منگل, ستمبر 11, 2012

بارشوں سے متاثرہ پاکستانی بھائی، بہنوں کی مدد کے لئے ٹیم آشیانہ کے کارکنان اور دوستوں کی ایک کوشش

 شروع الله پاک کے با برکت نام سے جو رحم کرنے والا مہربان ہے!
محترم دوستوں اور ساتھیوں،
 اسلام و علیکم!

 بلآخر وہی ہو رہا ہے جس کا ڈر  اور جس کا خدشہ تھا، پاکستانی قوم کو صرف  چند لوگوں کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہہ سے ایک دفع پھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے. الله پاک ہم (پاکستانی قوم) کو یکجاں ہو کر ہر طرح کی مشکلات سے نمٹنے اور سامنا کرنے کی ہمت اور توفیق عطا فرماے - امین!

ہم ( ٹیم آشیانہ) پہلے ہی شمالی وزیرستان کے فلاحی کاموں کو لے کر فکرمند اور بد ترین حالات سے نبرد آزما ہو رہی ہے جو میرے وطن (پاکستان) میں مون سون کی بارشوں سے ہوئی تباہی اور بربادی کے خبروں نے ہم کو پریشان اور فکرمند کر دیا ہے. "ہم کو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا" یہ سب سے پہلا پیغام تھا جو گزشتہ  مجھ کو اسلام آباد میں موجود بہن فریال نے مجھ کو بھجوایا. "بہن فریال ہم (ٹیم آشیانہ - شمالی وزیرستان) سے رخصت لے کر واپس کینیڈا روانگی کے لئے اسلام آباد میں موجود ہیں."
اسلام آباد سے فریال  اور کراچی سے ندیم بھائی اور پھر منصور بھائی کے پیغامات مجھ (عدنان) کو یہاں موصول ہوۓ، جن میں مجھ سے بار بار یہی کہا گیا کے ٹیم آشیانہ کے وہ کارکنان جو یہاں (شمالی وزیرستان) میں موجود نہیں ہیں اور وہ بارشوں سے متاثرہ خلق خدا کی خدمت اور متاثرین کی مدد کے لئے دستیاب ہیں اور اپنی خوشی سے ایک گروپ بنا کر جانا چاہیں تو اس کی اجازت دوں. تمام دوستوں اور ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے بعد یہاں (شمالی وزیرستان) میں موجود ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان نے بخوشی بہن فریال اور بھائی منصور، بھائی ندیم کو اجازت دے دی ہے کہ وہ متاثرین برسات کی مدد کے لئے ایک گروپ تشکیل دیں. سندھ میں کندھ کوٹ اور اس سے آگے کےعلاقوں میں جائیں اور جو بھی مدد کر سکتے ہیں کریں. الله پاک آپ (بہن فریال، بھائی ندیم اور بھائی منصور اور ساتھیوں) کو ہمت عطا فرماے. حوصلہ دے، صبر دے اور وسائل عطا فرماے - آمین.
میری (عدنان) کا مشورہ یہ ہے کہ آپ لوگ فوری طبی امداد کی طرف توجہ دیں. اس وقت لوگ (متاثرین) میں مختلف بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہے  کے لئے وہاں کسی طبی ٹیم کا موجود ہونا ضروری ہے. مزید اگر حالات اور وقت اجازت دے تو متاثرین میں غذائی اجناس کی تقسیم بھی کریں. بھوکے کو کھانا کھلانے کے اجر سے بڑھ کر کسی اور عمل کا اجر نہیں ہے. وہاں (سندھ) میں اگر میری خدمات کی ضرورت ہوں تو مجھ کو ضرور آگاہ کیا جاۓ. ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان آپ کے سفر اور مقصد کی کامیابی کے لئے دعا گو ہے. الله پاک آپ کی محنت کو قبول فرماے اور پاکستانی عوام کی خدمت کے جذبے کو پوری قوم میں پھیلاۓ - آمین.
 جزاک الله 
سید عدنان علی نقوی 
خادم، ٹیم آشیانہ برائے شمالی وزیرستان
آشیانہ کیمپ. دتہ خیل. شمالی وزیرستان. 
 برائے رابطہ:
team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
+92 345 297 1618  ================================================================
Note:
To read about the relief efforts of Mansoor and Friends for the Rain victims of Sindh - Pakistan.
Please click on the link below: for contact with The Relief Team use following contact details:
 http://mansoorandfriends.blogspot.com
faryal.zehra@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
+92 313 279 8085
+92 333 342 6031























Rain Report for Sindh (Click here to View)

پیر, ستمبر 10, 2012

میران شاہ- شمالی وزیرستان میں ٹیم آشیانہ کے کارکنان کی میٹنگ کا احوال (2)

محترم دوستوں اور ساتھیوں، اسلام و علیکم 
میران شاہ - شمالی وزیرستان میں ٹیم آشیانہ  کارکنان کی میٹنگ کا احوال حصہ دوئم (٢) درج ذیل ہے.

=====================================================================
 بہن سیدہ فریال زہرہ کے خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے خط سے کیا جو کہ بلال محسود نے پڑھا!

کچھ مقامی کارکنان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا: جس کا خلاصہ لکھا جا رہا ہے:

دتہ خیل سے اکبر جان بھائی:
عدنان بھائی اور ان کے ساتھیوں کے فلاحی کاموں سے ہم (وزیرستانی) لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا مگر ہماری عدنان بھائی سے ایک شکایات ہے کہ "عدنان بھائی اور ان کے ساتھی راشن کی تقسیم اور فری میڈیکل کیمپ کے موقع پر بہت سارے لوگوں کو راشن فراہم نہیں کر رہے تھے اور آپ لوگوں کے پاس ادویات بھی پوری  موجود نہیں تھی. آپ کے لوگ صرف آپ کے دے ہوۓ کارڈ کو دیکھ کر ہی راشن دے رہے تھے. رمضان میں آپ کی سحری اور افطاری میں بیٹھ کر اچھا لگا. 

میران شاہ سے حاجی عثمان صاحب:
آپ لوگوں کا کام اور کام کا انداز دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے پاگلوں کا ایک گروپ یہاں (شمالی وزیرستان) میں آگیا ہے جس کو اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے، خاص کر آپ کے فری میڈیکل کیمپ کی وجہہ سے یہاں کے بہت بچوں اور خواتین کو فایدہ ہوا. 

 شوال سے عاصم عمر گل:
ہماری دعوت پر جب آپ نے شوال میں راشن بھجوایا اور کچھ ادویات بھجوائی تو وہ ہماری ضرورت سے کافی کم تھی، مگر آپ کی محنت اور مدد پر شوال کے نوجوان آپ (ٹیم آشیانہ) کے شکر گزار ہیں. اور عدنان بھائی آپ کے ساتھ اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ ہوئی زیادتی اور جو کچھ آپ لوگوں کے ساتھ شوال میں موجود (دیگر) لوگوں نے کیا اس پر شرمندہ ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ آپ لوگ ان باتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوے اپنے کام کو جاری رکھے گے.

