منگل, اکتوبر 09, 2012

An Appeal for the Victims of Flood and Rain In Balochistan

اسلام و علیکم، 

محترم دوستوں اور ساتھیوں،
الله پاک کے فضل و کرم اور احسان ہے کہ ٹیم آشیانہ دتہ خیل، شمالی وزیرستان میں کامیابی کے ساتھ آشیانہ کیمپ میں فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہے. اور شمالی وزیرستان کے پریشان حال پاکستانی بھائی، بہنوں کے لئے اپنی پوری صلاحیت استعمال کرتے ہوۓ یھاں فری میڈکل کیمپ، مفت غذائی اجناس کی تقسیم، بچوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی جیسے منصوبوں پر مختصر پیمانے پر عمل کر رہی ہے. ٹیم آشیانہ کے فلاحی کاموں میں حصہ لینے پر ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان کے تمام کارکنان اپنے ڈونرز، اور عطیات دینے والوں کے دل کی گہرایوں سے شکر گزار ہیں، ہم سب دعاگو ہیں کہ الله پاک ہم سب کی خدمات کو قبول فرماتے ہوۓ یہاں (شمالی وزیرستان) میں امن و امان بحال کرنے میں ہماری مدد کرے اور ہمارے ملک میں خوشحالی کے لئے اسباب فراہم کرے - آمین.

محترم دوستوں ایک طرف ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان میں فلاحی کاموں کو جاری رکھے ہوۓ ہے تو دوسری جانب ٹیم آشیانہ کے دیگر کارکنان الله پاک کے فضل و کرم اور الله پاک کی دی ہوئی ہمت، صبر و استقامت سے سندھ اور بلوچستان میں گزشتہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ پاکستانی بھائی، بہنوں کے لئے اپنے طور پر فلاحی خدمات سر انجام دے رہے ہیں. الله پاک ہمارے دوستوں اور ساتھیوں کو مزید ہمت، صبر و استقامت عطا فرماے. جس سے ہمارے ساتھی اور دوست مزید خدمات سر انجام دے سکیں.

یہاں چند اہم باتیں گوش گزار کرنا ضروری ہیں:
 
بلوچستان اور وزیرستان:
بلوچستان ہو یا وزیرستان ہیں تو پاکستان.... اور جب بات پاکستان کی ہو تو پھر کیسا اختلاف؟ کیسی بغاوت؟ کسی دہشت گردی؟ کیسا انتقام؟
مجھ ناقص کو تو بلوچستان اور وزیرستان کے مسائل میں کوئی خاص فرق نذر نہیں آتا صرف اس کے کہ، وزیرستان میں قبائل ہیں جو مغربی تاختوں کو اسلام اور پاکستان کا دشمن مانتے ہیں اور ان کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے. اور بلوچستان میں ہمارے بلوچی بھائی حکومت پاکستان اور افواج پاکستان سے بیزار ہیں. کون سہی ہے اور کون غلط؟ کون باغی ہے اور کون غازی؟ یہ فیصلہ کرنا میرا یا ٹیم آشیانہ کے کارکنان کا کام نہیں، یہ کام پاکستانی عوام کا ہے، یہ کام پاکستانی عدلیہ کا ہے، یہ کام پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے. 
ایک پاکستانی ہونے سے پہلے میں اور ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان مسلمان ہیں، اور ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر یہ فرض ہے کہ میں ایک سلامی فلاحی ریاست کا وفادار رہوں، اسلامی ریاست کے قوانین کو خود بھی مانوں اور دوسرے لوگوں کو ریاست کے قوانین کا پابند ہونے کا درس دوں. لیکن میں یہ سب اسی وقت کر سکتا ہوں جب میں خود اپنے ملک کے قوانین پر مکمل عمل کروں، میں نے جب سے ہوش سمبھالا ہے یہی دیکھا ہے کہ اس ملک میں دو ہی طبقات موجود ہیں ایک ہے حاکم دوسرا محکوم. اور آج جو بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہو رہا ہے یہ سب اسی نظام کا کرا دہرا ہے. 
میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے فلاحی کاموں کے ذریے اپنے محکوم بھائی، بہنوں کی خدمات کا بیڑا اٹھایا تو دوسرے پاکستانی اپنے اپنے انداز سے اس فرق کو ختم کرنے کی کوششوں میں ہیں. 
بلوچستان جانا ہوا تو وہاں کے حالات، مصائب اور مسائل کا علم ہوا، جب تک نہیں گئے تھے تو یہی سمجھ رہی تھے کہ بیرونی طاقتوں کے زیر عمل بغاوت کی کوئی تحریک چل رہی ہے اور بقول ہمارے ملک کے سیاست دنوں کے اور خوش گفتار ٹیلیویزن میزبانوں کے بہت جلد ہمارے ملک ایک دفع پھر تقسیم ہونے والا ہے (الله پاک ہمارے ملک کو ہر طرح کے بد کردار اور بغاوت سے محفوظ رکھے - آمین)

