‏IDPs لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏IDPs لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل, جولائی 08, 2014

آئ-ڈی-پیز (بنوں) کے حالت اور حالات: "سید عدنان علی نقوی کی تحریر"

محترم دوستوں اور ساتھیوں 
اسلام و علیکم 

الله کے حضور دعا گو ہوں کہ آپ جہاں کہیں ہوں رمضان کریم کی رحمتیں سمیٹ رہے ہوں. الله پاک  رحمت کا سایہ آپ اور ہم سب پر سلامت رکھے - آمین.

کچھ سمجھ نہیں آرہا کہاں سے شروع کروں؟ اور کیا لکھوں؟ میرے دوست اور ساتھی جو شمالی وزیرستان سے آنے والے ہمارے بھائی، بہنوں اور بچوں کے ساتھ فلاحی خدمات میں مصروف ہیں مجھ سے مستقل تقاضہ کر رہے ہیں کہ جو کچھ یہاں چل رہا ہے اس کے بارے میں پاکستان اور دنیا کو بتایا جائے. لیکن ایک سماجی کارکن ہونے اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہماری کچھ مجبوریاں اور پابندیاں بھی ہیں،جن کی وجہہ سے سب کچھ جیسا ہے بیان نہیں کیا جا سکتا. 

میں اپنی پچھلی پوسٹ میں آئ -ڈی - پیز  کو درپیش مشکلات کا ذکر بہت تفصیل میں کر چکا ہوں. میرے سامنے ہزاروں کی تعداد میں شمالی وزیرستان سے آنے والے، (کچھ لوگوں کے بقول، نکالے جانے والے) وزیری بھائی، بہن اور بچے موجود ہیں. یہاں بنوں (خیبر پختونخواہ) پوری طرح سے بھر چکا ہے ہر جگہ لوگوں کے اجتماع لگے ہوۓ ہیں. میں یہاں خاص کر بنوں کے لوگوں کی مہمان نوازی کی جتنی تعریف کروں کم ہے، یہاں کے لوگ بہت محبت اور اپنایت کے ساتھ شمالی وزیرستان سے آنے والے لوگوں کو فوری طور پر جو بھی مدد دے سکتے ہیں دے رہے ہیں. یہاں کے لوگوں نے اپنے گھروں، دکانوں، راستوں کے دروازے اپنے وزیری بھائی، بہنوں کے لئے کھول رکھے ہیں، اس کا اجر الله پاک ہے ان کو دے گا. ہم سب صرف دعا ہے کر سکتے ہیں کے الله پاک ہم کو بھی ایسی ہی ہمت، صبر اور استقامت دے کے کے ہم پوری ایمانداری، خلوص کے ساتھ اپنے لوگوں کی خدمات کر سکیں. ہمارے ساتھی سمجھی کارکنان نے پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے اپنے کاموں کو سر انجام دیا ہے اور دے رہے ہیں لیکن ایک انسان ہونے کے ناطے  ہم سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں. ہم سب الله پاک کے حضور دعا گو ہیں کے ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور اپنے فلاحی کاموں کو بہتر سے بہتر کر سکیں - آمین.
بنوں (خبیر پختونخواہ) میں "آئ -ڈی -پیز" کے حالات:
جتنا لکھوں، جو لکھوں کم ہے. بس اتنا کہ ہمارے وزیری بھائی، بہنوں کا جذبہ، اور صبر کی تعریف میں جتنا کہوں الفاظ کم ہیں. ایک خاندان کو اگر صرف ایک بوتل پانی کی دے دی جائے یہ اسی میں خوش ہو جاتے ہیں اور الله پاک کا شکر ادا کرتے ہیں. لیکن ان کی حالت اور حالات کا بہتر اندازہ آپ خود یہاں (بنوں) میں آکر لگا سکتے ہیں. متعلقہ ادارے اور حکام اپنی جو کوشش کر سکتے ہیں کر رہے ہیں اور کر بھی رہے ہونگے لیکن افراد زیادہ ہیں، اور وسائل بہت کم ہیں.
 بنوں کے اکثر آئ -ڈی -پیز کیمپ میں گنجائش سے زیادہ افراد موجود ہیں.
آئ -ڈی -پیز کو رقم کی فراہمی کافی حد تک مکمل کی جا چکی ہے لیکن دیگر وسائل بہت کم ہیں. 
پینے کے صاف پانی کی مستقل فراہمی بڑھتی ہوئی تعداد کے وجہہ سے مکمل نہیں ہو پا رہی ہے. افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر پانی جو ممکنہ طور پر آپ کی مدد یا عطیات کی شکل میں یہاں لایا جا رہا ہے ٹھیک نہی ہے.  ہم نے اپنے طور پر متعلقہ حکم کو آگاہ کیا ہے اور انہوں نےاقیں دلایا ہے کہ اب جو بھی پانی متاثرین کو فراہم کیا جائے گا اس کو پہلے اچھی طرح چیک کرنے کے بعد ہی متاثرین میں تقسیم کیا جائے گا.  ہم کو بھی جو پانی مختلف لوگوں نے فراہم کیا اس میں سے اکثر پانی پینے کے  قبل نہیں تھا جس کو ہم نے متاثرین کو عام استعمال کے لئے دے دیا. 