 ٹوچی سے عبدلرشید بنگش کی کھری کھری باتیں:
بھائی عدنان اور ان کے دوست جیدار لوگ ہیں، جب ان لوگوں سے میران شاہ مے ملاقات ہوئی تو لگا کہ جیسے یہ لوگ صیہونی یا کسی ایجنسی کے ایجنٹ ہیں. ان کی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آرہی تھی. ایک طرف یہ لوگ شمالی وزیرستان میں فلاحی کام کرنا چاہتے تھے اور دوسری طرف یہاں کے لوگوں سے میل ملاپ بڑھانا چاہتے تھے. ہمارے بڑوں نے کافی دفع ان لوگوں سے ملاقات کری اور ہم لوگوں نے ان پر نظر رکھی. یہ لوگ (عدنان بھائی اور ساتھی) جنرل مشرف والے اسلام (ماڈرن اسلام) سے بہت متاثر نظر آئے. ہم کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کے جیسے یہ لوگ کسی کے کہنے پر یا کسی خاص مقصد کے لئے یہاں آئیے ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان لوگوں سے ملتے رہنے اور ان لوگوں کے کام کو دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہوا کے جیسے یہ لوگ کسی اور دنیا سے آئے ہیں جن کو نہ ہی ہمارا (طالبان) کا  خوف ہے،نہ ہی ڈرون کا نہ ہی کسی اور طاقت کا. ہم نے ان لوگوں کو اچھی طرح دیکھا ان کے ساتھیوں کو ہر طرح سے پرکھا، کچھ باتوں کے علاوہ ہم نے ان لوگوں کو وزیرستان والوں کا دوست پایا. الله عدنان بھائی کو صحت دے اور ان کے دوستوں کو ہمت دے.
  •  بس آپ لوگ یہاں کام کرو تو کوشش کرو کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق رہو.
  •  آپ کے کچھ ساتھ منڈی کترے (بغیر داڑھی والے) ہیں جو اسلام میں جائز نہیں.
  •  آپ کے ساتھیوں میں مستورات (خواتین) بھی ہوتی ہیں جن کے محرم کا کچھ پتہ نہیں ہوتا.
  •  آپ لوگ بچوں اور خواتین پر خاص توجہ دیتے ہو، یہاں کے دستور کے مطابق آپ کو اگر کسی خاندان کی مدد کرنی ہے یا کسی بچے یا خاتون کی مدد کرنا ہے  تو ان کے مردوں کے ذریہ کرنی چاہیے.
  • آپ لوگ بغیر تحقیق والی کتابیں جیسے مشرف والی کتاب "سب سے پہلے پاکستان" بینظیر والی کتاب "مشرق کی بیٹی" اور پتہ نہیں کون کون سی کتابیں یہاں کے لوگوں کو پڑھاتے ہو، ہمارے علماء (وزیرستانی عالم) بغیر تحقیق والی کتابوں کو مستند نہیں مانتے. اگر آپ یہاں سکول چلانا چاہتے ہو اور یہاں کے لوگوں کو کوئی کتاب پڑھانا چاہتے ہو تو یہاں کے علماء کو دکھاؤ اور ان کی اجازت سے ہی کوئی کتاب کسی کو پڑھاؤ.
  • آپ لوگوں کے مسلک، اور فرقے کا بھی کچھ پتہ نہیں لگتا. آپ کے نام سے کوئی شیہ لگتا ہے، کوئی بریلوی، کوئی اہل حدیث. اس بات کوئی بھی یہاں کے لوگوں کے سامنے صاف کرو تو ہمارے لوگ آپ کے ساتھ اور جذبے کے ساتھ کام کریں گے اور آپ کو  آسانی دیں گے.
  • آپ کے کچھ ساتھ میڈیا (ٹی وی، ریڈیو، اخبار وغیرہ) پر ہم لوگوں کو بدنام کرتے ہیں، ہماری تصویریں نکلتے ہیں ہمارے بچوں کو بھوکا  دکھاتے ہیں، ہماری عورتوں کو مظلوم اور ہم کو ظالم دکھاتے ہیں، یہ سب بھی  بند کرو،ہمارے پردے، اور  عزت کا خیال رکھو.
  • آپ کے ایک ساتھی نے انٹرنیٹ پر یہاں (شمالی وزیرستان) کے بارے میں پتہ نہیں کیا کیا لکھ  جس کے بعد ہم پر صیہونی لوگوں نے بم برساۓ. ایسا نہ کرو. 
  • آپ لوگ  ہم شمالی وزیرستان میں رہنے والے لوگوں کو ظالم سمجھتے ہو اور دکھاتے ہو اور دنیا والے بھی ہم کو ظالم سمجھتے ہیں، ایسا نہ کرو ہم صرف اسلام اور شریعت کا نظام سمجھنے اور نافذ کرنے والے لوگ ہیں. ظالم نہیں. ظالم تو وہ لوگ  ہیں جو ہم لوگوں پر حملے کرتے ہیں، ہمارے گھروں کو مسمار کرتے ہیں ہمارے بچوں کو مارتے ہیں. آپ ان لوگوں کو کہو کے وہ اپنا ظلم بند کریں. 
عدنان بھائی آپ اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ جو بھی زیادتی ہم لوگوں سے ہوئی ہو ہم اس کے لئے معافی چاہتے ہیں اور آپ کو یہ بتا دیتے ہیں کہ آپ ہمارے اپنے ہو، ہمارے مسلمان بھائی ہو. آپ جو بھی کام (فلاحی کام) کرنا چاہتے ہو کرو مگر یہاں کے دستور کے مطابق. الله آپ کو خوش رکھے - آمین!

لاہور سے فیصل بھائی:
اسلام و علیکم، عدنان بھائی اور میرا ساتھ ٣-٤ برس پرانا ہے، مگر اس عرصے میں ہم نی ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح  سمجھا ہے، اسی لئے عدنان بھائی جب بھی مجھ کو پکارتے ہیں میں اپنے والدین سے اجازت لے کر حاضر ہو جاتا ہوں. شمالی وزیرستان میں فلاحی کام ہم (ٹیم آشیانہ) کرے یا کوئی اور ادارہ کرے جاری رہنا چاہیے، یہاں (شمالی وزیرستان) میں فلاحی کاموں کے روکنے یا ختم کرنے کا مطلب ہوگا کہ یہاں کے لوگوں کو بھول جانا اور ان لوگوں کو وقت کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا. ایک مسلمان کی حیثیت سے میں عدنان بھائی اور دیگر کے اس خیال سے متفق نہیں کہ حالات کی نزاکت کو بہانہ بنا کر ہم یہاں فلاحی کاموں کو چھوڑ چھاڑ کر اپنے گھروں میں جا کر بیٹھ جائیں. اس طرح ہمارا پچھلا فلاحی کام بھی کسی مقصد کا نہیں رہے گا. میں معافی چاہتا ہوں کہ میں محترم عبدلرشید بنگش بھائی کے خیالات سے متفق نہیں ہوں اور امید کرتا ہوں کے عدنان بھائی کوئی اچھا اور مناسب جواب ضرور دیں گے. 
خدمت انسانیت کا جو درس عدنان بھائی نے مجھ کو دیا ہے اس کے مطابق یہاں (شمالی وزیرستان) میں فلاحی کاموں کو کسی نہ کسی طرح جاری رکھنا ہوگا. 

 پشاور سے حمید کاکڑ بھائی:
 بھائیوں، جب تک میں یہاں (شمالی وزیرستان) نہیں آیا تھا ایک خوف میں تھا کہ پاکستان کا ایک علاقہ ہے جہاں کسی کا بھی جانا اپنی موت کو دعوت دینا ہے. ایک ایسا علاقہ جہاں نہ کوئی قانون ہے، نہ کوئی دستور ہے، بس طالبان طرح کے لوگ قابض ہیں جو لوگوں کو اپنی مرضی سے نہیں دیتے. سچ کہوں تو عدنان بھائی اور ان کے ساتھی بھی مجھ کو طالبان کے ایجنٹ لگتے تھے. مگر یہاں آنے کے بعد، یہاں کے حالات دیکھنے اور سمجھنے کے بعد اور یہاں کے کچھ لوگوں سے ملنے کے بعد میں یہی کہوں گا کہ پورے پاکستان میں ان (وزیری) لوگوں سے زیادہ کوئی مظلوم نہیں. جن کے پاس کھانے کو نہیں مگر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے. جو بیماری سے مر تو جاتے ہیں مگر کسی دوسرے علاقے میں جا کر رحم کی بھیک نہیں مانگتے. یہاں کے بچے پورے پاکستان کے بچوں سے زیادہ رحم کے مستحق   ہیں، ان بچوں کو ہمارے پیار، شفقت اور محبت کے ساتھ ساتھ پوری توجہ کی ضرورت ہے. میرے خیال سے آپ لوگوں (ٹیم آشیانہ) کو یہاں صرف اور صرف بچوں کے لئے فلاحی کام سر انجام دینے چاہیے کیونکہ یہ بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں.