ٹیم آشیانہ کے مقامی کارکنان برائے سندھ اور بلوچستان نے جب بارش سے متاثرہ سندھی اور بلوچی بھائی، بہنوں کے لئے فلاحی کاموں کا سلسلہ شروع کیا تو ہرگز نہ سوچا تھا کے ہم کو خود بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا جس سے ہم کو بلوچستان کے حالات کے بارے میں سہی آگاہی ملے گی. مگر الله پاک کا شکر ہے کہ ہمیشہ کی طرح ٹیم آشیانہ کے کارکنان اور ساتھی بلوچستان کے علاقے نصیرآباد اور صحبت پور تک پہنچ گۓ. 

صحبت پور (نصیرآباد - بلوچستان)
مختلف ٹی وی چینلز نے بلوچستان میں بارشوں کے بعد نشریات پیش کری ہونگی، جہاں تک ہم کو علم ہے، شاید اس دفع سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں کی خبروں کو کوئی خاص جگہ نہیں مل سکی نہ ہی ان حالت کی خبروں کی کوئی اچھی قیمت لگی جا سکی اسی لئے پوری پاکستانی قوم کو کرکٹ، ملکی سیاسی حالات، بینالاقوامی سازشوں کی خبروں تک ہی محدود کر دیا گیا. مگر الله پاک اگر کسی قوم کو امتحان میں ڈالتا ہے تو وہ آزمائش صرف ایک قوم کہ لئے یا ایک طبقے کے لئے نہیں بلکے پوری انسانیت کے لئے ہوتی ہے. افسوس صد افسوس کے پوری انسانیت تو بہت دور کی بات ہے ہم ایک قوم ہو کر بھی پتا نہیں کتنے حصوں میں بٹے ہوے ہیں جو اپنے بھائی، بہنوں کی مدد کرنے سے قاصر ہیں. 
صحبت پور میں آج بھی پینے کا صاف پانی میسر نہیں، یہں کے لوگ بھوک اور افلاس سے اس قدر تنگ ہیں کے بہت جلد وحشی انسانوں کے روپ دھار سکتے ہیں، ادویات ہوتی کیا ہیں یھاں کے لوگوں کو کوئی علم نہیں. یہ ہیں حالات اور وہ حالت جس کا علم ہمارے صاحب اقتدار، صاحب اختیار اور میڈیا کے لوگوں کو اچھی طرح سے ہے، مگر کوئی کچھ کر نہیں رہا. کیوں نہی کر رہا شاید ان حالت کے بعد یہاں جو کچھ ہونا ہے اسس سے بہت اچھی اور بیش قیمت خبریں بن سکتی ہیں جن کی قیمت منہ مانگی مل سکتی ہے. اور ارباب اقتدار ان خبروں سے پوری دنیا کے سامنے ایک دفع پھر اور پہلے سے بڑا بھیک کا کٹورا پھیلا سکتے ہیں. 
مگر جب تک صحبت پور اور اس جیسے علاقوں میں موجود سیلاب اور بارش سے متاثرین کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے. اور ہم سب یہ بت اچھی طرح جانتے ہیں کہ حالات سے مجبور اور محکوم لوگ جب اپنی پر آجاتے ہیں تو بلکل وہی ہوتا ہے جو آج وزیرستان اور بلوچستان میں ہو رہا ہے. 
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ الله کی بھیجی ہوئی اس آزمائش میں پورا اترنے کے ساتھ ساتھ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوۓ سارے پاکستان سے امدادی قافلوں کو بلوچستان کا رخ کرنا چاہیے تھا. مظلوم ، بھٹکے ہوۓ، محکوم بلوچی بھائی، بہنوں کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے تھی. ہم سب کو مل کر اخلاص، محبت اور رواداری کی ایک ایسی مثال قیم کرنی چاہیے تھی کے ہمارے وہ بلوچی بھائی جو پاکستان کو ایک  سمجھ رہی ہیں اور آزادی چاہتے ہیں خود کہتے کہ "ہم کو کچھ نہیں صرف پاکستان چاہیے". مگر ایسا کچھ نہیں ہوا. 
صحبت پور میں صرف ٹیم آشیانہ کے کارکنان اور ایک اور مقامی تنظیم فلاحی کاموں میں مصروف ہے. ہمارے وسائل اس قبل نہیں کہ یہاں کے سارے لوگوں میں ایک دیں کے لئے بھی پینے کا صاف پانی تقسیم کر سکیں. دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی تو بہت بعد کی بات ہے. 