شروع میں جو راشن یہاں کے متاثرین میں تقسیم وو کچھ بہتر معیار کا تھا لیکن ابھی جو راشن مختلف فلاحی اداروں کی طرف سے تقسیم کیا جا رہا ہے اس کے متعلق بھی کچھ شکایات ہیں. میری تمام فلاحی کارکنان سے اور فلاحی اداروں سے اپیل اور درخواست ہے کہ راشن اور اجناس کی فراہمی سے قبل اس کے معیار کو ضرور چیک کریں، ہمارے وزیری بھائی، بہن جنہوں نے یہ راشن کھانا ہے انسان ہیں اور ان کی صحت جتنی ہماری لئے ہماری صحت ہے اہم ہے. خدا کے لئے غیر معیاری اجناس کی فراہمی سے گریز کریں.

متاثرین کے لئے مفت طبی امداد (فری میڈیکل کیمپ) نہ ہونے کے برابر ہیں، ایک ڈسٹرکٹ ہسپتال اور کچ میڈیکل کیمپ لاکھوں کی تعداد میں موجود متاثرین کی طبی امداد کے لئے ناکافی ہیں. یہاں متاثرین خاص کر خواتین اور بچوں میں سے اکثر کو طبی امداد دینے کی ضرورت ہے. حاملہ خواتین میں سے اکثر بغیر کسی تیبیمداد کے بچوں کو جنم دے رہی ہیں. یہاں موجود لوگوں کا دستور ہے کہ ضرورت پیش آنے پر ہی اپنے گھروں کے قریب موجود طبی مراکز پر لے جایا جاتا ہے لیکن ابھی یہ اپنے گھروں پر موجود نہیں ہیں خیموں میں تنگدستی اور کم خوراکی کا شکار ہیں جس کی وجھہ سے جسمانی کمزوری کی شکار ہیں. مزید نوزائدہ (پیدا ہونے والے بچوں) کے لئے کسی بھی طرح کی وکسنیشن کا انتظام بھی  موجود نہیں. یہاں بنوں میں ادویات کی شدید قلت ہے اور کسی بھی وقت کوئی بھی برا اور پڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے. خدارا یہاں کے لوگوں کے لئے ادویات عطیات کریں. ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف کچھ وقت کے لئے یہاں آکر فلاحی خدمات سر انجام دیں. یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں. آج ان کو ہماری ضرورت ہے. ہو سکتا ہے کل ہم کو ان کی ضرورت پڑھ جائے. میری تمام فلاحی اداروں اور کارکنان سے اپیل ہے، درخواست ہے کہ یہاں کے لوگوں کے لئے مفت طبی امداد کے کیمپ اور زیادہ سے زیادہ ادویات کی فرہمی کو یقینی بنائیں. 
مخیر خواتین و حضرات، سے اپیل ہے کہ آپ لوگوں کو الله پاک نے بہت کچھ دیا ہے. یہ رمضان کا مہینہ ہے اور یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں. اگر آپ چاہیں تو خود یہاں آکر لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں نہیں تو کسی بھی فلاحی ادارے کے ذریے آپ ان لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں. ہم تو اپنے فرض کے ہاتھوں مجبور ہیں. لیکن اگر آپ چاہیں تو مدد کرتے وقت یہاں کے لوگوں کے ساتھ اجازت لے کر اپنا فوٹو سیشن بھی کروا سکتے ہیں. کچھ وجوہات کی بنا پر ہم کو ابھی تک ہمارے فلاحی کام سر انجام دینے کے دوران کسی بھی طرح کے فوٹو سیشن کی اجازت نہیں ہے. اور میں ذاتی طور پر اس کی کوئی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتا کیونکہ میں اور میرے ساتھ فلاحی کارکنان یہاں جو بھی فلاحی خدمات سر انجام دے رہے ہیں وہ صرف اور صرف یہاں کے لوگوں کی خدمت اور الله پاک کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہے شاید اسی لئے ہم کو ملنے والے فنڈز، عطیات اور امداد کی تعداد قبل ذکر نہی. پھر بھی الله پاک کا شکر اور احسان ہے کے ہم کو اتنی توفیق، صبر، جزبہ اور استقامت دی کہ ہم یہاں کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو سکیں اور ان کا کچھ دکھ بانٹ سکیں. الله پاک ہم کو ہمت دے. - آمین.