کراچی سے منصور بھائی کی تحریر:
منصور بھائی عیدالفطر سے کچھ روز قبل یہاں (شمالی وزیرستان) سے واپس کراچی چلے گئے تھے. یہاں (شمالی وزیرستان) میں لگ بھگ دو (٢) ماہ ٹیم آشیانہ کے ساتھ رہے، ٹیم آشیانہ کے زیر انتظام آشیانہ کیمپ (دتہ خیل) میں بچوں کے امور کے نگران اور استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دی. ٹیم آشیانہ کے فری میڈیکل کیمپ مہم کے دوران پیرا میڈیک کی حثیت سے بھی خدمات انجام دیں. اور یہاں گزرے ہوۓ دنوں کے بارے میں وزیرستان ڈائری بھی لکھتے رہے جو بوجہہ روکنی پڑی. یہاں (شمالی وزیرستان) سے کراچی جانے کے بعد ایک مختصر فلاحی مشن پر ترک فلاحی انجمن کے ہمراہ برما (میانمار) کے مسلمان بھائی، بہنوں کی خدمات سرانجام دے کر واپس کراچی آے. 
منصور بھائی نے ایک جذباتی کارکن کی حثیت سے جو خدمات سر انجام دی وہ خدمات ٹیم آشیانہ اور آشیانہ کیمپ میں موجود بچوں کے لئے کسی تحفے سے کم نہیں. منصور بھائی کی محنت، جستجو، لگن کی وجہہ سے آج دتہ خیل میں آشیانہ سکول اور مدرسہ قائم ہے. جس کی ترقی کے لئے ہم سب دعا گو ہیں. 
 منصور بھائی کی تحریر جو ان کی خواہش پر ہمارے بھائی "بلال محسود" نے پڑھی اور اس انداز میں پڑھی کے جیسے منصور بھائی ہمارے سامنے موجود ہیں .

عزیز عدنان، بہن فریال، اکرام بھائی، میرے پیارے بلال، ٹیم آشیانہ کے کارکنان، آشیانہ کیمپ، سکول اور مدرسه کے طلباء، شمالی وزیرستان کے بھائی، بہنوں اور دوستوں، اسلام و علیکم!
آپ لوگوں سے بچھڑ کر یہاں (کراچی) آنا کچھ اچھا نہیں لگ رہا. گو کہ آپ لوگوں کے ساتھ بہت کم وقت گزارہ مگر جو بھی وقت گزرا ہر ہر لمحہ بہت کچھ سیکھنے کو ملا. سب سے پہلے میں آپ سب سے اپنے جذباتی پن کی وجہہ سے ہوئی کسی بھی طرح کی ہوئی غلطی کے لئے معافی چاہتا ہوں. آپ سب ہی مجھ کو کسی بھی غلطی کے لئے معاف فرمائیں.
ابھی عید کے دن ختم نہیں ہوے تھے کے برما جانا پڑا. ایک ہفتہ گزارنے کے بعد واپس کراچی آیا آپ لوگوں کی جانب سے پتہ چلا کے ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان سے واپس آنا چاہتی ہے. میری کم عقل نے یہ جانا کے شاید کوئی معجزہ ہو گیا ہے کہ وہاں (شمالی وزیرستان) میں ابہ کسی بھی طرح کے فلاحی کام کی ضرورت نہیں رہی، اسی لئے ٹیم آشیانہ بستر بوریہ لپیٹ رہی ہے. مگر اسی شام فریال بہن سے فون پر گفتگو کے بعد حالات کی سنگینی کے علم ہوا اور ٹیم آشیانہ کو درپیش مشکلات کا اندازہ بھی ہوا. پوری کوشش کے باوجود عدنان بھائی سے رابطہ نہیں ہو سکا. ہزار سوال خود میرے ذہن میں اٹھ کھڑے ہوۓ، سب سے پہلا سوال "اب کیا ہوگا؟" تھا. میں خود شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں کچھ وقت گزر کر آیا ہوں، ٹیم آشیانہ کے فلاحی کاموں میں پیش آتی مشکلات کا سامنا کیا ہے. بلی جیسے ڈرون کو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے سروں پر منڈلاتے اور آگ برساتے دیکھا ہے. مقامی شدت پسند (بمشہور، طالبان، اسلام پسند) کے جرگوں اور بڑوں کا سامنا کیا ہے، شدید سردی میں ٹھٹھرتے بچوں، بوڑھوں کو دیکھا ہے. بھوک، افلاس کے مارے خاندانوں کی بے بسی کا بھی سامنا کیا ہے. رمضان میں ایک گلاس پانی اور نمک کے ساتھ سحری اور ایک کھجور اور ایک گلاس پانی کے ساتھ افطار تو خود میں نے سب کے ساتھ کیا ہے.
دتہ خیل میں ایک چھوٹا سا اسکول قائم کرنے کے لئے جو جو مشکلات آیی کا سامنا کیا ہے. ان سب کے دوران مقامی انتظامیہ کا کردار بھی دیکھا ہے. فلحال کسی پر تنقید کرنے کا نہ یہ موقع ہے نہ ہی کوئی فایدہ. پاکستان آرمی اور فورسس کے جوانوں کے علاوہ سب بیکار ہے. 
دل سے یہی چاہتا تھا کہ آپ کی میٹنگ میں خود شرکت کروں مگر آپ جانتے ہیں کہ میرے اپر کتنی ذمہ داریاں ہیں، پھر والدہ کی طبیعت بھی بہت ناساز ہے، (دعا کی درخواست ہے) پھر ایک استاد کی حثیت سے جو نوکری کرتا ہوں وہاں سے بھی رخصت نہیں مل سکتی (موسم سرما کی تعطیلات کے بعد اسکول کھلے ہی ہیں). الغرض یہاں (کراچی) آکر پوری طرح سے دنیا داری میں جکڑا گیا ہوں. مگر ٹیم آشیانہ، آشیانہ کیمپ، آشیانہ اسکول اور مدرسہ اور عزیز بلال محسود سے کسی بھی طرح غافل نہیں ہوں. میں نے اپنی والدہ سے وہاں (شاملی وزیرستان) اور ٹیم آشیانہ کے بارے میں مشورہ لیا تھا والدہ کا کہنا تھا کہ اگر تمہاری (میری) ضرورت ہے تو میں چلا جاؤں اجازت ہے. اور ابھی اس فلاحی کام کو روکنے کا وقت نہیں ہے. جبکہ ہم اتنی مشکلات اٹھا کر اس کام کو جاری رکھے ہوۓ ہیں تو اس کم کو اس مرحلے پر روکنے یا ختم کرنے کا کیا مقصد؟ 
محترم عدنان بھائی، لگتا ہے کہ آپ ہم سب کو مایوسی سے بچنے کا درس دے کر خود ہی مایوسی کا شکار ہو چلے ہیں، اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اب  کیسا ڈر ؟کیسا خوف؟ کیسی الجھن؟ الله کے نام سے جو کام آپ نے شروع کیا ہے آپ خود دیکھیں کے الله پاک نے کیسے کیسے موقوں پر ہماری مدد کری ہے. در صرف الله پاک کا ہی ہونا چاہیے. میں انشا الله بہت جلد وہاں ہوں گا اور آپ کا دست راست   بنوں  گا. آپ  رکھیں اور حالات اگر بہت سنگین ہیں تو سب سے پہلے آشیانہ کیمپ میں مقیم بچوں کو جلوزئی کیمپ یا کسی اور محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا انتظام کریں. ٨-١٠ بچوں کو کراچی میں، میں اور میرے خاندان والے بخوشی سمبھال سکتے ہیں. اس کے بعد آشیانہ اسکول اور مدرسه کو کسی محفوظ جگہہ منتقل کریں. میں بار بار کہتا رہا ہوں کہ اگر وہاں (شمالی وزیرستان) کے حالات میں بہتری لانی ہے تو وہاں کے لوگوں کی سوچ کو  بدلنا ہوگا.وہاں کے لوگوں کو خود فیصلہ کرنے کی طاقت اور اختیار دینا ہوگا جو صرف اور صرف علم حاصل کرنے کے شعور سے ہی بیدار ہوگا. 
ایک الگ خط صرف عدنان بھائی اور بلال کے لئے بھیج رہا ہوں. اس کو پڑھنے کے بعد آپ لوگ جو بھی فیصلہ کریں گے میں آپ کے ساتھ ہونگا.
عاجز 
منصور 
اسلام و علیکم 
==============================================
منصور بھائی کی تحریر بہت طویل ہے صرف خاص خاص باتیں ہی یہاں لکھ دی گئی ہیں. اس کے علاوہ بلال محسود نے بھی اپنے خیالات کا اظھار کیا، بلال کی درخواست پر بلال کے خیالات کو یہاں نہیں لکھا جا رہا ہے. 

میٹنگ کے  آخر میں ٹیم آشیانہ کے سرپرست، آشیانہ کیمپ کے سرپرست عدنان بھائی  نے بہت مختصر انداز میں میٹنگ کو ختم کیا انہوں نے جو کہا وہ اس طرح تھا. 