ہم کو خود پر فخر ہے، اور الله کی دی ہوئی ہمت پر خود کو دوسروں سے بہت بہتر سمجھتے ہیں کہ الله پاک نے کم از کم ہم کو اتنی ہمت تو دی ہے کہ ہم اپنے پاکستانی بھائی، بہنوں کی مدد کے لئے موجود تو ہیں. جیسے حالات کا یہاں (صحبت پور) کے لوگ سامنا کر رہے ہیں ہم بھی انہی کے ساتھ موجود ہیں. الله پاک کے فضل و کرم سے ہم کو ابھی تک کسی نے کسی بھی طرح کی کوئی دھمکی نہی دی، ہمارے کسی کارکن کو اغوا نہیں کیا گیا، ہم سے کسی بھی طرح کی لوٹ مر نہیں کر گئی. 

ہم ایک دفع پھر ساری پاکستانی قوم کے آگے ہاتھ جوڑتے ہیں، اپنے مسلمان بھائی، بہنوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں کہ آپ لوگ کسی بھی طبقاتی فرق کو، سیاسی وابستگی کو بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ اپنے پاکستانی بھائی بہنوں کی مدد کریں، وزیرستان ہو یا بلوچستان ہم یہاں کے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہوے سب اچھے اور مخلص پاکستانی بن سکتے ہیں. اور ایک ایسا پاکستان تشکیل دے سکتے ہیں جہاں کوئی لاچارگی نہ ہو کوئی بے بسی نہ ہو، کوئی محکومی نہ ہو، کوئی بغاوت نہ ہو، کوئی جنگ نہ ہو، کوئی معاشی تنگدستی نہ ہو. 

یہ ضروری نہیں کے آپ ہمارے ساتھ ہی کام کریں، سارا پاکستان آپ کا ہے اور آپ پاکستان کے ، بس تھوڑی سی ہمت کریں حوصلہ کریں، خد اپنے  مال سے کچھ خرچ کریں اپنے دوستوں اور فیملی کے لوگوں کے سامنے حالات رکھیں. اپنے خیالات سے آگاہ کریں. الله کی مدد اور نصرت پر ایمان رکھیں. پھر دیکھیں ہم سب مل کر ایک سہی فلاحی پاکستان کیسے تشکیل دیتے ہیں. شہروں میں فلاحی کام کرنا بہت آسان ہوتا ہے. اصل امتحان اور آزمائش ہوتی ہے جبہ آپ اپنے  سے نکل کر دور دراز کے علاقوں میں جا کر فلاحی خدمات سر انجام دیتے ہیں جس سے آپ کو خود پر فخر محسوس ہوتا ہے اور آپ کی روح کو بھی تسکین  ہے اور الله پاک بھی 
خوش ہوتا ہے.

ہم امید کرتے ہیں کے ہمارے ساتھ اور دوست اور سب پڑھنے والے ہمت، صبر اور استقامت کا مظاہرہ ضرور کریں گے. ہر طرح کے مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوے اپنے بلوچی بھائی بہنوں کی مدد کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے.

ٹیم آشیانہ کے کارکنان برائے سندھ / بلوچستان سے رابطہ کرنے کے لئے ہم کو لکھیں یا فون کریں.
+92 345 297 1618
+92 324 265 2046

team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com

آپ کی کر ہوئی تھوڑی سی مدد (بلوچستان) کے سیلاب زدگان بھائی، بہنوں اور بچوں میں پینے کے صاف پانی کی تقسیم، غذائی اجناس کی تقسیم، مفت طبی کیمپ کے انعقاد اور دیگر فلاحی کاموں میں بہت بڑا کردار  کر سکتی ہے. 

جزاک  الله 
سید عدنان علی نقوی اور ساتھی 
کارکنان برائے سیلاب زدگان سندھ / بلوچستان 
سیدہ فریال زہرہ 
محمد ندیم 
فیصل علوی 
نہال صددیقی 
اجمل کرمانی 
منصور احمد      
     

جمعہ, اکتوبر 05, 2012

Team Ashiyana Members in Sohbat Pur (Balochistan)

محترم دوستوں اور ساتھیوں، 
اسلام و علیکم، 
الله پاک ہم سب پر اپنی رحمتیں، برکتیں نازل کرے اور ہم کو اپنی ہر آزمائش پر پورا اترنے اور کامیاب ہونے کی ہمت عطا کرے (آمین).

