شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی کتاب "مشرق کی بیٹی".
٢- محترم پرویز مشرف کی کتاب "سب سے پہلے پاکستان" کا اردو ترجمہ.
٣- پاکستان کی تاریخ سے متعلق کچھ کتابیں.
٤- قائد محمد الی جناح کے بارے میں کچھ کتابیں.
٥- اور کچھ اسلامک کتابیں جن میں زندگی گزارنے کے طریقے بیان ہوں. 
شمالی وزیرستان میں ابھی تک کچھ شرپسند عناصر کا اثر موجود ہے جس کا حل صرف وہاں کے لوگوں کو سہی اسلامی تعلیمات اور پاکستانی بنانے میں ہے. ہم کو بہت خوشی ہے کے صرف اور صرف پاکستان آرمی کے جوان ہی وہاں نہ صرف مڈیکل کیمپ لگا رہے ہیں بلکہ وزیرستان کے بچوں کو ایک اچھا پاکستانی بنانے میں اپنی پوری محنت کر رہے ہیں. الله پاک ہمارے جوانوں کو ہمت، صبر اور حوصلہ عطا فرمائیں - آمین. ہم بھی اپنی چھوٹی سی کوشش کر رہے ہیں ہیں جو لوگ بگڑ گے ہیں ان پر ہم زیادہ محنت نہیں کر سکتے مگر جو بچے ابھی حالات کو دیکھ رہے ہیں ان کے ذہنوں میں اسلام کی سہی تعلیمات اور پاکستان کی محبت شامل کر دیں تاکے آنے والے وقتوں میں یہ بچے ہم سب کی ساتھ پاکستان کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے. اس مقصد کے لئے ہم نے سب سے مشکل علاقے دتہ خیل اور آس پاس کے بچوں کو تعلیمی سہولت دینے اور دیگر سہولیات دینے کا فیصلہ کیا ہے. ٹیم آشیانہ کے کچھ اراکین اس راے سے متفق نہیں ہیں مگر ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں ہی کم کرنے کی زیادہ ضرورت ہے. اور ہم پوری امید کرتے ہیں کہ ہمارے اس مقصد میں جہاں ہماری فمیلی اور دوست ہمارا ساتھ دیں گے وہی وزیرستان میں موجود مقامی لوگ اور سکورٹی کے ادارے بھی ساتھ دیں گے - انشا الله.
اس مقصد کے لئے ہماری بہت اچھے اور اولڈ کارکن منصور احمد بھائی، فیصل بھائی اور فرحان بھائی نے ذمہ داری لینے کا وعدہ کیا ہے. منصور بھائی کیوں کے ایک استاد بھی ہیں اور آج کل وزیرستان کے بچوں سے بہت گھل مل گے ہیں اس لئے ان کا ہمارا ساتھ دینا بہت ضروری ہے. ہم دتہ خیل میں ایک چوتھا سا سکول شروع کر رہے ہیں جس میں کچھ زیادہ سہولیات دینے کا وعدہ تو نہیں کر سکتے مگر علم دینے کی اپنی پوری کوشش کریں گے، اس کے علاوہ اس سکول میں اسے بچے جن کے گھر والے یا ماں باپ بچھڑ گے ہیں یا جن بچوں کی دیکھ ریکھ کے لئے کوئی نہیں ان کو رکھنے کا بھی انتظام کیا جارہا ہے. انشا الله 
ٹیم آشیانہ نے پہلے ایسے بچوں کو پاکستان کے کسی ایسے ادارے میں بھیجنے کا سوچا تھا جو بچوں کی اچھی ترہان دیکھ بھال کر سکتے ہیں مگر پاکستان کے دوسرے علاقوں میں وزیر بچوں کے ساتھ کیسا سلوک ہوگا اس کا سوچ کر ہم نے ان بچوں کے لئے وزیرستان میں ہی انتظام کرنے کا فیصلہ کیا. الله پاک ہماری مدد کرے اور ہم کو اس کام کو اچھی طریقے سے اور پورا سر انجام دینے کی توفیق عطا فرماے - آمین.
 