عدنان بھائی کی خیالات:
اسلام و علیکم، صبح سے جاری اس میٹنگ میں، ہم سب نے ایک دوسرے کے خیالات کو بہت اچھی طرح  سنا، سمجھنے کی کوشش کری اور جانا. میں (عدنان) آپ سب کا شکر گزار ہوں، کے آپ لوگوں نے صبر و تحمل سے ایک دوسرے کے خیالات کو سنا. اور جو لوگ یہاں موجود نہیں تھے ان کی تحریر نے ہماری  رہنمائی کری. آپ سب کے خیالات کو سننے اور سمجھنے کے بعد میں نے کچھ فیصلے کیے ہیں جن پر ایک دفع پھر اپنے دوستوں کی رائے جاننا اور حکمت  عملی اختیار کرنے کا طریقہ تلاش کرنا ضروری ہے جس کے لئے ہم کو کچھ اور وقت درکار ہوگا. فلحال ٹیم آشیانہ اور آشیانہ کیمپ، سکول اور مدرسہ جہاں ہیں اور جیسے ہیں کی بنیاد پر اپنا فلاحی مشن جاری رکھیں گے. فوری  طور پر کچھ باتیں کرنا ضروری ہیں جیسے کہ،
بہن فریال بہت لمبے عرصے سے ہمارے ساتھ کام کر رہی ہیں، کو رخصت کرنے کا وقت آگیا ہے، مجھ کو  یقین ہے کے بہن فریال جہاں بھی ہونگی ٹیم آشیانہ کے لئے کسی نہ کسی طرح خدمات سر انجام دیتی رہی گی. میں (عدنان) ٹیم آشیانہ کی طرف سے بہن فریال کے شکر گزار ہیں جنہوں نے کمال ہمت سے کام لیتے ہوے ٹیم آشیانہ کے ساتھ کام کیا. الله پاک اس کا  بہن فریال کو عطا فرماے - آمین.

دیگر شہروں سے آئے ہوے کارکنان میں سے کچھ فوری طور پر واپس چلے جائیں گے. صرف کچھ کارکنان (جن کا فیصلہ ٢-٣ دن میں ہوجاۓ گا) یہاں میرے ساتھ فلاحی   کاموں میں حصہ لیتے رہے گے. 

کراچی سے منصور بھائی سے درخواست ہے کے اپنی تمام ضروری ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر ٹیم آشیانہ کے ساتھ فلاحی کاموں میں حصہ لیں.

فوری طور پر مقامی لوگوں کو ٹیم آشیانہ کے فلاحی کاموں میں حصہ لینے کے لئے  کرنے کی پوری کوشش کی جاۓ گی. 

فنڈز کی  کو پورا کرنے کے لئے دیگر شہروں میں موجود ٹیم آشیانہ کے کارکنان سے مزید کوشش کرنے کی  اپیل کی  جاتی ہے.

آپ سب کی آمد کا بہت بہت شکریہ!
الله پاک ہمارے کام کو، ہماری محنت کو  قبول فرماے،اور غیب سے ہماری مدد کے راستے کھولے - آمین 
جزاک الله 

ہفتہ, ستمبر 08, 2012

میران شاہ- شمالی وزیرستان میں ٹیم آشیانہ کے کارکنان کی میٹنگ کا احوال

محترم دوستوں، ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے کارکنان، اور پڑھنے والے بھائی بہنوں،
 اسلام و علیکم!

اللہ پاک کی ذات سے دعا گو ہیں کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں الله پاک کی رحمت کے سایے تلے ہوں اور الله پاک آپ پر اپنی رحمتیں، برکتیں نازل فرماتا رہے - آمین!

کچھ دن قبل ہم نے اپنے دوستوں، کارکنان اور ساتھیوں سے یہ جاننا چاہا تھا کہ موجودہ حالات میں ہم (ٹیم آشیانہ) کو آشیانہ کیمپ (دتہ خیل، شمالی وزیرستان) کو بند کر کہ یہاں سے نکل جانا چاہیے یا پھر حالات میں بہتری کی امید کرتے ہوۓ یہاں رک کر مزید انتظار کرنا چاہیے؟
 یہ سوال ہمارے (ٹیم آشیانہ) اپنے لئے بھی بہت مشکل اور پیچیدہ تھا. ہم کو ہمارے گھر والوں، دوستوں، احباب، اور ہمارے وہ دوست جن سے ہم آج تک مل نہیں سکے ہیں مگر ہمارے یہ دوست کسی نہ کسی طرح ہم سے رابطہ میں رہتے ہیں اور ہمارے کام آتے ہیں، نیں مختلف انداز میں اپنی اپنی آراہ اور تجاویز سے آگاہ کیا. کچھ تجویز جذبات سے مغلوب تھیں اور کچھ تجاویز میں ہم کو زمینی حقائق سے آگاہ کیا گیا تھا، خصوصاً ہمارے (ٹیم آشیانہ کے کارکنان کے) گھروالوں کی آرہ جن کا ہم دل کی گہرایوں سے احترام کرتے ہیں کی تجاویز بہت زیادہ قبل عمل اور آسان تھیں. 
ہم (ٹیم آشیانہ) کے تمام کارکنان، دوست اور احباب جو کہ آج کل شمالی وزیرستان میں فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہیں، کا ایک اجلاس (میٹنگ) میران شاہ - شمالی وزیرستان، بروز جعمرات (ستمبر ٦، ٢٠١٢) فلاحی کارکن "سید عدنان علی نقوی بھائی" کی زیرصدارت منعقد کیا گیا. اس اجلاس میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کینیڈا اور دیگر علاقوں سی ٹیم آشیانہ کے کارکنان نے خصوصی شرکت کری اور جو نہ کر سکے وہ اپنی رائے کا اظہار ٹیلیفون سے کرتے رہے.     اس اجلاس میں بین الاقوامی فلاحی اداروں کے ٢ (دو) کارکنان نے بھی شرکت کری، جو ہم سے مقامی حالات کی آگاہی حاصل کرنا چاہتے تھے.
اس اجلاس کی اہم باتیں اور فیصلوں سے آگاہ کرنا ہمارا فرض ہے. جس کے بارے میں آپ کو آگاہ کیا جا رہا ہے. 
"مزید یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ جب سے محترم عمران خان صاحب نے (وزیرستان) آنے کا اعلان کیا ہے یہاں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے اور ہم جیسے کمزور فلاحی کارکنان کو امید کی ایک کرن نذر آیی ہے. ہماری دعا ہے کہ محترم عمران خان صاحب اعلان کردہ تاریخ پر یہاں "میران شاہ، شمالی وزیرستان" تشریف لائیں. جس سے یہاں کے لوگوں میں امید کی کوئی کرن بیدار ہو اور یہاں کے لوگ بھی خود کو بے آسرا نہ سمجھیں. ہماری (ٹیم آشیانہ کی) دعائیں اور نیک تمنائیں محترم عمران خان صاحب کے ساتھ ہیں. الله پاک خان صاحب کو ان کے نیک ارادوں میں کامیابی عطا فرماۓ، اور یہاں (شمالی وزیرستان) کے مجبور، بے بس، بے سہارا، مظلوم اور مغلوب عوام کے لئے آسانی کے راستے فراہم فرماۓ - آمین."