محترم دوستوں اور ساتھیوں، 
ٹیم آشیانہ کے کارکنان اور ساتھی جو شمالی وزیرستان میں قائم آشیانہ کیمپ میں خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں اور جو کچھ انہوں نے ٹیم آشیانہ کے ساتھ فلاحی کام کر کے سیکھا ہے. اسی جذبے کے تحت الله پاک کی عطا کی ہوئی ہمت، صبر، استقامت، حوصلہ کے ساتھ الحمد الله بارش اور سیلاب سے متاثرہ اپنے پاکستانی بھائی، بہنوں کیلئے فلاحی خدمات سر انجام دے رہے ہیں. 
کندھکوٹ (سندھ) اور آس پاس کے علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ، غذائی اجناس کی تقسیم، ٹینٹ کی تقسیم، بچوں اور خواتین میں کپڑوں کی تقسیم کری گئی. اس مقصد کے لئے ہم نے اپنے تمام تر دستیاب وسائل کو استعمال کیا اور جس حد تک اپنے بھائی، بہنوں کے لئے خدمات سر انجام دے سکتے تھے دیں.
الله پاک کے فضل و کرم اور مہربانی سے ہمارے دوست احباب، رشتے داروں، پڑھنے والوں اور ٹیم آشیانہ کے ساتھیوں نے ہماری بہت مدد کر اور ہر لمحہ ہم کو ہماری غفلت، کارکردگی، فلاحی کام کرنے کے انداز کے بارے میں ہماری رہنمائی کر جس کے لئے ہم سب ہی دوستوں اور ساتھیوں کے شکرگزار ہیں. اور الله پاک کے حضور دعا کرتے ہیں کہ الله پاک ہم سب کو اپنے مقصد میں ثابت قدم رکھے اور ہم کو توفیق دے کے ہم آنے والے وقت میں اپنی فلاحی خدمات کے سلسلہ کو اور بڑھا سکیں اور خدمات انسانی الله کے حکم کے مطابق کرتے رہیں - آمین.

الله پاک کے فضل و کرم سے ٹیم آشیانہ کے خدمت گار سید عدنان علی نقوی بھائی بھی سندھ اور بلوچستان کے بھائی بہنوں کی خدمات کرنے کے لئے ساتھیوں کے ساتھ موجود ہیں. 

الله پاک کا احسان ہے کہ ٹیم آشیانہ کے ساتھیوں اور کارکنان میں فلاحی خدمت کا جذبہ ہمیشہ کی طرح موجود ہے اور ساتھیوں کی فلاحی خدمات اور انداز کو دیکھتے ہوۓ ہمارے کچھ اور دوست، خاندان کے افراد بھی ہمارے ساتھ خدمات انجام دینے کو تیار ہوۓ. 
ہم دوستوں کو کچھ اور مدد ملی اور کچھ ساتھیوں نے مزید مدد کرنے کے لئے امید دلائی ہے، جس کی وجہہ سے ہم اب کندھکوٹ (سندھ) سے آگے بلوچستان میں موجود ہیں، بلوچستان کے جس علاقے میں ہم ابھی موجود ہیں اس جگہ کا نام صحبت پور ہے جو بلوچستان کے ضلع جعفرآباد کا ایک قصبہ (ٹاون) ہے. گزشتہ دنوں ہونے والی بارشوں میں یہاں جو تباہی ہوئی ہے اس کا اندازہ یہاں آکرہی لگایا جا سکتا ہے.

انشا الله ہم اپنی پوری کوشش کریں گے کہ یہاں اپنے بھائی، بہنوں اور بچوں کی جس قدر مدد کر سکتے ہیں کریں اور آپ سب دوستوں سے امید کرتے ہیں کہ آپ سب لوگ بھی اپنے بھائی، بہنوں اور بچوں کے لئے کچھ نہ کچھ مدد کریں گے.

یہاں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے، کھانے پینے کے لئے غذائی اجناس بلکل موجود نہیں، ادویات کے بارے میں کیا کہیں؟ فلحال جو ادویات ہمارے پاس موجود ہیں ہم انہی سے ہی انشا الله صبح ایک فری میڈیکل کیمپ لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں. الله پاک ہماری غیب سے مدد فرماۓ اور ہم کو یہاں کے حالات کے مطابق فلاحی کام کرنے کی توفیق عطا فرماۓ - آمین.

مزید تفصیلات انشا الله بہت جلد ہی اپ لوڈ کر دی جائیں گے.

آپ کی دعاؤں کے محتاج 
کارکنان،  ٹیم آشیانہ برائے سندھ اور بلوچستان  
اسلام و علیکم 
             


بدھ, ستمبر 26, 2012

Details of Social Work for the Victims of Rain and Flood in Sindh and Balochistan - Pakistan

محترم دوستوں، ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے کارکنان، اور پڑھنے والے بھائی، بہنوں،
اسلام و علیکم!