محترم دوستوں، ایک دفع پھر ہمارے کچھ دوستوں نے ہم سے تصور اور ویڈیو کا مطالبہ کیا ہے جو ہمارے اختیار میں فلحال نہیں ہے. ہم کو وزیرستان میں کام کرنے کی اجازت ملی ہی اسی اصول اور بنیاد پر ہے کے ہم وہاں کے لوگوں کی تصویر بنا کر دنیا میں نہیں بھیجے گے، ایسے میں وزیر لوگ شاید اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں اور کچھ سکورٹی کے مسائل بھی شامل ہیں. ٹیم آشیانہ کا ایمان ہے کے جو لوگ الله کی رہ میں خرچ کرتے ہیں وہ دیکھ کر نہیں بلکے الله پاک کی ذات پر ایمان rakh کر ہی خرچ کرتے ہیں. اور ہمارا رب ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتا ہے.
ہم کسی پر کوئی زبردستی نہیں کر سکتے، ڈرا دھمکا نہیں سکتے، ہم صرف دعاکر سکتے ہیں اور اپیل کر سکتے ہیں، ہدایت دینے والی ذات الله پاک کی ہے. الله پاک ہم سب کو ہدایت عطا فرماے آمین. 

تقریباً١٠٠ بچوں کے لئے استعمال شدہ یا نیو کپڑوں کی بھی ضرورت ہے. جو کے ان بچوں کے لئے ایک سال تک کام آسکیں. اس کے علاوہ خواتین کے لئے بھی کپڑوں کی اور خواتین کے کام کی کچھ اشیا کی بھی ضرورت ہے. ہماری بہنیں ان کی ضروریات سے اچھی سے واقف ہیں. 

ادویات یہاں کا سب سے اہم اور ضروری ضرورت ہے. ہم جتنی بھی ادویات یہاں لاتے ہیں ایک یا دو میڈیکل کیمپ میں ہی ختم ہو جاتی ہیں کیوں کے جیسے ہی لوگوں کو پتا لگتا ہے کہ فلاں جگہ کیمپ لگ رہا ہے لوگ دور دور سے آتے ہیں. 
ہماری اگلی پلاننگ میں ٤ میڈیکل کیمپ ہیں جو ہم کو دتہ خیل اور اس کے آس پاس پی علاقوں میں لگانے ہیں جن کے لئے ادویات کا کل لاگت تقریباً ٤ سے ٥ لاکھ(چار سے پانچ لاکھ روپے) تک ہے. الله پاک ہماری مدد فرمائیں. آمین.

اور اور اہم مثلا وزیرستان کی حملہ خواتین کا ہے. ہم کو صرف ایک جگہ وہ بھی وانا میں ایک سہی اسپتال ملا جہاں زچگی کا عمل سہی ترہان مکمل ہو سکتا ہے اکثر خواتین گھروں میں ہی اس عمل سے گزرتی ہیں جس کے دوران اکثر ماں یا بچے یا دونو کی زندگیاں خطرے میں ہوتی ہیں. ہم کو یہ بتاتے ہووے بہت دکھ اور افسوس ہے کہ گزشتہ ماہ ہم نے ایسے ٥ (پانچ) کیس دیکھ جن میں ایک ماں اور چار بچے خالق حقیقی سے جا ملے، الله پاک ان کی مگفرت فرماے اور لواحقین کو صبر عطا فرماے، آمین. 
ایسے واقعات کو روکنے کے لئے وزیرستان میں موبائل میٹرنٹی کے انتظام کی بہت ضرورت ہے جس میں ایک تجربہ کر ھیلتھ ورکر اور نرس ہو جو ضرورت پڑھنے پر حاملہ خواتین کی مدد کر سکے. 