ٹیم آشیانہ کے مقامی (وزیرستانی) کارکن "اکرام بھائی کا ابتدائی اظہارخیال"
 محترم دوستوں، اسلام و علیکم!
میں عدنان بھائی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ پچھلے برسوں میں خراب ترین حالات کے باوجود، ہر طرح کے مصائب اور پریشانیوں کا سامنا کرنے کے باوجود آپ (عدنان بھائی) یہاں (شمالی وزیرستان) میں موجود رہے اور مختلف فلاحی کاموں کو سر انجام دیتے رہے. الله پاک آپ (عدنان بھائی) کو اجر عظیم عطا فرماۓ - آمین. 
جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ، ٹیم آشیانہ کو بگڑتے اور خراب ہوتے ہوۓ حالات میں اب یہاں (شمالی وزیرستان) سے باہر چلا جانا چاہیے یا یہاں (شمالی وزیرستان) میں اپنی فلاحی سرگرمیوں کو معطل (روک /ترک) کر دینی چاہیے، اس سوال کے جواب میں، میں (اکرام بھائی) یہی کہوں گا کہ،
 ابھی نہ جاؤ، ابھی ہم نے جینا نہیں سیکھا، ابھی ہمارے دلوں سے خوف اور وحشت ختم نہیں ہوئی، ابھی ہمارے بچوں میں تعلیم کی شمع نہیں جلی، ابھی ہمارے گھروں میں راشن، پانی کا انتظام نہیں ہوا، ابھی ہمارے نوجوان پاکستان اور پاکستانی کا مطلب نہیں جان سکے ہیں، ابھی تک ہمارے گاؤں، دیہاتوں میں اسپتال، ڈسپنسری اور ادویات کا انتظام نہیں ہے، ابھی تک ہماری مسجدوں میں نمازی نہیں ہیں، ابھی تک ہمارے گھروں کی چھتیں سلامت نہیں ہیں، 
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ "ہم ابھی تک کمزور ہیں، بے بس ہیں، ناتواں ہیں، لاغر ہیں، ہمارے بچے اور عورتیں ڈری، سہمی ہوئی ہیں."
"میں دتہ خیل "شمالی وزیرستان" میں رہنے والے امن پسند، صلح پسند، انسان دوست، کمزور اور بے بس پاکستانیوں کی طرف سے آپ (عدنان بھائی اور دیگر کارکنان) سے درخواست کرتا ہوں کہ ابھی نہ جاؤ، تھوڑا اور روک جاؤ."
اور اگر یہاں "شمالی وزیرستان" سے جانا ہی ضروری ہے تو ہم کو یہ بتا جاؤ کہ ہم کو اب جینے کے لئے کیا کرنا ہوگا؟ یا ہم لوگوں کو جینے کا حق ہی نہیں ہوگا. 
ایک دفع پھر میں اپنے لوگوں (دتہ خیل) میں رہنے والوں کی طرف سے آپ (ٹیم آشیانہ) کا شکریہ ادا کرتا ہوں کے آپ لوگوں نی ہماری جو خدمت کری، جو کچھ بھی کیا وہ پہلے ہمارے لئے صرف ایک خواب تھا، مگر عدنان بھائی اور ان کے دوستوں نے ہم کو پاکستان اور انسان کیا ہیں یاد دلایا. ہم وعدہ تو نہیں کرتے مگر کوشش پوری کریں گے کہ جو کچھ ہم نیں آپ (عدنان بھائی اور ٹیم آشیانہ) سے سیکھا ہے اس علم اورکام کو جاری رکھیں. 
آپ (عدنان بھائی اور ٹیم آشیانہ) نے ایک تحفہ "آشیانہ کیمپ اور سکول / مدرسہ" دتہ خیل میں قائم کیا ہے ہم اس پر آپ کے شکر گزار ہیں اور پوری کوشش کرتے رہیں گے کہ اس سلسلے کو جاری رکھیں، انشا الله. آپ (عدنان بھائی اور دوست) ہم سے یہ وعدہ کریں کہ " آپ لوگ یہاں سے جانے کے بعد ہم کو بھول تو نہ جاؤ گے؟"
 جزاک الله!

کینیڈا سے ہماری ہر دل عزیز بہن سیدہ فریال زہرہ کا اظہارخیال:
"شمالی وزیرستان کی روایات،پردہ اور اسلامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوۓ بہن فریال اس میٹنگ میں شریک نہ ہو سکی، بہن فریال نے اپنے خیالات کا اظہار ایک تحریر سے کیا، اس تحریر کو "بلال محسود" نے پڑھا."