میں ایک دفع پھر ذکر کر دوں کہ یہاں (بنوں، خیبر پختونخواہ) میں موجود متاثرین (شمالی وزیرستان) ہمارے اپنے ہیں، یہ بھی پاکستانی ہیں اور ان کا بھی اس وطن پر ہم پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ہم جیسے دیگر شہروں میں رہنے والی پاکستانی لوگوں  کا، خدارا اس مشکل وقت میں ان لوگوں کی مدد کریں، ان کا ساتھ دن. پورا پاکستان اگر ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو ہم کو کسی بھی بیرونی مدد یا امداد کی کوئی ضرورت ہی نہ رہے. 

یہاں پینے کے صاف پانی کی مستقل فراہمی، غذائی اجناس یا پکی پکائی غذا کی کم از کم دو (٢) وقت (سحر و افطار) میں مستقل فراہمی اور طبی امداد کے مراکز اور مستقل ادویات کی فرہمی کی اشد ضرورت ہے. خیموں (ٹینٹ) کی بھی کمی ہے جس کے بارے میں مطلقہ حکام کا کہنا ہے کچھ روز میں پوری کر لی جائے گے.     

شمالی وزیرستان سے یہاں (بنوں) میں آنے والے ہمارے بھائی، بہن اور بچے شدید احساس کمتری کا شکار ہیں، یہ پاکستان کو اپنے لئے اجنبی سمجھ رہے ہیں ایسا صرف ہمارے برتاؤ کی وجہہ سے ہے، ان لوگوں کی ذہنی حالت بھی بہتر نہیں جس کے لئے نفسیاتی ڈاکٹرز کی بھی یہاں ضرورت ہے جو یہاں کہ لوگوں کے ساتھ مل کر بیٹھیں اور ان کا احساس کمتری ختم کرنے میں مدد دیں. یہ لوگ ایک طرح کی بے اعتباری، ڈر و خوف کا شکار ہیں کہ اس فوجی کاروائی کے بعد کیا ہوگا؟ اس بات کی ضمانت تو خود ہم بھی نہی دے سکتے لیکن ان لوگوں میں اچھے سے اچھا ہونے کے احساس جو جگانے کی سخت ضرورت ہے. 

میں نے بہت ہی مختصر اور نپے تلے الفاظ میں متاثرین (شمالی وزیرستان) کو در پیش مسائل کا ذکر کیا ہے اور جن وسائل کی ضرورت ہے ان کا بھی ذکر کر دیا ہے. مجھے الله پاک کی ذات پر پورا یقین ہے کہ ہم سب مل کر اس مشکل وقت سے نکل کر رہیں گے. انشا الله 

میں اور میرے ساتھ کارکنان ٹیم آشیانہ کے نام سے ایک چھوٹا اور مختصر کیمپ (آشیانہ کیمپ) میرانشاہ - بنوں روڈ پر لگے ہوے ہیں. ہم پر ابھی تک ٣٠٠ افرد کو روزانہ دو (٢) وقت کی غذا کی فراہمی، پینے کے صف پانی اور افطار کے وقت کھجور کی فراہمی کی ذمہ داری ہے. میں اور میرے ساتھ کارکنان اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں کہ جس طرح   بھی ممکن ہو ہمارے فلاحی کام میں کوئی کمی نہ ہو بلکہ ہو سکے تو اضافہ ہی کر سکیں. ہم کو بھی فنڈز کی کمی کا بہت سامنا ہے. ہم اپنے دوستوں، گھر والوں سے مدد کی بار بار اپیل اور درخواست کر رہے ہیں اور جو کر سکتے ہیں کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں. تمام دوستوں سے مدد اور دعا کی درخواست ہے کہ الله پاک ہمارے اس فلاحی کام کو قبول کرے اور ہم کو حوصلہ، صبر و استقامت دے.