پولیو مہم:
ہم کو پتا لگا کی پورے پاکستان میں پولیو مہم بہت جوش اور جذبے سے چلائی گے ہے. ہم بھی اس امید پر کی شاید اسی بہانے کچھ لوگ وزیرستان کی بچوں کو پولیو کی قطرے پلا کر کم از کم ان بچوں کو پولیو سے بچنے کا انتظام کر دیں گے مگر کچھ جگہوں جیسے وانا یا کچھ آی ڈی پیز کیمپ کی علاوہ وزیرستان کی بہت سارے علاقوں میں پولیو مہم کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا. الله پاک اس انتظام کرنے والوں کو توفیق، ہمت اور حوصلہ عطا فرماے، آمین.

ہم اپر درج کی گی کتابوں کی بارے میں تھوڑا سا عرض کر دیں. مشرف صاحب کی کتاب یا بیبی شہید کی کتاب کو یہاں منگوانے کا مطلب یا مقصد ان لوگوں کے لئے کسی قسم کی کوئی مہم چلانا نہیں ہے. نہ ہی ہم کسی بھی طریقے سے سیاست میں شامل ہونا چاہتے ہیں. بلکے ہمارے کچھ ارکان نہیں یہ کتابیں پڑھی ہیں اور ہم صبح اس بات پر متفق ہیں کے ایسی کتابیں ہم لوگوں میں شعور بیدار کرتی ہیں جن سے ہم میں سہی یا غلط کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک رہنما کا کردار ادا کرتی ہیں. اس بارے میں اگر کوئی اور کتاب آپ دوستوں کی نظر میں ہو جو ہمارے کسی کم اسکے تو ہم بہت خوشی کے ساتھ اس کتاب کو یہاں شامل مطالعہ کریں گے.

محترم دوستوں اور ساتھیوں. ہم نے مختصر کر کے ہماری کچھ ضروریات اور باتیں اور حالات سے آپ کو اگاہ کیا ہے. اس امید پر کے ہم سب مل کر بہت زیادہ نہ سہی مگر تھوڑا سا حصہ کچھ نیک کاموں میں شامل کر سکیں. ہماری بہن فریال، کینیڈا میں اپنا کام کاج چھوڑ کر یہاں آی ہے. بہن بدر کراچی میں اپنی ٢ ماہ کی بچی کو چھوڑ کر یہاں آی ہے. ہمارے بھائی منصور حادثے کا شکار ہونے کے باوجود اپنی ایک ٹانگ سے معذور (عارضی معذوری)  ہونے کے باوجود یہاں آی ہیں. عدنان بھائی سالوں سے یہاں کام کر رہے ہیں، لاہور کے کچھ ساتھی آتے ہیں. پشاور کے کچھ ساتھی. ہم سب مل کر بہت معمولی اور چھوٹا سا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. مقصد ہمار ایک ہی ہے اور وہ ہے کی اپنی زندگی سے کچھ وقت نکال کر کچھ سرمایا نکال کر ایسے لوگوں کی لئے کام کیا جاۓ جن ک لئے کوئی کام نہیں کرتا. ایسے علاقوں میں کام کیا جاۓ جہاں کوئی جانا نہیں چاہتا. اور ہم اسی کوشش میں ایک ایک دیں گزار رہے ہیں کہ ہم جیسے اور لوگ بھی بغیر کسی انتظار کی خود آے اور پاکستان کی لئے، اسلام کی لئے کام کریں. 

یہ تحریر کچھ زیادہ ہی طویل ہو چلی ہے. ہم آپ سے اجازت چاہیں گے اس دعا کی ساتھ کی الله پاک ہم سب کو ہدایت، توفیق اور حوصلہ عطا فرمائیں، ہم سب کو نیک کام کرنے اور نیک کام کرنے والوں کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائیں. آمین.

ٹیم آشیانہ کی مدد کرنے یا رابطے کی لئے درج ذیل استمال کریں.
 