الله پاک کے فضل و کرم، عنایات، مہربانیوں اور رحمتوں سے ٹیم آشیانہ کے کچھ دوستوں نے جو فلاحی کام سندھ اور بلوچستان کے بارش و سیلاب سے متاثرہ اپنے پاکستانی بھائی، بہنوں کے لئے شروع کیا، الله پاک نے ہمیشہ کی طرح مدد اور نصرت فرمائی (الله پاک کا شکر اور احسان ہے، نہیں کوئی ذات سواۓ الله کے جو کسی بھی طرح کی مدد کر سکے اور ساتھ دے سکے، صرف الله پاک ہی ہے جو ہم سب کی مدد دینے والا حاکم بے نیاز ہے). 
یہاں (کندھکوٹ - سندھ) میں ہم (منصور اور سارے دوست) بہت خوش ہیں کہ ہمارے بھائی عدنان نے جو تربیت کر، فلاحی خدمات کا جو سبق سکھایا اور الله پاک پر توکل کرنے کی جو تعلیم دی ہم سب اسی کے ذریعے اپنے فلاحی مقصد میں کامیاب ہوۓ. الله پاک آنے والے وقت میں بھی ہماری مدد کرے اور ہم کو ہمت، صبر حوصلہ اور استقامت عطا فرماۓ- آمین.

آج الله پاک کے فضل سے ہمارے بھائی عدنان بھی ہم سے ملاقات کرنے اور ہماری فلاحی خدمات کا جائزہ لینے اور ہم کو مزید ہدایات دینے یہاں (کندھکوٹ - سندھ) پہنچ چکے ہیں. عدنان بھائی کی یہاں آمد سے ہم سب کو بہت حوصلہ ملا ہے. 

محترم دوستوں، ہم کو ملنے والے فنڈز، سامان، عطیات، ادویات و دیگر کی تفصیلات سے آپ سب کو آگاہ کرنا اور اپنی فلاحی خدمات کے بارے میں تفصیلات دینا بھی ہمارے فرائض میں ہے. 
سب سے پہلے ہم (دوستوں کا گروپ) اپنی بہن فریال کی یھاں آمد اور ہمارا ساتھ دینے پر دل کی گہرایوں سے شکر گزار ہیں. اور عدنان بھائی کی آمد پر بھی ہم سب ان کے شکر گزار ہیں.

ہم لوگوں کو ملنے والے فنڈز، سامان، ادویات، عطیات وغیرہ کی تفصیلات کچھ اس طرح سے ہیں:
Detail's of Funds, Aid, Medicines etc:
Clothes:
About 1800 clothes for Women, Children and Men (Old & Used)
About 270 pairs of Shoe, Chapal etc (Old & New)
About 100 Bed Sheets, Blanket, Carpet etc (Old & Used) 
 Food, Water etc:
Al Hamd Ul ALLAH, we based and managed a second largest mineral water supply in Kundh Kot - Sindh and Jeckobabad - Sindh. 

Mineral Water: 8000 liter, (Al-Hamd-ul- ALLAH)
Raw food stuff: Biscuits, Chips etc, 50kg 
Prepared food: Biryani, Pillaow, Daal / Rooti distributed into 2000 victims of rain and flood in Kundhkot - Sindh. (Alhamd Ul ALLAH)

Prepared food: Biryani, Pillaow, Daal / Rooti distributed into 500 victims of Rain and flood in Jackobabad - Sindh. (Alhmd Ul ALLAH)

Raw food stuff: 
Rice: 1000kg, (Purchased by us)
Beans (dalain): 200kg, (Purchased by us)
Flour (aata): 1500kg, (Purchased by us)
Cooking Oil: 50kg, (Purchased by us)
Spices (Masalah jaat): 50kg (Purchased by us)
Meat (Gosht): 500kg (Donated by an industrialist)
Other: Match box, Salt, Spices, etc (donated by different peoples)

Other Stuff:
Tent: 
1000 tents (donated by U.N Organization, W.H.O, CHEAF)
50 tents (Purchased by us)       
Candles: 500, Match box 500, Laltain 50, Coal 50kg, Wood for fire and cook 50kg etc.

Medicines:
General Medicines for free medical camp: Rs. 1,00,000/= (Purchased by us)
General Medicines for free medical camp: Rs. 35,000/= (Donation)    

Amount in the form of Money:
By Bank Account:
1- Donation from UAE: Rs. 50,000/=
2- Donation from K.S.A: Rs. 15,000/=
3- Donation from Canada: Rs. 20,000/=    
    Total Amount: Rs. 85,000/= (Eighty five thousands)
By Friends (Cash): "Alhamd Ul ALLAH we collected from our friends and friends of friends"
1- Ms. Badar-un-Nissa (Khi): Rs. 10,000/=
2- Faisal Bhai (Lhr): Rs. 5,000/=
3- Ahmad Bhai (Lhr): Rs. 5,000/=
4- Jahanger Bhai (Isb): 10,000=
5- Mansoor's Family (Khi): 15,000/=
6- Collection from Iqra University (Khi): Rs. 25,000/=
7- Collection from Szabist (Khi): Rs. 25,000/=             
    Total Amount: Rs. 95,000/= (Ninty five thousands only)

Dear all, 
Whatever we have done just with the help of Almighty ALLAH and your donations and contribution.
We have decided to stay here at Kundhkot - Sindh and will move to Nasirabad - Balochistan to help our Balochi victims brother and sister - Insha ALLAH.