میں اپنے تمام دوستوں، ساتھیوں کا دل کی گہرایوں سے شکر گزار ہوں جنہوں نے کسی بھی طرح ہماری مدد کری اور کر رہے ہیں. خاص کر ہماری بہن فریال زہرہ جو کینیڈا سے یہاں ہمارے فلاحی کاموں میں شریک ہونے آئ ہیں اور ہر طرح کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں. کراچی،  لاہور، پشاور، دبئی، قطر، برطانیہ، امریکہ اور دیگر میں رہنے والے دوست جو ہماری مدد کر رہے ہیں یا اپنے پیغامات سے ہماری ہمت بڑھا رہے ہیں. الله پاک آپ سب کی خدمات کو قبول کرے  اور اجر عظیم عطا کرے - آمین.

میں ذاتی طور پر خیبر پختونخواہ کی حکومت اور اداروں کا شکر گزار ہوں جوبہت کم وسائل ہونے کے باوجود ان لوگوں کی مدد میں کوشاں ہیں. پاک افواج پر ہم کو فخر ہے جو نہ صرف ایک طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں دوسری طرف متاثرین  کے لئے بھی خدمات میں کوشاں ہیں. 

نام نہاد سمجھی تنظیموں اور حقوق انسانیت کے اداروں کو بھی میرا سلام ہے جو یہاں آنا اپنی شان میں توہین سمجھتے ہیں اور اتنی گرمی میں کہیں ان کی طبیعت خراب نہ ہوجاے تو بہتر موسم کے انتظار میں بیٹھے ہوۓ ہیں. لیکن اتنا یاد رکھیں بیٹا ہوا موسم اور گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا.

اگر آپ کسی بھی طرح متاثرین (شمالی وزیرستان) می مدد کرنا چاہتے ہیں یا کر سکتے ہیں. تو اس لنک پر ہم سے رابطہ کریں. 
http://teamashiyana.blogspot.com

اگر آپ ایک ڈاکٹر ہیں، ایک نرس ہیں، ایک ٹیچر (استاد) ہیں، ایک طالبعلم ہیں، ایک سماجی کارکن ہیں تو ہم کو اور یہاں (بنوں) میں موجود لوگوں کو آپ کی ضرورت ہے. آیے متاثرین (شمالی وزیرستان) کی مشکلات کو کم کرنے میں ہمارا ساتھ دیں، ہماری مدد کریں. یہاں کسی بھی قسم کی سیکورٹی کا کوئی مسلہ نہیں ہے. بنوں کے لوگ اور شمالی وزیرستان سے آنے والے بہت محبت کرنے والے، پر خلوص اور مہمان نواز ہیں. اگر آپ کو کچھ مشکل ہوگی تو صرف گرمی اور ناکافی سہولیات کی وجہہ سے ہوگی لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان مشکل حالات اور مشکل وقت میں گزارا ہوا ایک ایک لمحہ آپ کو ساری عمر تسکین اور سچی خوشی دے گا. انشا الله.

جزاک الله 
آپ کا بھائی    
سید عدنان علی نقوی 
آشیانہ کیمپ . میرانشاہ - بنوں روڈ 
بنوں، خیبر پختونخواہ.

ہم سے رابطے کے لئے:
team.ashiyana@gmail.com
faryal.zehra@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
+92 333 342 6031 (if not answer please leave a text)
Twitter: 
@TeamAshiyana
@F4Faryal




جمعرات, جون 26, 2014

آشیانہ کیمپ (بنوں) سے عدنان کی تحریر "آئ-ڈی-پیز کے حالات اور ہم"

"بھائی  مجھے یہاں نہیں رہنا، مجھے میرے گھر جانا ہے!"

"عدنان بھائی، مجھے اور میرے گھر والوں کو آپ کی بھیک یا خیرات نہیں چاہیے. ہم کو ہماری عورتوں اور بچوں کے لئے عزت والی جگا چاہیے!"

"بھائی، آپ کب تک ہم کو اس طرح کھانا دو گے؟ ایک دن، دو دن، ایک ہفتہ، ایک مہینہ؟ ہم کو اپنی محنت کا کھانا کب ملے گا؟"

"عدنان بھائی،  اگر تم ہم کو اپنا بھائی سمجھتے ہو اور ہماری عورتوں کو اپنی بہنیں اور ہمارے بچوں کو اپنے بچے تو بس ہم کو عزت سے رہنے کے لئے کوئی جگہہ دے دو. ہم محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرے گا مگر یہ خیرات اور بھیک کا کھانا ہم سے نہیں کھایا جاتا جس کے لئے جانوروں کی طرح لڑنا پڑتا ہے." 