Team Ashiyana, Data khel.
North Waziristan.
team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
+92 345 297 1618   (for sms or call, leave your text if find switchoff)               

For your funds or contribution please use:

"Ashiyana"
Ms. Badar un Nissa.
A/c # 0100-34780.
United Bank Limited.
Gulistan e Joher Branch. (1921)
Karachi, Pakistan.
Swift Code: UNILPKKA
آپ اپنے صدقات عطیات دیگر بھی ہم کو بھیج سکتے ہیں. اس کے علاوہ، کراچی، لاہور یا پشاور میں ہم سے رابطہ کر کے ہم کو غذائی اجناس، کتابیں، کپڑے وگرا بھی دے سکتے ہیں (اگر ہمارا کارکن ان شہروں میں موجود ہوا)
آپ کی دعاؤں، اور مدد کے منتظر.
ٹیم آشیانہ
شمالی وزرستان 
اسلام و علیکم 
 سیدہ فریال زہرہ 
جزاک الله خیر 

 
      

اتوار, مارچ 25, 2012

وزیرستان سے سید عدنان علی نقوی کا پیغام

اسلام و علیکم، محترم دوستوں اور ساتھیوں. 
الله پاک کے حضور دعا  کرتے ہیں کہ وہ ہم پر اور آپ پر اپنی رحمتیں، برکتیں اور کرم فرماے، آمین. بے شک، ووہی (الله) کی ذات ہے جس نے ہم کو پیدا کیا، ہم کو عقل اور شعور عطا فرمایا کہ ہم (انسان) اس کی نعمتوں کو اچھی ترہان استعمال کریں اور اس (الله) کا شکر ادا کرتے رہیں. الله پاک ہم سب ہی کو اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرماے اور ہم کو نیک لوگوں میں شمار کرے، آمین. 
محترم دوستوں، کافی عرصے کے بعد آپ سے ہم کلام ہونے کا موقع حاصل ہو رہا ہے. میری پوری کوشش یہی ہوتی ہے کے ہم دوست باتیں کم کریں اور ہم اپنے کم اور جس مقد کے لئے یہاں (فلحال وزیرستان) ہیں اس کم پر اپنا پورا دھیان دیں. الله پاک ہم کو اپنے بندوں کی خدمات کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرماے، آمین. 