We need your help, your contribution, your prayers much as more.
 So here're the details what we need for more work here:

List of Urgent Required Items:
(For the victims of Rain and Flood in Sindh and Balochistan)

1- Mineral Water: (unlimited quantity)
2- Food Stuff: "Raw and Prepared" (unlimited quantity) "We already making food and distributing into the victims from our cooking camp here at Kundhkot - Sindh"
3- Medicines: For free medical camp, All kind of the general medicines which can help us to medicate victims (women, children) specially for Fever, Cold, Skin diseases, etc 

Note: 
A brief list of required item can be send if required.

محترم دوستوں اور ساتھیوں، ان کچھ دنوں میں ہم نے جو کچھ بھی فلاحی خدمات سر   انجام دیں وہ صرف اور صرف الله پاک کی مدد سے ہی کر سکے، آپ سب دوست  لوگوں نے ہماری مدد کری کا بہت بہت شکریہ، ہم سب دوست آپ کے احسن مند ہیں اور آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ جو بھروسہ اوراعتماد آپ نے ہم پر کیا ہے انشا الله اس دنیا میں اور روز حشر آپ کو کسی بھی طرح شرمندہ نہ ہونے دیں گے. آپ کی دی ہوئی تمام اشیا، ادویات، کھانے پینے کا سامان، بچوں کے لئے کپڑے، اور جو بھی رقم آپ نے ہم کو دی ہے وہ الله پاک کے فضل و کرم سے صرف اور صرف یہاں کندھکوٹ اور آس پاس کے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ پاکستانی بھائی، بہنوں تک فوری طور پر پہنچانے کی کوشش کی  جاتی ہے.اس کہ علاوہ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی ذات کو بھی پوری طرح خدمات کے لئے وقف رکھیں.  جو بھی کر رہے ہیں وہ صرف اور صرف الله کے حکم کے مطابق انسانیت کی فلاح اور بقا کے لئے کر رہے ہیں. اور الله پاک پر پورا بھروسہ کرتے ہوے کر رہے ہیں. الله پاک ہم سب کو اپنے مقصد میں کامیاب فرماے اور ہم سے اسی طرح دن کی خدمت لیتا رہے - آمین.

دوستوں اور ساتھیوں، آپ کے سامنے جو کچھ ہم نے حاصل کیا  اور جو کچھ ہم کو فوری طور پر درکار ہے کی فہرست رکھ دی ہے، الله پاک سے دعا گو ہیں کہ الله پاک ہمیشہ کی طرح ہماری مدد اور نصرت فرماے - آمین.
 جزاک الله  
آپ کی دعاؤں اور مدد کے طلبگار 
منصور اور ساتھی 
فلاحی کارکنان برائے متاثرین بارش و سیلاب (سندھ اور بلوچستان)

ہم سے رابطہ کرنے کے لئے:
Syed Adnan Ali Naqvi
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
+92 345 297 1618

Syeda Faryal Zehra
faryal.zehra@gmail.com
+92 323 846 6089

Faisal Bhai
+92 313 258 4655

Mansoor Bhai
mansoorahmed.aaj@gmail.com
+92 313 279 8085
 
For the further details please visit the link:

منگل, ستمبر 18, 2012

توھین رسالت اور ہمارا کردار

محترم دوستوں، ساتھیوں  پڑھنے والے بھائی، بہنوں.
اسلام و علیکم!
دوستوں عدنان بھائی سے پشاور یونیورسٹی کے کچھ طلبا اور کچھ مقامی لوگوں نے ملاقات کری، عدنان بھائی کو توھین رسالت کی سازش اور مسلم دنیا میں پھیلی بیچنی کے بارے میں آگاہ بھی کیا، جواب میں عدنان بھائی نے جو کچھ کہا وہ یہاں لکھا جا رہا ہے. 
===========================================
 