"باجی، ہم کو صرف پینے کا پانی اور کھجور دے دو ہم اسی میں الله کا شکر ادا کر لیں گے. ہم جب سے یہاں پہنچے ہیں ہم کو .کچھ نہیں ملا."

"باجی، ہم کو ہمارے گھر بھیج دو، یہاں رہنے سے اچھا ہے ہم کو وہیں طالبان والے مار ڈالیں."

"بھائی، کیا آپ کو پتا ہے اس فوجی آپریشن کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟ اگر ایک بھی طالب (طالبان) رہ گیا وو ہم سب کو مار ڈالے گا."

"ہم کو خیرات نہی عزت چاہیے. وہ  کون دے گا؟"

"باجی، ہمارے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں کر رہے ہیں؟ ہم تو طالبان نہیں ہیں. ہمارا بس اتنا قصور ہے کہ ہم وزیری (وزیرستانی) ہیں. شاید اسی لئے."

"بھائی خدا کے لئے ہمارا فوٹو نہیں کھینچو. ہم کوئی بھکاری نہیں ہے، ہم یہاں صرف آپ لوگوں کی وجہہ سے ہیں. آپ لوگوں نے ہم پر آپریشن کیا ابھی طالبان بھاگ گیا اپنے علاقے میں ابھی ہم جب بھی واپس جائے گا وو ہم کو نہیں چھوڑے گا."

"او بھائی، ہم کو ہمارے خاندان کو کیا یہاں ذلیل اور تذلیل کرنے کے لئے بلایا گیا ہے؟" 

بھائی، اپ کو پتا ہے ہمارا آدھا لوگ ابھی تک اپنے علاقے میں موجود ہے. جب ان کو یہاں (آئ-ڈی-پیز کیمپ) کے حالات کا پتا چلا تب ان لوگوں نے یہاں نہیں آنے کا فیصلہ کیا. ابھی ان لوگوں کا کیا ہوگا؟"

"ابھی ہم کب تک یہاں رہیں گے؟ کیا آپریشن کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟"

"ہم کو یہاں نہیں رہنا ہے، ہم کو ہمارے گھر بھیجو یا ہم کو کوئی اور جگہ دو."'


محترم دوستوں، ساتھیوں، اسلام و علیکم.

جو کچھ لکھا ہے یہ میرے یا میرے کسی فلاحی کارکنان کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ ان متاثرین کہ ہیں جو گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں سے ایف-آر. بنوں، اور بنوں کے کیمپس میں منتقل ہوۓ ہیں. مجھے اور میرے کارکنان کو کوئی ایک بھی ایسا انسان نہیں ملا جو یہاں آنے پر خوش ہو یا اس کو کوئی شکایات نہ ہو. ہر شخص، عورت، بچہ بوڑھا، جوان  سب اس اچانک انے والی آفت پر نہ صرف پریشان بلکہ شدید اذیت میں مبتلا ہیں. آئ -ڈی -کیمپس میں منتقل ہونے والے اکثر متاثرین کو اپنے اسباب (گھریلو سامان، مال، مویشی ) کو اپنے ساتھ لانے تک کا موقع نہی مل سکا. وجہہ شمالی وزیرستان میں مستقل کرفیو اور ٹرانسپورٹ کی کمی اور علاقے سے نکلنے کے لئے محدود مدت رہی. یہاں آنے والے اکثر متاثرین میلوں پیدل چل کر یہاں تک پہنچ سکے ہیں. ابھی (٢٦-٠٦-٢٠١) تک ٥، لاکھ کے لگ بھگ لوگ شمالی وزیرستان سے مختلف علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں یا کر دے گئے ہیں. یہاں ایک بات قابل تحسین ہے کہ بہت قلیل اور محدود مدت میں 
مقامی لوگوں میں وہ جذبہ دیکھا جو میں نے اسس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا. ٢٠٠٥ کے زلزلے کے بعد بھی میں نے اس طرح کا ایثار و قربانی کا جذبہ نہیں دیکھا جو آج کل یہاں بنوں کے لوگوں میں دیکھ رہا ہوں اور میرے کچھ دوست مجھے بتا رہے ہیں کہ خیبر پختونخواہ کے دوسرے علاقوں میں بھی مقامی آبادی میں موجود مرد، عورتیں، بچے سب مل کر شمالی وزیرستان سے آنے والے قافلوں کو جس طرح سے فوری مدد فراہم کر سکتے ہیں کریں، اس کا عملی نمونہ میں یہاں بنوں میں دیکھ رہا ہوں. خبیر پختونخواہ کی صوبائی حکومت  نے بھی کافی اقدامات کے ہیں جو اب نظر آنا شروع ہو گئے ہیں لیکن متسیریں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور وسائل کی اشد کمی کی وجھہ سے ان متاثرین کو سمبھالنے اور مینیج کرنے میں بہت دشواری اور دقت پیش آرہی ہے. 

افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ متاثرین کی مدد کے لئے پاکستانی قوم کو جس طرح مدد کرنا چاہیے تھی اس طرح سے مدد نہیں کر رہے. کوئی دھوکہ دہی کی وجہہ سے مدد کرنے کو تیار نہیں کوئی اس کو حکومتی کا مسلہ سمجھ کر مدد نہی کر رہا اور کچ بے ضمیر لوگ ہیں جو بس اتنا ہے کہ رہی ہیں کہ الله مدد کرے گا. یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں. ان لوگوں نے اپنا گھر، اپنا علاقہ ہمارے لئے، پاکستان کے لئے صرف ایک آواز پر چھوڑا ہے. ان لوگوں کو خود نہی علم کے جب یہ لوگ اپنے علاقوں میں واپس ہونگے تو وہاں ان کے گھر کیسے اور کس حال میں ہونگے، اور کس طرح سے یہ لوگ اپنی زندگیوں میں واپس پلٹیں گے. 

بنوں اور (ایف-آر -بنوں ) کے آئ -ڈی -کیمپ کے حالات :

افسوس صد افسوس پوری کوشش کے باوجود بد نظمی، بد حالی بہت آسانی سے دیکھی جا سکتی ہے. صوبائی حکومت اپنی پوری کوشش کر رہی ہے لیکن بنوں اس وقت مکمل طور پر متاثرین سے بھر چکا ہے. یہاں موجود کیمپ میں گنجائش سے بہت زیادہ متاثرین  آ چکے ہیں. اس پر سب سے بڑی مشکل یہ ہے کے ایف-آر بنوں میں موجود کیمپ جو پاکستن آرمی اور وفاقی حکومت کے زیر نگرانی چل رہا ہے جہاں ابھی تک ٣٥ کے قریب خاندان موجود ہیں کا حل بھی کچھ اچھا نہیں ہے اسی لئے متاثرین وہاں جانے سے گریز کر رہے ہیں. بنوں میں مقامی لوگ اور انصاف کے نوجوان جگہ جگہ موجود ہیں. ایک سیاسی جماعت کے کچھ کیمپ موجود ہیں لیکن یہ سب بھی ان متاثرین کو ٹھیک طرح سے سمبھلنے میں ابھی تک کامیاب نہی ہو سکے ہیں. دیگر تنظیموں کے کچھ کیمپ موجود ہیں لیکن  کم ہیں یا پھر یہ کیمپ کسی اور مقصد کے لئے لگاے گئے ہیں. 

سہولیات جن کی اس وقت اشد ضرورت ہے:
اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ماہر، پڑھے لکھے، سلجھے ہوۓ سماجی کارکنان (مرد و خواتین والینٹرز) کی بہت سخت ضرورت ہے جو یہاں کے لوگوں کے مزاج سے آگاہ ہوں اور یہاں کے سخت ترین حالت میں یہاں آنے والے متاثرین کی مناسب رہنمائی کر سکیں.

پینے کے صاف پانی کی  تک شدید قلت ہے، قلت کا اندازہ اس بات سے  لگایا جا سکتا ہے کہ  لیٹر کی بوتل کو حاصل کرنے کے لئے ١٠-١٥ افراد اپس میں لڑ پڑتے ہیں.

تیار (پکی پکائی) غذا جو کم از کم دن میں دو دفع ان متاثرین کو دی جا سکے کی شدید ضرورت ہے. متاثرین کے کیمپ میں ابھی تک مکمل سہولیات موجود نہیں ہیں جیسے کے کھانا پکانے کے لئے جن اشیا کی ضرورت ہے وہ ابھی تک موجود نہی.

ادویات اور مفت طبی کیمپ (فری میڈیکل کیمپ) کی مہم فوری چلانا ہوگی کیونکہ شدید گرمی میں میلوں پیدل سفر کر کے آنے والے متاثرین میں سے اکثر پانی کی شدید کمی کا شکار ہیں. کچھ خواتین حاملہ ہیں، بچوں اور بزرگ لوگوں کی حالت بہت خراب ہے جن کو یہاں آتے ہے طبی امداد دینے کی ضرورت ہے اور جن کو مزید طبی امداد کی ضرورت ہو ان کو دوسرے شہروں میں پہچانے کے لئے بھی انتظام کرنے کی ضرورت ہے. (ریسکیو ١١٢٢ اور کچھ تنظیموں کے جوان یہاں امبولینسس کے ساتھ موجود ہیں لیکن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہہ سے مزید کی ضرورت ہے)

آئ- ڈی -پیز کیمپ جو صوبائی حکومت، مقامی لوگوں اور کچھ فلاحی تنظیموں کی طرف سے لگاے گئے ہیں ان میں صاف پانی، تیار غذا اور مفت طبی امداد کی مستقل فراہمی کی اشد ضرورت ہے. 