عدنان بھائی، اکرام بھائی، منصور بھائی، فیصل بھائی اور ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان، اور جو بھی لوگ اس اجلاس (میٹنگ) میں شریک ہیں کو،
" اسلام و علیکم"!
اس موقع پر میں کیا کہوں؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا، عدنان بھائی اور میرا ساتھ آج کا نہیں کافی برسوں کا ہے. ہم ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے، پہچانتے تک نہیں تھے، سمجھتے تک نہیں تھے. میں پاکستانی والدین کی کینیڈا میں پیدا ہوئی اور پرورش پانے والی اولاد ہوں، میرے والدین نے میری تربیت میں اسلامی، پاکستانی اور مغربی ضروریات کا پورا خیال رکھا. وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بارے میں معلومات حاصل کرتی رہی، کینیڈا میں موجود پاکستانی لوگوں سے ملتی رہی،  انٹرنیٹ، میڈیا سے جو معلومات ملتی رہی اس سے پاکستان اور یہاں کے لوگوں کے بارے میں  جانتی رہی. 
"مگر سچ یہی ہے کہ پاکستان اور یہاں کے لوگوں کے بارے میں کوئی اچھی رائے یا سوچ نہیں بنا سکی."  
اکتوبر ٢٠٠٥ کے قیامت خیز زلزلے کے بعد بی بی سی اردو پر عدنان کی ڈائری پڑھ کر عدنان بھائی کے دوست منصور بھائی سے رابطہ کیا اور پھر عدنان بھائی سے رابطہ ہوا. میں زلزلے سے متاثر لوگوں کے لئے کینیڈا سے مالی مدد کرنا چاہتی تھی مگر اپنے خدشات کی بنا پر کر نہیں پا رہی تھی. میں نے دیگر فلاحی اداروں سے بھی رابطہ کیا سب نے یہی کہا کہ آپ ہمارے کو جو بھی مدد بھیجنا چاہتی ہیں ہمارے بینک سے بھیجیں ہم ان کو اپنی ضروریات کے مطابق استعمال کر لیں گے. عدنان بھائی سے رابطہ ہونے کے بعد جب میں نے اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا تو عدنان بھائی نے مجھ کو یہاں (پاکستان) آکر فلاحی کاموں میں حصہ لینے کی دعوت دی اور کہا "بی بی، سب سے بہتر عمل وہ ہے جو اپنے ہاتھ سے کیا جاۓ." میں اپنے والدین سے اجازت لے کر پاکستان پہنچی اور آزاد کشمیر میں عدنان بھائی کے ہمراہ کچھ فلاحی کاموں میں حصہ لیا. عدنان بھائی نے مجھ کو خواتین کے امور کا نگران مقرر کیا اور میں نے اپنی پوری کوشش کری کہ جو کچھ میں کر سکتی ہوں کروں. اس دوران میں نے پاکستان اور پاکستانی لوگوں کو سمجھنے کی پوری کوشش کری، کبھی کبھی میں بہت مایوس ہو جاتی تھی تو عدنان بھائی مجھ کو بہت شفقت اور محبت سے سمجھاتے تھے کہ "ہم لوگ ترسے ہوے ہیں، زندگی کی آسائشوں اور سہولیات کو ہی سب کچھ جانتے ہیں، آخرت کی فکر بلکل نہیں ہے، اور جو کچھ ہم سیکھ رہے ہیں وہی عمل بھی کر رہے ہیں، آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا، ہم کو ہمت، صبر اور حوصلے سے کام لینا ہوگا." عدنان بھائی کی کہی ہوئی ایک ایک بات سہی نکلی، جہاں کچھ لوگ حرص، ہوس، لالچ اور دنیا کے پیچھے بھاگتے ملے وہیں کچھ لوگ فلاحی کاموں کو عبادت سمجھ کر کرتے ہوے ملے. غرض مجھ کو عدنان بھائی اور ٹیم آشیانہ کے کارکنان کے ساتھ فلاحی کام کرتے ہوے بہت کچھ سیکھنے کو ملا. 
کچھ برس قبل جب وزیرستان اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں دہشت گردوں، شدت پسندوں کے خلاف کاروائی شروع ہوئی اور ان علاقوں سے مقامی افراد نے نقل مکانی شروع کری تو عدنان بھائی نے ایک دفع پھر ہم سب ساتھیوں سے رابطہ کیا اور ہم کو ان نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے لئے فلاحی کام کرنے کے لئے ایک دفع پھر سے کوشش شروع کرنے کا کہا. میں کینیڈا میں تھی اور بار بار پاکستان آنا میرے لئے مشکل تھا. میں نے وہی سے امدادی کاموں کے لئے فنڈز جمع کر کے یہاں بھجوانا شروع کے مگر عدنان بھائی بار بار مجھ سے یہی کہتے رہے کے میں یہاں "پاکستان" آجاؤں اور مل کر فلاحی کاموں میں حصہ لوں. میں نے اپنی ملازمت سے استعفیٰ دیا اور پاکستان آگئی. پاکستان  آنے  بعد عدنان بھائی نے مجھ کو شمالی وزیرستان کے حالات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ وہ (عدنان بھائی اور ساتھی) یہاں (شمالی وزیرستان) میں کس طرح کے فلاحی کام کرنا چاہتے ہیں. ہم سب نے مل کر اپنے دوستوں کے گروپ کا نام "ٹیم آشیانہ" رکھا اور یہاں "شمالی وزیرستان" میں اپنا فلاحی کام شروع کیا.اس دوران ہم کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان کا ذکر کرنے کا نہ یہ موقع ہے اور نہ ہی وقت، بس  الله پاک نے ہم سے جس طرح کا کام لینا تھا اس کے لئے اسباب بھی بناۓ، ہم کو ہمت، صبر، حوصلہ، اور استقامت بھی عطا کری. الله پاک کی شکر گزار ہوں کہ الله پاک نے مجھ کو  ہمت اور حوصلہ دیا کہ میں کینیڈا سے یہاں آکر انسانیت کے فلاح کے مشن میں حصہ دار بن سکی. 
بہت افسوس ہو رہا ہے کہ آج ہم (عدنان بھائی اور ٹیم آشیانہ) اپنے فلاحی مشن کو    ادھورا اور نہ مکمل چھوڑ کر یہاں "شمالی وزیرستان" سے جانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور اس کی بارے میں فیصلہ کر رہے ہیں. میرا مشورہ اور تجویز یہ ہے کہ یہاں (شمالی وزیرستان) اپنے فلاحی کاموں کو ختم یا روکنے کے بجاۓ، ہم اپنے فلاحی کاموں کو محدود کرتے ہوۓ اپنا کام جاری رکھیں، اور پوری کوشش کریں کے یہاں (شمالی وزیرستان) کے لوگوں کو اپنے ساتھ کارکن بنا کر رکھیں. دوسرے شہروں سے آنے والے کارکنان کو کچھ وقت کے لئے واپس کر دیا جاۓ (ایسا صرف ان کارکنان کے جانوں کی حفاظت کے لئے) اور حالات کی بہتری ہونے تک دوسرے شہروں کے کارکنان (شمالی وزیرستان) کے فلاحی کاموں کے لئے فنڈز وغیرہ جمع کرنے کا کام کریں. عدنان بھائی، آپ پوری کوشش کریں کہ یہاں (شمالی وزیرستان) کے مقامی لوگوں کو فلاحی کاموں کے لئے ترغیب دیں، ان کی  رہنمائی کریں، اور یہاں خصوصاً بچوں کے لئے جاری فلاحی کام جیسے فری میڈیکل کیمپ، آشیانہ کیمپ اور سکول، پینے کے لئے صاف پانی کی فراہمی وغیرہ کو جاری رکھا جاۓ. الله پاک ہم سب کی مدد فرمائیں، ہم کو صبر، حوصلہ اور استقامت عطا فرمائیں، اور ٹیم آشیانہ کے فلاحی کاموں کو جاری رکھنے کے لئے ہماری مدد فرمائیں. میں ایک عورت ہونے کی وجھہ سے یہاں کی خواتین کی مشکلات کو بہت  طرح سمجھتی ہوں، یہاں (شمالی وزیرستان) کی خواتین کی کوئی اپنی زندگی نہیں ہے، یہ خواتین پیدا ہونے سے مرنے تک  مرد کی ملکیت ہوتی ہیں جو اپنی مرضی سے کھانا پینا تک نہیں کر سکتی، اور اگر غلطی سے کوئی خاتون اپنا حق مانگے تو اس کے حصے میں بربادی، ذلت و رسوائی آتی ہے. ہم کو یہاں کی خواتین کے لئے بھی بہت کام کرنا ہوگا جس کے لئے  یہاں کے مردوں کے اذہان کو سہی اسلامی تعلیمات کے مطابق بدلنا ہوگا اور تربیت دینا ہوگی. جس کے لئے ہم سب کو انتھک محنت کرنے کی ضرورت ہے. 
عدنان بھائی، ایک اور مسلہ جس کا آپ کو مستقبل میں سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے وہ ہے کہ یہاں کے جن لوگوں سے میری ملاقات ہوئی ہے تو سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ "آپ لوگوں (ٹیم آشیانہ) کا مسلک یا فرقہ کونسا ہے؟"   آپ (عدنان بھائی) کو مستقبل میں ان باتوں کا بھی خیال رکھنا ہوگا. آپ "عدنان بھائی" کی تربیت کے مطابق مجھ سے جس کسی نے یہ سوال کیا تو میرا  یہی تھا کہ "میرا مذہب اسلام ہے، میرا فرقہ اور مسلک اسلام ہے، وہ اسلام جس پر حضرت محمّد (س.ع.و) آپ کی ازواج، آپ کی اولاد، حضرت عمر (ر.ض)، حضرت عثمان (ر.ض)، حضرت ابوبکر صدیق (ر.ض) اور حضرت علی (ر.ض) عمل فرما رہے اور ہم کو سکھلا گئے. "میری رائے میں  یہ سوال ہمارے ناموں جیسے آپ (عدنان بھائی) کا نام، سید عدنان علی نقوی ہے، اور میرا نام سیدہ فریال زہرہ ہے کی وجھہ سے کیا جاتا ہے." اب آپ لوگ اس سوال کے جواب کے لئے کیا حکمت اختیار کرتے ہیں؟ الله پاک آپ کی مدد کرے. 
جہاں تک میرا (فریال) کا تجربہ ہے یہاں کے لوگوں کے پاس علم اور رہنمائی کی بہت کمی ہے یہاں پر علم صرف ملا (مولوی) کی حد تک محدود ہے، کسی بھی بات کے لئے مولوی یا جرگے کے سردار کے پاس ہی علم ہوتا ہے، آپ لوگوں کو یہاں کے لوگوں کو با علم اور با عمل بنانے کے لئے بہت محنت کرنے کی ضرورت ہوگی، صرف فلاحی کام کرنے سے یہاں کے لوگوں کو ذہن تبدیل ہوتے نذر نہیں آتے، اس سلسلے میں پاکستان میں موجود بڑے فلاحی اداروں کو بھی یہاں دعوت دینی ہوگی، با علم اور با عمل علماؤں کی مدد حاصل کرنا ہوگی. باقی ہر طرح کی مدد جو میں کر سکتی ہوں اور الله پاک نے جتنی ہمت اور جو کچھ مجھ کو عطا کیا ہے میں ہر طرح سے اور ہر وقت حاضر ہوں. الله پاک ہم سب کا  حامی و ناصر ہو - آمین. اسلام و علیکم !
=============================================
محترم دوستوں مزید تفصیلات جلد اپ لوڈ کر دی جائیں گی - انشا الله 
ہم سے رابطے کے لئے 
+92 345 297 1618
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
team.ashiyana@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
جزاک الله 
کارکن ٹیم آشیانہ 
آشیانہ کیمپ، ٥ کلومیٹر، دتہ خیل.
شمالی وزیرستان (فلحال میران شاہ)      



BBC World News: Order to leave Pakistan "Save The Childrens"