محترم دوستوں، آج ٢٥ مارچ ٢٠١٢ ہے اور مجھ کو یہ بتاتے ہوۓ بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ آج ٹیم آشیانہ کو یہاں (وزیرستان) میں خدمت انسانیت کرتے ہوۓ تقریباً ٣ برس کا عرصہ مکمل ہوا. ان ٣ برسوں میں ہم نے کیا کیا اس کی تفصیل آپ ہماری پرانی پوسٹ اور ای میل میں ملاحظہ سکتے ہیں. ان ٣ برسوں میں ہم نہیں ہر ترہان کے حالت کا سامنا کیا، جہاں کچھ کامیابیاں حاصل ہوئیں تو وہاں بہت ساری ناکامیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا. ٹیم آشیانہ جو کے فرینڈز آف عدنان ہی کی شکل ہے. ہمارے کچھ مستقل دوست تو پچھلے بہت برسوں سے ہمارے ساتھ ہیں الله پاک ان بھی بہنوں کو اور ہمت حوصلہ، صبر اور استقامت عطا فرماے، امین اور کچھ دوست جو ہمارے ساتھ کچھ وقت کے لئے شامل ہوتے ہیں ہیں الله پاک ان کی محنت اور کام کو قبول فرماے اور ہمارے دوستوں کو ایسے کام کرنے کی توفیق عطا فرماے، امین. 
ہم نہیں کیا کیا؟ کیسے کیا؟ کیوں کیا؟ اور کتنا کیا؟ اس کا صرف ایک ہی سبب یا وجہہ ہے. ہم یہ صبح صرف اور صرف الله پاک کی رضا اور اپنے پاکستانی بھائی، بہنوں کے لئے کر رہے ہیں. ہم پاکستان کے ایسے علاقوں میں کام کر رہے ہیں جہاں جانے اور روکنے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا. اور الله پاک کے فضل و کرم، اور عنایات سے ہم کو ابھی تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ہن ملی نقصان ضرور ہوا مگر ہمارے نزدیک ایسے نقصان کی کوئی اہمیت نہیں ہم نہیں تو ایسا ہی سوچا کہ ہم نہیں نہ سہی کسی اور کے ذریے ہی ہمارا سامان لوگوں تک پہنچ گیا ہوگا. 
ہم نہیں اپنے کام کے دوران بہت سیاست دانوں، اور فلاحی لوگوں سے رابطہ کیا. لوگوں کو آگاہ کیا کہ کہاں کہاں کن کن چیزوں کی ضرورت ہے اور کیا کام کرنا باقی ہنی. مگر صرف وعدے اور دعوے ہی ملتے رہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں. ہم صرف الله پاک کے حضور دعا کرتے ہیں کہ الله پاک ان کو اور ہم سب کو توفیق عطا فرماے، آمین.  
آج ہم سب بہت خوش ہیں کہ، ٢٣ مارچ جو کے یوم پاکستان تھا دتا خیل (وزیرستان) میں ٹیم آشیانہ اور کچھ مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر منایا گیا. یہ ایک بہت تعلق حقیقت ہے کہ ہماری طرف سے منعقد کی گی اس میں صرف ٤٠ سے ٥٠ مقامی افراد نے شرکت کری مگر ہماری اتنی محنت کے بعد اگر ہم کچھ محسود اور قبائلی لوگوں کے ذہن تبدیل کرنے میں کامیاب ہوۓ اور اگر الله پاک کی رضا اور خوشنودی شامل حال رہی تو ایک نہ ایک دن سارا وزیرستان اور قبائلی علاقے کے رہنے والے ہمارے پاکستانی بھائی بھی ہمارے ساتھ مل کر یوم پاکستان مانیں گے اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کریں گے. انشا الله. 
باقی تفصیل ہماری بہن فریال اور ہمارے دوسرے والنٹیر ساتھی آپ کو آگاہ کرتے رہے گے. 
مجھ کو اجازت دیں. الله پاک ہم صبح کو صبر اور ہمت اور استقامت عطا فرمائیں. آمین. 
جزاک الله خیر.
آپ کا بھائی
سید عدنان علی نقوی
ٹیم آشیانہ . وزیرستان. 
 s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
team.ashiyana@gmail.com
       



جمعرات, مارچ 22, 2012

Team Ashiyana: Work Report for February - March 2012 - Waziristan


Funds and Work Report for the Month Of February – March 20, 2012. Waziristan (North):

Funds (Donation) Details:
In Pak Ruppee’s
Bank Account   (“Qatar”)                                            : Rs. 20,000/= (Twenty Thousands in Pak rupee)
From Western Union (C/o, Faryal Zehra “Canada”) : Rs. 50,000/= (Fifty Thousands in Pak rupees)
Taimour & Family                                               : Rs. 25,000/= (Twenty Five Thousands in Pak rupees)
Mansoor Ahmad Family                                             : Rs.   5, 000/= (Five Thousands in Pak rupee)   
                                        Total Amount                   : Rs 1,00,000/= ( One Lac Only)                          


Raw stuff (Donation) Details:
Cloths for women (Old & New)        : 50 Nos (from Farhad Taimour M-TV)
Clothes for Children (Old & New)    : 100 Nos (Ms Badar Un Nissa’s family)
Medicines                                        : Worth of Rs. 5,000/= (Five Thousands frm Nabil bro – Lhr)
Food Stuff                                        : Nil
Others                                              : Nil