آشیانہ کیمپ اور ٹیم آشیانہ کے کارکنان کا کردار:
آئ - ڈی - پیز کی ایف-آر-بنوں آمد کے ساتھ ہی میں اور میرے ساتھ کارکنان یہاں موجود رہے اور پوری کوشش کرتے رہے کہ منتقل ہونے والے متاثرین کے لئے اپنی ذات سے جو کچھ کر سکتے ہیں کریں. پاکستان کے دیگر شہروں میں موجود ہمارے گھر والوں، دوستوں اور کارکنان کو یہاں کے حالات سے آگاہ کیا اور جو کچھ وہ کر سکتے تھے کرنے کے اپیل کری. مقامی لوگوں اور جوانوں کے ساتھ مل کر فوری طور پر آئ-ڈی-پیز کی رجسٹریشن اور ان کو کیمپ تک منتقل کرنے کے عمل میں ہم جو کردار ادا کر سکتے تھے کیا. جب کراچی، لاہور اور دیگر شہروں کے دوستوں نے کچھ امدادی سامان اور فنڈز جمع کے تو ان کو لسٹ کر کے یہاں روانہ کرنے کا  اس امداد کو متاثرین میں تقسیم کیا. میں اپنی اور یہاں موجود کارکنان کی طرف سے ان سب دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس مشکل وقت میں ہماری مدد کری جس سے ہم آج تک یہاں موجود ہیں اور ہم الله پاک کے شکر گزر ہیں جس نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو اتنی ہمت اور حوصلہ دیا اور ہماری مدد کر جو آج ہم اپنے بھائی بہنوں کا ساتھ دینے کے لئے یہاں موجود ہیں. یہاں میں خاص طور پر کینیڈا سے آنے والی بہن فریال کا شکر گزار ہوں جو صرف ایک کال پر یہاں آگئی اور اب ہم سب سے بڑھ کر فلاحی کاموں میں حصہ لے رہی ہیں (الله پاک بہن فریال کو مزید ہمت اور حوصلہ دے - آمین)

دوستوں اور ساتھیوں، ابھی ہمارا کم ختم نہی ہوا ہے. جب تک ہمارے بھائی، بہن یہاں سے واپس اپنے گھروں میں منتقل نہیں ہو جاتے ہم انشا الله یہاں موجود رہیں گے، ہم اگر زیادہ کچھ نہیں کر سکے تو ہماری خدمات ان لوگوں کے لئے موجود ہونگی. 

میں آپ سب سے انسانیت اور پاکستان کے نام پر ان لوگوں کی مدد کے لئے اپیل کرتا ہوں کے جتنے سلجھے ہووے لوگ یہاں اکر فلاحی خدمات سر انجام کر سکتے ہیں آجائیں. خاص کر خواتین رضا کار، ڈاکٹر، پیرا میڈیک، ٹیچرز، طالبعلم  وغیرہ. یہ ہمارے اپنے ہے لوگ ہیں. یہ وقت ہے کہ ہم کسی بھی طرح کی ذاتی رنجش، وابستگی کو ایک طرف رکھ کر اک ساتھ  مل کر کام کریں.

آشیانہ کیمپ، نے فوری طور پر ہفتے میں ایک دفع مفت طبی کیمپ (فری میڈیکل کیمپ) اور پینے کے پانی کی فرہمی کے لئے اپنے تمام دستیاب فنڈز کو مختص کرا ہے. ہمارے کیمپ میں اس وقت ٣٠٠ کے قریب لوگ موجود ہیں جن کو ہم کچھ مدت کے لئے رکھ رہے ہیں مناسب انتظام ہوتے ہی ان لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا. تمام دوست اور کارکنان بڑھ چڑھ کر ہارا ساتھ دیں. کسی بھی طرح ہماری مدد کریں، آپ غذائی اجناس، کھجور، پینے کا پانی، ادویات، گھریلو استعمال کی اشیا، ادویات وغیرہ سے ہماری مدد کر سکتے ہیں. کراچی، لاہور، راولپنڈی، میں ہمارے کارکنان موجود ہیں جن کو آپ یہ سامان دے سکتے ہیں. اگر ایسا ممکن نہیں تو اپ پاکستان آرمی کے ریلیف کیمپ جو پاکستان کے ہر علاقے میں موجود ہیں میں اپنا سامان پیک کر کے اس پر "آشیانہ کیمپ کے لئے" لکھ کر جمع کرا دیں انشا الله آپ کی امداد ہم تک پہنچ جائے گی. اگر آپ فنڈز سے ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دے گئے لنک پر جا کر آن لائن عطیات بھی دے سکتے ہیں. 