منگل, ستمبر 04, 2012

آشیانہ کیمپ آپ کی مدد اور مشوروں کا منتظر

شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے                                                      
محترم دوستوں، ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے کارکنان، اور پڑھنے والے بھائی، بہنوں،
 اسلام و علیکم!
سورة المَاعون                                                                                  
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے                                                      
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو (روزِ) جزا کو جھٹلاتا ہے؟ (۱) یہ وہی (بدبخت) ہے، جو یتیم کو دھکے دیتا ہے (۲) اور فقیر کو کھانا کھلانے کے لیے( لوگوں کو) ترغیب نہیں دیتا (۳).     
========================================================================                                                                        
      محترم دوستوں اور ساتھیوں،
ٹیم آشیانہ، آشیانہ کیمپ شمالی وزیرستان میں گزشتہ برسوں سے خدمت انسانیت کے فرائض سر انجام دے رہی ہے. ہم نے اپنے فلاحی مشن اور کاموں کے دوران ہمیشہ یہی کوشش کری ہے کہ ہم صرف اور صرف خدمت انسانیت پر ہی اپنی توجہہ مرکوز رکھیں. اس دوران ہم کو ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں (سید عدنان علی نقوی) اور میرے ساتھی کارکنان نے ہر طرح کی مشکلات کا سامنا الله پاک کی مدد اور الله پاک کی دی ہوئی طاقت کے ساتھ کیا. الله پاک کا کرم اور احسان ہے کہ شمالی وزیرستان میں تمام تر خانہ جنگی، ڈرون حملوں شدت پسندوں کی کاروائی کے باوجود ٹیم آشیانہ اور آشیانہ کیمپ کسی بھی طرح کے جانی نقصان سے محفوظ رہے. (الله پاک کا لاکھ لاکھ احسان اور شکر ہے). 
محترم دوستوں اور ساتھیوں، جیسا کے آپ کے علم میں ہے کے آج ایک دفع پھر شمالی وزیرستان بینلاقوامی خبروں کی زینت بنا ہوا ہے.روزانہ ہی ڈرون حملے کہی نہ کہیں ہو رہے ہیں (جس سے شدت پسند اور دہشت گرد عناصر) بہت بری طرح گھبراۓ اور بوکھلاۓ ہووے ہیں، اور اپنی بوکھلاہٹ کو مقامی آبادی پر ظلم و ستم کر کے نکال رہے ہیں. جس کا شکار آشیانہ کیمپ شمالی وزیرستان بھی ہو رہا ہے. ہمارے مقامی ساتھ کارکنان کو ہمارے (ٹیم آشیانہ) کے ساتھ کام کرنے سے روکا جا رہا ہے. آشیانہ کیمپ میں مقیم ١٧٠ (ایک سو ستر) سے زائد یتیم، بے سہارا، گھروں اور بڑوں کے سائے سے محروم بچوں کو ڈرا، دھمکا کر اور ورغلا کر یہاں سے اپنے ساتھ لیجانا چاہتے ہیں. (خدا نہ کرے کے ان کا استعمال بھی دہشت گرد عناصر کے لئے ہو)، ہماری امدادی سپلائی کو بار بار توڑا جا رہا ہے اور امداد کو لوٹا جا رہا ہے. دوسرے شہروں سے آئے ہوے امدادی کارکنان جو صرف اور صرف الله کی دی ہوئی تعلیمات، اور خدمت انسانیت کا مشن پورا کرنے ہمارے ساتھ یہاں کام کر رہے ہیں ہر طرح سے خوفزدہ اور ہراساں کیا جا رہا ہے.
ہم گزشتہ ١٥ (پندرہ دنوں) سے ان حالت کا مقابلہ کر رہے ہیں، مگر اب پانی سر سے بلند ہو رہا ہے. الله پاک نے ہم کو جو حکم دیا اور ہم کو بتایا ہم اسی پر عمل کرتے ہووے یہاں (دتہ خیل، شمالی وزیرستان) میں مقیم ہیں، اس امید پر کے ہمارے اخلاق، ہمارے محبت، ہماری مدد سے ہم یہاں کے لوگوں کو ایک سچا اور  پاکستانی بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے. مگر فلحال ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آرہا. جب ہمارے لئے ہی یہ زمیں تنگ کر دی جاۓ تو ایسے میں یہاں سے کہیں اور چلے جانے کے سوا کچھ اور چارہ نظر نہیں آتا. 
میں اپنے تمام دوستوں اور ساتھیوں کے سامنے یہاں (دتہ خیل، شمالی وزیرستان) کے سارے حالت رکھ چکا ہوں. اور سب سے ہی جاننا چاہتا ہوں کہ ایسے حالت میں ہم کو کیا کرنا چاہیے؟ اگر آپ بھی ہماری رہنمائی کرنا چاہیں تو ہم سے درج ذیل پر رابطہ کر سکتے ہیں،
آپ کی مدد اور مشوروں کا منتظر 
سید عدنان علی نقوی 
آشیانہ کیمپ، شمالی وزیرستان.         

 
                                                                              

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                           

جمعرات, اگست 30, 2012

آشیانہ کیمپ کارکنان کی خدمات، برما کے مسلمانوں کے لئے امداد

محترم دوستوں، ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے کارکنان، اور پڑھنے والے بھائی، بہنوں.


الله پاک کے فضل اور کرم سے آشیانہ کیمپ شمالی وزیرستان کے زیر اہتمام دو (٢) فری میڈیکل کیمپ کا انتظام، میران شاہ اور دتہ خیل کے مقامات پر کیا گیا، جس کے دوران ٥٠٠ (پانچ سو) سے زیادہ مریضوں کا مفت طبی چیک اپ اور ادویات فراہم کر گئی. ایسے مریض جن کا علاج میڈیکل کیمپ میں ممکن نہیں تھا ان کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کرنے کا انتظام کیا گیا. 

الله پاک کے فضل و کرم سے دتہ خیل سے ٥-٧  کلومیٹر کے فاصلے پر مقامی (وزیرستانی) دوستوں کی اجازت اور مدد کے ساتھ ایک سکول اور مدرسه کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس میں فلحال ١٢٧ (ایک سو ستائیس) بچے زیر تعلیم ہیں. انشا الله وقت کے ساتھ ساتھ سکول کی گنجائش بڑھائی جاۓ گی. سکول اور مدرسه کے لئے کتب، اور دیگر سامان کی فراہمی کے لئے ہم اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے دل کی گہرایوں سے شکر گزار ہیں. الله پاک آپ کی کری ہوئی مدد کو قبول فرماۓ اور ہم کو ان بچوں کو مہذب، تعلیم یافتہ، اور سہی مسلمان، پاکستانی شہری بنانے کو توفیق عطا کرے اور ہماری رہنمائی کرے - آمین.

ہمارے بہت عزیز دوست اور ساتھی جو آشیانہ کیمپ شمالی وزیرستان میں ایک ماہ سے زیادہ عرصۂ گزارنے کے بعد واپس کراچی گئے تھے. انہوں نے خدمت انسانیت اور ایک سچے مسلمان ہونے ہونے کا حق ادا کر دیا. ہمارے ساتھی جو کراچی اپنے گھر والوں کے ہمراہ عیدالفطر گزارنے کے لئے گئے تھے. کچھ ترکش (ترکی والوں) دوستوں کے ساتھ رابطے میں تھے. یہ ترکش دوست عدنان بھائی کے بہت عقیدت مند ہیں اور (زلزلہ ٢٠٠٧ کے وقت سے) گہری دوستی رکھتے ہیں، عدنان بھائی کو اپنے ہمراہ برما (ینگون) لے جانا چاہتے تھے جہاں ہزاروں مسلمان بھائی، بہن کسمپرسی کے حالت میں زندگی گزار رہے ہیں. برما کے ظالم حکمرانوں اور افواج کے انسانیت سوز مظالم کا شکار مسلمان بھائی، بہن کی خدمات کے لئے ترکی کے عوام اور حکومت کی خدمات قابل فخر ہیں اور ہم جیسے نام کے مسلمانوں کے لئے ایک  سبق ہیں. سید عدنان علی نقوی بھائی کیونکہ یہاں شمالی وزیرستان کے فلاحی کاموں کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں برما (ینگون) نہیں جا سکے مگر ہمارا کراچی والے دوست "محترم منصور بھائی، احمد خلیل بھائی، عاصم بھائی کچھ امدادی رقم (تقریباً  "تین لاکھ پاکستانی روپے - ٣،٠٠،٠٠٠) لے کر براستہ بنگلادیش برمی مسلمان بھائی، بہنوں کے ساتھ گزار کر آے ہیں. منصور بھائی نے برما کے مسلمانوں کے جو حالات ہم کو لکھ بھیجے ہیں، انکو پڑھ کر ہم خود کو انسان کہتے ہووے بھی شرم اور ملال محسوس کر رہے ہیں. (ضروری تدوین کے بعد ٹیم آشیانہ کے کارکن منصور بھائی کے برما کے مسلمان بھائی بہنوں کے ساتھ گزارے ہووے ایام کی داستان یہاں ضرور تحریر کر جاۓ گے - انشا الله). 
عدنان بھائی نے برما کے مسلمان بھائی بہنوں کی خدمات کے لئے ایک فنڈ ترتیب دے دیا ہے. ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان اور ساتھیوں کے مشورے سے یہ طے کیا گیا ہے کہ ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان کو ملنے والے فنڈز جو رقم کی صورت میں ہونگے اس کا ٨٠% (اسی فیصد) ترکش دوستوں کے ہاتھ میں دے دیا جاۓ گا اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو عدنان بھائی خد یا ٹیم آشیانہ کا کوئی کارکن برمی مسلمانوں کے کیمپ میں خدمات سر انجام دینے جائے گا. 
  