مجھ (عدنان) سے کہا گیا کہ میں گستاخانہ فلم اور گستاخ رسول (س.ع.و) کے بارے میں کچھ کہوں؟ میں نے جواب دیا کہ میں کیا کہوں؟ کہنے کے لئے ہمارے پاس بہت بڑے بڑے عالم، مفتی، علماء کرام، مولوی حضرات موجود ہیں. جن کی علمی بصیرت پر کسی کو کوئی شبہ نہیں.
پھر بھی (یہاں شمالی وزیرستان) کے دوستوں کا اسرار ہے کے میں کچھ کہوں؟ مگر میں کیسے کہوں؟ کیا کہوں؟ میں  شاید ایک سہی مسلمان بھی نہیں. میری کسی حرکت کسی  بات سے، میرے نبی حضرت محمد (س.ع.و) کی کوئی سنت ادا ہوتی نظر نہیں آتی. میں تو اسلام کی کسی بھی احکام پر سہی طرح عمل کرتا نذر نہیں آتا. میری کیا مجال کہ میں کچھ کہ سکوں؟ کیا الفاظ لاؤں؟ کیسے کہوں کہ جس نبی نے ہم کو جینے کا مقصد سکھایا، جس نبی نے ہم (انسانوں) کو اس دنیا میں آنے کا مقصد بتلایا، جس نبی نے ہم کو ہمارے رب (الله پاک) کی پہچان کرائی، جس نبی نے رہتی دنیا تک کے انسانوں کو انسانیت کا سچا اور قابل عمل پیغام دیا اور خود عمل کر کے دکھایا، جس نبی نے ہم بھٹکے ہوۓ، ذلیل اور رسوا انسانوں کو زندگی کی حقیقت سے آشنا کیا، جس نبی نے خود تو مشکلات اور صعوبتیں برداشت کریں مگر انسانوں کو انسان بنا گئے. جس نبی کی ایک دعا سے لاکھوں انسانوں کی بخشش اور مغفرت ہو گئی، جس نبی کی معصومیت، شرافت، رحمت ہونے کی گواہی خد الله پاک نے اپنے پیغم (قرآن پاک) میں دی، ایسے پاک، معصوم اور صبر کرنے والے نبی کی توہین وہ بھی جدید انداز میں، نعوذباللہ! میں اپنی ذات میں کسی ایسی حرکت یا انسان کے بارے میں کہنا تو دور سوچنے کا بھی نہیں سوچ سکتا.

مگر، ایک بات جو مجھ تک مختلف طریقوں سے پہنچی، اس کا ملال اور رنج ہے اور رہے گا، میرے نبی کی امت، میرے نبی کی چاہت اور میرے نبی کی گواہی  والے میرے مسلمان بھائی، بہن اس فلم یا اس سے متعلق لوگوں کے خلاف جس طریقے سے احتجاج کر رہے ہیں وہ!
میرے نبی نے ہمیشہ ہم (مسلمانوں) کو صبر اور استقامت سے کام لینے کی تلقین کری، میرے نبی کے متعلق کچھ باتیں مجھ کو ابھی تک یاد ہیں جو کے میں نے شاید جب میں پانچویں یا چھٹی کلاس کا طالبعلم تھا اسلامیات کے مضمون میں پڑھی تھی. میرے نبی،  بھی کسی کی توھین کا ہتک آمیز بات کا جواب تشدد، غصے، یا اخلاق سے گری ہوئی حرکت سے ہر گز نہ دیتے تھے، بلکہ یہی دوا دیتے تھے کہ "الله پاک ہدایت دے." خود میرے نبی کے ساتھ کیسا کیسا برتاؤ کیا گیا، مکّہ شریف میں یہود و نصاریٰ وہ کونسا ظلم تھا جو نہیں کرتے تھے، وہ کونسی اخلاق سے گری ہوئی حرکت تھی جو میرے نبی کے ساتھ نہ کی گئی ہو، مگر جواب میں میرے نبی نے ہر حرکت اور بات کا جواب صبر، ہمت اور استقامت کے ساتھ دیا. خود کوئی ایسی حرکت نہ کری جس سے نبی کی نبوت اور الله کے پیغام کو پھیلانے میں کسی اور مشکل کا سامنا کرنا پڑے.
آج کا مسلمان (معاف کیجئے گا مجھ سمیت ہم سب اپنے مسلمان ہونے پر فخر تو کرتے ہیں مگر ہم صرف نام کے ہی مسلمان رہ گئے ہیں) جس انداز سے نبی کی ہتک اور توھین پر ورغلایا ہوا ہے، اور کسی کی بھی جان و مال کی پرواہ نہیں کر رہا رہا  سب کیا ہے؟ کیا یہی میرے نبی کا سکھایا ہوا انداز زندگی ہے؟ کیا میرے نبی نے ہم کو یہی سکھایا ہے کے کٹ جاؤ، مر جاؤ، فنا کر دو یا خد فنا ہو جاؤ؟  اس بات کا جواب میں خود نہیں دے سکتا یہ بات سری امت مسلمان کے لئے ہے ہم خود اپنے گریبان میں جھانکیں اور اس کا جواب  کریں.
اگر ہم سب (مسلمان) آج الله پاک کے بھیجے ہوے پیغام اور نبی کی سکھاۓ ہوے زندگی کے راستے پر چل رہے ہوتے تو آج ہم کو یہود، ہنود،  نصاریٰ اور صیہونی تاختوں کے اس فتنے کا سامنا نہ کرنا پڑھتا. اہل کفر تو چاہتے یہی ہیں کہ دنیا کے سامنے مسلمان امت کو ایک جنگلی، وحشی، درندہ صفت قوم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کریں. اور  وہ چاہتے ہیں ویسا ہو بھی رہا ہے، اگر ہم نبی کے سکھاۓ ہوے راستے پر عمل کریں، ہماری زندگی سے نبی کی سنت دکھے، ہمارے باتوں میں الله کا پیغم ہو تو کسی کی کیا مجال کے وہ ہمارے نبی کے متعلق کوئی الٹی سیدھی بات کر سکے، میں تو یہ کہتا ہوں نبی تو بہت بری ہستی ہے کوئی کسی مسلمان کے خلاف بھی کوئی الٹی سیدھی بات نہیں کر سکتا. شرط صرف اور صرف اسلامی احکامات کے مطابق زندگی گزارنا ہے.
بیچارے احتجاج کرنے والوں کو تو خود نہیں پتہ کے نبی کی حرمت پر آواز اٹھانے والوں کے لئے الله پاک نے کس  قسم کا عذاب  تیار کر رکھا ہے، (دیکھیں قرآن اور احادیث) الله پاک نے اپنے پیغام کی حفاظت کا ذمہ خود لے رکھا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جس کے ذریعے پیغام ہم تک پہنچایا اس کی حفاظت کا ذمہ بھی الله پاک نے لے رکھا ہے. اسلام کی حفاظت اگر الله پاک کر رہا ہو تو ہم کو ان فتنوں میں الجھنے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک سہی اسلامی انداز زندگی موجود ہو تو ایسے معملات کے لئے احتجاج کی ضرورت نہیں پیش آتی بلکہ سیدھا جہاد کا حکم آجاتا. مگر افسوس عوامی سطح پر تو جانے کیا کیا ہو رہا ہے مگر سفارتی سطح  پر صرف گھٹی گھٹی آوازوں میں احتجاج ہو رہا ہے جو امریکہ کی سرکار کسی خاطر میں نہیں لاتی. 