Click here to contact or donate us for IDPs of North Waziristan

میں ایک دفع پھر تمام دوستوں اور ساتھیوں کا شکر گزار ہوں جو ہماری کسی بھی طرح مدد کر رہے ہیں اور ہمارا ساتھ دے رہے ہیں. الله پاک ہماری ان خدمات کو قبول کرے اور ہم سب کو پوری ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ اپنے بھی بہنوں کی مدد کرنے کی توفیق، ہمت اور استقامت عطا فرمائے - آمین.
جزاک الله 
آپ کا بھائی 
سید عدنان علی نقوی 
آشیانہ کیمپ. 
بنوں. فاٹا. پاکستان.

پیر, جون 23, 2014

نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ




پاکستان کے قبائلی علاقے کی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ان میں 42 فیصد تعداد بچوں کی ہے۔
فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پناہ گزینوں کی کُل تعداد 423666 ہو گئی ہے جبکہ ان میں خواتین کی تعداد 133722 ہے اور بچوں کی تعداد 178523 ہے۔

شمالی وزیرستان میں پیر کے روز بھی کرفیو میں نرمی کی گئی تاکہ شہری نقل مکانی کر سکیں۔
اتھارٹی نے مزید کہا ہے کہ 34625 خاندانوں میں سے صرف 18 خاندانوں نے ایف آر بنوں کے علاقے بکا خیل میں قائم پناہ گزین کیمپ میں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق شمالی وزیرستان سے افغانستان کے راستے کرم ایجنسی آنے والے 212 خاندانوں کے 1714 افراد کو رجسٹر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ہلال احمر پاکستان کے میڈیا افسر خالد بن مجید نے بتایا کہ ہلالِ احمر 40 ہزار پناہ گزینوں کو اشیائے خورد و نوش اور صاف پینے کا پانی فراہم کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہلالِ احمر کے چیئرمین ڈاکٹر سعید الٰہی نے احکامات جاری کیے ہیں کہ چھ موبائل ہیلتھ کلینک بھی شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے دستیاب کیے جائیں۔


واضح رہے کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں کی سب سے بڑی تعداد شمالی وزیرستان میں ہے جہاں جون 2012 سے پولیو مہم معطل کر دی گئی تھی۔
عالمی ادارۂ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے آغاز کے باعث بڑی تعداد میں نقل مکانی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ملک کے دیگر علاقوں میں بھی پولیو وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔
پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت کے پولیو کوآرڈینیٹر ڈاکٹر زبیر مفتی کا کہنا ہے: ’دو سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے کہ شِمالی وزیرستان میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے۔ اب جبکہ یہ آبادی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرکے باہر آئی ہے تو بھرپور موقع ہے کہ اِن افراد کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں۔‘
ڈاکٹر زبیر مفتی نے کہا کہ دوسرے ملکوں کے تجربے سے یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جن علاقوں میں ویکسینیشن نہیں کی جاتی وہاں سے پناہ گزین دوسرے علاقوں کا رُخ کرتے ہیں تو اُن سے میزبان کمیونٹی کو بھی پولیو سمیت صحت کے دیگر مسائل کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔
’اسی لیے ایسے پناہ گزینوں کو تلاش کر کے فوری طور پر پولیو سے بچاؤ کےقطرے پلائے جانے چاہییں۔‘
نقل مکانی کرنے والے افراد کو رجسٹریشن پوائنٹ پر پولیو کے قطرے پلائے جانے پر عالمی ادارۂ صحت کے نمائندے کا کہنا ہے: ’اِن پناہ گزینوں کو کم از کم چار مراحل میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ضروری ہیں۔ لیکن چونکہ یہ افراد کیمپوں کے بجائے مختلف علاقوں میں اپنے عزیز و اقارب یا رشتے داروں کے یہاں قیام کررہے ہیں تو انھیں تلاش کرکے پولیو سے بچاؤ کا مکمل کورس کرانا ذرا مشکل کام ہوگا۔