Raw stuff (Purchased) Details:
Medicines                                        : Rs. 50,000/= (Fifty Thousands)
Food Stuff                                        : Rs. 80,000/= (Eighty Thousands “Rs 40,000/= on Credit)
Water                                               : Rs. Nil
Wood, Coal, etc                               : Rs. 5,000/= (Five Thousands)
Warm Clothes, Blanket, Jacket etc    : Rs.Nil
Transportation                                 : Rs. 15,000/= (Fifteen thousands, Half on credit)
Other Raw stuff “Tent, other items”   : Rs. 5,000/= (Five Thousands)                                         
______Total Amount Expensive  : Rs.1,55,000/= (One Lac, Fifty Five Thousands)        
            Balance Amount                : Rs. Nil                                                                           
            Credit Amount                   : Rs. 55, 000/= (Fifty Five Thousands)                        
·         Purchased slips, Vouchers and other’s papers are available (can be shown on request).

Area’s Visited in February– March 2012. Details:
=> .Data Khel and surrounding areas. Medical camp at Datta khel with improper food supply.
=> Visited more than 300 victims of war on terror near Miramshah. Medical camp & clothes supply.

We’re all member’s of Team Ashiyana are thankful to ALLAH Almighty to give us courage to do this act and to serve our brother’s and sister’s in Datta Khel and Miramshah.
Insha ALLAH we will serve our Brother’s, Sisters and children with the same spirit, and with the feeling of humanity.

Team Ashiyana is thankful for our Friends / Donor’s / Contributor’s, for there kind efforts, fund and supplies. May ALLAH gives us Agr e Azeem for this work and gives more courage to do this kind of the work in future.

If you read all of the blog then you can find the sources of our funds and contribution's We don't wants huge amount in our accounts, we need stuff, like medicines, clothes, books and others to distribute into the victims of War on terror specially for the children and women who living under the low level. Team Ashiyana, is under the burden of huge credit day by day, friends and family members are requesting to give there hand of courage to get remove it and for the continue work in these remote areas.
We are Pakistani and proud to be Pakistani. We are proudly Muslim and belongs from different cities and different cast but here we are working together just for the sack of the nation and for the name of ALLAHA Almighty. May ALLAH help us - Ameen.
Friends and readers who wants to know more about team Ashiyana or our working areas or any other details please contact on the following;
team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
taimour.farhad@gmail.com
or +92 345 297 1618 (If number is going off or not answering please leave your text, this is just because of no signals in the area)

List of Friends / Donor’s / Contributor for February - March ’12.  Session:
Sister Badar Un Nissa, (Karachi)
C/o, Sister Syeda Faryal Zehra (Canada).
Brother Unknown  (Doha – Qatar)
Brother Taimour & Family (Karachi)
Brother Mansoor & Family (Karachi.
List of Volunteers for February – March ’12.  Session:
Syed Adnan Ali Naqvi (Chief Volunteer)
Syeeda Faryal Zehra (Coordinator / Incharge Women wing)
Faisal Alvi (Volunteer / Incharge  Medicines)
Mahnoor Mehsood (Volunteer / Incharge Food & Supply)
Mansoor Ahmed (Volunteer / Incharge Children & Education)
Meesam Khan (Volunteer)
Dr Azfar (General Physician)
Dr Rabia (General Physician)
Mahrukh Bibi (Volunteer)
Arbab Nabi Khan (Volunteer)
Um-e-Fatima (Volunteer)

Dear all, as you know that Team Ashiyana still not an organization or Registered group from Social Welfare Board Pakistan, for that we don’t have any organizational structure to work out. We are in our best try to reform our group but the Rate’s (Official & un-official) to register any N.G.O in Pakistan is so high and our funds can not meet with the said criteria (it is above one lac to be in official). We would like to work same as like we are working now-a-days, our friends, friends of friends, family members are our volunteers and we have proud on them to be a part of Team Ashiyana. May ALLAH give them Agr e Azeem for there work, Ameen.  

Jazak ALLAH
Syeeda Faryal Zehra
Coordinator / Volunteer
Team Ashiyana (Waziristan)
Khyber Pakhtoonkhwa - Pakistan.