یہ وقت جذبات سے کام لینے کا نہیں ہوش کے ناخن لینے کا ہے، اغیار، اہل کفر، یہود، ہنود، نصاریٰ ، سب ایک ہو کر صرف اور صرف  مسلمان کے خلاف کام کر رہے ہیں، اور ہم جو مسلمان ہونے کا دعوے کرتے نہیں تھکتے، خود کو ناموس رسالت پر قربان کرنے کی باتیں کرتے ہیں،  پتہ نہیں کتنے ہی فرقوں، نسبوں، اور مسلکوں میں بٹے ہوے ہیں، سب سے پہلے ہم (مسلمانوں) کو ایک ہونا ہوگا، صرف کلمے پڑھ کر نہیں بلکہ ہم کو ایک نبی کی امت اپنے عمل اور طرز زندگی سے بن کر دکھانا ہوگا.  اس کے بعد ہی ہم اپنے (مسلمانوں) کے خلاف ہوئی کسی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے ہیں. نہیں تو علم اور عمل کے بغیر ایسے کسی جذبات  اور کام کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے. یہ صرف وقت کا زیاں، مال کی بربادی اور قتل و غارت ہی ہوگا. 

پہلے ہم ایک امت بن جائیں، ہم سب کو توبہ کی بہت ضرورت ہے، اصلاح کی ضرورت ہے، ایک ایسا معاشرہ جو سہی اور حقیقی معنوں میں مسلم معاشرہ  تشکیل دینے کی ضرورت ہے. اس بعد ہی ہم اغیار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتے ہیں. ایک تقسیم اور بٹی ہوئی قوم کی حثیت سے ہمارا ہر احتجاج اغیار کے حوصلے تو ضرور بلند کر سکتا ہے ہماری کوئی مدد نہیں کر سکتا. اگر وقت رہی اور زندگی نے وفا کری تو پھر انشا الله اس موضوع  پر بات ہوگی. فلحال تو خود مجھ کو اپنی اصلاح کی بہت ضرورت ہے، جب تک میرے عمل نبی کی بتائی ہوئی زندگی کے مطابق نہ ہوں میں بھلا کسی اور کو کیسے تنبیہ کر سکتا ہوں؟ آپ سب کی آمد کا بہت بہت شکریہ، آپ سب سے درخواست ہے کہ آپ میری لئے ہدایت کی دعا ضرور کریں. تاکہ میں اصلاح معاشرہ کے لئے کچھ بہتر کام کر سکوں. 

جزاک الله خیر!
دعاؤں کا محتاج 
سید عدنان علی نقوی 
انچارج کیمپ آشیانہ - دتہ کھیل خیل، شمالی وزیرستان