مزید تفصیلات انشا الله بہت جلد اپڈیٹ کر دی جائیں گی.
مزید تفصیلات اور معلومات کے لئے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں 
team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
+92 345 297 1618

جزاک الله خیر 
ٹیم آشیانہ برائے شمالی وزیرستان
آشیانہ کیمپ. دتہ خیل. شمالی وزیرستان 
 
 

اتوار, اگست 19, 2012

Eid greetings from North Waziristan

محترم دوستوں، ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے کارکنان، اور ہمارے گھر والوں، 
اسلام و علیکم 

سید عدنان علی نقوی اور ٹیم  آشیانہ کے تمام کارکنان کی جانب سے آپ سب کو دلی عید مبارک قبول ہو. الله پاک رمضان کریم میں کی گئی ہماری محنت، عبادات، انسانیت کی خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرماے، ہم کو ہدایت عطا فرماے، ہم کو قبر میں اور آخرت میں آسانی فرماۓ. آمین.

الله پاک کے فضل و کرم سے آشیانہ کیمپ میں ١٧٠ یتیم، نادار، بے سہارا اور بے آسرا بچوں کے لئے عید پر نئے کپڑوں، چپل اور تحائف کا انتظام کر دیا گیا ہے. جو اب سے تھوڑا ہی دیر میں تقسیم کیے جانے ہیں. اس کے علاوہ ١٥٠ خاندان (جن کا کوئی سرپرست نہیں) کے لئے ایک ماہ کا راشن اور کچھ تحائف کا اہتمام بھی کیا گیا ہے جو ٹیم آشیانہ کے کارکنان گھر گھر جا کر عید کی مبارک باد کے ساتھ تقسیم کر رہے ہیں. 

الله پاک کے فضل اور کرم سے، آشیانہ کیمپ - دتہ خیل . شمالی وزیرستان، میں نماز عیدالفطر کل صبح ١٥-٨ (آٹھ بجکر پندرہ منٹ) پر ادا کری جاۓ گی.  ہم یہاں تمام دباؤ کا سامنا کرتے ہوے عیدالفطر انشا الله اپنے ملک پاکستان کے بھائی، بہنوں کے ہمراہ منائیں گے. (گو کہ یہاں "شمالی وزیرستان" میں ایک روز قبل ہی عیدالفطر کا اہتمام ہو چکا ہے). الله پاک ہم کو ثابت قدم رکھے - آمین.

یہاں ہم ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان  کے، اپنے بھائی بہنوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ماہ رمضان کریم میں ہم کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھا اور ٹیم آشیانہ کے لئے امداد کری. الله پاک آپ سب کو اجر عظیم عطا کرے. 

جزاک الله 
منجانب، سید عدنان علی  نقوی، اور ٹیم آشیانہ.
آشیانہ کیمپ، دتہ خیل. ٥ کلومیٹر. شمالی وزیرستان. پاکستان  
 

ہفتہ, اگست 18, 2012

Funds / Donation details of Team Ashiyana for the month of Ramazan (August - 2012)

 محترم دوستوں، ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے کارکنان، کارکنان کے گھر والوں اور پڑھنے والوں کو ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان کی جانب سے  اسلام و علیکم، رمضان کریم کی مبارکباد قبول ہو. 

الله پاک کا کرم، فضل، احسان ہے کہ ٹیم آشیانہ کے سب ہی کارکنان شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں پورا رمضان کریم موجود رہے اور رمضان کی رحمتیں، برکتیں، اور فضیلتیں سمیٹتے رہے. ٹیم آشیانہ ماہ مبارک میں مقامی لوگوں کے حصہ لینے پر شکر گزار ہے اور الله کے حضور دعا گو ہے کہ الله پاک ہم سب پر کرم، فضل، اور رحمتیں قائم رکھے - آمین.

ماہ رمضان کریم کے دوران بھیک مشن جاری رہا اور اس دوران جو بھی جمع ہوا اور شمالی وزیرستان کے لوگوں میں تقسیم کیا گیا اس کی تفصیل یہاں لکھی جارہی ہے. 
سید عدنان علی نقوی اور ٹیم آشیانہ کے سب ہی کارکنان کیونکہ شمالی وزیرستان میں موجود ہیں اسی وجہہ سے ہم اپنا لنک اپ ڈیٹ نہیں کر پا رہے تھے. ہمارے محترم دوست اور ساتھی منصور احمد بھائی ایک لمبا عرصہ آشیانہ کیمپ، دتہ خیل. شمالی وزیرستان میں گزار کر واپس اسلام آباد تشریف لائے ہیں اور ابہ اپنے گھر کراچی کے لئے روانہ ہو رہے ہیں. انشا الله، وہ  بہت جلد اپنے تجربات سے وزیرستان ڈائری کو اپ ڈیٹ کریں گیں. فلحال شمالی وزیرستان کے جو بھی حالات ہیں اور ٹیم آشیانہ کی کارکردگی سے آپ سب کو اگاہ کیا جا رہا ہے.

Funds Details:
Food Stuff:
Flour (aata): 150kg,
Rice (Chawal): 200kg,
Sugar (Cheeni): 100kg,
Salt (Namak) 25kg,
Beans (Dalain): 150kg,
Tea: 35kg,
Spices (Masalah Jaat): 10kg
Biscuits: 5kg,
Dates (Khajoor): 100kg
اس کے علاوہ کچھ اور سامان ہے جو روزمرہ کے استعمال میں آتا ہے، جیسے بسکٹ، چپس، ماچس، مومبتیاں، وغیرہ. جن  لاگت پاکستانی روپے میں چار ہزار، آٹھ سو روپے ہے. 

Medicines:
Donated by: Haji Aslam Khan (Peshawar)/ Worth of Rs. (Pak) 8000/= 

Donations:
Banks account:
ALLAH ka banda (Qatar): Rs (Pak). 50,000/= (Fifty Thousands only)
ALLAH ka banda (Dubai - UAE): Rs (Pak). 10,000/= (Ten Thousands only)
Ms. Hajiyani Saleema (Tornto-Canada): Rs (Pak). 25,000/= (Twenty Five Thousands only)

Money Gram (Bank Alflah)
Abdullah Bhai (U.S.A): Rs (Pak). 18,628/= (Eighteen Thousands, Six hundred & Twenty Eight only)

Westren Union:
A sister (London-U.K): Rs (Pak). 10,000/= (Ten Thousands only)

Total Amount:
Rs (Pak). 1,13,628/= (One lac, Thirteen Thousands, Six Hundred & Twenty Eight only)

Syed Adnan Ali Naqvi and Team Ashiyana (North Waziristan) is greatly thankful to all of our brother and sisters for there kind donation's, medicines, food stuff and others. But still the amount of things and funds is not meeting with our demand of the Ashiyana Camp.
All of the friends, family members and others are requesting for the donation of little bit amount from there eid shoping.
Jazak ALLAH kheran.

We are managing about 170 Orphan, Disable, Home left and Missing  Children's in Ashiyana Camp Dattah Khel. These children will be shifted into Edhi Center or any other social organization after Eid Insha ALLAH.

As well as Team Ashiyana is managing two time daily (Sehri and Eftar) for 300 peoples in Dattah Khel - North Waziristan.

We had organized two (2) medical camp near at Dattah Khel - North Waziristan During the Ramazan Karim. (in which we served about 500 peoples with medicines. Al-Hamd ul ALLAH.

Team Ashiyana is in try to serve with its good efforts to the peoples of North Waziristan and Insha ALLAH we will achive our target to make them Pakistani a day before the end of the things.

We are in try to purchased a mobile (ambulance) any kind of the cab (4x4) Suzuki Bolan, Hi-roof etc to uses as transportation and ambulance. for this we need a huge amount of money. All of friends are requesting to give there hand of courage. ALLAH will gives you Ajr e Azeem for this.

Special Note:
Our beloved Syed Adnan Ali Naqvi brother, will get marry with a local Waziri girl Insha ALLAH after Eid Ul Fitr. All are friends are requesting to remember him and team ashiyana in there prayers.

Another update of Team Ashiyana social work and A dairy of Volunteer will be updated shortly - Insha ALLAH.

Jazak ALLAH Kher
Volunteer
Team Ashiyana
North Wazirista. Pakistan.
Ashiyana Camp
5km Dattah Khel, North Waziristan.